اقراء - عمارہ خان

اکیسویں صدی آ چکی ہے اور کچھ معاملات میں ہم آج بھی صدیوں پرانے ہیں، رتّی برابر نہیں بدلے۔ کچھ "قصے کہانیاں" یا روایات ہمارے خون میں گردش کر رہے ہیں اور ہم چاہتے ہوئے بھی ان سے چھٹکارا نہیں پاتے۔ ایک چھوٹی سے مثال "سؤر" کے لفظ کی ہے، جس کو ادا کرنے پر زبان ناپاک ہونے، چالیس دن کی عبادت قبول نہ ہونے، گھر سے برکت کے اٹھ جانے، فرشتوں کے نہ آنے اور دیگر گناہ بتائے جاتے ہیں۔ "خدانخواستہ"، آپ کے کسی رشتہ دار یا دوست کے پاس کچھ کامک بکس نظر آ جائیں تو فتوے آ جاتے ہیں کہ گھر پر تباہی آئے گی، نماز قبول نہ ہوگی اور برکت اٹھ جائے گی۔

ایک منٹ ۔۔۔۔۔ کیا آپ نے اپنے گھر میں سب سے بلند جگہ پر رکھی گئی، خوبصورت جزدان میں لپٹی کتاب کو پڑھا ہے؟ وہی کہ جو رب کائنات کی کتاب ہے؟ یقیناً بچپن میں کسی قاری صاحب کے ڈنڈے کے زور پر پڑھی ہوگی یا پھر رمضان میں، یا کسی کے مرنے پر گرد صاف کرکے پڑھی جاتی ہوگی۔ ایک معصوم سا سوال ہے کہ اگر آپ کو یاد ہو تو قرآن مجید میں لفظ سؤر موجود ہے۔ اس کا علم سب کو ہے۔تو جس نے بھی قرآن مجید پڑھا ہے، لازمی یہ لفظ بھی منہ سے نکالا ہوگا، وہ بھی وضو کی حالت میں۔ بلکہ رمضان میں تراویح کے وقت، ختم قرآن کی محفل میں، دوران نماز بھی ادا کیا گیا ہو گا۔ تو یہ بتائیں کہ کیا اب قرآن مجید بند کردیں کیونکہ اس میں لفظ سؤر لکھا ہے؟ یا جہاں لفظ آ جائے اسے چھوڑ دیں؟

ہم صرف ایک بار قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھ لیں تو یقین جانیں ہمارے ان گنت مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ اتفاق سے پہلی بار قرآن سمجھ نہ آئے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن پڑھیں تو، ہمت تو کریں۔ بے شک کوئی فیصلہ نہ لیں لیکن پڑھیں ضرور، کم از کم ایک بار تو ضرور۔ باقی اللہ جو آپ کو سمجھانا چاہتا ہے، باآسانی سمجھا دے گا۔ مثلاً یہ چند آیات دیکھیں:

اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، اِلّا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہوکہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔121 پھر جو شخص مجبُوری کی حالت میں (کوئی چیز ان میں سے کھالے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حدِ ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً تمہارا رب درگذر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے (سورۂ انعام، آیت 145)

اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔171 ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے(سورۂ بقرہ، آیت 173)

اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خُون اور سُوٴر کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ البتہ بھُوک سے مجبور ہو کر اگر کوئی اِن چیزوں کو کھالے، بغیر اس کے کہ وہ قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو، یا حدِّ ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے(سورۂ نحل، آیت 115)

تم پر حرام کیا گیا مُردار، خُون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کےسوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو،وہ جو گلا گُھٹ کر، یا چوٹ کھاکر، یا بلندی سے گِر کر، یا ٹکر کھاکر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔۔۔۔سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا۔۔۔۔اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانْسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب افعال فسق ہیں(سورۂ مائدہ، آیت 3)

یقین کیجیے اسلام راتوں رات وجود میں آنے والا مذہب نہیں ہے بلکہ اس کے ایک، ایک حکم کے پیچھے انسانیت کی بھلائی اور فلاح ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انسان قرآن کے پہلے لفظ پر توجہ دیں، صرف بساط بھر، لفظ "اقراء" یعنی "پڑھ" پر۔ یہ کام انٹرنیٹ پر بھی کیا جا سکتا ہے جہاں ایک کلک پر دنیا بھر کی معلومات نظروں کے سامنے ہے۔ ایک بار کوشش کریں۔