طلباء کا افسوسناک رویہ - عابد رحمت

تعلیمی اداروں کے مقاصدمیں جہاں نسل نو اور نونہالان وطن کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا شامل ہے، وہیں بات بھی ہے کہ طلباء کی اچھی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تعلیم کا لفظ بولا جاتا ہے وہاں ساتھ تربیت کو بھی لازمی جز مانا جاتا ہے۔ تعلیم و تربیت دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے تعلیمی اداروں کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ نونہالان قوم کوامن و آشتی کے اعلیٰ آدرشوں سے روشناس کرائیں، انسانی طبائع میں جو تضاد و منافرت بوجہ شخصی پائی جاتی ہے، تعلیمی ادارے اس تضاد اور منافرت کو دور کریں۔

طلباء معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ وہ معاشرے اور ملک و ملت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو میرا خیال ہے بے جا نہ ہوگا۔ طلباء جب اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو معاشرے میں فعال کردار ادا کرتے ہیں اور مہذب، پرامن،شائستہ اور تعلیم یافتہ شہری کہلاتے ہیں۔

اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طلباء ماضی میں ہمیشہ روشن اور تابناک کردارکے حامل رہے ہیں۔ ملک وملت کی ترقی اور تعمیر و تشکیل میں ان کا کردار سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ ادوارکے کسی بھی شعبہ یامیدان میں نظردوڑائیں تو ہمیں طلباء کے کارہائے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ طلباء کا یہ بھی خاصہ رہاہے کہ وہ ہم آہنگی، برداشت، توازن اور طبقاتی مساوات سے متصف ہوا کرتے تھے۔ سیاسی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور علمی میدانوں میں انقلابات انہی طلباء کے مرہون منت ہیں۔ طلباء کی اِنہی خوبیوں کی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح ان سے خاص محبت اور شغف رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ طلباء ہی مستقبل کے معمار ہیں، اگر ان کی صحیح خطوط پر تعلیم و تربیت کا اہتمام کیاجائے تو کچھ بعید نہیں کہ دنیا کی زمام کار ان کے ہاتھ میں ہو۔ اسی لیے قائداعظم نے طلباء کو ملک وقوم کا سرمایہ افتخار کہا تھا اور انہیں ایمان، اتحاد اور تنظیم کی نصیحت کی تھی۔ تقسیم ہند میں جو جدوجہد طلباء نے کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، خدمت خلق کا مقدس فریضہ ہو یا پھر قدرتی آفات و جنگی حالات واقع ہوں، طلباء ہمیشہ انسانیت کی فلاح و بہبود میں پیش پیش رہے ہیں۔

اس کے برعکس اگر آج کے طلباء کا جائزہ لیں تو ہمیں ایسے بھی نظرآئیں گے جو کہ زبان کی شگفتگی اور شائستگی سے بیگانہ ہیں، ان کی راہیں بے راہ رو اور ان کی فکر پاکیزگی سے عاری ہے۔ چند دہائیوں سے طلباء منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے جارہے ہیں۔ عدم برداشت اورغم و غصے سے ان کے سینے بھرے ہوئے ہیں، اشتعال انگیزی، تشددپسندی اور انتہاپسندی بلکہ دہشت گردی جیسے قبیح جراثیم ان میں سرایت کرتے جارہے ہیں۔ طلباء میں عدم توجہی کے باعث ملک میں انتشار اور لاقانونیت جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ طلباء میں گروپ بندی اوراساتذہ وطلباء پر تشدد بھی قابل غور پہلو ہے۔
باچا خان یونیورسٹی میں پیش آنے والا واقعہ ابھی چندماہ پہلے ہی کا ہے، جہاں مشتعل طلباء نے اشتعال میں آکر یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کوبے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیا،خواہ وجہ کچھ بھی رہی ہو۔ یونیورسٹیوں اورکالجوں میں منشیات کی فروخت، طلباء کا منشیات استعمال کرنا بھی قابل مذمت فعل ہے۔ منظرعام پرآنے والی مصدقہ اورمحقق رپورٹوں سے اس کا انکشاف ہوچکا ہے۔ دوسری طرف لیڈی ٹیچرز سے محبت کے فسانے اور پھر محبت میں ناکامی کے نتیجے میں خودکشی کرنابھی عام ہوتا جارہا ہے۔ دہشت گردی میں بھی یونیورسٹیوں اورکالجوں کے نہ صرف طلباء بلکہ اساتذہ تک کا ملوث پایا جانا قابل تشویش امر ہے۔ کراچی میں بعض جامعات میں ہونے والے سرچ آپریشنز اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

طلباء کا یہ افسوسناک رویہ بھی بارہادیکھنے میں آیا ہے کہ وہ چلتی ہوئی بس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس پر چڑھنے اور لٹکنے کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب ایسے روح فرسا واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں تو پھر طلباء کا اکٹھ بسوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بناتا ہے۔ مشتعل طلباء دنگا فساد شروع کردیتے ہیں، کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ ڈرائیوروں اورکنڈیکٹروں کو بھی بری طرح زخمی کرڈالتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انحراف ممکن نہیں کہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی طلباء کی اشتعال انگیزی اوران کی ہلاکت کا موجب بنتے ہیں۔ وہ طلباء کودیکھتے ہی گاڑی کی سپیڈ بڑھادیتے ہیں یا پھر کنڈیکٹر کسی طالب علم کو چلتی بس سے دھکادے دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں طالب علم کا زخمی یا جاں بحق ہونا یقینی ہے۔

22 ستمبر جمعہ کے روز بھی کچھ اسی طرح کا واقعہ فیصل آباد میں سرگودھا روڈ پر اسلامیہ کالج کے طالب علم کے ساتھ پیش آچکاہے۔ سیکنڈ ایئر کا طالب علم حیدرعلی ولد مقبول احمد بس تلے آکر جاں بحق ہوگیا۔ 700مشتعل طلباء نے لاری اڈہ میں 6 بسوں کو نذر آتش کردیا، اس آگ سے بجلی کے تار بھی متاثر ہوئے، طلباء نے نہ صرف پولیس سے ہاتھاپائی کی بلکہ میڈیا والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے کیمرے توڑ ڈالے۔ طلباء کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام کی تمام بسیں جل کر خاکستر ہوگئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کانقصان ہوگیا۔ اس ساری ہنگامہ آرائی سے پورا علاقہ متاثرہوا، رکشوں کو بھی کافی نقصان پہنچایا گیا، آمدورفت معطل ہوگئی، بس مالکان نے لاری اڈا بندکردیا، گاڑیاں نہ چلانے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ ایک ڈرائیورکی غلطی کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا، اگر طلباء خود پر ضبط کرتے ہوئے قانونی کاروائی کا رستہ اختیارکرتے تو یقینا بگڑتے ہوئے معاملے کو سنبھالا جا سکتا تھا مگر طلباء آپے سے باہر تھے جس وجہ سے سینکڑوں مسافروں کو بھی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کے دلوں میں طلباء کے حوالے سے نفرت کے جذبات دیکھے گئے۔

اس وقت جبکہ وطن عزیزکئی سطحوں پرسیاسی، نسلی، سماجی، مذہبی اورفرقہ وارانہ کشمکش کا سامنا کررہا ہے، طلباء کایوں ہنگامہ آرائی کرنابلاشبہ وطن عزیزکی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ انہی طلباء کی جانب قوم کی نگاہیں مرکوز ہوتی ہیں، کیونکہ ملک وقوم کی ترقی کا انحصار اسی طبقے پر ہوتا ہے۔ ان کا کردار و عمل تاریخ مرتب کرتا ہے اورقوموں کی تقدیر بدلتا ہے۔ صحت مند معاشرے اور مملکتیں طلباء جیسے سرمائے کو سنوارنے کی سعی میں ہوتی ہیں مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ناخداؤں کی تعلیم دشمن پالیسیاں اورطلباء پر توجہ نہ دینا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال اسلامی تعلیمات، قرآنی آیات، احادیث اوراسلامی و قومی ہیروز کے واقعات کا نصاب سے اخراج ہے۔ طلباء کے نوخیز ذہنوں کو انسانیت کی بنیادی اقدار سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور و خوض کرتے ہوئے عمل درآمد کرے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com