سدا بہار خوشی کا واحد گر - شاکراللہ چترالی

ہر انسان کی فطری خواہش رہتی ہے کہ وہ خوش و خرم رہے، اس کو کسی قسم کی ناگواری اور پریشانی نہ ہو۔ اِس خواہش کے پورا ہونے کےدو ہی طریقے ہیں: ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر موقع پر ہر چھوٹا بڑا کام الغرض دنیا کا پورے کا پورا نظام اس کے ہاتھ میں آجائے۔ یہی خواہش بہتوں کی رہتی ہے، مگر ظاہر ہے یہ ناممکن ہے، اس لیے یہ طریقہ ناقابل عمل ہے۔

دوسرا طریقہ وہی ہے کہ جس ذات کے قبضۂ قدرت میں اس جہاں کا نظام ہے، جس کی منشاء و مرضی کے مطابق ہی دنیا کا ہر چھوٹا بڑا کام ہو تا ہے، انسان اس ذات کی مرضی و منشاء کو اپنی رضا بنالے۔ اس کو مقامِ رضا کہتے ہیں۔ یہ صورت ممکن تو ہے مگر اس کو اپنانے والے نہایت کم ہیں۔ انسان اپنی خواہشات پر کنٹرول کر کے ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق نہیں ڈھال سکتا، بلکہ چاہتا بھی نہیں، مگر یہ ضرور چاہتا ہے کہ ساری خدائی اس کے اشاروں کے تابع بن جائے۔

تمام بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر رضا لازم ہے خواہ ان کی طبیعت کو پسند ہو یا ناپسند۔ اس کا وجوب عقل و دلیل سے ثابت ہے، عقلمند جب دیکھتا ہے کہ اللہ تمام چیزوں کا مالک ہے اور مالک اپنی چیزوں میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا، اعتراض تو اس شخص پر کیا جا سکتا ہے جو دوسرے کی ملک میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرتا ہے، اور عقلمند یہ بھی سمجھتا ہے کہ اللہ حکیم ہے، وہی کام کرتا ہے جو اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے تو لامحالہ اللہ کے ہر فعل پر وہ راضی ہوتا ہے۔ اگر اس کے دِل میں ناگواری اور ناپسندیدگی کاکچھ خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے تو اس کا سرچشمہ عقلی اور دینی کمزوری اور نفس امارہ کے اندر بقیہ کفر کا اثر ہوتا ہے۔

رضاکا سرچشمہ اللہ کی محبت اور اس کا عشق ہے، محبوب کا فعل اور مقصود عاشق کے لیے اپنی ذاتی مراد سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ ذیل کے سطور چند عنوانات قائم کرکے اسی مقام رضا کو کھولنے کی کوشش کی گئی ہے:
1: تعریف
لغوی: پسند کرنا اور قبول کرنا
اصطلاحی: صوفیائے کرام کے ہاں رضا ایک مقام اور حال ہے جو توکل کی انتہا ہے۔

بشرحافی ؒفرماتے ہیں: رضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بیماری میں مبتلا کرے تو انسان صحت کی تمنا نہ کرے۔ عافیت کی نوازش ہو تو ابتلاء کی خواہش نہ رہے۔ فقر کی حالت میں توانگری کی تمنا نہ ہو اور فراخی میں تنگ دستی کی طرف رغبت نہ رہے۔

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں: رضا تین چیزوں کا نام ہے (۱) پسند اور اختیار کو ترک کرنا، (۲)کڑوی تقدیر پر دلی خوشی اور (۳) خود سے تدبیر کو چھوڑ کر ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا منتظر رہنا۔

شیخ ابو علی الدقاق ؒفرماتے ہیں: رضا یہ نہیں ہے کہ آپ کو آزمائشات اور تکالیف کا احساس ہی نہ ہو بلکہ رضا یہ ہے کہ آپ کو تقدیر اور قضا پر اعتراض نہ ہو۔

امام قشیریؒ فرماتے ہیں: توکل کے احوال میں سے تفویض سے اوپر کا درجہ ہے جس میں انسان منع اور رد میں لذت پاتا ہے ۔

2: مقام رضا قرآن کریم کی روشنی میں
رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ (البینۃ)
’’ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں‘‘۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی دو صفات بیان فرمائی ہیں پہلی صفت’’رضی اللہ عنھم ‘‘ بطورِ انعام کے ہے اور دوسری ’’رضوا عنہ‘‘صفت بطورِ منقبت کے ہے اور سببِ انعام ہے، چنانچہ مشہور صوفی بزرگ سری سقطیؒ نے فرمایا: ’’جب تو اللہ سے راضی نہیں تو پھر اس کی خوشنودی کا سوال کس طرح کرتا ہے؟‘‘
’’ورضوا عنہ‘‘ کی تفسیر میں امام بغویؒ نے لکھا ہے کہ بندہ کی رضا خدا سے دو طرح ہے، ایک رضا کے صلہ میں ’’بِ‘‘ آتی ہے یعنی رضی بہ، دوسری رضا کے صلہ میں’’عن‘‘ آتا ہے یعنی رضی عنہ۔ اوّل کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے رب اور مدبر کائنات ہونے پر بندہ راضی ہے، دوسرے کا یہ معنی ہے کہ اللہ کی قضاء و قدر سے بندہ خوش ہے۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒفرماتے ہیں: مؤخر الذکر رضا کی بھی کئی قسمیں ہیں: پہلی قسم یہ ہے کہ بندہ قضائے الٰہی پر اعتراض نہ کرے اور اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ جو کچھ کرتا ہے واقع میں وہ اچھا ہی ہوتا ہے، اگرچہ ہم کو اس کی خوبی معلوم نہ ہو۔

رضا کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ کی ہر مشیت بندہ کو محبوب و مرغوب ہو جائے ، خواہ اس کی خواہش کے خلاف ہی ہو۔
رضا کی تیسری قسم یہ ہے کہ بندہ اپنی انتہائی آرزو اور آخری تمنا کو پہنچ جائے۔

3: رضا اوراحادیث مبارکہ:
رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ابن آدم کی سعادت مندی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بکثرت خیر مانگتا رہے اور جو بھی اللہ تعالیٰ اسے عطاء فرمائے اس پر راضی رہے۔ ابن آدم کی بد بختی اللہ تعالیٰ سےخیر مانگنے کو چھوڑ دینا اور اس کے فیصلے پر ناراض رہنا ہے۔ (ترمذی)
اس سے معلوم ہوا: مقام رضا انسان کی نیک بختی کی علامت ہے۔

رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل و انصاف سے خوشی اور فرحت کو رضا اور یقین میں رکھا ہے اور پریشانی اور غم اپنے سے ناراض رہنے میں رکھا ہے۔ (المعجم الکبیر)
اس حدیث سےمعلوم ہواکہ جس کو مقامِ رضا حاصل ہوگا وہ ہمیشہ خوش وخرم رہے گا ۔

ایک بزرگ سے کسی نے حال پوچھا تو اس نے جواب میں ایک سوال کیا: اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ جس انسان کی مرضی و منشاء کے مطابق ہو اس کی کیا کیفیت ہو سکتی ہے ؟

اس شخص نے کہا : ظاہر ہے ایسا انسان خوش وخرم ہوگا مگر ایسا ہو کیسے سکتا ہے؟ تو اس بزرگ نے کہا: اس کی صورت یہی ہے کہ اپنی چاہت کو اس کی چاہت پر قربان کرکے اس کی رضا کو ہی اپنی رضا بنا لو! پھر چونکہ دنیا کا ہر کام اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی سے ہوتا ہے، وہ آپ کی منشاء مرضی کے مطابق ہوگا۔

حضرت عبداللہ ابن عمر رض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کہ وہ نوجوان جو میری قدر کرتا ہے، میرے فیصلے سے راضی ہے، اور میری دی ہوئی روزی پر قانع ہے اور میری وجہ سے خواہشات ترک کرتا ہے، وہ میرے نزدیک ملائکہ سے افضل ہے۔ (دیلمی)۔

4: اقسامِ رضا

رضا کی دو قسمیں ہیں: (۱) عام (۲)خاص۔

عام: ہر مکلف کے لیے جس کا ہونا ضروری ہے اس کی حقیقت یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فیصلے کو بغیر چوں و چراں اور اعتراض کے قبول کرنا۔

خاص: خواص کا حصہ ہے ۔اس کی حقیقت ’’اچھی اور بری تقدیر پر دل کا انشراح اور سرور‘‘ ہے۔

5: درجات رضا
پہلادرجہ رضاالعامہ: وہ یہ ہےکہ انسان ماسوا کی عبادت سے بےزار ہوکر اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہوجائے ۔ اس کے لیے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے ۔پہلی بات: اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بڑھ کر انسان کو محبوب ہو۔ دوسری بات: ہر چیز سے زیادہ لائقِ تعظیم ہو۔ تیسری بات: سب سے زیادہ اطاعت کا حقدار ہو۔

دوسرادرجہ رضاالخواص: وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے ہرموافق اورمخالف فیصلے اوراچھی اوربری تقدیرپر راضی رہنا۔ اس کے لئے بھی تین شرطیں ہیں (۱)بندے کے لیے تمام حالات یکساں ہوجائیں۔ (۲) مخلوق سے لڑنا جھگڑنا چھوڑ دے (۳) سوال اور الحاح وزاری بھی ترک کردے۔

تیسرا درجہ رضااخص الخواص: اللہ تعالیٰ کی مرضیات پر یوں فنا ہوجانا کہ انسان کی اپنی پسند اور ناپسند کوئی ہو ہی نا۔جو انہیں پسند وہ مجھے پسند جو ان کی رضا وہی میری رضا والی کیفیت بن جائے۔

6: مقامات رضا
رضا عن اللہ: احوال موجودہ میں اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا۔

رضا باحکام اللہ : آنے والی مصیبتوں اور اترنے والے امتحانات پر اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش رہنا۔

رضا باللہ تعالیٰ: اللہ تعالیٰ کی یکتائی اور توحید کو بصمیمِ قلب قبول و منظور کرنا۔

7: طبقات اہل الرضاء
اہل رضا کےتین طبقے ہیں:
(۱) جو قضا کے اترنے سے پہلے راضی رہتے ہیں یہ چونکہ تفویض کرتے ہیں اس لیے یہ سابقین ہیں
(۲) قضا کے نزول کے وقت راضی رہتے ہیں یہ صبر کرتے ہیں ان کا درجہ دوسرا ہے یہ مقتصدین ہے
(۳) قضا کے اترنے کے کافی دیربعد راضی ہوجاتے ہیں ان سے صبر کا دامن چھوٹ جاتا ہے کیونکہ صبر صدمہ پہنچنے کے وقت ہی ہوتا ہے، بعد میں انسان ہر حال اور تکلیف سے بتدریج مانوس ہوہی جاتا ہے اس لیے بے صبری کی وجہ سے یہ ظالمین ہیں۔

8: حقیقت ِرضا
شیخ جنید بغدادی فرماتے ہیں: حقیقتِ رضا یہ ہے انسان جس حال میں بھی ہو، طلبِ زیادتی اور سوالِ نقصان کے بغیر اسی حال پر راضی ،قانع اور رکا رہے۔
شیخ ابن العربی فرماتے ہیں: جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کچھ ہو تو وہ غایتِ رضا کو ہر گز نہیں پا سکتا۔
ایک قول یہ ہے: حقیقتِ رضا یہ ہےکہ منع و عطاءاور آزمائش و نوازش بندے کی نظر میں برابرو یکساں ہوجائے۔

9:علامات رضاء
ذوالنون مصری کہتے ہیں: (۱) قضاء سے پہلے پسند کو چھوڑنا۔ (۲) قضاء کے بعد اس پرترشی اور کڑواہٹ محسوس نہ ہونا (۳) آزمائشات کی برسات میں محبت کی آگ کا لپکنا، بھڑکنااور شعلے مارنا۔

10: اقوا ل صوفیاء
حضرت محمد باقرفرماتے ہیں: آسمان کے خزانے مقفل کنز ہیں ان کی کنجی رضا ہے۔
شیخ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں: رضا کا مقام زہد کے مقام سے اونچا ہے کیونکہ مقام رضا میں واصل انسان تمنا اور خواہش ہی چھوڑ دیتا ہے، مقام زہد میں یہ چیزیں نہیں چھوٹتی ہیں۔
امام قشیری فرماتے ہیں: رضا کی ابتداء کسبی اور مقامات میں سے ہے اور رضا کی انتہا وہبی اور احوال میں سے ہے۔
شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں: راضی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر اعتراض نہ کرے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */