کیریئر کونسلنگ کیوں اہم ہے؟ خالد ارشاد صوفی

وہ ایک لائق نوجوان تھا۔ ذہانت اس کے چہرے پہ چمک رہی تھی، لیکن آنکھوں میں ایک عجیب سے اداسی اور بے یقینی کی کیفیت نظر آتی تھی۔ یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے‘احمد مجھ سے سوشل سائنسز کے ایک مضمون میں اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں سکالر شپ کے حصول کے لیے ملنے آیا تھا۔ میں نے اس کے کیرئیر کا جائزہ لیا۔ اس نے میٹرک سائنس میں 90 فیصد نمبروں سے پاس کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے پری میڈیکل کا امتحان بھی 80 فیصد سے زائد نمبروں سے پاس کیا تھا اس کی خواہش تھی کہ کسی میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے لیکن انٹری ٹیسٹ میں کم نمبروں کی وجہ سے اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور اس نے اگلے سال دوبارہ امتحان دیا۔ نتیجہ بارِ دگر اس کے لیے حوصلہ افزا نہیں تھا۔ مایوس ہو کر اس نے میڈیکل سے منہ موڑا اور بی کام کر لیا تھا، جس میں اس نے 60 فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔ اور اب وہ سوشل سائنسز کے کسی سبجیکٹ میں ایم اے اور پھر ایم فل کرکے سکول ٹیچر لگنے کا خواہاں تھا۔ ایم بی بی ایس کرکے ڈاکٹر بننے کے اس کے خواب عرصہ ہوا بکھر چکے تھے اور اب وہ زندگی آگے بڑھانے کے لئے سکول ٹیچر تک لگنے کو تیار تھا۔

یہ محض احمد کی ہی کہانی نہیں، مناسب اور بروقت کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کے باعث اور انٹری ٹیسٹ کے عذاب سے ہمارے ملک کا ہر دوسرا نوجوان اسی طرح کے حالات کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو بچہ اچھا فارماسسٹ بن سکتا ہے، وہ انجینئر بن جاتا ہے اور جسے ایک اچھا اینکر ہونا چاہیے، وہ اپنے ہاتھوں میں ایم بی بی ایس کی ڈگری تھامے پھرتا ہے۔ ذرا میڈیا پر ایک نظر ڈال لیں۔

درست اور موزوں کیرئیر کا انتخاب ہر طالب علم کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے طبعی رجحانات اور آدرشوں کے مطابق اپنے پیشے کا انتخاب کرے۔ یہ بلا شبہ طالب علم کی زندگی کا ایک اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی اور وہ اپنی سوچ کے مطابق ٹامل ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب مضامین اور پیشوں کی تعداد محدود تھی۔ اب شعبوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے اور اس لحاظ سے والدین اور طلبہ کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔اگرچہ کچھ عرصہ پہلے انٹرمیڈیٹ کی سطح پر بچوں کو کیریئر کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک سرکاری تعلیمی اداروں، حتیٰ کہ متعدد نجی تعلیمی اداروں میں بھی اس سلسلے میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں کیرئیر پلاننگ کے لیے مارکیٹ کی ضرورت، تعلیمی قابلیت، والدین کا دباؤ، دوستوں کی رائے، مضامین کے سکوپ اور سب سے آخر میں ذاتی رجحان کو مد نظر رکھا جاتا ہے حالانکہ ذاتی رجحان کو سب سے اہمیت اور اولیت دی جانی چاہیے، تبھی ملک کو ایک بہترین پروفیشنل دینے کے سلسلے میں پہلی اینٹ رکھی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر طلبہ کالج یا یونیورسٹی تعلیم (بی اے ،ایم اے) کے بعد کیرئیر پلاننگ کی سوچتے ہیں، حالانکہ کیرئیر پلاننگ کا عمل سکول کے دورسے ہی شروع ہو جانا چاہیے جب بچہ میٹرک پاس کرے تو اسے اپنے طبعی رجحان کے مطابق مضامین اختیار کرنے میں دشواری نہ ہو، اور جب وہ انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرے تو اس کو معلوم ہو کہ اس نے کون سا شعبہ اختیار کرنا ہے اور کس طرح اپنا کیرئیر بنایا ہے۔ سکول اور کالج کی سطح پر طلبہ کی دلچسپیوں، سرگرمیوں، صلاحیتوں اوررجحانات و میلانات کا جائزہ لیے بغیروالدین کی طرف سے از خود اور بلا سوچے سمجھے کیریئر کا انتخاب طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوتا ہے۔

میرے خیال میں کیرئیر کونسلنگ کے سلسلے میں سب سے پہلا کردار اور ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے۔ بچے کی بدقسمتی کا آغاز سکول کے زمانے سے ہی اس وقت ہو جاتا ہے، جب والدین اپنی سماجی حیثیت اور معاشی سٹیٹس کو مدنظر رکھے، اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ انہوں نے اپنے بچوں کو کیا بنانا ہے، کسی اچھے انگلش میڈیم سکول میں داخل کرا دیتے ہیں۔ آٹھویں تک بچہ اسی گومگو میں رہتا ہے کہ اسے کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں۔ اس کے بعد والدین بچے کو اے لیول یا اولیول کرنے کی ہدایت کرتے ہیں، جو کہ ایک بالکل ہی الگ قسم کے سلیبس اور رجحان والا کورس ہے۔ والدین کی حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بنے یا پھر انجینئر، چنانچہ اسے پھر کسی اچھے کالج میں داخلہ دلایا جاتا ہے اور اس کے لئے بہترین اکیڈمی یا پرائیویٹ ٹیوشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طرح بچہ نمبر تو اچھے لے لیتا ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچے کے کیریئر کے لئے جس شعبے کا اہتمام یا خواہش کا اظہار کرتے ہیں، بچہ اس میں طبعی رجحان نہیں رکھتا اور ساری عمر ایک طرح کی کشمکش کا شکار رہتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ والدین بچے کے طبعی رجحانات اور میلانات کا جائزہ لیں اور مناسب وقت پر بہترین مشورہ بھی ضرور دیں لیکن اپنے کیرئیر کا فیصلہ بچے کو خود کرنے دیں۔اگر والدین نے اپنے بچے کو وہ مضامین رکھوائے جن میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں تھی، تو اس کی ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان صلاحیتوں کو اسی وقت ٹھیک طریقے سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے، جب انہیں کے مطابق کسی پروفیشن کا انتخاب کیا جائے۔ حال ہی میں ہونے والی مردم شماری کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی 21کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اس کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ کیا یہ بات لمحہ فکریہ نہیں ہونی چاہیے کہ آبادی کا اتنا بڑا حصہ ہونے کے باوجود نوجوان نسل مایوس نظر آتی ہے۔ ان کے لئے کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے لئے سرکاری سطح پر کیریئر کونسلنگ کا اہتما م ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے کسی اضافی انفراسٹرکچر یا نفری کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہر سکول میں اساتذہ کی خاصی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ انہی میں سے کچھ پر مبنی ایک کمیٹی بنا دی جائے جو کلاسوں میں پڑھاتے وقت طلبہ کے ذہنی میلانات کا تجزیہ کرکے اس کا ایک ڈیٹا تیار کر لیں اور پھر اس کی بنیاد پر والدین کو بلا کر انہیں صورتحال سے آگاہ کر دیا جائے تو میرے خیال میں ایسی بہترین کونسلنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جو آگے چل کر والدین اور بچے، دونوں کے لیے مفید ثابت ہو۔ علاوہ ازیں، میں نے انہیں سطور میں پہلے بھی عرض کیا تھا کہ انجینئرنگ اور ایم بی بی ایس تو ٹھیک ہے، اچھے شعبے ہیں، لیکن سرکاری سطح پر دوسرے شعبوں کو پُرکشش بنانے کے لیے بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔ ہمیں اچھے ڈاکٹر اور انجینئر تو چاہییں ہی، لیکن اچھے فارماسسٹس، اچھے ٹیچرز، اچھے وکلا، لائق پائلٹوں اور دوسرے تمام شعبوں میں کام کرنے والے مستعد افراد کی بھی تو ضرورت ہے۔ یہ ضرورت تبھی پوری ہو سکتی ہے اگر ہم اپنے بچوں کے لئے بروقت اور بہتر کیریئر کونسلنگ کا اہتمام کریں۔

باصلاحیت مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی اعانت اور فروغ تعلیم کے مختلف منصوبوں میں سرگرم ادارے کاروان علم فاؤنڈیشن نے نوجوانوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کی بلامعاوضہ راہنمائی دینے کے لیے ’’کیا پڑھیں؟ کہاں پڑھیں؟‘‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شعبہ تعلیم کے انتخاب اور پیشہ ورانہ زندگی میں مواقع سے آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ قوم کا جوہر قابل تعمیر وطن کے قابل بنایا جاسکے۔ اس سلسلے میں ویب سائٹ بھی جاری کی گئی ہے جہاں طلبہ و والدین راہنمائی لے سکتے ہیں۔