جماعتِ اسلامی کی نظریاتی و فکری رہنمائی – عمران زاہد

جماعتِ اسلامی کے اکثر ناقد ایک اعتراض بہت کثرت سے دہراتے ہیں کہ مولانا مودویؒ کے بعد ان کے معیار کا کوئی فکری رہنما اور عالم جماعت کو میسر نہیں آیا اور اسے جماعت کے زوال کی ایک اہم وجہ ٹھہراتے ہیں۔ میں اس اعتراض پر جتنا بھی غور کرتا ہوں مجھ پر اس کا بودا پن واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ جیسے فکری رہنما بار بار پیدا نہیں ہوا کرتے۔ نہ ہی ایسے عبقری کسی خاص ڈگری اور کورس کی تکمیل کرنے سے جنم لیتے ہیں۔ نہ ہی ان جیسے رہنماؤں کی پیدائش تک جماعت کے کاموں کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو ایک بہتا دریا ہے اور اسے بہنا ہے۔ ایسی نابغہ روزگار شخصیات گردشِ زمانہ کے نتیجے میں اس وقت کی ضروریات کے مطابق ظہور میں آتی ہیں اور اپنے علمی کمالات دکھا کر پردہ غیب میں روپوش ہو جاتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر فکری رہنمائی کے لیے ہم کسے رہنما کریں؟ کس کے پیچھے چلیں؟ کس کا پلہ پکڑیں کہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کا بیڑا پار ہو جائے؟

جیسے جیسے وقت کی صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں، ویسے ویسے علمی و فکری ارتقاء کا انحصار شخصیات کے بجائے اداروں پر ہونے لگا ہے۔ سائنسی ارتقاء کو ہی دیکھ لیجیے، ایک وقت تھا کہ لوگ فیراڈے، ایڈیسن، مارکونی، گلیلیو، آئزک نیوٹن، ارشمیدس، ابن الہیثم، البیرونی، الفارابی، الکندی، ابن سینا وغیرہم کو جانتے تھے۔ سائنسی اکتشافات فرد کی کاوش کے مرہونِ منت تھے۔ بلاشبہ ان لوگوں نے بڑی بڑی ایجادات و اکتشافات کیے، اور دنیا میں نام پایا، لیکن آج دنیا میں بڑی بڑی چیزیں بن رہی ہیں، مریخ اور اس سے بھی آگے جانے کے منصوبے بن رہے ہیں، نینو ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے، ہائپر لوپ کے ذریعے ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی جا رہی ہے لیکن ان کاموں کو کوئی ایک فرد نہیں کر رہا ہے، بلکہ یہ سب کام مختلف اداروں میں اجتماعی ذہانت کو بروئے کار لا کر کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ ایجادات اتنی پیچیدہ ہیں کہ کوئی ایک شخص ان کا موجد ہو ہی نہیں سکتا، عموماً سائنس دانوں کی ایک یا کئی ٹیمیں نئے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہی ہوتی ہیں، اور ایک ایک قدم آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں، حتٰی کہ ایک بریک تھرو کامیابی مل جاتی ہے۔ تازہ فکر کے لیے یونیورسٹیوں میں سے آئیڈیاز لیے جاتے ہیں۔ وہاں مخصوص سائنسی چیلنج سامنے رکھ کر ان پر طلبہ کے آئیڈیاز کا مقابلہ کرایا جاتا ہے، اور ان میں سے کچھ آئیڈیاز کو منتخب کرکے ان پر مزید کام کیا جاتا ہے۔ آج کے دور کی بیشتر ایجادات اسی طریقے سے ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا تربیتی نظام، ایک ورکشاپ کا احوال - میر افسر امان

مقصد صرف یہ کہنا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے جتنا کام کرنا تھا، کر لیا۔ ان جیسی شخصیت کبھی کبھی ہی پیدا ہوتی ہے۔ جماعت کی فکری رہنمائی کے لیے اداراتی طرزِ فکر کو فروغ دیجیے۔ معاملہ چاہے مذہبی ہو، سماجی ہو، نفسیاتی ہو، سیاسی ہو یا معاشی، متعلقہ اداروں میں ان پر کام ہو رہا ہو اور وہی ادارے ان معاملات میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہوں۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں (اور حکومتوں) میں اس طرز پر کام ہو رہا ہے۔ مشاورتی اداروں کے مشوروں سے بڑی بڑی پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں، اور وہ پالیسیاں تشکیل دینے والے میرے اور آپ جیسے بالکل نارمل انسان ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی علم و فضل کا پہاڑ نہیں ہوتا۔

جماعتِ اسلامی کو کسی نئے مولانا مودودیؒ کی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا نے اپنے وقت میں اپنے دور کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے حتی المقدور بہترین رہنمائی فراہم کی۔ اب جماعت کو فکری اداروں (تھنک ٹینکس بھی کہہ سکتے ہیں) کی ضرورت ہے، جہاں متعلقہ شعبوں کے ماہرین ان علوم پہ ہمہ وقت کام کر رہے ہوں، نت نئی مشکلات کا مطالعہ کر کے نئے نئے راستوں کی کھوج کر رہے ہوں اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہوں۔ شوریٰ بینھم کے آفاقی نسخے کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان اداروں کی موجودگی میں ایک عام سا لیڈر بھی قوم کو کہیں سے کہیں لے جایا کرتا ہے۔

آپ کا کیا کہنا ہے؟