ہم بھی بلوچستان گئے تھے - عبدالمالک نیازی

اس سال کا آغاز ہی ایک سفر سے ہوا تھا، لہٰذا یہ سال مختلف سفروں کے حوالے سے یادگار ہوگیا۔ جب عید قربان سے ایک ہفتہ پہلے گھر آیا تھا اور ارادہ تھا کہ عید کے بعد اپنے دوست احباب سے ملاقاتیں کی جائیں۔ عید کی رات ہی ناظم جامعہ پنجاب کی کال آئی اور حال احوال دریافت کیا اور ان کے ساتھ ہی پروگرام ترتیب دیا کہ عید کی شام سے ہی سفر کا آغاز ہوگا، ہم عید کے دوسرے روز ہی ڈیرہ غازی خان پہنچے وہاں ساتھیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور وہاں سے ہم نے ہارون آباد کی راہ لی پھر وہاڑی پہنچے اور وہاں سے ہم لاہور پہنچے کیونکہ راستے میں ہی بلوچستان جانے کا پروگرام طے پاچکا تھا۔ جمعرات کی شام کو ہم اپنے مقررہ وقت پر لاہور ایئر پورٹ پر موجود تھے اور اس دوران کوئٹہ کے حالات مسلسل ذہن میں کھٹک رہے تھے کہ اللہ ہمارے ساتھ خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے۔ خیر، جب جہاز نے ٹیک آف کیا اور کچھ ہی لمحوں بعد جب کوئٹہ کی طرف رخ کرچکے تھے تو میرے ذہن کوئٹہ کے متعلق مختلف قسم کے خیالات تھے۔ ان ہی خیالات کو ذہن میں لیے ہم ایک گھنٹے کے بعد کوئٹہ ائیر پورٹ پر موجود تھے جہاں ہمارے استقبال کے لیے پنجاب یونیورسٹی کی شوریٰ کے رکن ہدایت اخونزادہ بھائی ساتھیوں سمیت موجود تھ۔ وہ ہمیں سب سے پہلے کوئٹہ کے ایک مشہور ریسٹورنٹ پر لے گئے، جہاں ہماری چائے سے تواضع کی گئی کیونکہ چائے سے ہمارا ایک خاص ہی رشتہ ہے۔ ریسٹورنٹ سے نکلنے کے بعد ہم کوئٹہ شہر کی مشہور زمانہ شاہراہ سریاب روڈ سے گزرتے ہوئے کوئٹہ شہر کا ایک سرسری سا جائزہ لیا۔ ویسے سریاب روڈ سے گزرتے ہوئے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہی تھی کہ کہیں ہم بھی اگلے دن کی اخباروں کی زینت ہی نہ بن جائیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

رات کا کھانا ہمارا خلجی قبیلے کی طرف طے شدہ تھا وہاں ہماری قبائلی روایات کے مطابق ہی تواضع کی گئی ان کی کچھ روایات میں سے یہ بھی ہیں کہ مہمان کو باعث رحمت سمجھا جاتا ہے اور میزبان ایک خاص قسم کے برتن میں مہمان کا ہاتھ خود ہی دھلاتا ہے کھانے کے دوران بڑے بھائیوں کی موجودگی میں چھوٹے بھائی میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ویسے بلوچستان کے کھانے کھانا پنجاب کے لوگوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہی ہوتا ہے ہم الحمداللہ اس امتحان میں کسی حد تک کامیاب ہی رہے۔ کھانے کے بعد قبائلی روایات کی طرح ہی گپ شپ کا دور چل نکلا اور ساتھ میں سلیمانی چائے نے مزہ دوبالا کر دیا۔ تقریباً رات بارہ کے بعد ہمارے میزبان ہمیں فیڈرل لاجز میں لے گئے جہاں ہماری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ بستر پر دراز ہونے کے بعد کوئٹہ کے متعلق میرے خیالات کافی حد تک تبدیل ہوچکے تھے اور ان ہی خیالات میں گم ہوتے ہوئے میں نیند کی وادیوں میں پہنچ چکا تھا۔ دوسرے دن جمعہ کو ہمارا ناشتہ کاکو فیملی کے ہاں تھا اس لیے صبح سویرے ہی تیار ہوگئے کوئٹہ مقام کے رکن جمعیت فہد بھائی ہمیں لینے کے لیے پہنچ چکے تھے جو کہ تین دن صبح سے رات تک ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے۔ کاکو فیملی بہت ہی شاندار فیملی ہے اور ان کے بیس بیٹے اور بیٹیاں ہیں لیکن کاکو اور اس کے بھائیوں کی کل اولاد کی تعداد تقریباً نوّے ہے۔ ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد گپ شپ ہوئی وہاں سے ہم کوئٹہ شہر گھومنے کی غرض سے بازار کی طرف نکل آئے بازار میں گھومتے ہوئے ہر قسم کا خوف خیالات سے نکل چکا تھا کیونکہ ہمارے ذہن میں تھا کہ شاید یہاں بار بار تلاشی دینی پڑے گی یا ہم سے کوئی پوچھ گچھ ہوگی لیکن ایسا کچھ بھی ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم پیدل ہی بازار گھوم رہے تھے کہ اتنے میں نماز جمعہ کا وقت ہوچکا تھا۔ کوئٹہ شہر کی جامعہ مسجد میں جمعہ پڑھا نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہمارا دوپہر کا سکندر ایڈووکیٹ کے ساتھ تھا، ان کے ساتھ بلوچستان کے پرائیویٹ اسکول یونین کے صدر بھی موجود تھے ان کے ساتھ بلوچستان کے تعلیم کے مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئٹہ میں نجی اسٹوڈنٹس ہاسٹل ایک منافع بخش کاروبار - گہرام اسلم بلوچ

کوئٹہ کے ساتھ ہی کچلاک ہے جو کہ کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں ہے شام سے پہلے ہم کچلاک شہر میں پہنچ چکے تھے اور طے یہ ہوا کہ گاڑی میں بیٹھ کر ہی کچلاک کا نظارہ کیا جائے گا وہاں سے ہم پشین پہنچے جہاں ہمارے میزبان سابق رکن جمعیت امان اللہ بھائی تھے ان کی میزبانی میں ہم بوستان ڈیم والی جگہ پر پہنچے چونکہ جمعہ کا دن تھا اس لیے وہاں ہر جمعہ کو ایک میلہ لگتا ہے جس میں قبائلی لوگ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی دلچسپ پوتا ہے اس میں اناڑی لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں اور ان کی مرہم پٹی کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا ہے لیکن یہ لوگ اس ایڈوانچر سے بعض نہیں آتے ہیں اگر حکومت ان پر توجہ دے تو اولمپکس میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہوگا۔ جس عمر میں یورپ کا نوجوان میدانوں میں ہوتا ہے اس عمر میں ہمارا نوجوان گھر کا پہیہ چلانے کے لیے کسی نہ کسی دکان پر موجود ہوتا ہے۔

وہاں سے ہم مغرب کے بعد پھر کوئٹہ شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔ رات کا کھانا ہمارا امیدوار رکن جمعیت جامعہ پنجاب باچا خان بھائی کے گھر تھا مقررہ وقت پر ہم وہاں موجود تھے۔ بزرگ حضرات صحن میں بیٹھے تھے ان کے ساتھ دعا سلام کے بعد ہمیں ہال نما کمرے میں بٹھایا گیا اور اس کمرے میں تقریباً پچیس لوگ موجود تھے۔ خوبصورت روایات کے مطابق بڑے بھائیوں کی موجودگی میں چھوٹے بھائی میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ وہاں روایات کے مطابق ہی ہمارے ہاتھ دھلائے گئے دسترخوان پر ہم بیس لوگ تھے۔ بہت بڑا دسترخوان تھا مجھے روٹی کو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اتنی بڑی روٹی کون بناتا ہوگا؟ استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک اکیلی عورت ہی روٹی بناتی ہے اور واقعی یہ روٹی بنانا ہمت کا کام ہے۔ دسترخوان مختلف قسم کے کھانوں سے مزین تھا۔ کھانے کے بعد گپ شپ کا دور چل نکلا اور رات ایک بجے ہم وہاں سے نکلے ۔ اس یہ دن بھی بہت سے تجربات لیے مکمل ہوا ۔

ہفتہ کے دن ہمارا ناشتہ سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخونزادہ کی طرف تھا ہم مقررہ وقت پر وہاں پہنچے اور ان سے خوب باتیں ہوئیں ناشتہ کرنے کے خانوزئی اور زیارت جانے کا پروگرام چونکہ رات کو طے کرکے سوئے تھے، اس لیے ناشتہ کے بعد ہم نے گاڑی کا رخ خانوزئی کی طرف موڑ دیا، وہاں ہمارے مہمان سکندر اعظم کاکڑ بھائی اور بہادر بھائی تھے۔ خانو زئی بلوچستان کے سب سے زیادہ لٹریسی ریٹ رکھنے والا علاقہ ہے لیکن طرز زندگی انتہائی سادہ ہے۔ یہاں ہمیں سیبوں کے باغات جانے کا بھی اتفاق ہوا اور ہاتھ سے توڑ کر سیب کھانے کا اپنا ہی مزا آتا ہے۔ کھانے کے بعد ہم زیارت کی طرف روانہ ہوئے تو ذہن میں قائد اعظم کی تصویر آنے لگی۔ زیارت کے سفر کی اپنے ایک چاشنی تھی مختلف قسم کے رنگوں کے پہاڑ آپ کی منزل تک آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ زیارت کا سفر آپ کی تھکاوٹ دور کرنے کا بھی باعث بنتا ہے۔ زیارت چونکہ ایک پر فضا مقام ہے اس لیے قائد اعظم نے بھی اپنی عمر کے آخری ایام یہیں گزارنے تھے۔ زیارت پہنچ کر سفر کی تھکاوٹ ویسے ہی دور ہو چکی تھی یہاں ہمارا قیام کچھ ہی دیر کے لیے تھا لیکن یہ کچھ دیر ہمیں مدتوں یاد رہے گی۔ آپ کو جب کبھی بھی زندگی میں موقع ملے تو زیارت ضرور جائیں، بہت پرامن جگہ ہے۔ وقت کی کمی کے باعث ہم نے زیارت کی چائے کو پینا ہی غنیمت سمجھا اور مغرب کے وقت وہاں سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے چونکہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت سے ناظم جامعہ کی ملاقات طے تھی اور ہمیں وقت پر پہنچنا تھا گاڑی فہد بھائی چلا رہے تھے اور ان کو داد دینا بھی بنتا ہے کہ اللہ کے حکم سے انہوں نے ہمیں کئی یقینی حادثات سے بچایا اور کوئٹہ پہنچ کر ہم نے اللہ کا بہت بہت شکر ادا کیا۔ الفلاح ہاؤس میں ملاقات کے بعد ہمارا کھانا مرتضیٰ کاکڑ بھائی کے سے تھا جو کہ بلوچستان جمعیت کے ناظم بھی ہیں۔ وہاں سے ہم اپنی قیام گاہ پر پہنچے اتوار کی صبح ہماری ژوب روانگی تھی۔ کوئٹہ سے ژوب کا سفر بہت اپنی ایک علیحدہ ہی چاشنی رکھتا ہے راستے میں آپ کو ابھی پرانے زمانے کے پانی جمع کرنے کے طریقے نظر آئیں گے آپ نے یقیناً کتابوں میں کاریز وغیرہ کے متعلق ضرور پڑھا ہوگا یہ بھی آپ کو جابجا نظر آئیں گے کیونکہ یہاں پانی کا بہت مسئلہ ہے۔ آپ کو راستے میں سیب وغیرہ کے باغات نظر آئیں گے جن کے لیے لوگ بہت محنت کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہیں کہ سیب کے درخت کو پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ دوپہر کو ہم ژوب پہنچ چکے تھے سب سے پہلے ہم ژوب جمعیت کے ناظم کے ساتھ ان کے دفتر میں ژوب کی چائے سے لطف اندوز ہوئے وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم ان کے گھر کھانے کے لیے تشریف لے گئے جہاں روایتی انداز میں تواضع کی گئی۔ ژوب سے ہماری واپسی اب ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف تھی جو کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں آتا ہے لہذا ہمارا یہ سفر نامہ ژوب تک ہی محدود ہے۔ بلوچستان کے لوگ مہمان نواز ہوتے ہیں اور اگر آپ ان سے پیار سے پیش آئیں تو یہ آپ کے عمر بھر مشکور ہوں گے۔ یہ لوگ اپنی روایات پر مر مٹتے ہیں اس لیے جب کبھی بھی آپ کو زندگی میں موقع ملے تو بلوچستان ضرور جائیں۔