ترناول میں گدلے پانیوں کی جھیل - سید رحمان شاہ

چند لمحات بڑے شاندار ہوتے ہیں، کیونکہ کچھ مناظران لمحات سے جڑے ہوتے ہیں، اور وہ مناظر چونکا دینے والے ہوتے ہیں۔ منظر کوئی بھی ہوسکتاہے۔ ہر منظر اپنے اندر الگ انفرادیت رکھتا ہے ۔ ہم کسی سرسبز چراگاہ کے مقابلے میں چولستان کو ہیچ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ چولستان کی خوبصورتی بھی الگ انفرادیت رکھتی ہے۔ بہرحال، ایک آوارہ گرد و کوہ نورد کی نظر میں مناظروں کا امتیاز نہیں ہوتا۔ وہ ہر منظر کا شیدائی ہوتا ہے۔ اگر ایک سرسبز چراہ گاہ اسے اپنا اسیر بناتی ہے تو چولستانی ریت کا بھی وہ قیدی بن جاتا ہے۔ مشہور انگلستانی جہاں گرد بیئر گریلز صرف پہاڑوں سبزوں میں نہیں جاتا بلکہ وہ ریگستان کا بھی عاشق ہے، وہ چٹانوں پر بھی چڑھتا ہے، وہ سمندر کی گہرائیوں تک بھی جاتا ہے۔

ایک آوارہ گرد کی یہی خوش بختی ہے کہ اسے جو پسند ہے وہ اسے ہر جگہ مل جاتا ہے اور وہ اس کا عاشق بن جاتا ہے یعنی وہ ایک قیس و فرہاد ثانی ہی رہتا ہے۔ وہ مرحوم مسرتوں کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ آوارہ گرد کا عشق، عشقِ لاحاصل ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ جس مقصد کے لیے بھی آوارہ گردی کرے، کبھی اس سے سیر نہیں ہوتا ۔

میں خود ایک جھیل کا شیدائی ہوں۔ ویسے میں ہر اس منظر کا عاشق ہوں، جو میں نے دیکھے ہیں اور بہت سارے ایسے مناظر بھی رہتے ہیں جو دیکھنے ہیں کہ میں تو آوارہ گردوں کی فہرست میں ایک طفل ہوں۔ اگرچہ خود بھی طفل ہوں اور فہرست میں میرا نام بھی اس قدر طفل درج ہے کہ کوئی نہ پہچانے، سو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ بہرحال..بارے اُس جھیل کے کچھ بیاں ہوجائے!

ایک ایسی جھیل جو اچانک ہماری نظروں کے سامنے ابھرتی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ اچانک اس لیے بھی کہ ہم بس اک گماں لے کر یہ جھیل ڈھونڈ رہے تھے کہ کیا پتہ وہ جھیل اب نہ ہو؟ کسے پتہ وہ ختم کردی گئی ہو ؟ ہو سکتا ہے وہ نہ ملے؟ پھر بھی دل میں ایک امید لے کر ہم ڈھونڈ رہے تھے اور دو تین جگہ نہ ملنے کے بعدانسان جب ایک ٹیلہ عبور کرے اور و ہ دل میں یہی سوچے کہ کیا پتہ یہ ٹیلہ عبور کرنے کے بعد جھیل ہو اور اچانک آپ کا گماں یا پھر خام خیال یقین میں بدل جائے اور آپ کو ایک جھیل نظر آجائے تو آپ یقیناًہوش و حواس کھو دیتے ہیں، دنگ رہ جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ درختوں میں ابھرتی ہوئی وہ جھیل آج بھی میری نظروں کے سامنے ابھرتی ہے، جیسے کوئی دھند بھری صبح میں کوئی وادی ابھرے یا پھر کوئی با نقاب چہرہ آہستہ آہستہ بے نقاب ہوتاہوا نظروں کے سامنے آ جائے۔ اس جھیل کے گدلے پانیوں سے اچھلتی بھوکی مچھلیاں آج بھی میری نظرو ں کے سامنے ہیں اور مجھے پکارتی ہیں۔

مجھے وہ عصر کبھی نہ بھولے گی جب ترناول میں ، میں اپنے بھائی کے گھر میں بیٹھا تھا اور اس سمے میرا دم گھٹ رہا تھا کیونکہ باہر جانے کا دل ہو کر رہا تھا۔ میرے ماموں کا بیٹا شوکت بھی وہاں تھا۔ ہم دونوں ذرا چہل قدمی کرنے کے لیے گھر سے باہر آئے اور گھر کے پچھواڑے میں موجود قبرستان کے قریب نیم ہری گھاس پر بیٹھ گئے۔ میرا بہنوئی اور بھائی وہاں پہلے سے بیٹھے تھے شاید وہ ان کا بھی ہماری طرح دم گھٹ رہا تھا۔ خیر، وہاں بیٹھے بیٹھے ترناول کے تذکرے شروع ہوگئ۔ اکبر شاہ ذرا دوری پرمٹی کا ایک ٹیلہ دیکھ کر کہنے لگا ’’ شاید یہاں پہلے اینٹوں کی بھٹی ہوتی تھی ‘‘ اسی طرح میرا بھائی بھی کچھ تاریخ سی بیان کرنے لگا اور اس میں سے ایک جملہ شوکت کا تھا جو کچھ یوں تھا ’’یہاں ایک جھیل بھی ہے ‘‘

’’ کیا ؟ جھیل؟‘‘ میں قدرے حیران ہوگیا

کہنے لگا’’ ہاں ہاں! جھیل.. یہاں ایک جھیل بھی ہے ‘‘ مجھے شوکت کی باتوں سچائی نظر آرہی تھی۔ ویسے وہ جھوٹ بھی بہت بولتا ہے۔

’’ کہاں ہے؟ ‘‘میں نے شوکت سے کہا

’’ وہ بہت دور ہے‘‘ اکبر شاہ کہنے لگا

اسی دوران میرا بھائی مورخ بن کر کہنے لگا’’ او .. یہاں جھیل کہاں سے آگئی؟ یہاں کوئی جھیل نہیں‘‘ اکبر شاہ نے عرض کیا’’نہیں..ہے، پر بہت دور ہے ‘‘ شوکت نے کہا’’ اتنی دور بھی نہیں. میں پہلے گیا ہوں ‘‘۔ ’’ وہ سامنے متعدد ٹیلوں سے پرے درختوں میں شاید کہیں گم شدہ ہو ‘‘ اکبر شاہ نے دور کچھ ٹیلوں کے پرے ایک درختوں والی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ اکبر شاہ ، مغل بادشاہ اکبر کا صرف ہم نام ہی نہ تھا.. بلکہ کچھ کچھ ان جیسا بھی لگتا۔ ’’ مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ تھی پر اسی سامنے ٹیلوں کے ارد گرد کہیں ہے ‘‘ شوکت کہنے لگا۔

اسی دوران عصر کی نماز کا وقت ہوا۔ بھائی اور بہنوئی جگہ سے اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے اور ہم سے بھی کہاکہ چلو بھئی نماز پڑھنے۔ ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے روانہ تھے۔ اسی دوران میں نے پھر شوکت سے کہا۔ ’’ یار! جھیل دیکھنے چلتے ہیں ‘‘ کہنے لگا ’’ لیکن وہ شاید کہ ہمیں نظر آئے.کیونکہ میں نے تو ایک دو سال پہلے دیکھی تھی ‘‘ میں نے کہا’’ ہم نے ویسی بھی ذرا چہل قدمی کرنی ہے.. چلو جھیل دیکھ لیتے ہیں، جھیل نہ ملی تو کوئی بات نہیں..‘‘ اسی دوران پھر اکبر شاہ نے پھر سے حکم جاری کیا..’’ جلدی آؤ ورنہ باجماعت نماز رہ جائے گی ‘‘ میں نے کہا ’’آپ جائیں. ہم آرہے ہیں‘‘ اور ہم آ نہیں رہے تھے بلکہ جارہے تھے جھیل کی تلاش میں جا رہے تھے. جب وہ ہماری نظروں سے تھوڑے سے اوجھل ہوگئے تو ہم وہاں سے پھر گھر کے پچھواڑے کی طرف بھاگ گئے۔ اسی قبرستان کے پاس سے ہو کر دور ان ٹیلوں کی طرف جارہے تھے۔ یہ جگہ تھوڑی نشیب میں تھی جہاں تھوڑی دیر پہلے ہم بیٹھے تھے۔ وہ جگہ ذرا بلندی پر تھی۔ اس جگہ کی پلاٹنگ ہوئی تھی اور اس کے بعد ایسے ہی ویران پڑی تھی۔ بڑی بڑی گھاس اگی تھی۔ ایک قسم کی چراہ گاہ تھی اور اس پر ایک گائےاور کچھ بکریاں چر رہی تھیں۔ ہم جتنا آگے جاتے تھےاتنا ہی نشیب میں اترتے تھے اور وہ جھیل بھی شاید ٹیلوں سے پرے نشیب میں تھی ایک جگہ ہم نے ایک سوکھی ندی بڑی دشواری سے عبور کی کیونکہ یہ بالکل ایک بڑے گہرے دراڑ کی مانند تھی۔ اسے عبور کرنے کے بعد ہم پھر سے ایک میدان میں آگئے۔ اس میدان میں علاقائی جھاڑیاں بہت تھیں جو چلنے میں ہمیں ذرا تنگ کر رہی تھیں۔ ہمارے سامنے اس میدان کے ختم ہوتے ہی ایک اور نشیب جگہ تھی ہمیں احتمال گزرا کہ شاید وہاں جھیل ہوگی وہ جگہ بالکل نشیب میں تھی۔ ہم دل میں بڑی بہاریں لے کر اس جانب روانہ تھے پر یہ میدان عبور کرنے کے بعد اس نشیب جگہ کے بارے معلوم ہو اکہ وہاں جھیل نہیں اس نشیب جگہ سے پرے ۔ ہمارے سامنے ایک اور پہاڑی نما ٹیلہ تھا میں نے شوکت سے کہا۔ ’’ ہو سکتا ہے اُس ٹیلے سے پرے جھیل ہو‘‘ کہنے لگا’’ ہاں شاید .ہو سکتا ہے‘‘ ہم اس نشیب جگہ میں اترتے ہیں یہاں متعدد جوہڑ ہوتے ہیں۔ جگہ جگہ پانی اس طرح تھا کہ ان پر بھی کسی جھیل کا گماں ہوتا تھا۔ ان پانیوں کے قریب کچھ صاحبان گمنام جنریٹر لگائے ایک لمبے ڈنڈے کے سرے پر کچھ جالیاں باندھےجیسے باسکٹ بال گیم میں باسکٹ ہوتا ہے اسی طرز کی جالیاں جو آگے سے بند تھیں۔ جن کا ہول لوہے یا شاید پیتل کا تھا، اسے پانی میں ڈبوتے اور جب وہ جالیاں پانی سے نکلتیں تو اس میں مچھلیاں ہوتی تھیں یعنی ان جوہڑوں اور جھیل نما دکھنے والے پانیوں میں مچھلیاں بھی تھیں۔ واہ بھئی! کمال ہے بلکہ دھمال ہے۔ ہم دور سے تو انہیں دیکھ رہے تھے اور جب ان کے قریب سے اوپر پہاڑی نما ٹیلہ پر چڑھنے لگے تو بالکل اُن سے غیر مخاطب ہوگئےکہ جیسے ہم نے انہیں دیکھا ہی نہ ہو یا پھر وہاں کوئی ہو ہی نہ۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی کہ جو کچھ میرے سامنے ہو رہا ہو، اسے دور سے دیکھتا ہوں. کیونکہ دور سے دیکھنا اوروں کی نظر میں کوئی خاص دیکھنا نہیں ہوتا پر میں ایسا ہی کرتا ہوں اور جب قریب ہوتا ہوں کہ خود کو ایسا کر لیتا ہوں جیسے میں نے انہیں دیکھا ہی نہ ہو۔ چنانچہ ان صاحبانِ گمنام کے معجزوں کہ ایسے جوہڑوں سے مچھلیاں نکالنا بھی شاید معجزہ ہے یا پھر ان کے کرتوتوں سے کہ وہ ان مچھلیاں کو فرائی کرکے نوش فرمانے والے تھے اور وہ جو باتیں ایک دوسرے سے کر رہے تھے تو وہ تھے بھی افغانی اور افغانی کچھ بھی کر لیتے ہیں اگر رات کو بارش ہوجائے صبح گلی کی نشیب جگہ میں ٹھہرے ہوئے پانی سے بھی یہ مچھلیاں نکال سکتے ہیں۔ ان کے لیے سب کچھ ممکن ہے، ناممکن کچھ نہیں ۔

چنانچہ ان کے کرتوتوں یا معجزوں سے خود کو اپنی نظر میں ان دیکھے سمجھتے ہوئے ہم اس نشیب جگہ سے اس پہاڑی نما ٹیلے پر چڑھتے ہیں۔جب ہم اس پہاڑی نما ٹیلے کی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو اس سے پرے ایک اور عالم ہوتا ہے۔

’’ اوہو یہاں بھی جھیل نہیں ہے..‘‘ میں بہت افسردہ ہو جاتاہوں

اس ٹیلے کی یہی کرامات تھے کہ اس سے ہمارے دائیں جانب جو اہل ترناول کے گھر تھے، وہ بالکل نیچے دکھائی دیتے تھے اور ان گھروں کے مالکان صاحبان ہمیں اس بلند ٹیلے پر دیکھ کر شترمرغ کی طرح اپنا سراٹھائے ہماری طرف دیکھتے ہیں اور شاید اپنے دلوں یا زیرلب یہی کہتے تھے کہ یہ کون شوخ چشم بے حیاء ہیں جوہمارے گھروں پرجھانک رہے ہیں

’’ شاید ان ان درختوں کے پاس نشیب جگہ میں جھیل ہو وہاں چلتے ہیں .‘‘ میں نے اپنے بالکل سامنے ایک اور نشیب جگہ دیکھی اس کے قریب کچھ گمنام درخت تھے اوروہاں جو جگہ نشیب میں تھی اس کی طرف زینے بھی اترتے تھے۔
ہم جلدی سے اس ٹیلے سے اترنے لگے میں کسی قسم کا پرابلم نہیں چاہتا تھا کہ یہاں کے لوگ آئیں اور ہم سے کہیں کہ تم لوگ اس ٹیلے پر کیوں چڑھے تھے؟ شاباش اب مرغے بن جاؤ تو میں اشرف المخلوقات ہو کر کیونکہ شرف کھو دوں اور ایک پہاڑی نما ٹیلے کی چوٹی پر مرغا بن جاؤں اور وہاں مرغا بن کراس علاقے کی ساری "مرغیاں" مجھے دیکھیں۔ اس لیے ہم جلدی سے اس ٹیلے سے اترتے ہیں۔ پتہ نہیں دنیا کا وہ پہلا بندہ یا بندی کون تھی جس نے یہ مرغا بننا والی سزا ایجاد کرائی تھی کبھی وہ مجھے ملے تو میں اس کی کلاس لوں۔ مانسہرہ میں ڈھوڈیال شریف کے قریب ایک جگہ ہے بکریال ایک مرتبہ میرے دو تین ہم جماعت وہاں سیر سپاٹے کے لیے گئے تھے بکریال بھی پہاڑی نما ٹیلوں کا علاقہ ہے لیکن ہے بے مثال اس لیے میں اسے بکریال بے مثال کہتا ہوں جب میرے ہم جماعت بکریال کے ایک پہاڑی نما ٹیلے پر چڑھے اور جب سر تک پہنچے تو وہاں کے لوگ ایک دم چاروں طرف سے انہیں گھیرے میں لیے اوپر آگئے اور انہیں وہاں مرغا بنایا اور ان میں جو سب سے شریف میرا ہم جماعت تھا، جس کی داڑھی بھی تھی۔ مرغا بننے کے ساتھ ساتھ اس نے بہت مار بھی کھائی تھی یہ بہت بری بات ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

بہرحال، اس پہاڑی نما ٹیلے سے ہم جس جانب اترتے ہیں وہاں اتہائی وحشی قسم کی جھاڑیاں ہوتی ہیں ان جھاڑیوں میں کسی کسی جھاڑی میں چیری نما چھوٹے حجم والا پھل بھی ہوتا ہے۔ ہم مزید آگے جاتے ہیں اس جگہ سے دور فاصلے پر ایک نشیب جگہ تھی اس جگہ میں کچھ گمنام درخت بھی لگے تھے، ہمارے بائیں جانب ذرا نشیب میں گندے پانی کا نالہ بہتا تھا اور بہتا بہت کم تھا بلکہ رکا رکا تھا اور کسی کسی جگہ سے جوہڑ اور جھیل نما کا منظر پیش کرتا اس سے پرے جو ٹیلے تھے اس پرپہاڑوں کا گماں ہوتا تھا بہت بڑے بڑے تھے دور اسلام آباد کے پہاڑ پر دامن کوہ کا منظر مجھے یہاں سے دکھائی دیتا تھا اور بالکل صاف دکھائی دیتا تھا۔ یہاں کسی کسی جگہ زمین میں ٹریکٹر چلا یا گیا تھا ۔

دس بیس منٹ کا وہ راستہ طے کرنے کے بعد جب ہم اس اس نشیب جگہ تک پہنچتے ہیں تو ہمارے سامنے نیچے نشیب میں ایک انتہائی خوبصورت اور جازب النظر گدلے پانیوں کی جھیل ہے۔ آپ کیا سوچ رہے تھے کہ اس کے بعد بھی کچھ نہ تھا، بس بھئی اتنا ہی ہوتا ہے اب تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں یعنی ٹیلہ عبور کرنے کے بعد کچھ نہ ہونے کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں یہاں سے سیدھا اس جھیل کی طرف کوئی راستہ نہیں جاتا تھا چنانچہ ہم مزید دائیں جانب روانہ ہوتے ہیں۔ تھوڑا آگے چل کر ہم راستے تک پہنچتے ہیں راستہ بالکل جھیل کی طرف جاتا ہے جب ہم جھیل تک پہنچتے ہیں تو تھوڑا خوف بھی ہوتا ہے کیونکہ ایک تو اس کا رنگ بھی گدلا ہوتا ہے۔ دوسرا رنگ گدلا ہونے کی وجہ سے گہرائی کا پتہ بھی نہیں لگ رہا تھا کہ کتنی گہری ہے کیونکہ آدمی اگر قیاس بھی باندھتا ہے تو اس کے لیے پانی کا صاف ہونا شرط ہے چنانچہ ہم اس کے کناروں سے دور دور چہل قدمی کرنے لگے اس کے کنارے گویا اندر سے کھوکھلے تھے اور اس لیے تو مجھ سے شوکت نے کہا تھاکہ اس سے دور دور ہو کر چلناکہیں اندر ہی نہ چلے جاؤ اور میں یہ کیسا ہونے دیتا کہ میں اندر چلا جاؤں کیو ں کہ میں پانی سے بہت ڈرتا ہوں۔ میں جب پانی کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے گماں گزرتا ہے کہ وہاں گرداب ہے اور میں اس کی زد میں آجاؤں گا۔ یہ جھیل قدرتی نہ تھیں اسے بنایا گیا تھا جھیل تک جو پانی آتا تھا وہ گھروں سے نکلنے والے گندے پانی پر مشتمل تھا۔ اس جھیل کے قریب اردگرد درخت تھے اور جس طرف ہم چہل قدمی کر رہے تھے اور ہم سے دائیں جانب جو درخت تھے اس کے نیچے سبز کبل اگی تھی اور وہ جگہ سایہ دار تھی اور وہاں بیٹھنے کو دل کرتا تھا ۔

ہم مزید آگے جاتے ہیں ہم اب جس جگہ تک پہنچتے ہیں وہاں اوپر سے زینے نیچے اس جھیل کے کناروں تک اترے ہوتے ہیں اس زینوں کے قریب بلندی پر دو تین ایسے درخت لگے ہوتے ہیں جن میں سرخ رنگ کے بال نما پھول ہوتے ہیں۔ زینہ جہاں کنارے تک آکر ختم ہوتا تھا وہاں قریب ہی ایک سوکھا کنواں تھا زینہ جہاں اوپر بلند جگہ سے شروع ہوتا تھا وہاں ایک عمارت تھی۔ پتہ نہیں کس چیز کی یا شاید ہوٹل تھا ہم اب دوسرے کنارے تک جاتے ہیں۔ وہاں چھوٹے چھوٹے درخت اور جھاڑیاں بالکل اس کے کنارے پر اگی ہوتی ہیں چنانچہ ہمیں مجبوراََ ان درختوں اور جھاڑیوں کے عقب سے جانا پڑتا ہے وہاں سے گزر کرہم اس پختہ دیوار تک آتے ہیں جس کی مدد سے یہ پانی روکا گیا تھا اس دیوار کے وسط میں ایک جگہ پر لوہے کی جالی سیمنٹ کی مدد سے لگائی گئی تھی اور اس سے تھوڑا تھوڑا پانی خارج ہوتا تھا اور ہمارے پیچھے جو نالہ تھا جو کسی کسی جگہ سے جوہڑ اور جھیل نما ہوتا وہ اسی پانیوں سے وجود میں آیا تھا۔ اس جھیل کی چوڑائی تقریباََ پچیس فٹ تھی اور لمبائی تقریباََ پینتیس سے چالیس فٹ دوردوسرے کنارے پر جو زینے اوپر اس عمارت کے قریب سے اس جھیل تک اترتے تھے اور اس کے قریب بلندی پر جو درخت تھے جن میں سرخ رنگ کے بال نما پھول تھے لاجواب منظر پیش کر رہے تھے۔ جھیل کے پانیوں کا رنگ خاصہ گدلا تھا۔ ہم اس دیوار کے دوسرے سرے تک جاتے ہیں اور وہاں سے واپس آکر ہم اس جالی والی جگہ کے قریب اس دیوار پر بیٹھ جاتے ہیں۔ دیوارکی چوڑائی تقریباََ تین فٹ تھی اس واسطے ہم آرام سے بیٹھ سکتے تھے ہمارے قریب جو درخت تھا اس کی شاخیں جھیل پر جھکی ہوئی تھیں۔ اس جھیل کے اردگرد جو درخت تھے ان کے عکس ہمیں پانی میں بھی نظر آتے تھے اگرچہ پانی گندا تھا پر اپنے اندر عکس قید کرتا تھا کہ جیسے کوئی کالا چہرہ بھی کبھی کبھی انسان کو اپنا اسیر بنا لیتا ہےیہاں لگے سارے درخت اس جھیل کے اسیر تھے تبھی تو درختوں کی شاخیں اس پر جھکی ہوئی تھیں تبھی تو درخت پانیوں میں اپنے عکس دیکھ کر غصہ نہ ہوتے تھے۔ یہاں ہر چیز اس جھیل کی اسیر تھی اور ان میں سے دو لڑکے بھی اس جھیل کے اسیر تھے جو اس طرف اس دیوار پر بیٹھے تھے، جس کی مدد سے یہ پانی روکا گیا تھا اور ان میں سے ایک نے اپنے پاؤں دیوار سے پرے پانیوں میں رکھے تھے اور وہ میں تھا ۔

میرے پاؤں پانی میں تھے اور تب مجھے لگا کہ پانی سے خوف والے معاملے میں کون کتنے پانی میں ہے ۔ یہ الگ بات پر میں بہت پانی میں تھا اور میرے پاؤ ں بھی پانی میں تھے۔ ٹھنڈے پانی کی سطح پر یہاں درختوں کے پتے حرکت کرتے تھے۔ اسی دوران ہوا کا ایک زبردست جھونکا آیا اور پانی کی سطح حرکت میں آگئی اوراس پر تیرتے پتے گویا کسی مرغابی یا راج ہنس کا منظر پیش کر رہے تھے، اگرچہ چھوٹے چھوٹے تھے، پر پانی پر تیرتے ہوئے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچتے ۔ ہم نے وہاں بیٹھے بیٹھے چند تصاوریں لیں بلکہ سیلفیاں لیں کبھی کس طرح کا پوز بناتے کبھی کیمرے میں ہم کم ہوتے جھیل زیادہ ہوتی چونکہ ہم اصلی کیمرے کے علاوہ کسی اور کیمرہ میں تصاویر لے رہے تھے، جس میں ہماری بھوتیاں تو صاف آتی تھیں پر جھیل کا اورجنل منظر نہیں آرہا تھا۔ وہ کوئی رنگ باز قسم کا کیمرہ تھا، جس میں متعدد آپشنز تھے جو پلے سٹور سے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا اس سافٹ ویئر کیمرے نے ہماری ہر جگہ مدد فرمائی اگر یہ سافٹ ویئر ایجاد نہ ہوتا تو آج تک میری ڈی پی بن تصویر کے ہوتی یا پھر میری تصویر کی جگہ لکھا ہوتا ’’ تصویر چوری ہوگئی ہے‘‘ ہمارے اورجنل بھوتیاں اس قدر بد ہیں کہ بھوت بھی ڈر جائیں۔ چنانچہ اس دیوار پر بیٹھے جب ہم اس رنگ باز قسم کے کیمرے میں اپنی تصاویر لیتے اور ہمارے قریب گدلے پانیوں کی جھیل ہوتی ہے اور اس کی سطح پر تیرتے پتے کسی راج ہنس یا مرغابی کے تیرنے کا منظر دے رہے تھے تو اس وقت ہم اس بات پر دھیان نہ دیتے کہ جھیل کا اورجنل رنگ کیوں نہیں آرہا؟ یا پھر جھیل بَلَر سی کیوں آرہی ہے؟ بلکہ ہم دیکھتے کہ ہم بے شک تھوڑے آئیں پر صاف آئیں کیا یہ پوز بہتر ہے؟ نہیں نہیں تم ذرا اس طرف ہوجاؤ تماری ناک کیوں ٹیڑھی آئی ہے۔ اس قسم کے متعدد جملوں کے بعد ہم ایک تصویر لیتے۔ عصر بیت چکا تھا اور شام آہستہ آہستہ اتر رہی تھی اس گدلے پانیوں کی جھیل کی لطف سے خوب سیر ہوکر خوب تصاویر لیکر گھر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ اس جھیل کے پانیوں سے جو نالہ وجود میں آیا تھا اور وہ جس طرف بہتا تھا وہ جگہ ذرا نشیب میں تھی ہم اس طرف اترتے ہیں میں اپنے موبائل میں وہ تصاویر دیکھنے کی غرض سے گیلری میں گیا، وہاں کوئی ایک تصویر بھی نہیں۔

’’ او غضب ہوگیا اس میں تو کوئی تصویر بھی نہیں‘‘ میں شوکت سے کہتا ہوں

’’ کیا کہہ رہے ہو ؟ ‘‘

’’ یہ دیکھ لو ‘‘ میں اپنا موبائل اس کی طرف بڑھا دیتا ہوں

’’ اوہو! لیکن یہ ہوا کیسے؟ ‘‘ شوکت قدرے افسردہ نظر آتا ہے اور پھر کہتا ہے ’’ پتہ نہیں‘‘

’’ شاید تصویر لینے کے بعد اسے سیو کرنا پڑتا ہے کیا تم نے سیو والے آپشن پر کلک کیے تھے‘‘ شوکت نے مجھ سے کہا۔ ’’ میں نے تو کسی آپشن پر کلک نہیں کیا ‘‘ شوکت نے وہاں کھڑے کھڑے ایک تصویر لی تصویر لینے کے بعد جب تصویر سکرین پر شو تھی تو اس سے اوپر ایک آپشن تھا، شوکت نے اس پر کلک کیا پھر گیلری میں گیا اور کہنے لگا

’’ یہ دیکھو یہ. اسے سیو کرنا پڑتا ہے‘‘ میں نے جب سکرین میں دیکھا تو وہ تصویر گیلری میں تھی جو ابھی ابھی ہم نے لی تھی

’’اب کیا کریں؟‘‘ شوکت کہنے لگا

میں عرض کرتا ہوں.’’ اب یہی کر سکتے ہیں کہ اسی قسم کے پوز بنا کر ایک قسم کی فنکاری کرکے ہم اسی طرح کی کچھ تصاویر لے لیں‘‘ ’’ چلو‘‘ ہم پھر سے اوپر اس دیوار تک آتے ہیں جس جگہ پر ہم نے تصاویر لی تھیں، وہاں ایک قسم کی فنکاری کرتے ہیں کہ جیسے کوئی ہیرو کسی فلم کی شوٹنگ کرے اور اسے بتایا جائے کہ وہ شوٹ کیا ہوا ہم سے گم ہوگیا چنانچہ اب پھر سے شوٹنگ کریں تو اسی طرح ہم ایک قسم کی فنکاری کر رہے تھے اور پہلے کی طرح پوز بناتے ہوئے مختلف جملوں سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے کہ پہلے تم اس جگہ پر ایسے تھے، اب کیوں ٹیڑھے کھڑے ہو تمہارا سر اتنا زیادہ نہیں تھا پہلی تصویر میں اب کیوں زیادہ لا رہے ہو؟ اس دیوار پر تم پہلی تصویر میں ویسے بیٹھے تھے ا ب کیوں ایسے بیٹھے ہو؟ چنانچہ ایک قسم کی کمر توڑ فنکاری کرنے کے بعد ہم مطمئن ہوجاتے ہیں کہ چلو بھئی کچھ تصاویر تو قسمت میں میسر ہوئیں۔ بعد تصاویر لینے کے ہم اس جگہ سے روانہ ہوتے ہیں، جیسے ہی یہ دیوار ختم کرکے خشکی پر آتے ہیں تو میرے کانوں سے ایک ایسی آواز ٹکراتی ہے کہ مجھے گماں ہوا کہ جیسے اس جھیل میں کسی نے کوئی دس بیس من وزنی پتھر اس جھیل میں پھینک دیا ہو ہم دونوں ایک دم پیچھے مڑ جاتے ہیں میں شوکت سے کہتا ہوں

’’ کیا تم نے وہ آواز سنی؟‘‘

’’ ہاں ہاں!‘‘

’’ یہ آواز کس کی ہو سکتی ہے؟‘‘

ہم دونوں پھر سے اس دیوار پر آجاتے ہیں اور اسی سمے ہماری نظروں کے سامنے اس جھیل کے گدلے پانیوں سے سے ایک بڑی موٹی مچھلی پانی سے اچھل کر ہوا میں اڑتا ہوا مچھر پکڑ لیتی ہے اور مع اس کے پانی میں چلی جاتی ہے

’’ کیا تم نے دیکھاوہاں ایک بڑی مچھلی ہے؟‘‘ میں ایک دم شوکت سے کہتا ہوں

’’ ہاں ہاں! اور بھوکی بھی ہے۔ اپنی بھوک مٹانے کے لیے پانی کی سطح پر اڑتے مچھروں کو شکار کر کے اپنی بھوک مٹاتی ہے‘‘ نہ جانے اس جھیل میں اس قسم کی دس دس کلو والی کتنی مچھلیاں بھوکی تھیں کیونکہ سب کا یہی حال ہوگا۔ کچھ مچھر کھا کر بھو ک مٹاتی ہوں گی، کچھ اپنے انڈوں سے نکلنے والے بچوں کو نوش کر گزارا کرتی تھیں۔

وہ مچھلی تو پانی میں چلی گئی اور ساتھ مجھے ایک پیغام بھی دے گئی کہ اے نوجوان! تمہیں پتہ ہے ہم کتنے دنوں سے بھوکی ہیں؟ میں ایک نایاب اور نادر مچھلی ہوں، پر اس جھیل میں رہ میں ایک مینڈک کی زندگی گزارنے لگی ہوں، مچھر کھانے لگی ہوں۔ اس جھیل کے جو مالکان تھے وہ شاید انہیں کوئی خوراک وغیرہ نہ ڈالتے تھے ۔

بعد اُس کے ہم نیچے اس نالے والی جگہ عبور کر کے ایک ٹیلے پر چڑھتے ہیں عصر کا وقت بیت چکا تھا شام اتر رہی تھی۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور اسی اترتی شام میں دو خبطی آوارہ گرد ایک ٹیلہ عبور کرتے ہوئے گھر کی طرف روانہ تھے۔