کردستان ریفرنڈم: عراق کے تین ٹکڑے کرنے کا آغاز - تزئین حسن

رواں ماہ کی 25 تاریخ کو شمالی عراق کے شہر اربیل میں قائم کردستان کی علاقائی حکومت نے عراق سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے ریفرنڈم منعقد کیا۔ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت عراق کو شیعہ، سنی اور کرد تین حصّوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ نیا نہیں، یہ مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ اس کی بازگشت 2003ءمیں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے اکثر سنائی دیتی رہی ہے۔ 99.8 فیصد کرد ایک دہائی قبل ایک ریفرنڈم میں عراق سے علیحدگی کے حق میں رائے دے چکے ہیں اور اب اگریہ ریفرنڈم منظور ہوگیا تو کردوں کو، جو فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی بے ریاست قوم ہیں، ایک وطن مل جائے گا جو کرد قوم کی دیرینہ آرزوؤں کی تکمیل ہوگی۔ بلومبرگ کے مطابق اگر کردستان خود مختار ریاست کے طور پر وجود میں آ جاتا ہے تو یہ دنیا میں تیل پیدا کرنے والی دسویں بڑی ریاست ہوگی۔ ایک رپورٹ کے مطابق کردستان علاقائی حکومت اس وقت امریکا اور چین کے علاوہ متعدد ممالک کو تیل فراہم کر رہی ہے۔

ترک صحافی اور تجزیہ نگار محمد علی گلر کا کہنا ہے کہ امریکا ’گریٹر کردستان‘ کے منصوبے پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ روسی نیوزایجنسی ’سپتنک‘ کو دیے جانے والے انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ شام میں کرد ملیشیا کو داعش کے خلاف استعمال کرنے کا مقصد یہی تھا کہ انہیں مستحکم کرکے ایک کرد ریاست قائم کی جائے۔ امریکا کردوں کو داعش کے خلاف سب سے موثر اتحادی قرار دیتا ہے۔ امریکا کرد رضاکاروں کو نہ صرف ٹریننگ بلکہ بھاری پیمانے پر عسکری امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔ گلر کے مطابق پینٹاگون کرد ملیشیا کو باقاعدہ ایک فوج کی حیثیت دلا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکی بالادستی کو روکنے کے لیے انقرہ اور دمشق ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ ایک اندازے کے مطابق کرد قوم کی آبادی تین سے ساڑھے چار کروڑ ہے، وہ صرف عراق ہی نہیں ترکی، شام، آرمینیا، ایران اور وسطی ایشیا کی بعض ریاستوں میں بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ اور امریکا میں بھی مقیم ہیں۔ یورپ میں آباد 15 لاکھ کردوں میں سے نصف جرمنی میں ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک عراق کی صورت حال اس قدر غیریقینی ہے کہ اس ریفرنڈم کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی قریب میں برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی اور اس سے پہلے کینیڈا میں کیوبیک نامی علاقے کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم ناکام ہو چکے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ علیحدگی کے لیے منعقد ہونے والے سارے ریفرنڈم ناکام ہی ہوتے ہیں۔ نو برس قبل کوسوو کی سربیا سے علیحدگی کا ریفرنڈم کامیاب ہوا، آج کوسوو علیحدہ مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ یاد رہے کہ عراق کینیڈا یا برطانیہ نہیں، یہاں کی آبادی 2003ء سے دنیا میں سب سے بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔

ایک امریکی جیو ملٹری تجزیہ نگار لکھتا ہے کہ کرد واحد گروہ ہے جو امریکا کو گراؤنڈ پر میسر ہے، امریکا اسےضرور استعمال کرے گا۔ اس کا کہنا ہے: ”مجھے یقین ہے کہ امریکا شام کو تقسیم کرے گا کیونکہ امریکی جس چیز کوکنٹرول نہیں کر سکتے، اسے توڑ دیتے ہیں“۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کردستان کے ذریعہ شام کو کمزور کرکے ترکی اور ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ روس اس منصوبے کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور ترکی بھی داخلی کرد بغاوتوں کے ڈر سے اس منصوبے کے خلاف ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا کردستان کی علیحدہ ریاست کے مقامی خواب یا دنیا کی ڈوریں ہلانے والوں کے بیرونی منصوبے پورے ہونے کے بعد اس علاقے کے حالت میں کچھ بہتری آئے گی اور کیا مقامی آبادی اس کے بعد چین کا سانس لے سکے گی؟ خطے کے دوسرے فریقوں کے علاوہ بین الاقوامی سیاست کے کھلاڑی اس متوقع تبدیلی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اور خطے کے سیاسی منظرنامے میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے؟ خود عراق، ترکی، شام اور عراق میں موجود دوسری سیاسی اور عسکری قوتیں جن میں داعش بھی ایک اہم فریق ہے، کے آزاد اور خود مختار کردستان کے حوالے سے کیا خدشات پائے جاتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے -

’کردستان علاقائی حکومت‘ پہلی خلیجی جنگ کے دو سال بعد امریکا ہی کے تعاون سے وجود میں آئی، اس کے بعد سے اپنا جمہوری وجود برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ فی الوقت اس کی آئینی حیثیت عراق کے ایک 'فیڈرل ریجن' یعنی وفاقی خطے کے طور پر ہے۔ عراقی آئین کے مطابق 'فیڈرل ریجن' داخلی معاملات میں آزاد ہوتے ہیں جبکہ بغداد کی مرکزی حکومت بین الاقوامی معاملات کی ذمہ دار ہے۔

سن 2014ء میں داعش کے شامی علاقے پر قبضے کے بعد کردستان ریجنل گورنمنٹ نے تیل کی دولت سے مالامال کرکوک کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرکے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ یہاں کردوں کے علاوہ بڑی تعداد میں عرب اور ترکمان بھی آباد ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صدام کے زمانے میں آبادی کے توازن کو حکومت کے حق میں کرنے کے لیے یہاں عربوں کو ایک منصوبہ کے تحت بسایا گیا جس کے نتیجے میں 90 ءکے عشرے میں یہ عرب اکثریتی علاقہ ہوگیا۔ حالیہ برسوں میں عراقی عرب خود بھی شمال سے علاقے کی نسبتاً پرامن صورت حال کی وجہ سے ادھر کا رخ کرتے رہے ہیں۔

صدام حسین کے بعد جلاوطن کرد بڑی تعداد میں علاقے میں واپس آئے اور عربوں نے علاقہ چھوڑ دیا مگر آبادی کے حالیہ تناسب کے بارے میں کچھ کہنا ہے۔ اس علاقے کو ’بارود سے بھری کان‘ بھی کہا جاتا ہے جہاں کسی بھی وقت خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ کردستان کی علیحدگی کے بعد یہاں رہنے والے عربوں میں بے چینی لازمی ہے جو حالات میں خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ عراق میں امریکی حملے کے نتیجے میں انتہاپسند قوتوں کے طاقتور ہونے کے بعد کسی بھی علاقائی تنازع میں ان کی مداخلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بے چینی علاقائی عربوں کو بغاوت پر آمادہ کر سکتی ہے یا داعش بذات خود اس تنازع میں کود سکتی ہے جو مقامی آبادی کے مسائل میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ امن و امان کو تباہ کرنے میں بھی یقیناً اپنا حصہ ڈالے گی۔

کردستان علاقائی حکومت جمہوری رویوں کے فقدان اور کرپشن کے باوجود باقی عراق کے مقابلے میں بہت بہتر کام کر رہی ہے۔ بین الاقوامی صحافی مائیکل جے ٹوٹن نےحالیہ برسوں میں متعدد بار علاقے کا دورہ کیا اور کردستان کو امریکی ریاست کینساس سے زیادہ محفوظ پایا۔ ان کا کہنا ہے: ”اگر آپ بغداد یا موصل سے آ رہے ہیں تو یہ سوئٹزرلینڈ جیسا ہے“۔

کردستان انتظامی لحاظ سے چار حصوں میں تقسیم ہے۔ ان میں سے دوھک، اربیل اور سلیمانیہ باقی عراق کے برعکس صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد سے مسلح تنازعات سے پاک ہیں مگر کرکوک اب بھی جنگ زدہ خطہ ہے، یہاں تنہا سفر کرنا خطرناک ہے۔ موت، اغوا، کے علاوہ آپ کی کار کو کسی دھماکے سے اڑائے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ بعض اوقات کرد حکوت کی سرکاری پناہ میں سفر کرنے والے بین الاقوامی مبصرین کو بھی کار بم دھماکوں سے اڑا دینے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ امن عامہ کی ابتر صورتحال کے باوجود تیل کی دولت کے سبب کرد حکومت کے ساتھ ساتھ کرکوک بھی بغداد کی وش لسٹ میں بھی شامل ہے۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ بغداد میں موجودہ امریکی کٹھ پتلی حکومت کو اندرونی مسائل سے فرصت ملے تو وہ بھی کرکوک حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ بغداد حکومت کی یہ خواہش پوری ہونا آسان نہیں۔ ماضی میں صدام حسین کی طاقتور فوج کو کردستان میں شدید مشکلات کا سامنا رہا تھا۔ کرکوک کی زبردستی خودمختار کردستان میں شرکت بھی مسائل کھڑی کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔

ترکی کے تحفظات

اس معاملے کا ایک اہم فریق ترکی بھی ہے جس کے کردار کو عراق اور شام کی علاقائی سیاست کے تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کرد علیحدگی پسند جدوجہد کو بغداد کی کٹھ پتلی حکومت سے زیادہ خطرہ بلا شبہ ترکی سے ہے۔ ترکی عرصہ سے اپنے ہاں کرد علیحدگی پسند تنظیم PKK سے نمٹ رہا ہے۔ PKK جسے مارکسسٹ لیننسٹ ورکرز پارٹی بھی کہا جاتا ہے، اس وقت شام میں داعش کے خلاف سرگرم اور امریکا سے عسکری امداد بھی وصول کر رہی ہے جس پر ترکی کو داعش کے خلاف اتحادکا حصہ ہوتے ہوئے بھی شدید تحفظات ہیں۔ ترکی نے کرکوک کی کردستان میں شمولیت پر اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ رواں سال جون میں صدر طیب ایردوان کے نمائندہ نے شمالی عرا ق کی خود مختاری کے ریفرنڈم پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ شمالی عراق کی آزادی خطے کی سالمیت کے لیے خطرہ ہوگی۔ یاد رہے کہ ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں کی دہشت گردی کے باوجود ایردوان اور کردستان کے صدر مسعود برزانی کے درمیان سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ کرکوک عراقی آئین کے مطابق عراقی شہر ہے اور کردستان کی حدود سے باہر ہے۔ ترکی بجاطور پر خود مختار کردستان سے خطرہ محسوس کر رہا ہے کیونکہ یہ اس کے ہاں بھی کرد بغاوت میں شدت پیدا کر نے کا با عث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی شام میں کردوں سے کیوں لڑ رہا ہے؟ میگن سپیشیا

امریکا کا کردار

کردوں نے 2003ءکے امریکی حملے میں صدام کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا تھا۔ امریکی قبضے کے بعد بننے والی ’عراقی گورننگ کونسل‘ میں بھی کرد شیعوں کے ساتھ شامل رہے۔ کرد تنظیم PKK فی الوقت امریکا کی سب سے مستحکم اور قابل اعتماد اتحادی جانی جاتی ہیں۔ دا عش کے خلاف کارروائیوں میں اس نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو خوب منوایا۔ امریکا کے لیے یہ بات اطمینان بخش ہے کہ PKK ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا ’حزب اللہ‘ سے فاصلہ رکھے ہوئے ہے، مستقبل میں بھی ان دونوں عسکری تنظیموں کے قریب آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے علاوہ کرد روس کے بھی قریب نہیں ہیں۔ وہ داعش سے یا سلفی تنظیموں سے بھی دور ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ بھی بظاہر آزاد کردستان کی مخالفت کر رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک آزاد کردستان کے مقابلے میں امریکا کا حمایت یافتہ کردستان زیادہ مستحکم ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کردستان امریکا کے ایک سیٹیلائٹ ملک کے طور پر ابھرتا ہے یا ایک واقعی آزاد ریاست کے طور پر۔ اس خطہ کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اسے شام اور عراق کی بیلکنائزیشن (Balkanization) کہا جا رہا ہے جس کے منصوبہ سازوں کے یقیناً اپنے اپنے خواب ہوں گے، وہ اس خودمختاری سے فوائد سمیٹنے کے لیے مستعد ہوں گے۔

جس نئے مشرق وسطیٰ کی تعمیر کا اعلان 2006ء میں امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کونڈولیزا رائس نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں کیا تھا، اس کے لیے مشرق وسطیٰ میں انتشار اور شورشیں پھیلانا بہت ضروری تھا۔ افغانستان اور عراق پر امریکی حملہ، عراق کے انتظامی اور شہری انفراسٹرکچر اور اداروں کی تباہی، دنیا کے دوسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک میں غربت، بدحالی اور بھوک کے علاوہ مذہبی مقامات پر حملوں کے ذریعہ فرقہ واریت کے پھیلاؤ، عراق کے گلی کوچوں کے علاوہ ابوغریب جیسے مقامات میں عراقیوں کی ذلت نے جس انتہا پسندی کو جنم دیا، اس کے نتائج یہی نکلنا تھے بلکہ اسرائیل میں مقیم صحافی جوناتھن کوک کے بقول ’یہ سب نتائج حملے کے منصوبہ سازوں کے پلان کے عین مطابق ہیں‘۔

اگرگریٹر کردستان وجود میں آ جاتا ہے تو یہ ایک طرح سے امریکا کی ’سیٹیلائٹ سٹیٹ‘ ہوگا جو اپنی حفاظت کے لیے امریکی فضائیہ کا محتاج ہوگا۔ امریکا اور دوسری بالادست طاقتوں کی حکمت عملی نئی نہیں، عراق کو سلطنت عثمانیہ سے الگ کرکے جو کٹھ پتلی حکومت آج سے پورے سو سال پہلے بنائی گئی تھی، وہ بھی برطانیہ کی اسی طرح محتاج تھی۔ نائن الیون کے بعد افغانستان اور عراق میں جو حکومتیں بنائی گئیں، ان کا بھی یہی حال ہے۔ ایسی حکومتوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ملک کے اصل سیاسی سٹیک ہولڈرز ایسی حکومت کے خلاف بغاوتیں کرتے رہتے ہیں، ملک میں خانہ جنگی جاری رہتی ہے، کیونکہ منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی کا مقصد یہی ہوتا ہے۔

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.