کوئی دین دار نہ بنے! داروغہ سندھ کا حکم - محمد عاصم حفیظ

آئی جی سی ٹی ڈی سندھ ثنا اللہ عباسی نے نوجوان نسل میں دین کی طرف لگاؤ کے حوالے سے ایک عجیب و غریب حکم سنا کر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ جناب کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر کوئی نوجوان داڑھی رکھ لے یا کوئی لڑکی حجاب اوڑھنا شروع کر دے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔ اسی طرح کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی نمازی ہو جائے تو بھی پولیس کو بتایا جائے۔ ایک اعلیٰ ترین پولیس آفیسر کی جانب سے اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اور پھر اس حرکت پر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک کو لبرل و سیکولر بنانے والی قوتیں کس قدر طاقتور ہیں۔ یعنی اب دوران تعلیم یا جوانی میں اگر کسی کے دن میں شوق عبادت پیدا ہو تو اسے محتاط ہونا پڑے گا کیونکہ پولیس کی نگرانی اور تفتیش کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ جب سعید انور اور انضمام الحق کی دینی تڑپ کی بدولت میدان میں باجماعت نماز ہوتی تھی اور نامور انٹرنیشنل کرکٹرز نے داڑھیاں بھی رکھ لیں تھیں۔ اسی ماحول نے محمد یوسف (سابق مسیحی) کھلاڑی کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ مسلمان ہو گئے۔ شکر ہے یہ سب آجکل نہیں ہوا، ورنہ موصوف آئی جی سندھ نے پوری پاکستانی ٹیم کو شامل تفتیش کر لینا تھا۔ داروغہ سندھ صاحب کو شاید پتہ نہیں کہ والدین تو دعاؤں اور کوششوں سے اپنی نوجوان اولاد کے دیندار بننے کی خواہش کرتے ہیں۔ پاکستانی ٹی وی کی ٹاپ سٹار اداکارہ سارہ چوہدری کو ہدایت نصیب ہوئی اور انہوں نے شوبز کی چکاچوند کو پست پشت ڈال کر دین کی مبلغہ بننے کا فیصلہ کیا۔ یہ صرف ایک سارہ چوہدری نہیں بلکہ ہزاروں نوجوان لڑکیوں کی کہانی ہیں کہ جب مادّیت پرستی، فیشن زدہ ماحول اور بے لگام آزادی اور بے راہ روی کی حد تک بڑھے ہوئے شب و روز سے توبہ نصیب ہوتی ہے تو وہ دین کی آغوش میں پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ کیا اب کوئی لڑکی اس بارے میں نہ سوچے کہ وہ زندگی میں کبھی باپردہ اور نمازی ہو جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ صاحب کی جے - سعدیہ مسعود

یورپ و امریکہ تک میں ایسی نوجوانوں کی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو گناہ کی دلدل میں پھنسے نوجوانوں کو دین کی طرف لا کر مفید شہری بنا دیتی ہیں۔ پاکستان میں یوتھ کلب، مرسی مشن، الہدیٰ، النور سمیت درجنوں نوجوانوں کی تنظیمیں یونیورسٹیز اور کالجز میں آوارگی کی زندگی گزارتے، نشے کے عادی اور بری عادات کا شکار نوجوانوں کو دعوت دیکر دین کی آغوش میں لاتی ہیں۔ مغربی ممالک اور ملک کی اعلیٰ ترین جامعات کے فارغ التحصیل یہ نوجوان جن کی زندگی عیاشی، شراب و کباب اور موسیقی اور دیگر گناہوں سے عبارت ہوتی ہے، اللہ جب انہیں ہدایت دیتا ہے تو دکھی انسانیت کی خدمت کرنیوالے بن جاتے ہیں۔ زلزلے اور سیلاب میں مشکلات کو جھیلتے یہ نوجوان سب کچھ دینی جذبے سے کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہوتی ہے کہ جنہیں اللہ تعالی دوران تعلیم ہدایت نصیب کرتا ہے۔ ان کا طرز زندگی بدل جاتا ہے اور شخصیت میں نکھار آجاتا ہے۔ شاید جناب ثناء اللہ عباسی نے ساری زندگی تھانے کچہری میں انصاف ادھر ادھر کرتے ہی گزاری ہے ورنہ اگر وہ کبھی معاشرے میں نکلے ہوتے تو انہیں دین دار نوجوانوں کے ایسے اجتماعات ضرور دیکھنے کو ملتے کہ جہاں صرف اللہ کو منانے کی باتیں ہوتی ہیں، دکھی انسانیت کی خدمت کی بات کی جاتی ہے، جو اپنا وقت اور سرمایہ غریب و مسکین افراد کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو قرآن وحدیث کی تعلیمات سیکھنے سیکھانے کی محافل منعقد کرتے ہیں۔ جو نوجوان نسل کو ملک دشمن اور معاشرے کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں سے بچاتے ہیں اور انہیں مفید شہری بناتے ہیں۔

محترم آئی جی سندھ صاحب کو چاہیے کہ اپنی اور اپنے ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرکے ملک دشمن اور دہشت گردوں کے ہتھے چڑھنے والے گروہوں پر نظر رکھیں، اپنے ادارے سے رشوت اور لالچ کی بنیاد پر جیل توڑنے جانے جیسے مکروہ دھندے اور خطرناک مجرموں کو قید کے دوران موبائل اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے اہلکاروں کا محاسبہ کریں نہ کہ اپنی کوتاہیوں کی آڑ میں معاشرے میں جاری مفید سرگرمیوں کو مشکوک بنائیں۔ پولیس کو چاہیے کہ مجرموں اور دہشت گردوں کےلیے خطرہ بنے، ان کو پکڑیں اور جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرکے ان کے ٹھکانوں تک پہنچیں نہ کہ ہدایت کے متلاشی اور گناہ کی زندگی سے بچ کر دین کی آغوش میں آنیوالوں کو ڈرانے دھمکانے میں اپنی صلاحیتیں استعمال کریں۔ روز سنتے ہیں کہ پولیس کی وردیوں میں ملبوس مجرموں نے کوئی ڈکیتی کی یا قتل کر دیا، کیا ایسے واقعات کو بنیاد بنا کر پولیس پر ہی پابندی لگا دی جائے، ہر باوردی پولیس والے کو مشکوک سمجھا جائے۔ عوام پولیس کے ساتھ تعاون کرنا بند کر دیں اور پولیس سےاس کی شناخت کا مطالبہ کیا کریں۔ کیا اس طرح نظام چلایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ صاحب کی جے - سعدیہ مسعود

محترم آئی جی سندھ صاحب ذرا تحقیق کریں تو پتہ چلے گا کہ مغربی دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے، وہاں کے ہزاروں لاکھوں نوجوان مردوخواتین عیاشی اور دیگر گناہوں میں لتھڑی زندگی کو چھوڑ کر دین اسلام کی آغوش میں پناہ لے رہے ہیں۔ اگر وہاں کسی کے دیندار بن جانے پر کوئی پابندی نہیں تو کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی ایسی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی راہ ہدایت کی طرف آنیوالے نوجوانوں کو پولیس تفتیش کے ذریعے ڈرانا دھمکانا چاہیے کیونکہ اس سے تو ان گمراہ گروہوں کو تقویت ملے گی جو اپنے من گھڑت اور جھوٹے دلائل سے نوجوان نسل کی برین واشنگ کرکے انہیں دین کے نام پر دہشت گرد بنا رہے ہیں۔