ماہرہ خان، سارہ چوہدری، جاوید غامدی اور اشفاق احمد - اسماعیل احمد

ماہرہ خان کی کچھ تصاویر اہل ِوطن کی بصارتوں پر گراں گزری ہیں، سوشل میڈیا پر غم و غصہ کی شکل میں جس کا اظہار ہوا۔ دوسری طرف میڈیا کے چند احباب اور دیگر لبرل طبقے کے نمائندہ افراد نے ماہرہ خان کی ذاتی زندگی میں عوام کی اس طرح کی مداخلت کو اعلیٰ انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کو ہرگز ماہرہ خان سے کوئی شکایت نہیں۔ مسئلہ تو "ہمسفر " کی "خرد"، "صدقے تمہارے" کی "شانو" اور "شہرذات" کی "فلک" کا ہے، ماہرہ خان جن شاندار کرداروں کی بدولت شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔ ان تمام کرداروں میں ماہرہ خان ایک باحیا، باوفا اور اپنی ذات کا کھوج لگانے والی طالبِ راہ ِحق کے طور پر ٹی وی اسکرین کے پردے پر نظر آئیں۔ بس اللہ پاک ماہرہ خان سمیت ہماری مین اسٹریم میڈیا انڈسٹری کو اتنی سمجھ عطا کردیں کہ اس خطے کے لوگوں نے جس مٹی پہ چلنا سیکھا ہے، اس کے خمیر میں عورت کا وجود زیب و زینت اور نمود ونمائش کے لیے نہیں بلکہ عفت، حیا اور پاکدامنی کے لباس میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

ماہرہ خان نے بھی اپنے مشہور ڈراموں میں جن کرداروں میں اپنی اداکاری کا رنگ بھرا، وہ کردار انہی مشرقی روایات کے علمبردار تھے۔ ہمارے ناظرین آپ کی کرداری کے سحر میں اتنے مبتلا ہوجاتے ہیں کہ انہیں آپ عام زندگی میں بھی اتنی ہی پاکیزہ، صاف ستھری، باکردار، باحیا چاہیے ہوتی ہیں، جتنی آپ اپنے ڈراموں میں نظر آتی ہیں۔ لبرل طبقہ تو ماشاء اللہ سیانا، سمجھدار اور وقت کی نزاکتوں سے آشنا ہوچکا ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی اور ڈراموں والی زندگی کے فرق سے واقف بھی ہے، اور اس بات کا خوگر بھی ہے کہ آپ حتی الوسع اپنے آپ کو اجاگر کریں مگر عوام ابھی اتنی سیانی نہیں ہوئی۔ اس لیے وہ آپ کو "ہیروئن" کے انہی فریمز میں دیکھنا پسند کرتی ہے جو معاشرے نے اپنے لیے طے کر رکھے ہیں۔

اب چار مختلف افراد کی کچھ مختلف مواقع پر کی گئی گفتگو پیشِ خدمت ہے، ماہرہ خان والے حالیہ مسئلے کی تشخیص اور حل اسی گفتگو میں موجود ہے۔

پہلی گفتگو تو ماہرہ خان کی ہے جو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر رنبیر کپور کے ساتھ کچھ تصاویر میں منظرِعام پر آئی۔ "ایک تصویر ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے " اور ماہرہ خان کی میرے خیال میں چار تصاویر ہیں، کم وبیش چار ہزار لفظوں پر بھاری۔

دوسری گفتگو اشفاق احمد کی ہے جو "زاویہ"میں کی گئی۔ "جب ہم سمن آباد میں رہتے تھے۔ یہ لاہور میں ایک جگہ ہے۔ وہ ان دنوں نیا نیا آباد ہو رہا تھا۔ اچھا پوش علاقہ تھا۔ وہاں ایک بی بی بہت خوبصورت، ماڈرن قسم کی بیوہ عورت نو عمر وہاں آکر رہنے لگی۔ اس کے دوبچے تھے۔ ہم، جو سمن آباد کے "نیک " آدمی تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک عجیب و غریب کردار آ کر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہےاور اس کا اندازِ زیست ہم سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ ایک تو وہ انتہائی اعلیٰ درجے کے خوبصورت کپڑے پہنتی تھیں، پھر اس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بڑی خوبصورت تھی۔ تیسری اس میں خرابی یہ تھی کہ اس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپیٹیں آتی تھیں۔ اس کے جو دو بچے تھے، وہ گھر سے باہر بھاگے پھرتے تھے اور کھانا گھر پر نہیں کھاتے تھے۔ اس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے۔ اس کے گھر آئے روز مختلف نمبروں والی گاڑیاں آتی تھیں۔ ظاہر ہے اس صورتحال میں ہم جیسے بھلے آدمی اس سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں اخذ کر سکتے۔ اس کے بارے میں ہمارا ایسا ہی رویہ تھا جیسا آپ کو جب میں کہانی سنا رہا ہوں توآپ کے دل میں لامحالہ اس جیسے ہی خیالات آتے ہوں گے۔ ایک روز وہ سبزی کی دکان پر گر گئی، لوگوں نے اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے وینٹے مارے تو اسے ہوش آیا اور وہ گھر گئی۔ تین دن بعد وہ فوت ہوگئی، حالانکہ اچھی صحت مند دکھائی پڑتی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ہاں آنے والا ایک بندہ ان کا فیملی ڈاکٹر تھا۔ اس عورت کو ایک ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں۔ اس کو کینسر کی ایسی خوفناک صورت لاحق تھی، اسکن وغیرہ کی کہ اس کے بدن سے بدبو بھی آتی رہتی تھی۔ جس پر زخم ایسے تھے اور اسے خوشبو کےلیے سپرے کرنا پڑتا تھا، تا کہ کسی قریب کھڑے کو تکلیف نہ ہو، اس کا لباس اس لیے ہلکا ہوتا تھا اورغالباً ایسا تھا جو بدن کو نہ چبھے۔ دوسرا اس کے گھر آنے والا اس کا وکیل تھا، جو اس کے حقوق کی نگہبانی کرتا تھا، تیسرا اس کے خاوند کا بھائی تھا جو اپنی بھابھی کو ملنے آتا تھا۔''

تیسری گفتگو جاوید احمد غامدی کی تحریر سے ایک اقتباس ہے "زینت کا لفظ عربی زبان میں ان چیزوں کے لیے آتا ہے جن سے انسان اپنی حسِ جمالیات کی تسکین کے لیے کسی چیز کو سجاتا ہے۔ چنانچہ لباس، زیورات وغیرہ بدن کی زینت ہیں، پردے، صوفے، قالین، تماثیل، تصویریں اور دوسرا فرنیچر گھروں کی زینت ہے۔ باغات، عمارتیں اور اس نوعیت کی دوسری چیزیں شہروں کی زینت ہیں، موسیقی آواز کی زینت ہے، شاعری کلام کی زینت ہے۔دین کی صوفیانہ تعبیر اور صوفیانہ مذاہب تو ان سب چیزوں کو مایا کا جال سمجھتے اور بالعموم حرام یا مکروہ یا قابل ترک اور ارتقائے روحانی میں سدِراہ قرار دیتے ہیں۔ مگر قرآن کا نقطہ نظر یہ نہیں ہے۔ وہ ان مذاہب کی تردید کرتا اور پوری صراحت کی ساتھ کہتا ہے کہ یہ سب چیزیں جائز ہیں، بلکہ نہایت سخت تنبیہ اور تہدید کے انداز میں پوچھتا ہے کون ہے جو زینت کی ان چیزوں کو حرام قراردینے کی جسارت کرتا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔"

اور آخر میں پیش ِخدمت ہے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی ماضی کی صفِ اول کی اداکارہ اور آج کل بطور مبلغِ اسلام زندگی گزارنے والی سارہ چوہدری کی گفتگو جو انہوں نے انڈسٹری چھوڑنے کے بعد ایک اخبارکو انٹرویو کے دوران کی۔ "میں نے اکثر شوبز میں لوگوں کو کہتے دیکھا کہ دین اور دنیا ساتھ ساتھ چلانی چاہیے۔ میں بس صرف اتنا کہوں گی کہ دنیا دین کے گرد گھومنی چاہیے دین دنیا کے گرد نہیں گھومنا چاہیے۔ اپنے پرستاروں سے یہی کہوں گی خاص طور پر لڑکیاں جنہوں نے مجھے میرے رولز کے مطابق آئیڈیل بنایا تھا آج تک۔ اگر وہ میرے حالیہ حلیہ کو آئیڈیل بنا کر فالو کریں تو ان کا میرے لیے یہ سب سے بڑا تحفہ ہوگا۔سارے پاکستانی مسلمان ایک باراپنے دین کو ٹھیک سے سمجھیں اور پہنچانیں۔ ان چار مختلف بے نظیر لوگوں کی گفتگو ہم سب کے لیے عوام کے لیے، میڈیا کے لوگوں کے لیے، لبرل طبقے کے لیے اور اسلام کے نام پر"ٹھیکیداری" کرنے والوں کےلیے بھی بے شمار اسباق اپنے اندر رکھتی ہے۔ ایک ماہرہ خان ہی نہیں ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا سبق یاد رکھنا چاہیے۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */