"ماہرہ خان اور نعمان خان" - محمد اشفاق

محترمہ ماہرہ خان معروف اداکارہ ہیں۔ مختلف ٹی وی ڈراموں سے شہرت پا کر عین روایت کے مطابق فلموں کا رخ کیا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی بے پناہ شہرت سمیٹی۔ بھارتی فلم میں ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو بھی مثبت تبصرے ملے۔ بدقسمتی سے مجھے ان کے کسی ڈرامے یا فلم کو دیکھنے کا اعزاز حاصل نہیں۔ ٹی وی کمرشلز میں انہیں دیکھ رکھا ہے اور شوبز کی خبروں میں ان کا تذکرہ پڑھنے کو ملتا رہتا ہے۔

جناب نعمان علی خان المعروف استاد نعمان امریکا میں اسلام کے معروف مبلغ ہیں۔ آپ دعوت و تبلیغ کے لیے چونکہ زیادہ تر انگریزی زبان کا سہارا لیتے ہیں، اس لیے ان کی آڈیئنس دنیا بھر میں پھیلی ہوئی، اور کثیرالثقافتی کہی جا سکتی ہے۔ اسلام کے لیے خصوصاً نوجوان نسل کو اسلام کی جانب راغب کرنے کے ضمن میں استاد نعمان کی خدمات ہر لحاظ سے لائق تحسین ہیں۔ یہ خاکسار چونکہ سیاست و حالات حاضرہ کا طالبعلم ہے، اس لیے استادِ محترم کے کسی لیکچر یا آڈیو وڈیو کلپ سے استفادہ کرنے سے لہٰذا تادم تحریر محروم رہا ہے تاہم سوشل میڈیا پہ ان کا ذکرِخیر اکثر پڑھنے کو ملتا رہتا ہے۔

دونوں شخصیات کے متعلق اپنی ذاتی پوزیشن واضح کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بندہ ناچیز نہ تو ان میں سے کسی ایک یا دونوں سے کوئی خصوصی لگاؤ رکھتا ہے، نہ ہی ایک یا دونوں سے کوئی عداوت ہے۔ کچھ فطری میلان اور کچھ فلم بینی کے شوق کی بنا پر ماہرہ خان صاحبہ سے متعلقہ خبروں میں البتہ مجھے استاد نعمان خان سے کچھ زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے، اللہ اس پر مجھے معاف کرے۔ آمین!

محترمہ ویسی ہی ہیں جیسی کہ فلمی محترمائیں ہوا کرتی ہیں، اپنی متنازع تصاویر میں بھی محترمہ ویسی ہی دکھائی دیں۔ غنیمت یہ تھا کہ کوئی رومانی منظر حقیقت میں عکسبند نہ ہوسکا۔ وہ ایک ہم پیشہ بھارتی شخصیت کے ساتھ سگریٹ نوش فرماتی دیکھی گئیں، اور قدرے کم لباس میں۔ ایک صاحب جو بعد میں علم ہوا کہ فارغ اوقات میں مغربی اداکاراؤں کی ٹاپ لیس پکچرز دیکھنے اور ٹویٹ کرنے کا شوق رکھتے ہیں، نے موصوفہ کو خارج از اسلام قرار دیا کیونکہ وہ ایک نامحرم شخص کے ساتھ ناکافی لباس میں سگریٹ پی رہی تھیں۔ ایک اور محترم جنہوں نے اپنی شرٹ لیس تصویر پروفائل پکچر کے طور پر لگا رکھی وہ بھی ماہرہ خان کی تصاویر بمع کفر کے فتوے کے وائرل کرنے میں پیش پیش رہے۔ ہم ایسے عامی یہ سمجھنے سے تاحال قاصر ہیں کہ اسلام میں ایمان کی شرائط مردوزن کے لیے الگ الگ ہیں یا یکساں؟ کیونکہ اگر ماہرہ خان اپنا ستر عیاں کرنے کے باعث کافر ٹھہریں تو وہ ہزاروں مسلمان مرد ایتھلیٹس جو بنیان اور نکر پہن کر یا بعض ایونٹس میں محض نیکر یا انڈرویئر پہن کر میدان میں لاکھوں تماشائیوں کے سامنے اترتے ہیں، وہ تو بدرجہ اولیٰ کافر ہیں۔ اگر محترمہ سگریٹ پی کر ارتداد کی مرتکب ہوئیں تو ان کے ساتھ کیا چھ کروڑ پاکستانی بشمول اس خاکسار کے کافر ٹھہرے؟ تاہم اگر اللہ پاک معاذ اللہ خواتین سے کچھ زیادہ مسلمانی کی توقع رکھتا ہے اور مردوں سے قدرے کم کی، تو پھر ہمارا ایمان سلامت، ماہرہ جائے بھاڑ میں۔ اس مسئلے پر اہل مذہب کی رائے کا انتظار ہے۔

چند اہل دانش نے کفر کے فتووں سے تو احتراز کیا تاہم انہیں لگا کہ نیویارک میں کسی پہر، بیک لیس سکرٹ پہن کر سگریٹ پینے سے محترمہ نے پاکستانی، مشرقی نیز اسلامی روایات کا مذاق اڑایا ہے، چونکہ وہ نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا انہیں اپنے نشست و برخاست میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ کیا آپ سنجیدہ ہیں حضورِ والا؟ جس نوجوان نسل کا رول ماڈل ماہرہ خان یا ان کے قبیل کے دیگر خواتین و حضرات ہوں، اس نسل کی اقدار پر تو آپ ویسے ہی فاتحہ پڑھ لیجیے۔ یہی خاتون اپنی فلموں میں اس سے کہیں زیادہ کچھ کر چکی ہیں، اور اس پر شائقین کی داد اور کئی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ یا تو آپ باقاعدہ تحریک چلا کر شوبزنس کا پاکستان میں سرے سے قلع قمع ہی کر ڈالیں، یا پھر یہ سوچ کر صبر شکر کریں کہ جو لوگ اس دھندے سے وابستہ ہیں، انہیں آپ کی پاکستانی، مشرقی نیز اسلامی اقدار کی اتنی پروا ہوتی تو وہ اس وقت کچھ اور کام کر رہے ہوتے۔ آفرین ہے ان پاک نگاہ ہستیوں پہ جنہوں نے محترمہ کی ننگی کمر سے کماحقہ استفادہ کرتے ہوئے، اس پر کچھ مبینہ نشانات بھی دریافت کر ڈالے اور اب ان کے ظہور کی ممکنہ وجوہات پر اپنے پاکیزہ خیالات کا اظہار فرما رہے ہیں۔ لگے رہیے، اگر دوسروں کے عیوب پھیلا کر آپ اپنی خطاؤں پر مغفرت کے حقدار بن سکتے ہیں تو اپنی یہ کوشش جاری رکھیں-

اب آئیے استادی نعمان خان کی جانب۔ آپ لگ بھگ چالیس برس کے ہیں، اور گزشتہ بیس برس سے آپ کی زندگی اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لیے وقف ہے۔ کچھ عرصہ قبل موصوف کی ازدواجی زندگی ختم ہوچکی۔ عمر کے اس دور میں جیون ساتھی سے محرومی، کیرئیر کے خاتمے یا جسمانی معذوری ہی کی طرح ایک بڑی آزمائش ہوا کرتی ہے، ماہرین ان متذکرہ آزمائشوں کو 'مڈ لائف کرائسس' کے نام سے پکارتے ہیں، اور ان آزمائشوں سے سرخرو نکلنا بڑے حوصلے کی بات ہوا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے بظاہر یہی لگ رہا کہ استاد محترم کے پائے استقامت میں تھوڑی سی لغزش پیدا ہوئی۔ آپ نے اپنے ادارے سے وابستہ چند خواتین سے بغرض نکاح سلسلہ جنبانی شروع کیا۔ غلطی یہ ہوئی کہ خالص امریکی انداز میں بیک وقت ایک سے زائد خواتین سے رابطے کر ڈالے۔ مزید غلطی یہ ہوئی کہ ہر ایک کو تاکید کی کہ کسی اور کو مت بتانا۔ استاد محترم کی یہ سادگی ہی انہیں لے ڈوبی۔ ان میں سے بعض خواتین نے جب حضرت کی حوصلہ شکنی کی تو سکرین شاٹس کے مطابق آپ نے انہیں کام کی جگہ یعنی اپنے ادارے میں منہ بند رکھنے کو کہا ورنہ۔۔۔؟ اب یہ آخری کام انہوں نے واقعی خطرناک کیا ہے، جس کے کچھ قانونی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں-

ایک نامعقول محاورے کے مصداق اکثر ہم جنس و ہم پیشہ لوگ ہی ایک دوسرے کے حریف ہوتے ہیں، استاد نعمان کے بھی چند بظاہر جاننے والے، دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے دو معزز علماء نے بذریعہ فیسبک آپ کے بارے میں مذکورہ بالا انکشافات فرمائے، اور انہیں سند تصدیق محترمہ رابعہ چوہدری جو کہ امریکی مسلمانوں کی ایک اور جانی پہچانی شخصیت ہیں، نے بصورت سکرین شاٹس بہم پہنچائی۔

وہ سب آزاد خیال خواتین و حضرات جو ماہرہ خان کے معاملے میں ہمیں ذاتیات میں ٹانگ نہ اڑانے کی تلقین کر رہے تھے، استاد نعمان پر وہ وحشیوں کی طرح غول کی صورت حملہ آور ہوئے، اور ان کی ان مبینہ حرکات کو اپنے نظریات کی فتح قرار دے ڈالا گیا۔ مزید بلکہ طرفہ در طرفہ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ وہ دستارپوش اور دائیں بازو کے دانشور جو محترمہ ماہرہ خان پر بڑھ چڑھ کر تنقید کر رہے تھے، اب ہمیں "ان بعض الظن اثم ولا تجسسو" جیسی آیات کی تشریح کر کے بتا رہے ہیں کہ جن معاملات سے براہ راست ہمارا تعلق نہ ہو، ان پر رائے زنی سے گریز کرنا چاہیے۔ کسی کی ذاتیات کے متعلق قیاس آرائیاں کرنا اچھے مسلمان کا شیوہ نہیں، اور انسان بہرحال خطا کا پتلا ہے، غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے، بلاوجہ بات کا بتنگڑ نہیں بنانا چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔

مجھے یقین ہے کہ بعض جبّہ و دستار والے استاد نعمان خان اور ماہرہ خان صاحبہ کے ایک ہی سانس میں تذکرے پر بھی چیں بہ جبیں ہوں گے، کیونکہ ہمارے دین میں تو سب برابر تھے اللہ کی نظر میں، مگر ہم میں سے چند دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی برابر ہو چکے۔ اس گستاخی کی معذرت، عرض یہ کرنا تھا کہ دین نے ہمیں جن قواعدوضوابط اور شرائط کا ہمارے بھلے کی خاطر پابند کر رکھا، ان میں دن اور رات، فرضی صورتحال اور حقیقی زندگی، سوشل میڈیا اور رئیل لائف، مکہ مدینہ اور نیویارک و لاس ویگاس، مشرق و مغرب اور مرد و زن کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی، ایک بیس سال سے اشاعت دین میں مصروف عالم ہو یا بیس برس سے سکرین پر اٹکھیلیاں کرتی حسینہ، اگر وہ دونوں مسلمان ہیں تو دونوں پر اسلام یکساں لاگو ہوتا ہے، اگر ہم نے حسنِ ظن کا فائدہ دینا ہے تو دونوں کو دینا ہے، اگر ہم نے نیک گمان رکھنا ہے تو دونوں کے متعلق رکھنا ہے، اگر ہم نے فتوے لگانا ہی ہیں تو پھر دونوں پر ایک جیسے لگانے ہیں۔ سوئمنگ کاسٹیوم میں ملبوس خواتین کو بغل میں دبائے ڈانس کرتا حمزہ عباسی چونکہ جماعت الدعوۃ کا پرجوش حمایتی ہے، اس لیے ایک سچا مسلمان ہے، اور ماہرہ خان چونکہ ایک خاتون ہے اس لیے کمر ننگی ہونے سے اس کا نعوذ باللہ دین بھاپ بن کر اڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ہمارا پسندیدہ مذہبی عالم اگر خواتین پر آن لائن ٹھرک جھاڑتا ہے تو وہ اس کا ذاتی فعل، یہی کام ایک سیاستدان کرے تو قابل گردن زنی۔ خدارا! منافقت چھوڑ دیجیے۔ اکثر صورتوں میں نفاق کفر سے بڑا خطرہ ثابت ہوتا ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جناب ماہرہ کان پر کس مفتی نے فتوٰی لگایا یا کسی عالم نے؟ اگر آپ جیسے کسی لکھاری نے لگایا ہے تو وہ آپ کے ہم عصر صرف آپ کو متاثر کر سکتا ہے۔ نہرھال ماہرہ کان ایک پاکستان کی بیٹی ہے اس کا اگر کسی نے تنقید کیہے تو یقیناً وہ لوگ اس سے محبت کرتے ہین اور ایسی توقع نہیں کرتےا کوئی اپنی بیٹی سے، شاید آپ بھی اپنی بہن اور بیٹی ایسی ھالت میں نہیں دیکھنا پسند کریں گے۔۔۔
    دوسری بات نعمان علی خان کی جس مھترمہ نے سکرین شارٹ دکھائے ہیں خیر جو شاید آپ اور آپ کے ہمنواؤں کو دکھائے ہوں گے لیکن ان کی کسی بھی قسم کی تصدیق نہیں ہوسکی سوائے چند سیکولرز دانشوروں کی وال پر ہی تماشہ کھڑا کیا جا رہا ہے ورنہ ایسی کوئی حقیقت نہیں۔ باقی نعمان علی خان انسان ہے اس سے غلطی ہو تو سکتی ہے لیکن مذکورہ غلطی کی ابھی تک کسی قسم کی تائید یا تصدیق نہین ہوسکی۔۔ یہ ان لوگوں کو پروپیگنڈہ ہے جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے طارق جمیل صاحب کے چہرے کو ایک کاتون کے چہرے کی جانب موڑ دیا تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی جنسانی کواہشات اپنی پوری نہیں ہو پاتیں ۔۔۔پھر کہتے ہیں جنسیات تو آپ کے دماغوں میں ہے۔۔۔ بہت گھٹیا قسم کی حرکت کی گئی ہے نعمان کے خلاف ۔ جن کی بہن کو یہ میسجز ملے تو اس کے بھائیوں کا حق ہے کہ وہ میسجز دکھائیں ، ورنہ یہ سلسلہ تو گلالئی بھی چلا چکی ہے ۔۔۔۔

    • محترم، آپ نے درست فرمایا، ماہرہ پر فتویٰ مجھ جیسے ہی کسی نے لگایا تھا، ان کے بارے میں آپ کے خیالات جان کر دلی مسرت ہوئی، اللہ ہم سب کو ان خواتین کو اپنی بہنیں بیٹیاں سمجھنے کی توفیق دے، آمین
      نعمان خان صاحب کے بارے میں جن سکرین شاٹس کا تذکرہ ہوا وہ معروف امریکی مسلمان وکیل اور مصنفہ رابعہ چوہدری صاحبہ نے اپنی وال پر شئیر کئے تھے، جب نعمان خان صاحب نے ہراسمنٹ. کی تردید کی تھی- مزید عرض کرتا چلوں کہ جناب نعمان خان صاحب نے بھی ان تمام میسجز کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا فرمانا وہی ہے جو میں نے مضمون میں بیان کر دیا، کہ وہ اپنے لئے زوجہ ڈھونڈ رہے تھے- میں اور میرے ہم نواؤں سے آپ کی کیا مراد ہے، یہ آپ ہی جانتے ہوں گے-
      مضمون غور سے پڑھنے اور اپنی قیمتی رائے سے نوازنے کا شکریہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */