سو سال بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟ - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

2023ء جتنا قریب آتا جا رہا ہے اتنے ہی دنیا کے حالات دِگرگوں ہوتے جا رہے ہیں، آزمائش اُتنی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ مسئلہ ترکی کا ہے، لیکن اوّل تو جغرافیائی سرحدوں کے پار مسائل کو اپنا مسئلہ نہ سمجھنا کسی طرح بھی دانشمندی نہیں کہ طوفان جب آتا ہے تو خس وخاشاک دیکھتا ہے نہ جھاڑ جھنکار۔ وہ سب کو اکھٹے اُڑا لے جاتا ہے۔ دوسرے تمام امّت تکوینی طور پر ایک رشتہ میں بندھی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ ایک جسم کی طرح ہے اور اس جسم کے اعضائے رئیسہ نے اگر بقیہ جسم کی فکر نہ کی یا جسم کے بقیہ حصوں نے اعضائے رئیسہ کا ساتھ نہ دیا تو انجام بد سے بد تر ہو سکتا ہے۔

1914ء سے 1924ء تک کے عرصے میں جنگ عظیم اوّل سے لے کر سقوطِ خلافتِ عثمانیہ تک عالمی بساط پر کھیلنے والوں نے جو فیصلے کیے تھے، انھوں نے امت کے وجود کو شکنجوں میں جکڑ لیا تھا۔ ایک صدی بعد 2023ء میں ان سے کچھ جال ٹوٹ پھوٹ کر بکھرنے والے ہیں۔ ان کے بکھرنے سے پہلے عالمی شکاری نئے جال کا تانا بانا جوڑ رہے ہیں۔ بند کمروں میں سر جوڑ کر نئے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ ترکی نے ساری دنیا کے مظلوموں کی دست گیری کا عہد کیا ہوا تھا، اب اس کے خلاف نئے عہدوپیمان ہو رہے ہیں۔ اس پر پہلے ہی دنیا کی دادرسی کا بوجھ تھا، اب اس پر اتنا بوجھ ڈالا جائے گا کہ اللہ جانے وہ اپنا بوجھ سہار سکے گا؟

ہمارے ہاں خیر سے نہ جغرافیہ ڈھنگ سے پڑھایا جاتا ہے نہ تاریخ۔ الغزوالفکری تو رہنے دیجیے کہ اس موضوع کو کون پوچھتا ہے، لہٰذا دنیا بھر کی"نالج" رکھنے والی نئی نسل ہو یا سارے جہاں کے غم میں گھلنے والے جغادری صحافی، اکثریت نہیں جانتی کہ سلطان عبدالحمید ثانی کے ساتھ کیے گئے 100 سالہ معاہدے کی اصل شقیں کیا تھیں اور اس معاہدے کے ختم ہوتے ہی سیاست کے عالمی منظر نامے پر کیا اکھاڑ پچھاڑ ہونے والی ہے؟ کل کے اخباروں میں حلب کی تعمیر نو کا فیصلہ جبکہ حلب کی ساری آبادی ترکی کی حدود میں دھکیل دی گئی ہے، کیا معنی رکھتا ہے؟ موصل اور کرک پر کیا ترکی کا کوئی حق بنتا ہے کہ وہاں مسلسل خانہ جنگی اور غیر یقینی کی کیفیت برپا کی جا رہی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

ترکی شام اور عراق کی سرحدوں پر معاہدہ لوزان کے نتیجے میں کھینچی جانے والی لکیریں ریڈ کلف کمیشن کی طرف سے پاکستان افغانستان کی سرحد پر کھینچے جانے والی لکیروں سے ایک حد تک مماثلت رکھتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دستِ قاتل اور یدِ مسیحا میں فرق مشکل ہو گیا ہے۔ کمین گاہ سے لے کر عدو کی جائے پناہ تک زبان خنجر چاہے خاموش رہے، لہو پکار رہا ہے کہ مظلوم کی دادرسی کرنے والے ان صف مظلوم میں شامل ہونے والے ہیں۔ اس سارے تناظر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اصل سوچنے کی بات یہ ہے۔ ہم کیا کر رہے ہیں؟ اصل لمحہ فکریہ یہ ہے۔ معاہدہ لوزان ختم ہوتے ہی ترکی شام عراق سرحد پر وہ سب علاقے ترکی کو واپس مل جائیں گے جن سے اسے سو سال تک اس معاہدے کے تحت دستبردار کیا گیا تھا۔ اب جیسے جاپان کے جزیرے "کوریل" (Kuril Islands) کے اڈے خالی کرنے کے بدلے اتنی رقم مانگی گئی تھی کہ اس سے دس جزیرے بسائے جا سکیں۔ اسی طرح 2025ء کی تاریخ آنے سے پہلے اس سرحدی علاقے میں اتنے امریکی اڈے تعمیر ہو رہے ہیں کہ ان کو خالی کروانے کی قیمت کسی کے بس کی بات ہی نہ ہوگی۔ ارضِ مقدس سے لے کر ارضِ پاک تک مسلمانوں کی بد نظمی کا معیار اور مہربانوں کی منظم چالوں کی رفتار متضاد سمتوں میں رواں دواں ہے۔ قرآن شریف میں آتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے اردگرد کی زمین کو ہم نے بابرکت بنایا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسجد اقصی سے جتنا فاصلہ مقدس ترین شہر"البلد الحرام" کا ہے اتنا ہی دو براعظموں کے سنگم پر واقع شہر قسطنطنیہ کا ہے۔

ارض مقدس (بیت المقدس) کے گرد واقع ممالک کے حکمران ان خواتین کے ذریعے قابو کیے گئے جو ان کے حرم میں داخل کی گئی تھیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اہل کتاب سے شادی جائز ہے جب فتنے کا خطرہ ہو تو اس جائز سے احتراز ہی بہتر ہے۔ فلسطین کے ارد گرد واقع حکمران اس نورونی فتنے میں پڑ کر اپنا اقتدار یہودی حسیناؤں کی زلف گرہ گیر کی نذر کر چکے۔ دنیا جانتی ہے کہ کس کے حرم میں یہودی حسینہ تھی اور کس کے گھر میں عیسائی دوشیزہ۔ اب ارض پاک کی باری ہے۔ گورنر جنرل غلام محمد کی سوئس سیکریٹری سے لے کر آج تک سامنے آنے والی الزامی داستانیں اور جواب در جواب الزامی داستانیں کیا سناتی ہیں؟ یہی کہ خواتین کو ان کی حدود میں نہ رکھا جائے اور خود کو خواتین سے ایک حد پر نہ رکھا جائے تو شیطان کے جال بچھتے رہیں گے اور فتنے رونما ہوتے رہیں گے، بلکہ ہر فتنے کی تہہ سے ایک نیا تہلکہ خیز فتنہ برآمد ہوگا جو پچھلے فتنے کی قیامت خیزی بھلوا دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

فتنوں کے اس دور میں بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنا عقیدہ بچا کر میڈیا کی اندھیری رات میں طوفانی جھکڑوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو آج بھی دوسروں پر تبصرے کے بجائے اپنی قبر وآخرت کی فکر میں لگے ہوئے کچھ نہ کچھ کرتے جارہے ہیں۔ اس مرتبہ قربانی کے دن اور آزادی کی یادگار دونوں قریب قریب آئے ہیں ۔ قربانی اللہ کی بارگاہ میں صدقہ ہے۔ اس سے زمینی حوادث اور آسمانی آفات دور ہوتے ہیں۔ اجتماعی قربانی اجتماعی صدقے کی بہترین شکل ہے۔ ہمیں اپنے ملک اور پوری امت کی طرف سے یہ صدقہ اپنے اخلاص کی شفافیت اور اتباع سنت کے جاوداں مظاہر کے ساتھ کرنا چاہیے کہ ہر طرح کا شر دور ہو کر ہر طرف خیر ہی خیر ہو جائے۔