میڈیا پر سیاست کا غلبہ - پروفیسر جمیل چودھری

ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز گرچہ 1964ء میں ہوگیا تھا لیکن کئی دہائیوں تک صرف پبلک سیکٹر ہی یہ سروس فراہم کرتا رہا۔لیکن جونہی اکیسویں صدی شروع ہوئی پاکستان میں ٹی وی چینلز کھمبیوں کی طرح اُگنے لگے۔ان میں سب سے زیادہ بھرمار نیوز چینلز کی ہے۔ آخری اعداد وشمارکے مطابق قومی اور علاقائی زبانوں کے36چینلز کام کررہے ہیں۔یہ سارے کے سارے چینلز سیاست میں الجھے رہتے ہیں۔سیاست ہی زیر بحث ہوتی ہے۔ سیاسی نوعیت کی خبروں کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ سیاسی خبر چاہے کسی ایک سیاسی کارکن کی ہی کیوں نہ ہو، میڈیا کی تمام توپوں کا رخ اسی طرف ہوجاتا ہے۔کوئی ایک ممبر اسمبلی کسی بھی علاقے میں خطاب کررہاہو، تمام چینلز سے براہ راست دکھانا شروع کردیتے ہیں۔ملک میں ہونے والے بڑے بڑے اہم واقعات رہ جاتے ہیں۔

مجھے ایک سال پہلے کا ایک جمعہ تو اب تک نہیں بھولتا جب فاٹا کے علاقے مہمند ایجنسی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے وقت دھماکہ ہوا، یہاں 36 لوگ مارے گئے اور بے شمار زخمی ہوگئے، اس پورے واقعے کو کسی بھی ٹی وی چینل نے اہمیت نہ دی، فوکس صفر کے برابر رہا۔اس کے برعکس ایم کیو ایم کے ایک صوبائی رکن اسمبلی کی عارضی اور وقتی گرفتاری کی طرف پورا میڈیا فوکس کیے ہوئے تھا۔بہت سے گھنٹے میڈیا نے کوریج کے لیے برباد کیے۔ اسی سے متعلق دیگر خبریں جیسے ایس ایس پی کی معطلی، پھر مراد علی شاہ اور وزیر اعظم کادخل، پورے2دن یہی خبر میڈیا پر چھائی رہی۔مہمند کے علاقے میں نہ میڈیا پہنچا اور نہ ہی کوئی وی آئی پی۔اگر کوئی وی آئی پی جاتا تو میڈیا بھی پہنچ جاتا، کیونکہ میڈیا کی نظرمیں وی آئی پی ہی خبر بناتے ہیں۔

میڈیا ایک سیاسی خبر کو لیکر رات گئے تک اس کے بخیے ادھیڑ تا رہتا ہے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے چینل پر ایک ہی شخص گفتگو کررہا ہوتا ہے۔کوئی چینل اسی ایک شخص کا2گھنٹے پہلے پروگرام ریکارڈ کرلیتا ہے کوئی دوسرا ایک گھنٹے پہلے اور کوئی اسی شخص کو Liveدکھا رہا ہوتا ہے۔تجزیہ اور تبصرہ چونکہ سیاسی خبر کا ہوتا ہے۔لہٰذا تمام چینلز سیاسی شخصیت یا سیاسی موضوع کوہی اہمیت دے رہے ہوتے ہیں۔میڈیا کے دوسرے ممالک میں بھی بڑے بڑے ماثر گروپس ہیں۔لیکن وہاں کے نیوز چینلز پر صرف سیاست زیر بحث نہیں لائی جاتی۔ہر ملک میں اور بھی بے شمار مسائل ہیں، ان کو بھی فوکس کیاجاتا ہے۔

ہمارا ملک بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے۔سیاست کے علاوہ دیگر شعبوں میں بڑے سنجیدہ مسائل ہیں۔اگر ہم اپنے صرف2شعبوں کوہی لیں، تعلیم اور صحت۔ہر میڈیا مالک اور اینکر پرسن جانتا ہے تعلیم میں130 ممالک کی فہرست میں ہم پست ترین سطح پر ہیں اور چند روز پہلے شائع ورڈ اکنامکس فورم کی رپورٹ کے مطابق ہمارا نمبر125ہے۔تعلیم کا جتنا براحال ہمارے ملک میں ہے، ایشیاء میں اور کہیں بھی نہیں ہے۔ہم افریقی ملکوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔صرف ورچوئل یونیورسٹی چینل کچھ تعلیمی پروگرام نشرکرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ سیاست کیا جس میں دھڑکتا ہوا دل ہو- محمد عنصر عثمانی

پھر پورا ملک مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے۔صحت عامہ کے حالات انتہائی خراب ہیں۔24گھنٹے سیاست سیاست کھیلتے ہوئے36 چینلز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔سیاست بازی چھوڑ کر ہر چینل کو دودوگھنٹے تعلیمی اور صحت عامہ کے پروگراموں پر صرف کرنے چاہئیں۔تمام چینلز اگر میٹرک اور انٹر کے لیے پروگرام ترتیب دیں اور لوگوں کو نصاب پڑھانا شروع کریں، بلکہ ورچوئل اور اوپن یونیورسٹی سے تیار پروگرام بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں، تو ہماری شرح خواندگی 60 سے بہت تیزی سے اوپر جاسکتی ہے۔صحت عامہ کے عام فہم پروگرام نشرکرنا بھی انتہائی ضروری ہیں۔بیماریوں سے محفوظ رہنے کے پروگرام ہر نیوز چینل دکھائے۔اب تک ملک میں صرف ایکHTVایسا چینل ہے۔

چینلز پر کسی ایک سیاسی خبرکا تجزیہ شام6بجے ہی شروع ہوجاتا ہے اور رات12بجے تک پروگراموں کے نام بدلتے رہتے ہیں موضوع ایک ہی رہتا ہے۔چینلز کو اس سیاست بازی کو چھوڑ کر قوم کی صحیح خدمت کرنی چاہیے۔تعلیم اور صحت کے لیے وقت نکالنا پاکستانی قوم پر احسان عظیم ہوگا اور پھر پنڈی کا سیاست دان جس کی قومی سیاست میں کوئی اہمیت ہی نہیں، ہر چینل اس سے وقت لینے میں مصروف نظر آتا ہے۔چینل کے مالکان اور اینکرز یہ سمجھتے ہیں کہ ارسطو اور افلاطون کی کتابیں "شیخ صاحب" کی پہلے سے موجود روح سے مشورے کے بعد ہی لکھی گئی ہوں گی اور ایسے ہی روسوکا "معاہدہ عمرانی"شیخ کے مشورے کے بعد معرض وجود میں آیا ہوگا۔ چینلز والے انہیں بٹھا کر 21کروڑ لوگوں کا وقت ضائع کررہے ہیں۔اب تو انہیں عوام پر رحم کرنا چاہیے۔

تعلیم کے بارے آنے والی تمام رپوٹوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم تعلیم میں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں سے ایک صدی پیچھے رہ گئے ہیں۔پرانے طریقے، پرانے نصاب اور جدید ترین معلومات سے محروم اساتذہ۔ایسے ایسے اساتذہ تعلیم سے وابستہ ہیں جنہیں دورجدید کی ہوا بھی نہیں لگی۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کن بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں جبکہ محترم اساتذہ کو کچھ پتہ ہی نہیں۔

دیہاتوں کا حال توبہت ہی برا ہے اور پھر2کروڑ بچے سرے سے سکولوں سے باہرہیں۔یونیورسٹیاں اور کالجز تحقیق و تخلیق سے سرے سے خالی، صرف اور صرف ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ تقسیم کرتے ہیں۔کیا اینکرز کو یہ صورت حال نظر نہیں آتی؟ کیا تعلیم کو بہتر کرنے میں وہ کوئی رول ادا نہیں کرسکتے؟ یقیناً الیکٹرانک میڈیا اگر فروغ تعلیم کی طرف اور معیار تعلیم کی طرف توجہ کرلے تو ملک میں بہت کچھ بدل سکتا ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا سیاست سیاست کی گردان تو چھوڑے۔

سرکاری ہسپتالوں کا بھی بہت ہی براحال ہے۔اگر پرائیویٹ ہسپتالوں میں چمک دمک نظر آتی ہے تو وہاں غریب مریضوں کا جانا ناممکن۔ابھی اگر کوئی بھی وزیر کہیں خطاب یا پریس کانفرنس شروع کردے تو تمام نیوز چینل اسے لائیو دکھانا شروع کردیں گے۔اسے کوئی ایک چینل اس لیے نہیں چھوڑتا کہ ریٹنگ کا مسٔلہ ہے۔کیا کبھی میڈیا نے کبھی اتنا تعلیم اور صحت کو فوکس کیا ہے، جتنا وہ سیاست دانوں اور وزیروں کو کرتے ہیں؟ کسی وزیر کی تقریر Liveدکھانے سے کیا ملک کے اندر کوئی فوری مثبت تبدیلی آتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   بسنت کی حقیقت (قسط نمبر ۱) محمد برھان الحق جلالی

الیکٹرانک میڈیا نے گزشتہ 2دہائیوں میں سیاست کی طرف جتنی توجہ دی ہے، کیا سیاست میں کوئی قابل ذکر مثبت تبدیلی آئی ہے؟ سیاست کو ہر وقت فوکس کرکے ملک کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔غربت اور بے روزگاری بھی ہمارے ہاں کے دہکتے مسائل ہیں۔روزگارکے کئی جگہ پر مواقع ہوتے ہیں لیکن نوجوانوں کو اس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔میڈیا ایسے مواقع کو اجاگر کرے، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو معلومات دے اور غربت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اس کے لیے اینکرز اور صحافیوں کو نئے انداز سے سوچنا ہوگا اور یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ملک میں موجود مسائل کوحل کرنے کی کوشش کریں گے۔غریبوں اور بے روزگاروں کے لیے ایسے پروگرام ترتیب دیئے جائیں جس سے ان کو صحیح راہ نمائی ملے۔انہیں ایسے مواقع کی طرف گائیڈ کیاجائے۔جہاں روزگار کے چھوٹے چھوٹے مواقع موجود ہوں۔مواقع کی جانکاری اور راہنمائی میں الیکٹرانک میڈیا کا رول بہت اہم ہوسکتا ہے۔اب تو باہر کے ممالک میں کام کرنے والے بھی واپس آنا شروع ہوگئے۔پاکستان میں پہلے ہی بے روزگاری 8 فیصد تک ہے۔باہر سے آنے والوں سے یہ صورت اور بگڑ جائے گی۔الیکٹرانک میڈیا حکومت اور پرائیویٹ شعبے کو خوبصورت انداز سے توجہ دلائے کہ ہمارے ملک کوروزگار کے چھوٹے بڑے بے شمار مواقع کی ضرورت ہے۔

پھر کیا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار نہیں ہے؟ اس کے لیے میڈیا اپنے پروگراموں میں بھی تبدیلی کرے اور معاشرے میں ہونے والے غیر اخلاقی کاموں کی طرف بھی موثر انداز سے توجہ دے۔الیکٹرانک میڈیا پر ایک سرکاری ادارے "پیمرا" کا کنٹرول ہے۔اسے بھی معاشرہ کو درپیش اصل اور بنیادی مسائل کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔الیکٹرانک میڈیاکو سیاست کے غلبہ سے نکل کر ملک کو درپیش سنجیدہ مسائل کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ریٹنگ کی بنیادیں بدلنا ضروری ہے۔اوپر درج کردہ مسائل کی کوریج کی بنیاد پر نیوز چینل کی ریٹنگ ہونا ضروری ہے۔کس چینل نے تعلیم کو کتنا وقت دیا؟ صحت عامہ کے مسائل پر کتنی توجہ دی گئی؟ غربت اور بے روزگاری میں کمی لانے میں چینلز نے کیا کردار اداکیا؟ پاکستانی قوم کی اخلاقیات بنانے میں الیکٹرانک میڈیا نے کتنا رول اداکیا؟ بہرحال، بات چینلز پر سیاست کے غلبے سے شروع ہوئی تھی، یہ غلبہ ختم ہونا ضروری ہے۔تعلیم، صحت، غربت اور بے روزگاری اور اخلاقیات کو زیادہ سے زیادہ کوریج دینا ضروری ہے۔چینلز آپس میں مقابلہ ضرور کریں لیکن تعلیم کے لیے موثر پروگراموں میں کریں۔