آئی جی سندھ صاحب کے لیے چھپکلی – احسان کوہاٹی

’’یار! آپ مجھے بہت اچھے لگے ہو اور کچھ نہیں ذراخوشی ہوئی کہ کوئی تو ہمیں بھی وہ کیا کہتے ہیں شاباش دینے والا ہے، ورنہ یہاں تو سارا دن کتے والی ہوتی رہتی ہے.‘‘
یہ کہہ کر ٹریفک چوکی کے انچارج صاحب نے کمرے کے سامنے سے گزرنے والے سپاہی کو آواز دی ’’اوئے منشی کو کہنا چالان کے پیسوں سے صاحب کے لیے پانچ سو روپے لے کر آئے‘‘
’’ارے، ارے بات سنیں بات سنیں ‘‘سیلانی ہڑبڑا کر مداخلت کی
’’یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ اس کی ضرورت نہیں ہے‘‘ سیلانی نے انسپکٹر صاحب کو سمجھانا چاہا لیکن وہ سیلانی سے کچھ زیادہ ہی خوش تھے. کہنے لگے ’’یہ میں اپنی خوشی سے دے رہا ہوں، آپ نے تو مجھ سے نہیں مانگے ناں‘‘
’’مگر مجھے اس کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ‘‘
’’مجھے پتہ ہے ضرورت نہیں ہے لیکن یہ میں اپنی خوشی سے دے رہا ہوں‘‘ اتنے میں منشی بھی پانچ سوروپے کو بتی بنائے کمرے میں آگیا ۔
’’سنیں انسپکٹر صاحب ! میری بہت مناسب تنخواہ ہے اس کی ضرورت نہیں ہے, بس کڑک سی دودھ پتی پلوا دیں‘‘ سیلانی کے لہجے کی قطیعت دیکھ کر انسپکٹر صاحب نے منشی سے کہا ’’صاحب کے لیے اچھی سی دودھ پتی منگواؤ اور جس کو بھی بھیجنا کہنا کہ منٹ مارے ٹائم نہ لگائے، پھر مجھے ٹریفک کی پوزیشن بھی چیک کرکے بتاؤ ‘‘۔عملے کو ہدایات جاری کرنے کے بعد انسپکٹر صاحب سیلانی کی طرف متوجہ ہوگئے۔

انسپکٹر صاحب کراچی ٹریفک پولیس کے ایک سیکشن انچارج ہیں، یہ ایس او کہلاتے ہیں، ڈسٹرکٹ پولیس میں تھانے ہوتے ہیں اسی طرح ٹریفک پولیس میں سیکشن ہوتے ہیں۔ تھانوں کے انچارج ایس ایچ او اور ٹریفک سیکشن کے انچارج ایس او کہلاتے ہیں۔ سیلانی نے کچھ عرصہ پہلے ایک کالم لکھا تھااس کالم میں جس مسئلے کی جانب توجہ دلائی گئی تھی اس سے ایس او صاحب بڑے پریشان تھے پریشانی میں کوئی غم گسار ہمدرد مل جائے تو دکھ کی شدت آدھی رہ جاتی ہے۔ انسپکٹر صاحب بھی سیلانی کے ممنون ہو گئے اوراب سیلانی سے ملاقات ہوئی تو خوشی سے کھل اٹھے۔

چائے کے انتظار میں سیلانی انسپکٹر صاحب سے گپ شپ کرتے ہوئے چوکی کا جائزہ بھی لیتا جا رہا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں کراچی کے کسی علاقے کی ہی ٹریفک چوکی لگ رہی تھی۔ چھت پر صرف پنکھا ہی نہیں جھول رہا تھا کونے میں جالے بھی موجود تھے،دیواروں پر کی گئی بجلی کی وائرنگ بتا رہی تھی کہ وہ کسی اناڑی الیکٹریشن کی کاریگری ہے، چھوٹے سے کھولی نما کمرے میں ہلکا سا اندھیرا تھا جس سے لڑنے کے لیے لگایا گیا کم پاور کا انرجی سیور منہ بسور ے تھانے کے گیٹ پر کھڑاسپاہی لگ تھا۔ گرد آلود پر فرش پرتین کرسیاں اور ایک میز اس کمرے کا مکمل فرنیچر تھاان کرسیوں میں سے دو پلاسٹک کی تھیں۔ فوم والی کرسی پر بجا طور پر انچارج صاحب کا حق تھا۔ ہاں! کمرے میں سیمنٹ کا ایک بنچ نماتھلا بھی تھا اس نے اس قسم کے تھلے مردہ خانوں میں دیکھے ہیں جہاں ہتھوڑی چھینی سے مردے کی چیر پھاڑ ہوتی ہے، یہاں یہ صوفہ کم بیڈکا کام دے رہا تھا۔ انچارج صاحب ٹریفک کی قطاریں سیدھی کرتے کرتے تھک جاتے تو یہ کمر سیدھی کرنے کے کام آتا۔

کمرے کا جائزہ لینے کے بعد سیلانی سے رہا نہیں گیا۔ اس نے انچارج صاحب سے پوچھ ہی لیا’’انسپکٹر صاحب!اس کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی سوئپر شوئپر نہیں ہوتا؟‘‘

سیلانی کی بات پر انسپکٹر صاحب کے لبوں نے ایک طنزیہ قہقہہ اگلا جس کا شور ختم کرنے کے بعد انہوں نے سیلانی کی طرف مصطفٰی قریشی کے اسٹائل میں دیکھاجیسے کہہ رہے ہوں "نواں آیاں ایں سوہڑیاں!"

’’آپ بھنگی کی بات کرتے ہو؟ ہمیں ڈیپارٹمنٹ سے دس روپے نہیں ملتے،یہ جس جگہ آپ بیٹھے ہو ناں یہ بھی ’’اپنی مدد آپ‘‘کے فارمولے پر بنی ہے، میں جب یہاں کا چارج لینے آیا تو کھڑکی دروازے نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ یہاں کتا بیٹھا ہوا تھااور اس کونے میں اس نے کموڈ بنا رکھا تھا۔ پھر میں نے یہ سب اپنی مدد آپ کے تحت کیا،یہ کرسیاں ایک ٹرانسپورٹر کے دفتر سے اٹھائیں، یہ میز میری اپنی ہے گھر سے لایا ہوں۔ ۔۔‘‘وہ ایک ایک کرکے تفصیل سے سب کچھ بتانے کے بعدایک دم چونک کر چپ ہوگئے۔ انہیں احساس ہو گیا کہ وہ یہ سب ایک رپورٹر کو بتا رہے ہیں ۔

سیلانی ان کی پریشانی بھانپ گیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے تسلی دی ’’انسپکٹر صاحب پریشان مت ہوں یہ اپنی مدد آپ والا فارمولا کھلا راز ہے، سب جانتے ہیں ‘‘۔
سیلانی کی طرف سے تسلی ہونے پر انسپکٹر صاحب کرسی پر سیدھے ہوئے اور سیلانی کی طرف جھک کر رازدارآنہ انداز میں کہنے لگے’’برا حال بھائی، قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے آپ صفائی ستھرائی کو رو رہے ہیں؟ یہاں دو مہینے ہوگئے ہمارا پٹرول بندپڑا ہے، اب بتائیں ٹریفک کنٹرول کیسے ہو؟ ٹریفک چالانوں کے لیے بھاگ دوڑ کہاں سے ہو؟ لیکن ہو رہی ہے،کام چلا رہے ہیں‘‘۔
’’آپ کا پٹرول کیوں بند ہے؟ میں سمجھا نہیں‘‘
’’میرا اکیلا نہیں، پورے ڈسٹرکٹ ویسٹ کا پٹرول بند ہے،پی ایس او کو ادائیگی نہیں ہوئی ہوگی، انہوں نے پٹرول دینا بند کر دیا‘‘۔

سیلانی نے انسپکٹر صاحب سے یہ نہیں پوچھا کہ جب ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پٹرول نہیں مل رہا تو ان کی سرکاری موٹر سائیکل میں غیرسرکاری پٹرول کہاں سے آرہا ہے؟ ایک انسپکٹرتو اپنی تنخواہ سے فرض شناسی کی یہ مثال قائم کرنے سے رہا، اگر وہ یہ نیکی کرتا رہا تو اس کے گھر کا بجٹ خسارے میں چلا جائے گا۔وہ اسی معاشرے کا فرد ہے، مریخ سے اتر کر نہیں آیا۔ اس کے بچوں کو بھی بھوک لگتی ہے، اسکولوں میں فیس دینی پڑتی ہے بجلی، گیس والے کوئی رعایت نہیں کرتے،بل وقت پر جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔

سیلانی کے پاس انسپکٹر صاحب کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ چائے پی کر اور گرمجوشی سے مصافحے کے بعد اٹھ کر واپس آگیالیکن یہ بات اس کے دماغ پر کسی چھپکلی کی طرح چپک کر رہ گئی اور وہ یہ چھپکلی لیے گھومتا رہا۔ اس کی نظر سینٹرل پولیس آفس اور وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیوں پر تھی۔ وہ منتظر تھا کہ اسے آئی جی پولیس یا وزیر داخلہ صاحب کے کسی پروگرام میں شرکت کا پتہ چلے اور وہ موقع سے فائدہ اٹھا کر یہ چھپکلی نکال کر ان کے سامنے رکھ دے۔ ان سے پوچھے کہ کراچی کے پلوں کے نیچے، سڑکوں کے کنارے، گرین بیلٹس اور چوکوں چوراہوں پر ’’قبضہ‘‘ کرکے بنائی جانے والی چالیس سے زائد ٹریفک چوکیاں کس طرح چلتی ہیں ؟ ان کے اخراجات کون دیتا ہے؟ کاغذ قلم اسٹیشنری کہاں سے آتی ہے؟ اہلکاروں کے لیے بنائے گئے بیت الخلاؤں کا پانی کون ڈالتا ہے اور ادائیگی کون کرتا ہے؟ اور یہ ضلع غربی کا دو مہینے سے پٹرول کیوں بند ہے؟بند ہے توگشت کیسے ہو رہا ہے ؟ٹریفک کیسے آرڈر میں چل رہا ہے؟ٹریفک پولیس کی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں میں پٹرول کون ڈال رہا ہے؟لیکن وہ اپنے ذہن سے چپکی یہ چھپکلی نہیں نکال سکا۔ اسے آئی جی صاحب اور وزیر داخلہ صاحب سے ملنے کا موقع ہی نہیں ملاالبتہ ٹریفک پولیس کے ایک اور سینئر انسپکٹر دوست سے ملاقات ہوگئی، سیلانی نے اس کے سامنے یہ سوالات رکھے تو اس نے طنزیہ انداز میں کہا’’سیلانی بھائی ! بڑے بھولے ہو آپ کو تو جیسے پتہ ہی نہیں‘‘

’’یار !اے ڈی خواجہ صاحب تو بڑے زبردست افسر ہیں، حیرت ہے کیا انہیں یہ سب نہیں پتہ ہوگا ؟‘‘سیلانی نے اس کا طنز نظر انداز کر دیا

’’وہ آئی جی سندھ پولیس ہیں سب کچھ جانتے ہیں، اسی شہر میں انہوں نے ایک عمر گزاری ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ ہمارے مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ شہر کی نصف چوکیاں اسی طرح قبضہ کرکے بنائی گئی ہیں،کیا کریں حکومت جگہ دے،عمارت بنا کر دے لیکن انہیں ایک روپیہ بھی نہیں دیا جاتا،کاغذ قلم رجسٹر،سب کچھ سیکشن افسر اپنے ذرائع سے انتظام کرتا ہے،اسے چھوڑو! ظلم تو یہ ہے کہ ہم اس وقت دہشت گردوں کا سب سے آسان ہدف ہیں، کوئی بھی مار کر بھاگ سکتا ہے اور یہی ہو رہا ہے اتنے خطرناک حالات میں ڈیوٹی دینے کے باوجود ہماری تنخواہیں، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ والوں سے نصف ہیں۔ میں انسپکٹر ہو کر ستر ہزار روپے لے رہا ہوں اورSSU,CTDکا ایک انسپکٹر ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے،اسی طرح ٹریننگ سینٹر والوں کے سپاہی سے لے کر افسران تک سب کی تنخواہیں دوگنی کر دی گئیں لیکن ٹریفک پولیس اور ڈسٹرکٹ پولیس کو وہی تنخواہیں دی جارہی ہیں،مجھے کوئی اس فرق کی وجہ بتا دے۔۔۔‘‘

سیلانی نے بہت ذہن پر بہت ذور دیا کہ وہ اس فرق کی کوئی توجیہہ تراش سکے لیکن اس کی سمجھ نے ہاتھ جوڑ لیے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ڈسٹرکٹ پولیس اور ٹریفک پولیس کے شہداء کے مقابلے میں CTDاورSSU کے شہداء کی تعداد نصف سے بھی نصف ہوگی لیکن اس کے باوجود ان کے لیے اتنی مراعات کس حساب سے؟ ٹریفک پولیس نے 2016ء میں 50 کروڑ روپے کے چالان کرکے سرکاری خزانے میں رقم جمع کرائی اور رواں برس نو مہینوں میں یہ رقم40 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس کے باوجود حکومت کو ٹریفک پولیس کا ذرا خیال نہیں۔ قواعد کے مطابق چالان کی رقم میں سے تیس فیصدٹریفک پولیس کا حق ہے ان میں سے 15%سے وائرلیس گاڑیاں اور ضروری سامان خریدا جاتا ہے جبکہ 15%اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے تقسیم کی جاتی ہے، یہ تقسیم بھی2014کے بعد سے نہیں ہوئی۔ حکومت تو خود ٹریفک پولیس کو رشوت ستانی کی راہ دکھا رہی ہے، انہیں کراچی کی دس ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں پر 40لاکھ گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی جیب سے اپنا حصہ نکالنے کا کہہ رہی ہے، مراد علی شاہ صاحب! یہ ہے آپ کی عوامی حکمرانی؟۔۔۔۔سیلانی نے کوشش کی کہ وہ اپنے ذہن سے چپکی چھپکلی کو جھٹک کر پھینک دے لیکن وہ توکچھ اور زیادہ مضبوطی سے چپک چکی تھی، جسے ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے سامنے بیٹھے دوست کو جی کے چھالے پھاڑتے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.