بے نظیر بھٹو کیسے قتل ہوئیں؟ محمد اقبال قریشی

بے نظیر صاحبہ برطانوی اور امریکی حکومتوں کے انتظامات کے تحت پاکستان آنے پر تیار ہوئی تھیں، مگر ان کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ وطن میں اُن کے لیے بڑے خطرات ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ستمبر کے وسط میں ایک خفیہ ای میل برطانوی فارن سیکرٹری ملی بینڈ (Mili band) کو بھیجی تھی، جس میں لکھا تھا کہ آئی بی کے سربراہ ریٹائرڈ بریگیڈئیر سید اعجاز شاہ، پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اُن کی جان کے درپے ہیں۔ اسی مضمون پر مشتمل ایک خط انھوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے نام ارسال کیا تھا، اور اُن سے مؤثر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے درخواست کی تھی۔ اُن کے خدشات کے عین مطابق کراچی میں اُن کا جلوس دہشت گردی کا نشانہ بنا اور وہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچیں۔ انھوں نے آٹھ روز بعد یعنی 26/اکتوبر کو واشنگٹن میں اپنے دیرینہ دوست مارک سہگل کو ایک ای میل بھیجی کہ میں مشرف کے بعض ماتحت کارندوں کی طرف سے اپنے آپ کو غیرمحفوظ محسوس کرتی ہوں۔ اُن کی طرف سے یہی ای میل سی این این کے رپورٹر وولف بلٹزر (Wolf Blitzr) کو بھی ارسال کی گئی تھی جس میں لکھا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوتا ہے، تو ذمہ داری (صدر مشرف) پر عائد ہوگی۔

سی این این کے رپورٹر سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ وہ میرے قتل کے بعد اسے استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ وولف بلٹزر نے 27 دسمبر کی رات اس ای میل کو سی این این پر نشر کیا تھا۔

بے نظیر کے دوست ایک سابق امریکی سفیر پیٹر گالبریٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بےنظیر بھٹو کو حکومت کی فراہم کردہ سکیورٹی پر بھروسہ نہیں رہا تھا اور انہیں یہ خوف تھا کہ وہ سڑک پر بم دھماکے کا نشانہ بنا دی جائیں گی۔ مسٹر گالبریٹ نے وائس آف امریکہ سے باتیں کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بےنظیر بھٹو نے انھیں 11/دسمبر کو ایک ای میل بھیجی تھی جس میں کہا تھا کہ وہ عراقی صدر جلال طالبانی سے درخواست کریں کہ وہ میری سکیورٹی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے ماہرین تعینات کریں۔ دخترِ مشرق اپنی جان کے تحفظ کے لیے ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہی تھیں۔ لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی ایک اشاعت میں لکھا ہے کہ ان کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ بےنظیر کو خفیہ معلومات فراہم کرتا اور انھیں سکیورٹی ہدایات بھی دیتا رہا۔ سفارت خانے کے حکام نے حکومت پاکستان سے حفاظتی انتظامات بڑھانے کی درخواست بھی کی تھی، جو مسترد کر دی گئی تھی۔

محترمہ نے کراچی آنے سے دو روز پہلے اپنا وصیت نامہ تحریر کیا اور اپنے خاندان کے مختلف افراد، دوستوں اور ملازموں کے نام الگ الگ خط لکھے اور انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ پہنچانے کی ہدایات دیں۔ وہ دراصل ایک بہادر اور انسانوں سے محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ تمام تر خطرات کے باوجود انھیں کامل یقین تھا کہ ان کی وطن میں آمد سے عوام کے لیے اُمیدوں کی قندیل روشن ہو جائے گی اور پاکستان میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا۔ انہیں اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور اپنے اہل وطن پر بڑا اعتماد تھا اور اُن کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ جمہوری اداروں کے استحکام سے ملک میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور فوج کو بتدریج امور سیاست سے بے دخل کر دینا ممکن ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے پاکستان میں حالات ایک ایسی نہج پر بہ نکلے تھے جو انہیں ایک عوامی لیڈر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دے رہے تھے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موت اُن کو پاکستان کی طرف کشاں کشاں لا رہی تھی۔

بےنظیر صاحبہ کی شہادت سے پاکستان کے مستقبل پر کیا کیا اثرات مرتب ہوئے؟ ان کا جائزہ لینے سے پہلے اس امر کا تجزیہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری کس کس پر عائد ہوتی ہے؟ اپنے پیارے وطن کا تحفظ اور سلامتی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ان محرکات اور عوامل کا ٹھیک ٹھیک سراغ لگایا جائے جو اتنے عظیم حادثے کا باعث بنے ہیں اور جن کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اُن کی دہشت ناک اور بےوقت موت سے امریکی منصوبوں کو بہت دھچکا لگا ہے اور شرق اوسط میں عالمی طاقتیں انتہائی پیچیدہ صورت حال سے دوچار ہوئیں جن کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

تب افغانستان میں ایک زبردست اور ناقابل تسخیر قوت مزاحمت نے نیٹو افواج کو ذہنی طور پر شکست سے دوچار کر دیا تھا، جبکہ پاکستان میں صدر پرویز مشرف سیاسی طور پر نزع کی حالت میں چلے گئے. وہ اس جان لیوا کیفیت سے کیسے نکلے؟ محترمہ کے خون کا داغ کیسے دھویا؟ یہ ایک لاگ کہانی ہے۔ تاہم موجودہ حالات اس امر کا شدید تقاضا کر رہے ہیں کہ بےنظیر کی بےوقت موت کے پیچھے کارفرما عوامل کا ایک بار پھر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور عوام کے سامنے کھول کھول کر بیان کیا جائے کہ ان کی ہلاکت کے ذمہ دار کون کون سی داخلی اور خارجی طاقتیں، ادارے یا گروپ ہو سکتے ہیں۔

محترمہ بے نظیر کی بےوقت موت کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر یہ سوچ بھی اُبھرتی جا رہی تھی کہ صدر پرویز مشرف اس قومی سانحے کے براہ راست ذمے دار ہیں، کیونکہ وہ فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے تو انہیں اور اُن کے ماتحت کارندوں کو اپنی 26 /اکتوبر کی ای میل ہی میں نامزد کردیا تھا جسے آصف علی زرداری نے بعدازاں ایک نزاعی بیان کی حیثیت دے کر فراموش کر دیا۔

آصف زرداری کو صادق و امین قرار دیے جانے کے بعد سے بہت سے حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے۔ صدر پرویز مشرف کو جمہوریت کی محافظ عظیم سیاسی لیڈر کی موت کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں بھی اُن پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ عالمی تجزیہ نگار پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو ایک ایسا دیو تصور کرنے لگے ہیں جو انسانوں کے جسم و روح قبض کر لیتا ہے اور مذاکرات پر یقین رکھنے والے سیاسی قائدین کو موت کی نیند سلادیتا ہے۔ نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو اس کھلی بربریت کی واضح مثالیں ہیں۔ بلاشبہ جنرل پرویز مشرف نے محترمہ کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کا ایک وسیع تانا بانا بُنا تھا اور وہ اُن کی درپردہ یقین دہانیوں کے سائے میں اپنے وطن لوٹی تھیں، مگر عوام کی طرف سے ان کے 18/اکتوبر کے والہانہ استقبال نے مشرف حکومت میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی اور اپنے جلوس پر قاتلانہ حملے کے بعد بے نظیر بھٹو نے القاعدہ یا طالبان پر الزام دھرنے کے بجائے بعض عناصر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے واقعات کی غیرملکی ماہرین کے ذریعے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

صاف نظر آ رہا تھا کہ میاں نوازشریف اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے انتخابی جلسوں میں جوں جوں حاضرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، توں توں مفاد پرست طبقے اپنے حواس کھوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں قائدین کے جلسوں پر 27/دسمبر کی سہ پہر اقتدار کے کاسہ لیسوں کی طرف سے جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حملے ہوئے جن میں بے نظیر صاحبہ موت کی آغوش میں چلی گئیں۔

یہ خطرہ محسوس کیا جانے لگا تھا کہ سیاسی قیادتیں عوام کے مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آ کر اسٹیبلشمنٹ کو اپنے آئینی فرائض کے دائرے تک محدود کر دیں گی، چنانچہ سب سے پہلے وہ طاقتور سیاسی شخصیت راستے سے ہٹائی گئی، جسے چاروں صوبوں اور خاص طور پر اندرون سندھ میں زبردست سیاسی حمایت حاصل تھی، اور عالمی برادری میں بھی اس کے راوبط نہایت وسیع اور گہرے تھے۔ اعلیٰ سطح کے حکام کے ملوث ہونے کے عمومی تاثر کو حکومت کے بعض انتہائی احمقانہ اقدامات سے تقویت ملی۔

جائے حادثہ کی فوری صفائی اور دس بارہ گھنٹوں کے اندر اندر وزارت داخلہ کا یہ اعلان کہ بیت اﷲ محسود کے آدمی اس بہیمانہ قتل کے ذمے دار ہیں اور محترمہ کی موت سن روف کے کنڈے سے ٹکرانے سے واقع ہوئی ہے، جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔ بڑی جلد بازی میں اٹھائے ہوئے یہ اقدامات حکومت کی اس نیّت کو واضح طور پر عیاں کرتے تھے کہ وہ قتل کی واردات کے تمام نشانات اور ثبوت مٹا دینے اور اپنی مجرمانہ غفلت اور اپنے مذموم عزائم پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلف کارڈ اور مولانا کا دھرنا - اعزاز سید

مختلف حلقوں میں یہ سرگوشیاں بھی ہونے لگیں کہ جناب آصف زرداری کو بےنظیر صاحبہ کی ہلاکت کا سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے، اس لیے وہ بھی قتل کی سازش میں کسی بھی سطح پر شامل ہو سکتے ہیں۔
...........................................
جن لوگوں نے بے نظیر کے قتل کے معاملے میں ان کے شوہر آصف علی زرداری پر شک کیا، اس کا پس منظر بھی جان لیجیے:
آصف علی زرداری کا ماضی کچھ اس انداز کا ہے جس کے بارے میں ایک عرصہ تک خود پیپلز پارٹی اور پورے ملک میں کسی قدر منفی اور کھردری تنقید ہوتی رہی۔ بے نظیر نے جب ان کے ساتھ شادی کی تھی، تو سندھ کے اندر ایک ناخوشگوار ردعمل سامنے آیا تھا، اور آگے چل کر انہیں ''مسٹر ٹین پرسنٹ'' کہا جانے لگا تھا۔ مشہور تھا کہ زرداری کے والد حاکم علی زرداری ایک بہت پست درجہ کے معیار زندگی سے اوپر آئے اور اس میں ان کا منفی ذہن زیادہ کارفرما تھا، معلوم نہیں یہ سب کہاں تک سچ ہے، لیکن آج بھی بعض حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز سینما کی تھرڈ کلاس فلموں کے ٹکٹ بلیک کر کے کیا۔ بےنظیر صاحبہ بالعموم اُن کے گن گاتی رہیں، لیکن آخرکار انھوں نے زرداری صاحب کو سیاست سے الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ لوگ کہتے تھے کہ بے نظیر حکومت کی برطرفی میں آصف علی زرداری کی خراب شہرت کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔

درج بالا اور دیگر نامعلوم خانگی وجوہ سے دونوں کے درمیان تعلقات میں سردمہری آتی گئی اور جو ساڑھے آٹھ سال بے نظیر صاحبہ نے جلاوطنی میں گزارے، ان میں یہ دونوں میاں بیوی بہت کم ایک جگہ اکٹھے رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ایک ماں کے علاوہ باپ کی شفقت سے بھی اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو نوازتی رہیں۔ جناب آصف علی زرداری زیادہ تر امریکہ میں اقامت پذیر رہے، جبکہ بےنظیر صاحبہ کا زیادہ تر قیام دبئی اور لندن میں رہا تھا۔ اس دوری نے بہت ساری سرگوشیوں اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا اور اخبارات میں اس نوع کی افواہیں بھی باخبر حلقوں کے حوالے سے گردش کرتی رہیں کہ ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی ہے۔ بےنظیر صاحبہ کے پاکستان آنے سے فقط چار دن پہلے جناب آصف علی زرداری دبئی آئے اور اسی دوران ”وصیت نامہ“ ضبط تحریر میں آیا تھا۔ 30 دسمبر کی شام جب بلاول نے پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عامہ کے سامنے اپنی مرحومہ والدہ کا وصیت نامہ پڑھ کر سنایا، جس میں اُن کے والد آصف علی زرداری پارٹی کے چیئرمین نامزد کیے گئے تھے، تو ایک دنیا حیرت زدہ رہ گئی اور سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔

جناب آصف علی زرداری نے وصیت کے مطابق ذمہ داریاں سنبھالنے کے بجائے اپنے بیٹے بلاول کو پارٹی کا چیئرمین بنا دیا اور خود وائس چیئرمین بن گئے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس طرح انھوں نے پیپلز پارٹی پر ایک طویل مدت کے لیے قبضہ کر لیا اور مختلف بینکوں میں جو میاں بیوی کے دستخطوں سے ایک ارب سے زائد ڈالر جمع تھے، ان کے بلا شرکتِ غیرے مالک بھی بن گئے۔

بے نظیر صاحبہ کی بےوقت موت سے آصف زرداری کو یک لخت پاکستان کی سیاست میں ایک فیصلہ کن مقام حاصل ہو گیا، اور توقع کی جاتی رہی کہ آئندہ حکومت کے معاملات انھی کے گرد گھومتے رہیں گے۔ ایک عظیم حادثے کے نتیجے میں وہ پاکستان کی اہم ترین شخصیتوں میں شمار ہونے لگے اور بے نظیر کی شہادت کے بعد اُن کے بڑی طاقتوں سے روابط قائم ہوتے چلے گئے۔

وہ احباب جو آصف علی زرداری کو بے نظیر کے قتل کی سازش میں یقینی طور پر ملوث خیال کرتے ہیں، اُن کی کہانی کچھ یوں ہے کہ محترمہ کی شہادت سے ایک روز پہلے زرداری صاحب نے اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں اگلے دن پاکستان آ رہے ہیں۔

آصف زرداری صاحب کی دبئی سے پاکستان آمد بھی ایک عجب پیچ و خم لیے ہوئے ہے، اس پر ہمارے دیرینہ دوست اور قاری ابو محمد مصعب نے خوب روشنی ڈالی ہے ، ابو محمد مصعب تب دبئی میں ہی تھے، جب یہ اندوہناک واقعہ جنم لے رہا تھا:
”جس دن بے نظیر کا قتل ہوا، میں دبئی میں تھا۔ بےنظیر پاکستان پہنچ چکی تھیں اور جلسے کی طرف چل پڑی تھیں۔ یہاں زرداری صاحب دبئی ائیرپورٹ پنہچے۔ ابھی قتل نہیں ہوا تھا۔ زرداری صاحب کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر ائیرپورٹ سے واپس اپنی رہائش گاہ چلے گئے۔ یہ خبر میں نے اسی دن کے کسی آن لائن نیوز پیپر میں پڑھی تھی۔ پھر بات سمجھ میں آئی کہ شاید پلان کے تحت بی بی کو پہلے ہی قتل ہو جانا تھا جو کسی وجہ سے مؤخر ہوا اور یہ ہی وجہ تھی کہ زرداری صاحب کو "مایوس" لوٹنا پڑا اور آج تک اس واپسی کی کوئی توجیہ سامنے نہیں آئی۔ پھر جب قتل ہوگیا تو شوہرنامدار دوبارہ ائیرپورٹ پہنچے۔ تیار تو وہ پہلے ہی تھے۔ یہاں مشہور تھا کہ بی بی، زرداری صاحب کو اپنے سیاسی "کاروبار" سے ہمیشہ دور رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک وہ زندہ رہیں، زرداری صاحب کا سیاست میں دور دور تک پتہ نہ تھا۔ دبئی والی رہائش گاہ میں جب کوئی سیاستدان بی بی سے ملاقات کے لیے جاتا تو زرداری صاحب کو سختی سے ہدایت تھی کہ وہ ملاقات میں شریک نہیں ہوں گے اور پچھلے دروازے سے آنا جانا رکھیں گے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد انہوں نے مرحومہ کی پوری ٹیم کو پارٹی معاملات سے الگ کر دیا، اور اپنے قابل اعتماد دوستوں کو قریب کر لیا۔ ناہید خان اور ان کے شوہر اس کی ایک مثال ہیں۔ زرداری صاحب پانچ سال صدر رہے، مرکز میں سیاہ و سفید کے مالک رہے مگر اپنی منکوحہ کے قتل کی تحقیقات کروانے میں کبھی سنجیدہ نظر نہیں آئے۔ ان تمام کڑیوں کو اگر ملایا جائے تو اتنی بات سمجھ میں آتی ہے کہ زرداری صاحب کو اس گھناؤنے کھیل سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر قتل میں شریک نہیں تو منصوبے سے کم از کم آگاہ ضرور تھے۔“

عین اگلے ہی روز شہادت کا واقعہ پیش آ گیا اور وہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کے ہمراہ کراچی سے ہوتے ہوئے چک لالہ ائیربیس پر اُترے، تو اُن کا چہرہ بڑی حد تک پُرسکون تھا۔ اکثر لوگوں کے لیے یہ ایک حیرت کی بات تھی۔ پھر انھوں نے محترمہ کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دی اور یوں تحقیقات کا سب سے لازمی عنصر ناپید ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انکوائری کا دروازہ بند کر دینا چاہتے تھے۔ پوسٹ مارٹم کے ذریعے ہی بہت سے حقائق سامنے آتے ہیں جن کے ذریعے مجرموں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ 30 دسمبر کو نوڈیرو میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا اعلان ہوا اور لاکھوں ناظرین نے دیکھا کہ غم کی اس گھڑی میں آصف علی زرداری پوری طرح مطمئن دکھائی دے رہے تھے اور بلاول توگاہے گاہے مسکرا بھی رہا تھا۔ اس کے علاوہ جب میڈیا کے اصرار پر انھیں وصیت نامہ دکھایا نہیں گیا، تو شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا گیا۔ جناب آصف علی زرداری نے وصیت نامے کو عام نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ بلاول کی ذاتی ملکیت ہے جس میں کسی اور کو شامل نہیں کیا جا سکتا، مگر اس کا تعلق تو اجتماعی معاملات سے ہے۔ یہ بات بھی کسی قدر پراسرار معلوم ہوتی ہے کہ وصیت نامے کے کھلنے سے ایک دن پہلے یہ خبر ”لیک“ ہو چکی تھی کہ پارٹی کا چیئرمین بلاول زرداری ہوگا۔

کچھ لوگ یہ نکتہ طرازی بھی کر رہے ہیں کہ زرداری صاحب بھٹو خاندان کے حقیقی جانشینوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بہت پہلے بنا چکے تھے۔ شاہنواز بھٹو کی پراسرار ہلاکت کے بعد مرتضیٰ بھٹو اپنے خاندان کی سیاسی وراثت کا مالک بن سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اُن کے زرداری صاحب سے تعلقات بڑے کشیدہ تھے۔ یہ بےنظیر کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا دور تھا اور مرتضیٰ بھٹو کی سرگرمیاں اُن کے لیے بڑے مسائل پیدا کر رہی تھیں۔ پھر ایک اندھیری رات میر مرتضیٰ بھٹو پولیس مقابلے میں اپنے گھر کے سامنے فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے۔ واقعات میں یہ کسی قدر مماثلت پائی جاتی ہے کہ گردن میں گولی پیوست ہو جانے سے ان کے لیے سانس لینا محال ہو گیا تھا۔ وزیراعظم بے نظیر شب کے آخری پہر کراچی پہنچیں اور سیدھی ہسپتال گئیں جہاں اُن کا بھائی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ اُن کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے اور یہی حادثہ ان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا۔ اُنھوں نے تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ سے تفتیش کار بلائے تھے، مگر اُن کی حکومت ختم ہو جانے کے بعد صدر فاروق لغاری نے اُنہیں واپس بھیج دیا تھا۔ اُن کے دونوں بھائی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے اور تمام سرگوشیوں کے باوجود وہ اپنے شوہر آصف علی زرداری کے ساتھ بھی نباہ کر رہی تھیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ گیارہ سال بعد اُن کی موت بھی گردن میں گولی لگنے سے واقع ہوگی اور ان کی سیاسی وراثت کے حق دار آصف علی زرداری قرار پائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی پکنک اور مولانا کا دھرنا - امتیاز عالم

بے نظیر صاحبہ کے قتل پر تبصرہ کرنے والے بعض مبصرین اس طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ قتل کی واردات اُن ”پنجابی محافظوں“ کے ہاتھوں سرانجام پائی جو زرداری صاحب نے بےنظیر صاحبہ کی حفاظت کے لیے مقرر کیے تھے۔ یہ سب کے سب وہ تھے جن سے جیل میں زرداری کی دوستی ہوئی تھی اور اس امر کا بھی قوی امکان ہے کہ وہ گروہ جس نے یک لخت نعرے لگانا شرع کر دیے تھے اور محترمہ کو گاڑی کی سن روف سے سر باہر نکالنا اور ہاتھ لہرانا پڑا تھا، وہ ایک طے شدہ ڈرامہ تھا اور اس میں انھی محافظوں کا مرکزی رول ہو سکتا ہے۔ ہمارا ذہن ابھی تک ان الزامات کو قبول کرنے کے لیے تیارنہیں، کیونکہ ہماری نظر میں جناب آصف علی زرداری اس قدر حریص اور سفاک نہیں ہو سکتے کہ اپنی رفیقہ حیات اور بھٹو خاندان کا نام ختم کرنے پر تل جائیں۔ اب تک اُنھوں نےایک عظیم الشان سیاسی کردار ادا کیا ہے۔

بے نظیر کے قتل میں پرویز مشرف کا نام لینے والوں کے نزدیک اس کی درج ذیل ٹھوس وجوہات ہیں جن کی رو سے بحیثیت حاکم وقت پرویزمشرف بل واسطہ محترمہ کے قتل کے ذمہ دار اور سزا کے مستحق ہیں:
بے نظیر کے قتل کے بعد چھ روز کی تاخیر اور شدید عالمی دباؤ کے تحت صدر پرویز مشرف نے سکاٹ لینڈ یارڈ سے تکنیکی ماہرین کی امداد کے لیے برطانوی وزیراعظم سے درخواست کی جو قبول کر لی گئی۔ مشرف کے بے دلی سے کیے گئے اس اقدام کے باوجود عوامی حلقے غیرملکی تکنیکی ماہرین سے توقعات وابستہ کرنے کے لیے اس لیے تیار نہیں تھے کہ بےنظیر کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا گیا تھا اور جائے حادثہ کو تین چار گھنٹوں کے اندر فائر بریگیڈ کے ذریعے دھو کر تمام ضروری ثبوت مٹا دیے گئے تھے۔ بعد ازاں ہوا بھی یہی اور غیر ملکی ٹیم بھی کوئی خاطر خوا رزلٹ سامنے نہ لاسکی۔

یہاں اس امر کا تذکرہ ازحد ضروری ہے کہ بے نظیر صاحبہ کے قاتلوں کا سراغ لگانا ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت ضرور ی تھا، اگر اس قتل کا سراغ لگانے لیے دیانتدارانہ کوشش کی جاتی تو آج ملک میں دہشت کے خلاف جنگ کا نقشہ خاصی حد تک بدلا ہوا نظر آتا، شاید اس کے ہمارے سیاسی منظرنامے پر بھی دور رس مثبت اثرات مرتب ہوتے، لیکن افسوس ایسا نہ کیا گیا اور نتیجتاً ملک و قوم کو سنگین نتائج بھگتنا پڑے۔ بہتر ہوتا اگر اسے ایک سیاسی ایشو بنانے کے بجائے تفتیش کا ایک سائنٹفک راستہ اختیار کیا جاتا۔ پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لے کر ایک بااختیار عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جاتا۔

اگرچہ اس ضمن میں کوئی جامع اور قابل بھروسا تفتیشی بیان سامنے نہیں آیا تاہم میری غیر ماہرانہ نگاہ میں اب تک سامنے آنے والی معلومات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قتل کا منصوبہ پیشہ ورانہ نشانہ بازوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ماہرین کے تعاون سے تیار ہوا ہے۔ روس کی فوجی خفیہ ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ نشانہ باز تین تھے جنھوں نے محترمہ پر چھ فائر کیے۔ لیزر گن کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ میں نے جب قتل کی ویڈیو دیکھی تو صاف نظر آ رہا تھا کہ ایک سیاہ چشمے والے کمانڈو ٹائپ نوجوان نے اپنے پستول سے تاک کر محترمہ پر لگاتار تین چار فائر کیے، اس کے نتیجے میں بھگدڑ مچی، محترمہ کو گاڑی کے اندر گھسیٹ کر بظاہر بچانے کی کوشش کی گئی لیکن میرا یقین واثق ہے کہ یہ بھی قتل کے پلان کا حصہ تھا اور ان کا سر سن روف سے ٹکرانا حادثہ ہرگز نہ تھا۔ جیسے ہی پستول بردار کا کام ختم ہوا، اس کی پشت پر کھڑے چادر پوش نے اپنی خود کش جیکٹ کی پن نکال کر قصہ مکمل کر دیا۔

اس ضمن میں ہماری حکومت کا بار بار اصرار تھا کہ یہ دہشت گردی بیت اﷲ محسود کے تربیت یافتہ آدمیوں نے کی۔ دوسری طرف بیت اﷲ محسود نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس الزام کی شدت سے تردید کی اور اس قتل کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں پر عائد کیا اور ایک مکمل اور غیرجانب دار تحقیقات کا مطالبہ بھی کر ڈالا۔

قارئین کرام!
وجہ کچھ بھی رہی ہو، ذمہ دار زرداری ہو، مشرف یا دونوں، بےنظیر کے قتل سے ملک میں ایک ہولناک سیاسی خلا یک لخت پیدا ہو گیا تھا اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے تشخص پر سوالیہ نشانات لگتے جا رہے تھے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے بعد سندھ کا احساس محرومی ایک نئی جہت اختیار کرتا چلا جا رہا تھا۔ بےنظیر کے قتل سے لے کر کرپٹ مافیا کو بےلگام کرنے اور کھلی چھوٹ دینے تک جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت میں ذہنی طور پر ہمارا قومی شیرازہ بکھر کر پارا پارا ہوگیا اور ملکی سالمیت شدید خطرے میں پڑ گئی۔ مشرف کے جرائم کی فہرست خاصی طویل ہے: فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال، دستور کی چیر پھاڑ، ریاست کی سطح پر ظلم و تشدد کی یلغار، عدلیہ اور میڈیا پر ایگزیکٹو کے بار بار شبخون اور ہر قیمت پر امریکی مفادات کی تکمیل۔ اگر بے نظیر کے قتل کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور پرویز مشرف کو صرف اسی جرم کی سزا موت کی شکل میں دی جائےتو کم ہوگی کہ اس کی گھٹیا پالیسی کی وجہ سے ریاست اور فوج پر سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بےنظیر صاحبہ عام آدمی کی امیدوں اور امنگوں کی ترجمانی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان آئی تھیں، جنھیں ان شتربے مہار قوتوں نے شہید کر دیا جو چالیس برسوں سے فقط سایوں کے خلاف شمشیر زنی کرتی آئی ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو یہ سب بھی بے نظیر کے قاتل ہیں، ہمارے وہ حکمران بھی جو مسلسل ایک ہی تاثر دیے جا رہے ہیں کہ بم دھماکے اور خودکش حملے کرنے والے مدرسوں میں تیار ہو رہے ہیں۔ پاکستان وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری حنیف جالندھری نے اس ضمن میں ایک بڑی مثبت اور کارآمد تجویز پیش کی تھی کہ اب تک جتنے بم دھماکے اور خودکش حملے ہوئے ہیں، اُن کی تحقیقات کے لیے ایک بااختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر جامع سفارشات پیش کرے۔ اُن کا مؤقف یہ تھا کہ ان خونیں واقعات کے پس پردہ مذہبی جنون کے بجائے حکمرانوں کے غلط سیاسی فیصلے کارفرما ہیں، وہ غلط فیصلے جو ستر سال سے ہماری جڑوں کو چاٹ رہے ہیں، وہ غلط فیصلے جو ملک کو ایک بار دو لخت کر چکے ہیں، وہ غلط فیصلے جو قائداعظم سے لے کر بے نظیر تک ہمارے سیاسی اثاثوں کے قاتل ہیں۔

Comments

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی: مدیر، مترجم، ادیب، اور کہانی کار۔ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے نائب مدیر رہ چکے ہیں ۔ شکاریات، مہم جوئی اور کمپیوٹرسائنس پر مبنی ان کی تحریریں ایک عرصہ تک اردو ڈائجسٹ کے صفحات کی زینت بنتی رہیں۔ بچوں کے ادب اور درسی کتب کی تحریر و ترتیب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.