روہنگیا مسئلے کا ٹھوس حل - تزئین حسن

اگر برما میں روہنگیا کی واقعی Ethnic Cleansing یا Genocide ہو رہی ہے تو عالمی اداروں، مسلم دنیا اور بین الاقوامی میڈیا کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ کیا آنگ سنگ سوچی سے نوبل پرائز اور کینیڈا کی شہریت کی واپسی کا مطالبہ، سوشل میڈیا پر پوسٹس کا تبادلۂ، اور اس سے بڑھ کر جلسے اور ریلیاں منعقد کر کے ان کے لیے کچھ فنڈ اکٹھے کر لینا کافی ہے؟ یا اقوام متحدہ سے ہمارے مطالبات زیادہ حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز ہونے چاہییں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس بحران کا جس نے انسانیت کو شرما دینے والے المیہ کو جنم دیا ہے، ٹھوس اور دیرپا حل کیا ہے؟

اس وقت تمام عالمی ادارے اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی، جسے آپ بد ترین قتل عام کا نام دیں یا Genocide اور ایتھنک کلینسنگ جیسے بن الاقوامی قوانین کی جانی مانی اصطلاحات کا، بند ہونی چاہیے، اور بنگلادیش میں مقیم مہاجرین کو واپس ان کے گھروں میں واپس بھیجا جائے. اس حل کے لیے آنگ سانگ سوچی پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے. کینیڈا کے وزیر اعظم نے آنگ سانگ سوچی کے نام اپنے طویل خط میں انھیں ان کی اپنی تقریروں کی یاد دلا کر ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قتل عام کو بند کروائیں اور روہنگیا مسلمانوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کرنے کے لیے اقدامات کریں..

بظاہر دیکھا جائے تو یہ ایک آئیڈیل حل محسوس ہوتا ہے لیکن ذرا باریک بینی سے نظر ڈالیں تو یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ ڈیمانڈ ہے. خود روہنگیا مسلمان موجودہ صورتحال میں واپس جانے پر راضی نہیں، بلکہ جتنے لوگ اس علاقے میں موجود ہیں، وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ جو کچھ ان کے ساتھ وقفے وقفے سے چالیس سال سے ہو رہا ہے، وہ دوبارہ نہیں ہوگا. جو کچھ ہوا اس کی وڈیوز اور تصاویر اتنی ہولناک ہیں کہ انھیں سوشل میڈیا کی اخلاقیات کے اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں. ذرا سوچیے جن لوگوں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ یہ سب ہوتے دیکھا ہے، کیا وہ برما کے موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں واپس جانا چاہیں گے؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ روہنگیا مسلمانوں کی جگہ آپ ہوتے جنھوں نے لوگوں کے کٹے ہوئے سر مسجدوں کے باہر دیکھے ہوتے تو کیا آپ اپنے علاقے میں واپس جانا چاہتے؟ جنھوں نے بچوں اور معذور افراد کو آگ میں جلتے دیکھا، وہ اپنے بچوں کو وہاں لے جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   تصویریں بولتی ہیں - صائمہ تسمیر

معذرت کے ساتھ کہوں گی کہ جتنی ریلیاں اور جلسے منعقد ہو رہے ہیں، سب کا زور آنگ سانگ سوچی سے نوبل پرائز کی واپسی ہے. لگے ہاتھوں genocide بند کرنے کے لیے بھی نعرے لگائے جاتے ہیں. عام طور سے یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ قتل عام بند کون کروائے گا؟ اقوام متحدہ کو امن فوج بھجوانے کا خیال خود بھی نہیں آ رہا اور کوئی دوسرا بھی اس کی ڈیمانڈ نہیں کر رہا. مسلم نیٹو کے سربراہ راحیل شریف جن کے لیے حرم شریف میں نعرے لگائے گئے، ٹرمپ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں؟ قطر کے خلاف تو بائیکاٹ کی بڑی جلدی اجازت مل گئی تھی کہ قطر دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہا تھا. چین اور بھارت کے خلاف بائیکاٹ کا کسی کو خیال نہیں آ رہا جو برما کی حکومت کو مسلسل مالی تھپکیاں دے رہے ہیں.

عمل پسند اسلامی جماعتیں اس وقت ایک دوسرے کو اقوام متحدہ، برطانوی پارلیمنٹ، اور کینیڈین وزیراعظم کے نام پٹیشنز فارورڈ کر رہی ہیں. یہ صحیح ہے کہ بہت بڑی تعداد میں دینی اور سماجی تنظیمیں ان کے لیے فنڈ بھی جمع کر رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ چار لاکھ سے زائد افراد کو آپ کتنے عرصے تک بٹھا کر کھلا سکتے ہیں؟ دوسری بنیادی ضروریات ایک طرف انہیں ایک وقت کا کھانا کھلانے کے لیے کتنی رقم کی ضرورت ہے؟

ایسے میں جس دیرپا اور ٹھوس حل کی بات کوئی نہیں کر رہا، وہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے ان کی سرزمین پر ایک علیحدہ وطن کا قیام ہے. اس مطالبے سے کم کوئی بھی مطالبہ محض بیان بازی ہے.

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!