ماہرہ، فیس بکی، اور اخلاقیات - محمود فیاض

لوگ ماہرہ خان کی تصویر ڈھونڈ ڈھونڈ کر، پھر اس کو دیکھ دیکھ کر، اور پھر اس کو باقی دوستوں کے ساتھ شیئر کر کر کے مذمت کر رہے ہیں۔
۔
مذمت میں انداز بھی دیکھیے، اس کی کمر پر چھوٹا سا تل یا نشان بھی زیر بحث ہے۔ پھر ممتاز مفتی کا افسانہ یاد آگیا جس میں بوڑھا اپنے ٹھرک کے لیے روزانہ ایک طوائف کو جھڑکیاں دینے جاتا تھا۔
۔
انہی میں سے کچھ لوگ پچھلے دنوں بلاک ہوگئے تو پتہ چلا کہ کسی خراب تصویر کی وجہ سے بلاک ہوئے۔ کوئی ہرج نہیں ، ہو جاتا ہے، آن لائن دنیا کا فنڈا ہے، چلتا رہتا ہے۔ مگر تماشا یہ ہوا کہ یار لوگ فیس بک پر وہ تصویر ڈھونڈتے، مانگتے، اور پھیلاتے پائے گئے جس کی وجہ سے "بلاکیت" ہوئی تھی۔
۔
ہمارے معاشرے میں اقدار پر منافقت کے کھیل کو آشکار کرنا ایک فضول کام ہوچکا ہے، کیونکہ یہ اتنا واضح اور اتنا ہی قابل قبول ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں کچھ نہ کچھ ایسا ہی کر رہا ہے، اس لیے اس پر بات کرنا فضول ہے۔
۔
آئیے البتہ اصول کی کچھ باتیں طے کر لیں، شاید کسی کا کچھ بھلا ہو جائے۔
۔
ماہرہ خان اپنی ذاتی زندگی میں کیا کرتی ہے، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اجتماعی معاشرتی زندگی میں کیا کرتی ہے، اس سے ہم سب کا تعلق ہے۔ ماہرہ خان نیویارک میں سگریٹ پیتی ہے اور نیم برہنہ نظر آتی ہے تو یہ نیویارک کا معاشرتی مسئلہ ہے۔ وہ یہی حرکت پاکستان میں کرے گی اور سر عام کرے گی تو اخلاقیات کا مسئلہ ہونا چاہیے، اور اس پر تنقید بھی ہونا چاہیے۔
۔
ایک فنکار کی حیثیت سے پذیرائی پانے کے بعد ہر معاشرے کے فرد پر کچھ اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ کوشش ہونا چاہیے کہ وہ اخلاقی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔
۔
ہر فنکار کی اپنی پرائیویٹ لائف ہوتی ہے، مگر اس کے مداح ہمیشہ اس میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جو لوگ مذمت کرنے والوں کو یکسر برا کہہ رہے ہیں، ان کو یہ نکتہ دھیان میں رکھنا چاہیے۔
۔
عورت اور مرد کو زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں، اگر فواد خان بھی شراب پیتا ہو، نیم برہنہ نظر آئے گا تو اس پر اس کے مداح تنقید کریں گے۔
۔
ہر معاشرے کا ایک اجتماعی آؤٹ فٹ ہوتا ہے، جو بھی اس کے مخالف جاتا ہے اس پر آوازیں اٹھتی ہیں۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.