بوتل میں قید ’’جن‘‘ محمد بلال غوری

نوبل انعام یافتہ ماہر طبعیات، نیلز بوہر کی دانست میں آمریت کا بہترین ہتھیار رازداری ہے جبکہ جمہوریت کا بہترین ہتھیار شفافیت ہونا چاہئے۔ لیکن ہمارے ہاں بلا تخصیص تمام حکومتیں رازداری کو ہی سب سے مہلک ہتھیار سمجھتے ہوئے معلومات کو قومی مفاد نامی پیاز کی تہہ در تہہ پرتوں میں چھپا کر رکھتی ہیں۔ نیلز بوہر کی رائے کے برعکس مقامی زمینی حقائق کی روشنی میں میری رائے یہ ہے کہ رازداری سے بھی کہیں زیادہ موثر اور بڑا ہتھیار ''کمیشن‘‘ ہے۔

اقوام عالم کی لغت میں کمیشن کے اغراض و مقاصد اور مطلب و معانی جو بھی ہوں‘ مگر پاکستان میں کسی معاملے پر کمیشن تشکیل دینے کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ گئی بھینس پانی میں۔ ایک مرتبہ عالم خواب میں اقتدار کے ایوانوں میں مستعمل لغت ہاتھ لگی تو میں نے جھٹ پٹ کمیشن کی متعین تعریف اور لفظی و اصطلاحی معانی جاننے کے لئے ورق پلٹنا شروع کئے۔ لکھا تھا ''التوائ، تاخیر، ٹال مٹول، لولی پاپ، چوسنی، ٹرک کی بتی... جب عوام مشتعل ہوں تو ان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بلا تاخیر کمیشن تشکیل دے دو۔

معاملہ سنگین ہو تو تحقیق و تفتیش کرنے والوں کے گرد ٹی او آرز کا ایسا حصار کھینچ دو کہ وہ سرتوڑ کوشش کے باوجود معاملے کی تہہ تک نہ پہنچ سکیں۔ لیکن بالفرض کمیشن کی رپورٹ سے گستاخی کی بو آ رہی ہو تو بھی پریشان ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ کمیشن کی رپورٹ پر اِتراتے اس جن کو قومی سلامتی کی بوتل میں قید کرکے کسی تنگ و تاریک گوشے میں پھینک دیں‘‘۔

تحیّر و تکّدر کی کیفیت میں اس انمول لغت کا مطالعہ جاری تھا کہ آنکھ کھل گئی؛ سامنے دھرے اخبار کی شہ سرخی پڑنے کو ملی ''لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون کی انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا‘‘۔ بظاہر تو معلومات کی عام آدمی تک رسائی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ''رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘‘ جیسے قوانین نافذ ہو چکے ہیں‘ پھر بھی سانحہ ماڈل ٹائون کے ہنگامے کی نذر ہونے والوں کے لواحقین کو حقائق جاننے کے لئے لاہور
ہائیکورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ 16 جون 2014ء کو پنجاب پولیس کی نفری نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں علامہ طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تو عوامی تحریک کے کارکنوں نے مزاحمت کی اور اس دوران 14 افراد قتل ہو گئے۔ حکومت نے جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں یک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا۔ حسب روایت اس جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سرکاری سطح پر تو جاری نہ کی گئی‘ البتہ فریقین نے اپنے من بھاتے تراشے اور اقتباسات ضرور میڈیا میں پیش کئے۔

اگر پنجاب حکومت کا خیال ہے کہ اس رپورٹ میں کسی قسم کی جانبداری دکھائی گئی ہے یا یہ حالات و واقعات کی درست عکاسی نہیں کرتی تو اسے جاری کرنے کے بعد سرکاری موقف پیش کر دیا جاتا یا پھر اسے کسی بھی عدالتی فورم پر چیلنج کر دیا جاتا‘ لیکن حسبِ سابق اس رپورٹ کو داخل دفتر کر دیا گیااور اب اسے پبلک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کسی بھی معاملے پر کمیشن بنانا حکومتوں اور عدالتوں کا استحقاق ہے۔ حکومت کمیشن آن انکوائری ایکٹ 1956ء کے تحت کسی معاملے کی تحقیق اور کھوج لگانے کے لئے کمیشن تشکیل دے سکتی ہے‘ جبکہ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل (3)184 کے تحت کسی معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے عدالتی کمیشن بنانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد انواع و اقسام کے موضوعات پر اب تک جتنے کمیشن بنائے گئے‘ ان کی فہرست بنانا مقصود ہو تو ایک اور کمیشن بنا کر ہی اس عظیم مقصد کا حصول ممکن ہے۔

اور اگر بات ہو ان کمیشنز کی ضخیم رپورٹوں کی تو شاید انہیں مجتمع کرنے کے لئے کرشماتی خصوصیات والے افرادکومستعار لینا پڑے۔ میرا خیال ہے اگر ان تمام کمیشنز کی رپورٹیں ایک دوسرے کے اوپر رکھ دی جائیں تو دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ کو مات دی جا سکتی ہے۔ یوں تو اب تک بنائے گئے کمیشنز کی تعداد ہزاروں میں ہے‘ مگر بر سبیلِ تذکرہ ملکی تاریخ کے سب سے پرانے کمیشن کا ذکر ہو جائے۔ یہ کمیشن پہلے ہائی پروفائل قتل کے بعد تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی تفصیلات سے پڑھنے والوں کو اندازہ ہو گا کہ قومی سلامتی کی بوتل میں قید کئے گئے جن بوقت ضرورت چھو منتر بھی ہو جاتے ہیں۔

16 اکتوبر 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ موقع واردات پر موجود سب انسپکٹر محمد شاہ قاتل سید اکبر کو گرفتار کرنے کے بجائے اسے گولی مار دیتا ہے‘ اور بعد ازاں پتہ چلتا ہے کہ اسے گولی چلانے کا حکم ایس پی خان نجف نے دیا۔

اس واردات سے جڑے گنجلک حقائق کا سراغ لگانے کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، بینظیر قتل کیس کی طرح سکارٹ لینڈ یارڈ کی مدد حاصل کی گئی‘ لیکن اس تمام دوڑ و دھوپ کا نتیجہ کیا نکلا، یہ راز آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا۔ سید نور احمد اپنی کتاب ''مارشل لاء سے مارشل لاء تک‘‘ میں بتاتے ہیں کہ نواب زادہ اعتزازالدین‘ جن کے پاس لیاقت علی خان قتل کیس کی تفتیش کے متعلق اہم شواہد اور حساس رپورٹیں تھیں، کو وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے طلب کیا۔

ان کا جہاز جہلم کے قریب گر کر تباہ ہو گیا‘ اور نہ صرف جہاز پر سوار مسافر جل مرے بلکہ تمام ثبوت، شواہد اور رپورٹیں بھی رزق خاک ہو گئیں۔ نواب مشتاق احمد گُرمانی‘ جو لیاقت علی خان کی کابینہ میں وزیر برائے امور کشمیر تھے، اب ان کے پاس وزارت داخلہ کا قلم دان تھا۔ ان کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر ہوا‘ جسے زیڈ اے سلہری کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دورانِ سماعت لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ لیاقت علی خان قتل کیس کے سلسلے میں جو تفتیش ہوئی اور عدالتی کمیشن نے جو رپورٹ مرتب کی، اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ رپورٹ چیف سیکرٹری مغربی پاکستان کی دسترس میں ہے‘ اور جلد ہی پیش کر دی جائے گی۔

چند روز بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ رپورٹ غائب ہو چکی ہے‘ اور اس کی تلاش جاری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اصرار جاری رہنے کی صورت میں سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ بھی لاپتہ ہو جائے۔

سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ منصفوں سے استدعا کی جائے کہ کمیشن رپورٹ چھپانے والوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔

سوموٹو لے کر وفاقی حکومت کو حکم دیا جائے کہ ایک ویب سائٹ بنا کر اس پر اب تک بنائے گئے تمام کمیشنز کی رپورٹ جاری کی جائے۔ سانحہ ماڈل ٹائون پر بننے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ جاری کرکے پیاز کی پرتیں ضرور کھولیں مگرحمودالرحمان کمیشن سے ایبٹ آباد کمیشن تک جتنی بھی تحقیقاتی رپورٹس قومی سلامتی کی بوتل سے ''لا پتہ‘‘ ہو چکی ہیں ان سب کو بھی بازیاب کروایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

کسی بھی معاملے پر کمیشن بنانا حکومتوں اور عدالتوں کا استحقاق ہے۔ حکومت کمیشن آن انکوائری ایکٹ 1956ء کے تحت کسی معاملے کی تحقیق اور کھوج لگانے کے لئے کمیشن تشکیل دے سکتی ہے‘ جبکہ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل (3)184 کے تحت کسی معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے عدالتی کمیشن بنانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد انواع و اقسام کے موضوعات پر اب تک جتنے کمیشن بنائے گئے‘ ان کی فہرست بنانا مقصود ہو تو ایک اور کمیشن بنا کر ہی اس عظیم مقصد کا حصول ممکن ہے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!