این اے 120 انتخابات کے بعد کی صورت حال - عمار رشید

پاکستان مسلم لیگ ن کی کارکردگی کے متعلق جو تبصرہ مریم نواز نے سعد رفیق سے بات کرتے ہوئے کیا، وہ حسب حال ہے کہ سعد بھائی! اگر یہی نتائج ہیں تو ہمیں interospection کی ضرورت ہے۔ این اے-120 کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کارکردگی کو مثالی بالکل نہیں کہا جا سکتا۔ انتخابی مہم مظلومیت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف عنصر کو نمایاں کرنے کی کوشش تھی، جس کو پذیرائی نہیں مل سکی۔ اس کی وجہ نہ صرف حکومت میں ہونا تھا بلکہ خود میاں نواز شریف کی منظوری سے نئے وزیر اعظم کا انتخاب بھی ہے کیونکہ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اقتدار میں رہتے ہوئےمظلومیت کا نعرہ تو لگ سکتا ہے لیکن اسے public perception بنانا آسان کام نہیں۔

اس انتخابی مہم میں میاں صاحب خود ہوتے تو شاید ووٹوں میں مزید اضافہ ہوسکتا تھا یا مریم نواز ووٹر کے مزید قریب ہونے کے لیے گھروں میں جاتیں، خاندانوں سے ملتیں، ان کے مسائل سنتیں تو شاید ن لیگ کے ووٹرز کے ساتھ تعلق گہرا ہوتا۔ سب سے حیران کن بات این اے-120 کے مقامی مسائل ہیں، جو ایسی زمینی حقیقت ہیں جن سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔ ایسا حلقہ جسے پارٹی نہ صرف اپنا گڑھ سمجھتی ہے بلکہ میاں صاحب متعدد بار وہاں سے جیت بھی چکے ہیں لیکن وہاں کارکردگی کے حوالے سے ن لیگ کو تسلّی بخش نمبر نہیں دیے جا سکتے۔ ان مسائل کی وجہ سے ن لیگ کا ووٹر ناراض تھا اور اس نے جاندار کمپین کے باوجود توجہ نہیں دی۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مریم نواز کو میاں صاحب کا جانشیں بننے کے لیے ابھی مزید وقت اور محنت کی ضرورت ہے۔

اگلے تین، چار ماہ میں ن لیگ کیا حکمت عملی بناتی ہے، اسی سے صورت حال واضح ہوگی ورنہ 2018ء کے انتخابات ن لیگ کے لیے مشکل الیکشن ثابت ہوں گے اور لاہور میں تحریک انصاف کے ساتھ مقابلہ برابری کی بنیاد پر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   "اِس اشتہار کے تمام کردار فرضی تھے" - اسماعیل احمد

تحریک انصاف کی صورت حال بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ ان کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ انہوں نے 'ڈور ٹو ڈور کمپین' چلائی اور حلقے کے مسائل کو اجاگر کیا۔ الیکشن کے دن بھی ان کی کارکردگی اچھی رہی۔ البتہ دوسری جانب جو چیز کھل کر سامنے آئی، وہ پارٹی کے اندر سخت گروپ بندی ہے۔ مقامی قیادت نے اس الیکشن میں خاص دلچسپی نہ لی اور عمران خان بھی قیادت کو متحرک نہ کرسکے۔ ایک اور چیز جو واضح طور پر محسوس ہوئی وہ نوجوان ووٹر کی پی ٹی آئی سے محبت ہے اور اس سے ووٹنگ کا 'فیملی ٹرینڈ' ٹوٹتا نظر آیا۔ اب یہ کہنا مشکل ہو جائے گا کہ کسی فیملی کا سربراہ جس پارٹی کو سپورٹ کرے گا، ساری خاندان اسی کو ووٹ دے گا۔ اس لیے آئندہ چار ماہ انتہائی اہم ہیں کہ پی ٹی آئی اپنے اندرونی خلفشار میں الجھ جاتی ہے یا آئندہ آنے والے الیکشن کے لیے اپنے منشور کے ساتھ ووٹرز کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

لبیک یارسول اللہ پارٹی، جس کا پہلا الیکشن تھا۔ الیکشن کمپین سے لے کر نتائج تک میڈیا میں کہیں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ شیخ اظہر رضوی ان کے امیدوار تھے اور ممتاز قادری کی تصاویر کے ساتھ انہوں نے الیکشن مہم چلائی۔ میڈیا کی عدم توجہی جو کہ رزلٹ آنے کے بعد بھی جاری ہے ناانصافی ہے اس ٹرینڈ کو زیر بحث آنا چاہیے

یہ ملّی مسلم لیگ کا بھی پہلا الیکشن تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پینافلیکس، بینرز اور کمپین میں سب سے آگے رہے۔ حافظ سعید صاحب تعریف کے مستحق ہیں کہ عسکری شہرت رکھنے والی جماعت کو عقد جمہوریت کے ساتھ خوبصورتی اور کامیابی سے باندھ دیا۔ یہ اس لیے بھی کہ اندرونی حلقوں میں موجودہ جمہوریت کی حمایت اور مخالفت کی بحث جاری تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   لاہور کا انتخابی دنگل - پروفیسر جمیل چودھری

پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں کیا کہا جائے؟ شاید کچھ نہ کہا جائے۔ "آپ اپنے دام میں صیاد آگیا" کے مصداق لگتا ہے آصف زرداری کا نام ہی کافی ہے پارٹی کو ڈبونے کے لیے۔ فیصل میر کی تعریف بنتی ہے کہ بڑی جانفشانی سے انہوں نے پارٹی کو زندہ کرنے کی کوشش کی ۔ اب تو وقت بتائے گا کہ بلاول بھٹو عوامی سیاست کر پائیں گے یا سندھ بھی گنوا بیٹھیں گے ؟

جماعت اسلامی آج کل سب سے زیادہ تنقید کا شکار ہے، حالانکہ 2013ء میں 950 ووٹ لیے اور 2017ء کے ضمنی الیکشن میں 592 ووٹ حاصل کیے۔ اس حلقے میں ان کی کارکردگی ایسی ہی رہی ہے۔ 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں حافظ سلمان بٹ کامیاب ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی ایک بڑی قومی پارٹی ہے اور ایوب خان اور بھٹو دور میں اپوزیشن کا کردار ادا کر چکی ہے لیکن اب اس صورتحال سے کیوں دو چار ہے؟ اس کی وجہ اتحادی سیاست، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف واضح بیانیہ کا فقدان اور پنجاب کی سیاست میں پایا جانے والا مخصوص "ٹو پارٹی سسٹم" رجحان ہے، جس نے پی پی پی کو کہیں زیادہ متاثر کیا ہے۔ جماعت اس شکست کو اہمیت دے کر نئے خطوط پر پالیسیاں بناتی ہے یا نہیں، آنے والے چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گا۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!