بطل ِ جلیل - صلاح الدین فاروقی

وہ نہایت ہی ہوشیار اور معاملہ فہم تھا۔اس کی جرات و بہادری اپنی مثال تھی۔بے باک و جی دار تھا۔اس کا فیصلہ اٹل ہوتا تھا،جس کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔اس کی ایک آواز مجمع کھڑا کردینے کیلیے کافی ہوتی تھی۔اس کا لوہا صرف مکہ نہیں بلکہ اطرافِ عرب میں بھی منوایا جاتا تھا۔زیرک و دانا تو تھا ہی لیکن دور اندیشی بھی ضرب المثل تھی۔ وہ کچھ دنوں سے کافی پریشا ن تھا۔قوم کے ضعیفوں کی حالت اس سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ایک کے بعد ایک ہوکر اس کے ہمنوا اس نئی دعوت کو لبیک کہے جارہے تھے۔اور پھر ایک دن وہ یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ بس بہت ہوگیا۔اب مزیدہماری اقدار و روایات کی پامالی برداشت نہیں کی جائے گی۔اوروہ عزمِ صمیم لے کر نکلتا ہے کہ دار ِ ارقم سے برآمد کرنوں کوتاریک کردیا جائے گا اور فاران کی چوٹیوں سے آنے والی صدائے رستاخیز دبالی جائے گی۔

مگر یہ وہم تھا، افسانہ تھا، خیالات تھے۔اسلام کی سرکوبی کے لیے نکلے والا نہیں جانتا تھا کہ اسے میر کارواںﷺ پہلے ہی خدا سے مانگ چکے ہیں۔’’یا اللہ عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشا م میں سے کسی کے ذریعے اسلام کو عزت دے‘‘

وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنا مقدمہ ہار چکا ہے۔صرف مقدمہ ہی کیا اپنا گھر بھی تو ہار چکا ہے اور اگلے ہی لمحوں اسلام کی سر بلندی کا سامان بننے بارگاہِ رسالت مابﷺ میں اشکوں کے ہار پرو کر نذرانہ عقیدت کردیتے ہیں۔جس کی زبان حال سے احد، احد کی شہادت مکہ کو معطر کردیتے ہیں۔مکہ اپنے جگر گوشے اسلام کی طرف پھینک چکا تھا۔اب اسلام کو پھلنے پھولنے سے روکنے والا کوئی نہ تھا۔

وہ شجیع تھا۔جب چلا تو پھر کہیں نہیں رکا، تھکا اور ہارا نہیں، تھرایا اور ڈگمگایانہیں۔ایک ایک قدم پر استعانت کی۔جب لوگ اسلام کی بات کرتے ہوئے گھبراتے تھے تو آپ ہی تھے کہ علی الاعلان نماز پڑھتے اور پوچھتے ہے ’’ کوئی خطّاب کے بیٹے کو روکنے والا؟‘‘

جسے سرورِ کائناتﷺ نے ہمیشہ اپنے پہلو میں رکھا، یہاں بھی اور وہاں بھی۔جس کی بات کی توثیق فرماتے اور جس کی رائے ہمیشہ وزن رکھتی تھی۔ایمانی جذبوں سے سرشار تھے۔ جو دشمنانِ اسلام کے لیے خوف اور قہر کی علامت تھے۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

اس نے اپنے قائدﷺ سے محبت کی تو حق ادا کردیا۔ان کی زندگی میں بھی اور وصال کے بعد بھی۔

دنیا کو ہدایت کی راہ دکھائی، سرکشوں کو سیدھا کیا، بھٹکے ہوؤں کو آشنا کیا، بے بسوں کی مدد کی، مسکینوں کو سہارا دیا، بھوکوں کو کھلایا، بے گھروں کو ٹھکانہ دیا۔

بہت ہی عظیم تھا۔اتنا عظیم کہ شام، عراق،فارس سے لیکرروم تک ساڑھے 22 لاکھ مربع میل پر اسلام کی حکومت قائم کی اور خدا سے باغی قوتوں کوتلوار کی نوک سے سیدھا کیا۔

’’جس نے فرمادیا تھا کہ فرات کے کنارے کتا بھی مر جائے تو عمر سے اس کا پوچھا جائے گا‘‘

عالم ِ اسلام کے یہ بطلِ جلیل یکم محرم الحرام کو شہادت پاتے ہیں اور سال کے آغاز میں یہ پیغام دے جاتے ہیں

ہر کہ رمزِمصطفیﷺ فہمیدہ است

عشق را در خوفِ مضمر دیدہ است

یہ تھے جلیل القدر صحابی رسولﷺ سیدنا امیر المومنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */