یکم الحرام، شہادت فاروق اعظم ؓ - عبدالباسط ذوالفقار

اسلام کے سب سے بڑے ہیرو فاروق اعظمؓ ہجرت نبوی سے چالیس برس پہلے پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان ددھیال اور ننہیال دونوں طرف سے ایام جاہلیت سے ممتاز چلا آرہا تھا۔ آپ کے جد اعلیٰ عرب کے باہمی تنازعات میں ثالث مقرر ہوتے تھے اور نانا اس درجہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلے سے نبردآزمائی کے لیے جاتے تو فوج کااہتمام ان کے ہاتھ ہوتا تھا۔ حضرت عمرؓ بڑے ہوئے تو آپ میں معاملہ فہمی،تجربہ کاری، بلند حوصلگی، اس درجے کی تھی کہ قریش نے آپ کو سفیر بنا لیا اور جب کبھی کوئی پیچیدگی ہوتی، آپ سفیر بنتے اور اس پیچیدہ مسئلے کو اپنے فہم و تدبر سے حل کر لیتے تھے۔حضرت عمر ؓ کی زندگی کی ستائیسویں بہار تھی جب عرب کے ریگستان میں آفتاب اسلام طلوع ہوااور مکہ کی گھاٹیوں سے توحید کی صدا بلند ہوئی۔ آپ کے لیے یہ آواز نامانوس تھی، اس لیے سخت برہم ہوتے اور جو اسلام لے آتا اس کے دشمن بن جاتے لیکن اسلام کا نشہ ایسے تو نہیں تھا کہ اتر جائے؟ تمام تر سختیوں کے باوجود کسی کو بھی اسلام سے بددل نہ کر سکے۔

قریش کے دو اشخاص ابوجہل و عمر بن خطاب ؓ اسلام کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے۔آپ ﷺ نے دعا فرمائی: یارب العالمین!اسلام کو عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابو جہل) سے معزز کر۔ یہ دولت فاروق اعظم ؓ کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی، سو اسلام کا سب سے بڑا دشمن اسلام کاسب سے بڑا جاں نثار بن گیا۔ مؤرخین حضرت عمر ؓ کے مسلمان ہونے کا زمانہ 7 نبوی مقرر کرتے اور لکھتے ہیں کہ آپ چالیسویں مسلمان تھے۔

حضرت عمر ؓ کے مسلمان ہوجانے سے اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس وقت تک کم و بیش چالیس آدمی مسلمان ہو چکے تھے، لیکن نہایت بے بسی و مجبوری کے عالم میں تھے۔ اعلانیہ فرائض کی ادائیگی تو دور کی بات اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے دفعتاً حالت بدل گئی، انہوں نے اعلانیہ اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ اتنا ہی نہیں مشرکین کو جمع کر کے آپؓ نے اسلا م لانے کا اعلان کیا۔ مشرکین نہایت برانگیختہ ہوئے، آپ نے ثابت قدمی سے مشرکین کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کی۔ (ابن سعد جزو 3) اور یہی وہ پہلا موقع تھا حق و باطل کا، جب آپؓ کو دربار رسالت ﷺ سے فاروق کا لقب مرحمت ہوا۔

عمر فاروق ؓ فطرتاً ذہین، طباع اور صاحب الرائے تھے۔ آپ کی بہت سی آراء مذہبی احکام بن گئیں۔ اذان کا طریقہ ان کی رائے کے مطابق ہوا، اسیران بدر کے متعلق جو رائے آپ نے دی، وحی الہٰی نے اس کی تائید کی۔ شراب کی حرمت، ازدواج مطہرات ؓ کے پردہ اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانے کے متعلق حضرت عمرؓ نے نزول وحی سے پہلے حضور ﷺکو رائے دے دی تھی۔(مسند دارمی)

حضور نبی کریم ﷺ کی بعثت کااصل مقصد دنیا کو پسندیدہ و برگزیدہ اخلاق کی تعلیم دینا تھا۔ صحابہ اکرام ؓ کو براہ راست اس چشمہ سے سیرابی کا موقع ملا، اس مقدس جماعت کا ہر ہر فرد اسلامی و نبوی اخلاق کا مجسم نمونہ تھا، لیکن فاروق اعظم ؓ کو بارگاہ رسالت ﷺ میں جو قرب حاصل تھا اس اعتبار سے آپ محاسن و مجامد کی مجسم تصویر تھے۔ ان کے آئینہ اخلاق میں انقطاع الی اللہ، حفظ اللسان، راست گوئی، حق پرستی، تواضع اورسادگی کا عکس سب سے نمایاں تھا۔ آپ کی شخصیت میں یہ اوصاف ایسے راسخ تھے کہ جو بھی آپ کی صحبت میں رہتاوہ اس سے متاثر ہو کر اسی قالب میں ڈھلتا چلا جاتا۔مسور بن مخزومؓ کا بیان ہے: "ہم اس غرض سے فاروق اعظم ؓ کے ساتھ رہتے تھے کہ ان سے پرہیزگاری سیکھیں۔"

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد عمر فاروقؓ مسند آرائے خلافت ہوئے۔ اسلام میں اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد سے خلافت کا سلسلہ شروع ہوا اور قلیل زمانہ میں بڑے بڑے کام انجام پائے، لیکن منظم حکومت کا آغاز عمر فاروقؓ کے عہد سے ہوا۔آپ کے دس سالہ دور خلافت میں روم و ایران کی عظیم الشان حکومتوں کا تختہ الٹا، آپ نے قیصر و کسریٰ کی وسیع سلطنتوں کو اسلام کے ممالک محروسہ میں شامل کیا۔آپ ؓ کی خلافت جمہوری طرز حکومت سے مشابہ تھی، یعنی تمام ملکی و قومی مسائل مجلس شوریٰ میں پیش ہوتے، بحث مباحثہ کے بعد اتفاق رائے یا کثرت رائے سے تمام امور کا فیصلہ کرتے تھے۔اس کے علاوہ ایک مجلس عام اور بھی تھی جس میں مہاجرین و انصار کے علاوہ تمام قبائل کے سردار شریک ہوتے تھے۔یہ مجلس نہایت اہم امور پیش آنے پر طلب کی جاتی تھی۔ مجلس شوریٰ کے انعقاد کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ منادی اعلان کرتااور لوگ مسجد میں جمع ہو جاتے، فاروق اعظم ؓ دو رکعت نماز پڑھ کر مسئلہ بحث کے متعلق مفصل خطبہ دیتے، پھر اس مسئلہ کے متعلق رائے دریافت کی جاتی۔

آپ ؓ کے دورخلافت میں ہر شخص کو اپنے حقوق کی حفاظت اور اظہار خیال کا موقع دیا جاتا، حاکم کے اختیارات محدود تھے اور ہرہر شخص کو حاکم پر نکتہ چینی کا حق حاصل تھا۔ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ آپ نے اپنے عہد خلافت میں خلافت اسلامیہ کو اس درجہ منظم و باقاعدہ بنایا کہ حکومت کی ہر ہر شاخ کو مستقل محکمہ کی صورت میں قائم کیا۔سب سے پہلا کام نظام حکومت میں ضلعوں کی تقسیم کا ہے۔ اسلام میں سب سے پہلے عمر ؓ نے تمام مفتوحہ علاقوں کو آٹھ صوبوں پر تقسیم کیا۔ ہر ہر صوبہ میں عہدیداروں کا تعین کیا، بڑے عہدے داروں کا انتخاب عموماً مجلس شوریٰ میں ہوتا تھا۔ملکی نظم و نسق کے ساتھ تعمیراتی کام بھی صوبوں کے حکام کی نگرانی میں جاری رہا۔ رفاہ عامہ کے لیے پل، سڑکیں، مسجدیں،دفاعی مضبوطی کے لیے فوجی چھاؤنیاں، قلعے،سرنگیں، مسافروں کے لیے مسافرخانے، بیت المال کے لیے مستقل خزانہ اور جدا گانہ افسر مقرر ہوئے، بیت المال کے لیے مستقل عمارت قائم ہوئی۔ ترقی زراعت کے لیے نہریں کھدوائی گئیں۔فوجی سسٹم کو مضبوط کر کے نئی بنیادوں پر استوار کیا، مختلف عہدے داروں کا تقرر کیا۔ مذہبی خدمات کا سلسلہ دراز ہوا۔ حضرت عمرؓ کو مذہبی تعلیم و تلقین اور شعائر اسلام کی ترویج کا انہماک تھا۔ آپ ؓ نے اخلاق کی قوت سے اسلام کی دعوت دی۔

آپ کی خلافت کا سب سے نمایاں وصف عدل وانصاف ہے۔ شاہ و گدا، شریف و رذیل، عزیز و بیگانہ، سب کے لیے ایک ہی قانون تھااور انصاف کا یہ دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھا بلکہ اس کا دیوان مسلمان، عیسائی، یہودی سب کے لیے یکساں تھا۔ آپؓ کے دور خلافت میں امیر و غریب، مفلس و مالدار سب ایک ہی حال میں نظر آتے تھے۔حضرت عمرؓکا مقولہ ہے کہ:"میں اگر عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور لوگ مصیبت میں و افلاس میں رہیں، مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔" خلافت کی حیثیت سے آپ کے جاہ و جلال کا سکہ تما م دنیا پر بیٹھا ہوا تھا۔مگر مساوات کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کے سفراء آتے تو انہیں پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ شاہ کون ہے؟ زہد و قناعت، تواضع، خوف خدا کے پہاڑ تھے۔ پیوند لگے کپڑے پہنے کاندھے پر مشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے، مجاہدین کے گھروں کا سوداسلف بازار سے خرید لاتے، تھک جاتے تو زمین پر لیٹ جاتے اور رعب و دبدبہ کا یہ عالم تھا کہ فقط نام سے ہی قیصر کسریٰ کے ایوان میں لرزہ طاری ہوجاتا۔

مدینہ منورہ کے میں ایک پارسی غلام تھا، "ابو لؤ لؤ فیروز" اس نے آکر اپنے آقا حضرت مغیرہ ؓ کے
بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی، شکایت چوں کہ بے جا تھی۔ آپ نے فرمایا: یہ رقم کچھ زیادہ نہیں ہے۔ ابولؤلؤ دل میں سخت ناراض ہوااور خنجر لے کر گھات لگا کر بیٹھ گیا اور نماز فجر میں اچانک حملہ کر کے متواتر چھ وار کیے، آپؓ صدمہ سے گر پڑے، عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے نماز مکمل کی۔ یہ ایسا زخم تھا کہ آپ جانبر نہ ہوسکے۔ لوگوں کے اصرار پر چھ اشخاص کو منصب خلافت کے لیے نامزد فرمایا،اس سے فارغ ہو کرحضرت عائشہؓ سے حضور اقدس ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت لی۔ اس کے بعد اہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی، اور اسلام کے سب سے بڑے ہیرو ہر قسم کی ضروری وصیتوں کے بعد تین دن بیمار رہ کر یکم محرم الحرام، ہفتہ کے دن،24ھ میں دنیا سے پردہ فرما گئے اور اپنے محبوب آقاکے پہلو میں میٹھی نیند سورہے۔نماز جنازہ حضرت صہیب ؓ نے پڑھائی۔ حضرت عبد الرحمٰنؓ، حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، طلحہؓ،سعد بن ابی وقاصؓ،عبد الرحمٰن بن عوفؓ، نے قبر میں اتارااور وہ آفتاب عالم تاب خاک میں چھپ گیا۔ رضی اللہ عنہم ورضو عنہ!

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */