سفرِ حرمین، اِک سفر جو زندگی کا حاصل ٹھہرا (2) - راشد عباس

اب اصل مقصد یعنی عمرہ کی ادائیگی کا قصد کیا۔ حجرِاسود کے قریب آئے تو اتنا رش اور دھکم پیل کہ بس کیا بتاؤں؟ دل میں افسوس بھی ہوا مگر طواف کی نیت کی اور چلنا شروع۔ دماغ ابھی بھی سُن سا کہ "لبیک اللھم لبیک" ادھر بھی جاری۔ پاس سے سےگزرتے ایک زائر نے توجہ دلائی تو دل میں شرمندہ ہوا کہ یہ ورد تو بیت اللہ پہنچنے تک کیا جاتا ہے۔ بہرحال، دل میں دوسری دعائیں ذکر اذکار جو کچھ یاد تھا، کرتا رہا۔ جب طواف کا پہلا چکر مکمل کر کے حجرِاسود کے سامنے آیا تو اس کو کوچومنے کے لیے قریب ہونے کی کوشش شروع کردی۔ تھوڑا قریب بھی ہوا اور مجھے محسوس ہوا کہ میری کوشش کامیاب رہے گی مگر ایک ایسا دھکا لگا کہ میں پھر پوائنٹ زیرو پر پہنچ گیا ۔ حجراسود کا بوسہ سنت ہے اس لیے کوشش مجھ پر فرض تھی۔ اب میں پیچھے ہٹ گیا کیونکہ خانہ خدا میں مخلوق خدا سے دھکم پیل میرے ضمیر کو توگوارا نہ تھی۔ چنانچہ حجراسود کو اشارہ سے بوسہ دیا اور ہر چکر کے بعد ساتوں بار اشارہ سے ہی کام چلایا۔

طواف کے دوران یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر چیز بلکہ پوری دنیا اس نقطہ کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ ایک سعادت البتہ یونہی مجھے مل گئی اور اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ کتنی بڑی سعادت ہے۔ ہوا یوں کہ طواف کے دوران کبھی خانہ کعبہ کے قریب آ جاتے ہیں کبھی دور۔ کبھی اتنے قریب کہ حطیم، کعبے کے بالکل ساتھ واقع چار پانچ فٹ اونچی دیوار، کی دیوار پر ہاتھ پھیرتے چل رہے ہیں، کبھی دور سب سے باہر کی طرف چل رہے ہیں۔ لوگ ہیں کہ کچھ دروازہ کی چوکھٹ تھامے رو رہے ہیں تو کوئی غلاف تھامے دیوار سے لپٹ کر۔ کچھ خوش نصیب جنہیں حطیم میں جگہ مل گئی وہاں نوافل ادا کر رہے ہیں۔ اب ایک چکر میں (شاید چوتھا یا پانچواں ) میں دیوار کعبہ کے قریب چل رہا ہوں کیا دیکھتا ہوں کہ جنوب مغربی کونے کو ایک شخص چوم رہا ہے، رش ادھر بھی تھا مگر حجراسود سے کم۔ ادھر میں نے ارادہ کیا اور مجھے نہیں یاد میں پہنچا کیسے؟ بس اتنا یاد ہے کہ جھکا ہوں اور رکنِ یمانی ( کعبہ کے اس کونے کا رُخ یمن کی طرف ہے اس لیےرکن یمانی کہا جاتا ہے) کو چوم رہا ہوں ۔ نہ مجھے اس وقت یہ علم تھا کہ یہ رکن یمانی ہے اور نہ اس روایت کا پتہ تھا کہ حضرت علیؓ کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کے لیے یہی کونہ شق ہوا تھا اور یہاں سے وہ کعبہ میں داخل ہوئی تھیں ۔ اس کرم نوازی پر مَیں سوہنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔

مختصر یہ کہ طواف مکمل کیا نماز ظہر اداکی سعی جمرات ، کوہ صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر، مکمل کی۔ اس دوران راستہ میں لگے کولرز سے ہر چکرمیں ڈھیروں آب زم زم پیا۔ صفا اور مروہ پر دعائیں مانگیں، باہر نکل کر ٹنڈیں کروائیں، غسل کر کے احرام کی جگہ وہی ہوا و ہوس کے لباس پہن لیے۔ پھر شام تک گاہے بگاہے عبادت بھی ہوتی رہی اور زیارتِ کعبہ بھی۔ جسم تھکن سے چُور مگر روحیں ہشاش بشاش!

رات کو مقررہ جگہ سے بس پر سوار ہوئے اور چلے کوچہ جاناں کو، جی ہاں مدینہ منورہ کو۔ تھکاوٹ اتنی، یا پھر سکون اتنا ، کہ پتہ نہیں چلا کب مکہ کی حدود سے نکلے اور کب مدینہ شریف کے مضافات میں پہنچے؟ مجال ہے جو اک لمحہ کے لیے بھی آنکھ کھلی ہو۔ الغرض روداد سفر وہاں پہنچ گئی ہے جہاں سے شروع کی تھی ۔ اچانک آنکھ کھلنے کے بعد چند منٹ مسجد نبوی کا نظاره کیا، بس میدانی علاقہ میں پہنچی تو بیچ میں پردہ حائل ہو گیا۔ مگر بے قراری تھی کہ برداشت سے باہر! جی چاہ رہا تھا پلک جھپکنے سے پہلے مسجدنبوی پہنچ جاؤں۔ بڑی مشکل سے یہ وقت، تقریباً آدھا گھنٹہ، گزارا۔ بس والے نے مسجدنبوی سے تھوڑا شمال کی جانب اتارا۔ عربی میں پتہ اچھی طرح سمجھایا اور کہا کہ نماز جمعہ کے بعد اسی جگہ آ جانا۔ مگر ادھر ہوش کس کو تھا کہ پتہ سمجھتا ؟ ہم بس سے اتر کر سر جھکائے باقی مسافروں کے ساتھ چلے جا رہے ہیں کہ منزل تو سب کی ایک ہی تھی۔ راستے میں صرف ایک بورڈ پر نظر پڑی جس پر ”شارع ابوذر غفاری“ درج تھا ۔ جی ہاں! وہی ابوذر جن کے بارے اللہ کے رسول محمدﷺ نے فرمایا ”جس نے عیسٰی کا فقر دیکھنا ہو، ابوذر کو دیکھ لے“ سبحان اللہ! کیا لوگ تھے اصحابِ رسول ۔

بہرحال، ہم مسجدنبوی میں داخل ہوئے وضو کرنے کے بعد صحن میں پہنچے تو اک نئی مشکل۔ سب لوگ جوتے پہنے مزے سےچل رہے ہیں۔ یہ مسئلہ مسجدالحرام کے بیرونی صحن میں بھی تھا مگر ادھر دھیان نہیں گیا۔ ادھر تو جی چاہا کہ ان کے سروں پر تو مار نہیں سکتا، اپنے سر پر ہی مار لوں۔ مگر میں ٹھہرا ازلی کمزور ایمان والا، دوسروں کی تقلید میں مرکزی عمارت کے دروازے پر جا کر ہی جوتے اتارے۔ دروازہ پر بھاری بھر کم کالے رنگ کا سعودی شاید جوتوں کی حفاظت کے لیے ہی بیٹھا تھا۔ دل ہی دل میں اس پر رشک کرتے مسجد میں داخل ہو گئے۔ درودوسلام کا ورد کرتے تھوڑا آگے جا کر وہاں پر ایک بنگالی ملازم ، اللہ پاک ہمیشہ اس پر رحم فرمائے، سے روضہ رسول کا پوچھا تو اس نے ہماری رہنمائی کی۔ ہم روضہ مبارک سے جتنے قریب ہو سکتے تھے اتنے نزدیک جاکر بیٹھ گئے۔ سبحان اللہ روضہ مبارک کی سبز و سنہری جالیاں سامنے ہیں اور ہم ادب سےسر جھکائے درودوسلام پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے قریب ہی بائیں جانب روضہ مبارک کی شمالی دیوار کے ساتھ اک چبوترا سا بنا ہوا ہے جس پر لوگ نوافل ادا کررہے ہیں۔ وہاں سے آنے کے بعد پتہ چلا کہ یہی تو مشہورزمانہ صفہ کا چبوترہ ہے۔ ہمارے سامنے روضہ مبارک کے مغربی جانب ریاض الجنة ہے وہاں بھی نوافل ادا کیے جا رہے ہیں لوگ بے صبری سے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم بدھو اسی طرح جھکی نظریں درودوسلام اور نظریں جھکائے ہی کن اکھیوں سے گاہے بگاہے روضے کی جالی کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسروں کا پتہ نہیں، میں جتنی دیر تک مسجدنبوی میں رہا، نہ نگاه اوپر اٹھائی، نہ یہ دیکھا چھت کتنی اونچی یا خوبصورت ہے، ستونوں پر سونا چڑھا ہے یا چاندی، بس وہی درودوسلام۔

اتنے میں فجر کی اذان شروع ہو گئی، حضرت بلالؓ یاد آئے۔ مکہ مکرمہ میں بھی اذان سننے کا الگ ہی مزہ تھا مگر جو سرور یہاں آیا کہ بس کیا بتاؤں؟ نماز اداکی، دعا کے بعد باہر نکلے تو ایک اور سعادت منتظر تھی ، شاید زندگی کی سب سے بڑی سعادت ۔ مسجدنبوی کی مرکزی عمارت سے باہر نکلنے کے لیے یوں تو بہت سے راستے ہیں مگر آمدورفت کے لیے سب سے زیادہ روضہ مبارک سے ملحق جنوب کا دروازہ استعمال ہوتاہے۔ عاشقان درودوسلام کا نذرانہ پیش کرتے یہاں سے گزرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے چونکہ روضہ مبارک کے قریب ہی تھوڑا شمال مغرب کی جانب نماز ادا کی تھی اور جنوب مشرقی دروازے کی طرف رش بہت زیادہ تھا اس لیے چند لوگ جو مشرقی طرف جا رہے تھے۔ ہم بھی ان کے پیچھے چل پڑے صفہ کا چبوتره پار کیاہی تھا کہ دائیں جانب نظر پڑی۔ کیا دیکھتے ہیں چار پانچ فٹ چوڑی گلی سی بنی ہوئی ہے جو سامنے سے بند ہے اور پانچ سات بندے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ ہمارے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے اور ادھر ہی بریک لگ گیا۔ ایک دو منٹ انتظار کے بعد خود کو روضہ رسولؐ کے دروازے کے سامنے کھڑے پایا۔ اب جو مشکل ہوئی وہ سب مشکلوں سے سےسوا تھی، دل کر رہا تھا کہ ڈیڑھ دو فٹ اونچی دیوار پھلانگوں اور دروازے سے لپٹ جاؤں اور یوں دھاڑیں مار مار کر روؤں کہ آنسو بن کر میرا دل دماغ بلکہ سارا جسم ہی پانی کی طرح بہہ جائے، مگر جائے ادب تھی اور اس سے بھی زیادہ سامنے کھڑے نگران اور اس کے ساتھی شرطے کے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کا ڈر تھا کہ یہاں بھی درودوسلام پر اکتفا کیا، مگر دل دھاڑیں مار کر ہی رو رہا تھا کیونکہ اس پر نہ میرا اختیار تھا، نہ ہی شرطہ کا۔ آنکھیں نم تھیں۔ نگران کے اشارے پر الوداعی سلام عرض کر کے باہر نکلے۔ دروازے پر نگاه ڈالی تو بابِ جبریل لکھا تھا۔

واپسی پر جب دوستوں کو باب جبریل والی بات بتائی تو کسی نے یقین نہ کیا اور کہا کہ تمہیں وہم ہوا ہوگا یہ دروازہ کسی خاص موقع پر ہی کھولا جاتا ہے۔ شاید وہم ہی ہوا ہو، اس دن ہوش ٹھکانے کس کافر کے تھے؟ باہر نکل کر جنت البقیع گئے۔ شاید ہی دنیا میں ایک ہی قبرستان میں اتنی عظیم اور بلند مرتبہ ہستیاں مدفون ہوں۔ خاتون جنت جگرگوشہ رسول فاطمة الزہرہؓ، فرزند رسول ابراہیمؓ، نواسہ رسول امام حسنؓ، خلیفہ رسول عثمان غنیؓ، ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور دوسری امہات المومنین غرضیکہ سب کے نام تو لکھے نہیں جا سکتے مگر ایک سے ایک عظیم شخصیت، مگر افسوس کسی کی قبر کا نشان نہیں۔ اندازے سے ہی جن قبروں کے گرد اینٹیں پتھر وغیرہ رکھے تھے، ان پر خصوصی دعا کی، سب اہل بقیع کے لیے دعا کی اور ان کے طفیل اپنے لیے دعا کی اور باہر آ گئے۔ کزن عمران اسلم جو مدینہ میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں، کو پہلے ہی اطلاع کر دی تھی۔ وہ باہر انتظار کر رہے تھے۔ ان کی رہائش گاہ پر ناشتہ کیا۔ ناشتے کے بعد جبل احد اور مسجد قُبا کی زیارت کا پروگرام تھا لیکن ناشتے کے بعد ایسی نیند آئی کہ نماز جمعہ پر ہی آنکھ کھلی۔ نماز مسجد نبوی میں ادا کی، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں الوداع سلام کیا اور واپسی کی راہ لی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com