کتاب "تحریک اور کارکن" پر تبصرہ - فیصل اقبال

کسی بھی میدان میں نمائندہ کتاب کا انتخاب کرنا بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ آج کی دنیا میں ہر ایک میدان کے حوالے سے لاتعداد کتب کا اضافہ ہوچکا ہے اور تحقیق وتخریج یا تحکیم کے نئے انداز نے کتابوں کی حسن ترتیب اور مواد میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی مشکل کام ہے کہ آپ کسی ایک کتاب کو کسی میدان میں نمائندہ کتاب کا درجہ عطا کرے اور پھر مزاج، اپیل اور پسند بھی کتابوں کے قارئین کے حساب سے مختلف زمروں میں تقسیم کردیتی ہے۔

قرآنی علوم ہوں یا سیرت کاعلم، علم حدیث ہو یا علمِ فقہ، علم معیشت ہویاعلمِ معاشرت، مختلف تحاریک کے جائزہ کا علم ہو یا انفرادی تربیت کا علم، ہر ایک معاملے میں مختلف مکاتب فکر کے علماءاور صلحا نے بہت ہی قیمتی ذخیرہ تیار کر رکھا ہے۔ جس طرح باقی میدانوں میں کسی ایک کتاب کا انتخاب بہت ہی مشکل ہے۔ اسی طرح تحریکی فکر میں بھی کسی ایک نمائندہ کتاب کا انتخاب کرنا جوئے شیر لانے کا کام ہے۔ حسن البناءؒ سے لے کر سید قطبؒ شہید تک،سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے علامہ یوسف القرضاوی تک، پروفیسر خورشید احمدسے مولانا سید جلال الدین عمری تک، علامہ ابن تیمیہ سے ڈاکٹر علامہ اقبال تک تحریکی لٹریچر کا ایک وسیع ذخیرہ جمع ہے۔ تحریکی لٹریچر میں نمائندہ کتاب کے حوالے سے اگر چہ راقم نے بہت کوشش کی کہ کسی ایک کتاب کا انتخاب کیا جائے، مگر مجھے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال تحریکی لٹریچر میں ایک نمائندہ کتاب جو بالخصوص تحریک اور کارکن کے درمیان ربط وتعلق، فکری بنیادیں، دعوتی احساسات، مقصد ومسلک، اخلاقی بنیادیں وغیرہ پر سیر حاصل بحث کرتی ہے، وہ علامہ سید مودودیؒ کی شاہکار کتاب” تحریک اور کارکن “ہے۔

کتاب تحریک اور کارکن مولانا محترم کی ان تقریروں اور تحریروں پر مشتمل ہے جو مختلف مواقع پر اور مختلف مراحل میں مولانا نے اسلامی تحریک کے کارکنوں کے سامنے پیش کی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں مرحوم مولانا خلیل احمد حامدی کتاب کے پیش لفظ میں یوں رقمطراز ہیں:”مولانا سید مودودیؒ کے جن افکار کا مجموعہ آج ہم قارئینِ کرام کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ اسے آج سے دس بارہ سال پیشتر ہم نے عربی زبان میں تذکرہ دعاة الاسلام کے نام سے بیروت سے شائع کیا تھا۔ آج تک اس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں اور اسے اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی ہے کہ عربی کے علاوہ ترکی اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم چھپ رہے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکوں نے اسے اپنے تربیتی نصاب میں شامل کر رکھا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں ایک عرب دوست نے ان الفاظ میں اپنے تاثر کا اظہار کیا ہے کہ ”اس کتاب نے اکثر نوجوانوں کی نیندیں اُڑادی ہے“کتاب تحریک اور کارکن پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ ۱) دعوت اسلامی کی فکری بنیادیں۔ ۲) دعوت اسلامی کی اخلاقی بنیادیں۔ ۳) عملی خاکہ۔ ۴) تحریک اسلامی کے علم برداروں کی لازمی خصوصیات۔ ۵) اسلامی انقلاب کے لےے مطلوبہ اوصاف۔ اور اس کے بعد ہر ایک باب میں ذیلی عنوانات کے تحت بہت ہی جامع اور ٹھوس رہنمائی کی گئی ہے۔ اس طرح یہ کتاب فکری، علمی اور عملی تینوں پہلوﺅں کا احاطہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انفرادی اور اجتماعی معاملات میں بہت ہی بہترین گائیڈ بک کا کام دیتی ہے۔ ”دعوت اسلامی کی فکری بنیادیں“ باب میں دعوت اسلامی کی اساسات، دعوت اسلامی کے تین نکات اور جماعت اسلامی کا مقصد اور مسلک پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ ”دعوت اسلامی کی اخلاقی بنیادیں“ باب میں بنیادی انسانی اخلاقیات، اسلامی اخلاقیات اور امامت کے باب میں اللہ کی سنت پرسیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ باب سوم میں عملی خاکہ کے ذیلی عنوانات میں ہمارا طریقہ کار، اس کی حکمتیں اور فائدے، ہمارا طریقہ¿ تربیت اور لائحہ عمل کے تحت رہنمائی کی گئی ہے۔ باب چہارم میں تحریک اسلامی کے علم برداروں کے لیے لازمی لائحہ عمل کے تحت رہنمائی کی گئی ہے۔ باب چہارم ہی میں تحریک اسلامی کے علمبرداروں کی لازمی خصوصیات کو یوں شمار کیا گیا ہے: صالح گروہ کے لیے کم ازکم ضروری صفات، تحریک اسلامی سے وابستگی کا معیار، کارکنوں کا اصل سرمایہ اور راہ حق کے لیے ضروری توشہ۔ کتاب کے آخری باب میں انفرادی اوصاف، اجتماعی اوصاف، تکمیلی اوصاف، وہ عیوب جو ہر بھلائی کی بیخ کنی کردےتے ہیں اور وہ نقائص، جن کی تاثیر کام کو بگاڑ دیتی ہے پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے من جملہ عنوانات اور ذیلی عنوانات ہی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب تحریکی لٹریچر میں کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ کتاب ”تحریک اور کارکن“ کی انفرادیت و افادیت کے حوالے سے ہم چند نمونے پیش کرتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   مقبوضہ جامعہ پنجاب - آصف محمود

جماعت اسلامی کا مقصد کے تحت لکھتے ہیں:

”انسانی زندگی کے پورے نظام کو اس کے تمام شعبوں،فکری، عقیدہ وخیال، مذہب واخلاق وسیرت وکردار، تعلیم وتربیت، تہذیب وثقافت، تمدن ومعاشرت، معیشت وسیاست، قانون وعدالت، صلح وجنگ اور بین الاقوامی تعلقات سمیت خدا کی بندگی اور انبیاءعلیہم السلام کی ہدایت پر قائم کیا جائے“۔

”ہمارا تصور دین“ کے تحت لکھتے ہیں: ”دین حق“ اور ”اقامت دین“ کے تصور میں بھی ہمارا اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان اختلاف ہے۔ ہم دین کو محض پوجا پاٹ اور چند مخصوص مذہبی عقائد ورسوم کا مجموعہ نہیں سمجھتے۔ بلکہ ہمارے نزدیک یہ لفظ طریق زندگی اور نظام حیات کا ہم معنی ہے اور اس کا دائرہ انسانی زندگی کے سارے پہلوﺅں اور تمام شعبوں پر حاوی ہے۔“

تقویٰ کے متعلق ایک جگہ لکھتے ہے:

حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو، عبدیت کا شعور ہو، خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری وجواب دہی کا احساس ہو اور اس بات کا زندہ ادراک موجود ہوکہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے“۔ ”طریق دعوت“ کے متعلق مولانا مرحوم ایک جگہ رقمطراز ہیں: ” اس تبلیغ کے سلسلے میں ہم نے وہی طریق کار اپنے کارکنوں کو سکھانے کی کوشش کی ہے جو قرآن مجید میں تعلیم فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ حکمت وموعظہ حسنہ کے ساتھ خدا کے راستے کی طرف دعوت دین، تدریج اور فطری تربیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے لوگوں کے سامنے دین کے اولین بنیادی اصولوں کو اور پھر رفتہ رفتہ ان کے مقتضیات اور لوازم کو پیش کریں۔ کسی کو اس کی قوت ِہضم سے بڑھ کر خوراک دےنے کی کوشش نہ کریں۔ فروغ کو اصول پر اور جزئیات کو کلیات پر مقدم نہ کریں۔“

کتاب میں تطہیر افکار وتعمیر افکار، صالح افراد کی تنظیم وتربیت، اصلاح معاشرہ اور نظام حکومت کی اصلاح کو لائحہ عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو جامع ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے سبھی شعبہ جات پر محیط ہے۔ انفرادی اوصاف میں اسلام کا صحیح فہم، اسلام پر پختہ ایمان، قول وعمل میں مطابقت اور دین بحیثیت مقصد جیسی چیزوں کو شامل کیا گیا ہے اور اجتماعی اوصاف میں اخوت ومحبت، باہمی مشاورت، نظم وضبط اور تنقید بغرضِ اصلاح کو لازمی قراردیا گیا ہے۔ آخر پر کتاب میں نقائص پر بات کی گئی ہے اور ان نقائض کی نشاندہی کچھ یوں کی گئی ہے: نفسیات، مزاج کی بے اعتدالی، تنگ دلی اور ضعفِ ارادہ۔ ١٨٨ صفحات کی یہ کتاب اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے تحریکی لٹریچر میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ جس کا اندازہ اوپر دیے گئے تفصیلات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ کتاب کو ہندوستان میں جماعت اسلامی ہند کے اشاعتی ادارے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی نے اعلیٰ طباعت اور معیار کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب پروف کی غلطیوں سے پاک ہے اور خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ تحریکی لٹریچر میں نمائندہ کتاب کی حیثیت سے ہر رکن اور کارکن کے لیے کتاب کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ تبھی تو پاکستان سے لے کر بنگلادیش تک، بھارت سے لے کر کشمیر تک، تحریک اسلامی نے اس کتاب کو ارکان ورفقاءکے لیے نصاب میں شامل کرلیا ہے۔ عام لوگوں کے لیے بھی تحریک اسلامی کو سمجھنے اور طریقہ کار کو جاننے کے لیے یہ کتاب ایک سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ان کے مطالعہ کے لیے بھی ایک قیمتی دستاویز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سمجھ عطا کرے اور کتاب کی بھی پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔

Comments

فیصل اقبال

فیصل اقبال

فیصل اقبال سری نگر سے ہیں۔ ٹورزم منیجمنٹ میں ایم فل کیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر کے سابق ناظم اعلی ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں