چرسیوں کے ساتھ ایک سفر - عبیداللہ کیہر

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ماہنامہ رابطہ کے لیے پاکستان کے شہروں اور سیاحتی مقامات پر تعارفی مضامین لکھتا تھا۔ ان آرٹیکلز کے لیے فوٹو گرافی بھی میں خود ہی کرتا تھا۔ 1989ء کے جون میں مجھے چترال کی وادیٔ کیلاش پر مضمون لکھنے کا کام ملا۔ اس وقت میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ میرے کلاس فیلو باسط نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی اور ہم دونوں پہلے کراچی سے راولپنڈی پہنچے اور پھر یہاں سے ایک ویگن میں نوشہرہ، مردان اور مالا کنڈ سے ہوتے ہوئے دِیر پہنچ گئے۔ اس وقت دیر سے چترال جانے کے لیے جیپ لینا پڑتی تھی جو بلند وبالادرّہ لواری کے لاتعداد خطرناک موڑ عبور کرکے پورے دن کے سفر کے بعد چترال پہنچا تی تھی۔ یہ جیپیں کیا تھیں پورے پورے ٹرک تھے۔ ایک ایک جیپ پر بے تحاشا سامان کے ساتھ پندرہ، سولہ مسافر سوار ہوتے تھے، بلکہ سوار کیا ہوتے تھے اس کے مختلف ڈنڈوں کنڈوں میں لٹک کر جھولے جھٹکے کھاتے ہوئے یہ سفر طے کرتے تھے۔ ہمیں بھی اسی طرح کی ایک جیپ میں لٹک کر سفر کرنا پڑا۔ چترال پہنچ کر ہم ایک رات شہر میں رکے اور اگلے دن پھر ایک جیپ ہی کے ذریعے کیلاش کی سب سے بڑی وادی ’’بمبورت‘‘ پہنچ گئے۔

تین دن گھومنے پھرنے اور فوٹو گرافی کرنے کے بعد آج یہاں ہمارا آخری دن تھا۔ صبح کا وقت تھا اور ہم اپنے ہوٹل میں بیٹھے چائے پراٹھے کا ناشتہ کر رہے تھے۔ ہماری ٹیبل پر ناشتے کے لوازمات کے ساتھ میرا کیمرا بھی رکھا تھا جس کے زوم لینز کی لمبی تھوتھنی اسے نمایاں کر رہی تھی۔ قریب کی ایک ٹیبل پر دو اور نوجوان بھی بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اچانک ان میں سے ایک اٹھ کر ہماری طرف آیا اور میرے کیمرے کو غور سے دیکھنے لگا۔

’’کیمرا تو بہت اچھا ہے۔ ‘‘ وہ بولا ’’آپ شوقیہ فوٹو گرافی کرتے ہیں یا پروفیشنل؟‘‘

’’فوٹو گرافی تو شوقیہ ہی کرتا ہوں البتہ یہ تصویریں میرے آرٹیکلز کے ساتھ شائع ہو جاتی ہیں۔ ‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’کہاں لکھتے ہیں آپ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’میرا نام عبیداللّٰہ کیہر ہے۔ ‘‘ میں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ ’’ میں رابطہ میں لکھتا ہوں۔ ‘‘

اس نے گرمجوشی سے میرا ہاتھ دبایا۔

’’اچھا تو عبیداللّٰہ کیہرآپ ہیں۔ میں نے آپ کے آرٹیکل پڑھے ہیں۔ ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔

اس کا نام ارشد تھا اور اس کا ساتھی ذوالفقار تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لاہور میں رہتے ہیں اور ان کے والدین کے وہاں بڑے بڑے کاروبار ہیں۔ ان کے پاس اپنی ٹویوٹا ڈبل کیبن پک اپ تھی جس میں وہ خود ڈرائیو کرتے ہوئے گھوم پھر رہے تھے۔

’’آپ یہاں کتنے دن کے لیے آئے ہیں؟‘‘ ذوالفقار نے پوچھا۔

’’ہم تو آج واپس جا رہے ہیں۔ ‘‘ میں نے کہا۔

’’تو پھر آپ دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔ ‘‘ وہ خوش دلی سے بولا۔

’’لیکن دوپہر تک تو ہم چترال پہنچ جائیں گے۔ ہم ناشتہ کرکے ابھی یہاں سے نکل رہے ہیں۔ ‘‘باسط بولا۔

’’ہمیں بھی آج چترال جانا ہے۔ چلیں ساتھ ہی چلتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا وہیں ہوگا۔ ‘‘ ارشد نے کہا۔ میں نے اور باسط نے رضا مندی کے لیے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اچھا تھا۔ چترال تک کی لفٹ مل رہی تھی۔

’’ٹھیک ہے۔ ساتھ چلتے ہیں۔ ‘‘ میں بولا۔

تھوڑی دیر بعد ہم ان کی ڈبل کیبن کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے وادیٔ بمبورت سے نکل کر دریاکے کنارے کنارے پہاڑی راستے پر چترال کی طرف رواں تھے۔ دریائے چترال ان پہاڑوں میں بہتا ہوا پاکستان کی سرحد سے نکل کر افغانستان میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر کابل شہر کے اندر سے گزرتا ہوا پشاور کے قریب دوبارہ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ مگر اب اس کا نام دریائے چترال کے بجائے دریائے کابل ہو چکا ہوتا ہے۔

ڈبل کیبن میں آرام دہ سفر کرتے ہوئے ہم دوپہر تک چترال پہنچ گئے۔ یہاں ایک ریسٹورنٹ میں کئی ڈشز پر مشتمل عمدہ کھانا کھانے کے بعد ہم نے ارشد اور ذوالفقار سے اجازت چاہی۔ ہمیں آج پشاور کے لیے نکلنا تھا۔ ارشد نے پھر آفر کی کہ آپ شام تک رک جائیں۔ شام تک ہم بھی راولپنڈی جائیں گے ہمارے ساتھ ہی چلئے گا۔ میں سوچ میں پڑگیا۔ ’’اگر آپ کا جانا یقینی ہے تو ہم رک جاتے ہیں۔ ‘‘ میں نے کہا۔ ’’ورنہ ہم ابھی پشاور جانے والی کوسٹر میں سیٹ بک کرالیتے ہیں۔ کیونکہ دن بھر میں ایک ہی گاڑی جاتی ہے۔ اگر وہ نکل گئی تو آج ایک رات اور ہمیں چترال میں رکنا پڑ جائے گا۔ ‘‘

’’اوجی آپ فکر ہی نہ کریں۔ ہمیں بھی آج لازمی جانا ہے۔ ‘‘ ذوالفقار مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’ہمیں یہاں کچھ کام ہیں۔ ہم وہ کرلیتے ہیں جب تک آپ چترال میں گھومیں پھریں۔ شام چار بجے اسی ہوٹل میں ملاقات ہوگی۔ ‘‘

ہمیں اور کیا چاہیے تھا۔ آرام دہ گاڑی میں نوشہرہ تک سفر کا انتظام ہوگیا تھا۔ ارشد اور ذوالفقار تو اپنی گاڑی سمیت چلے گئے اور ہم چترال کی اونچی نیچی گلیاں ناپنے لگے۔ چترال سے پشاور جانے والی واحد کوسٹر اپنے وقت پر چلی گئی۔ ہم چار بجے سے کچھ پہلے ہی ہوٹل پہنچ گئے، مگر ارشد اور ذوالفقار کا بڑی دیر تک کوئی پتہ نہ چلا۔ ذہن میں یہ خدشہ سراٹھانے لگا کہ آج کی رات چترال ہی میں نہ گزر جائے۔ تقریباً پونے پانچ بجے اچانک سفید ڈبل کیبن نمودار ہوئی جس کے پچھلے آدھے حصے میں کچھ تازہ لوڈ کیا گیا سامان سبز ترپال سے ڈھکا ہوا تھا۔ اب ان دونوں کے ساتھ ایک تیسرا شخص بھی تھا۔ یہ ان کا دوست جاوید تھا۔

’’چلیں جی بسم اللہ۔ ‘‘ ارشد نے آتے ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔ گاڑی وہی ڈرائیو کر رہا تھا۔ ہم پچھلی سیٹ پر جاوید کے ساتھ بیٹھ گئے۔ گاڑی کچھ ہی دیر میں چترال سے باہر آگئی اور دریائے چترال کو ایک پل سے عبور کرکے دوسرے کنارے پر دِیر جانے والی سڑک پر فراٹے بھرنے لگی۔ سفر کرتے ہوئے ایک گھنٹہ ہوا ہوگا کہ اچانک ایک موڑ پر ایک روح فرسا منظر سامنے آگیا۔ پشاور جانے والی جس کوسٹر سے ہم نے سفر ملتوی کیا تھا وہ ایک کھائی میں الٹی پڑی تھی اور اس کے اردگرد زخمی اور خون آلود مسافر پڑے کراہ رہے تھے۔ ہمارا اوپر کا سانس اوپر اورنیچے کا نیچے رہ گیا۔ آج اگر ہمیں ارشد اور ذوالفقار کی لفٹ نہ ملی ہوتی تو ہم بھی انہی زخمیوں یا لاشوں میں شامل ہوتے۔ ایمبولینس اور دیگر گاڑیاں زخمیوں کو چترال لے جانے کے لیے جمع ہو رہی تھیں۔ کچھ دیر ہم بھی رُکے رہے اور پھر بوجھل دل کے ساتھ چل دیے۔

جاوید کا اضافہ ہونے کی وجہ سے پچھلی سیٹ پر تین آدمی ہوگئے تھے اور جگہ تنگ لگتی تھی۔ اس لئے میں نے اور باسط نے پیچھے کھلی ہوا میں سفر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ اب سفر شروع ہوا تو میں اور باسط پک اپ کے پچھلے حصے میں ترپال سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔

جب سے یہ تیسرا آدمی جاوید آیا تھا، تھوڑی سی پراسراریت پھیل گئی تھی۔ اندر بیٹھے ہوئے ہمیں بار باریوں لگا جیسے وہ تینوں آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے کر رہے ہوں، یا ہم سے کچھ چھپانا چاہ رہے ہوں۔ بہر حال ہم تو مہمان تھے۔ خاموش بیٹھے رہے۔ اب جو ہم دونوں باہر ذرا آزاد فضا میں آئے تو آپس میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی۔ پیچھے سامان پر جو ترپال بچھا تھا ہم اس سے تکیے کا کام لے رہے تھے، لیکن اس میں نرمی نام کو نہ تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کے نیچے پتھروں کا ڈھیر ہے۔ ایک دفعہ یونہی بیٹھے بیٹھے باسط نے ترپال کا کونا اٹھایا تو وہ اٹھتا چلا گیا۔ ترپال کے نیچے بھورے رنگ کے بڑے بڑے مٹی کے تودے سے رکھے ہوئے تھے۔

’’یہ کیا چیز ہے؟‘‘ باسط ایک تودے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔ میں نے بھی اس پر ہاتھ پھیرا اور ہاتھ کوناک کے قریب لاکر سونگھا تو چونک پڑا۔ وادیٔ کیلاش میں جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے تھے، وہاں ایک بے ترتیب بالوں والا یورپی سیاح بھی پتہ نہیں کب سے مقیم تھا۔ وہ اکثر وہاں بیٹھا سگریٹ کے کش لگاتا رہتا تھا اور اس کے سگریٹوں سے نکلنے والے دھوئیں میں عجیب سی بو ہوتی تھی۔ ہوٹل کے ویٹر نے ہمیں بتایا کہ یہ چرس کی بو ہے۔ ہمارے اس سوال پر کہ یہ چرس کہاں سے لاتا ہے وہ ہنسنے لگا۔

’’ادھر تو چرس بوت سستا ہے۔ اُدھر پار سے آتا ہے۔ آپ کو بھی چاہیے؟‘‘ وہ شرارت سے بولا۔ ہم بھی ہنس دیے اور بات آئی گئی ہوگئی۔ ان مٹی کے تو دوں سے بھی وہی چرس کی بو آ رہی تھی۔ ہم سناٹے میں آگئے۔ ہمیں اچانک علم ہوا تھا کہ ہم چرس کے اسمگلروں کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ اب تو بڑی گھبراہٹ طاری ہوئی۔ گاڑی ویران پہاڑوں میں موڑ در موڑ بھاگی جا رہی تھی۔ سورج غروب ہوچکا تھا اور آسمان پر شفق کی لالی پھیلی ہوئی تھی۔ اندھیرا ہوتے ہی ٹھنڈ شروع ہوگئی۔ ایک جگہ گاڑی روک کر ہمیں پھر اندر بلا لیا گیا۔ اب ہم اندر بیٹھے تو تھے مگر ہماری زبانوں کو تالے لگ چکے تھے۔ ہمارے تینوں میزبان اب ہمیں مجرموں کی طرح نظر آتے تھے اور ان کی ہر ہر حرکت پر ہم شک و شبہے کا شکار ہو جاتے تھے۔

لواری ٹاپ عبور کرکے عشاء کے وقت تک ہم دیر پہنچ گئے اور ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے رک گئے۔ یہ ایک افغانی ہوٹل تھا۔ اندر فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ زمین پر گدے بچھے تھے، دیواروں سے گاؤ تکیے لگے تھے اور درمیان میں پلاسٹک کے دستر خوان بچھے تھے۔ کابلی پلاؤ اور بھیڑ کے گوشت کے تکوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ہم جیسے ہی بیٹھے سلاد، رائتہ وغیرہ ہمارے سامنے سجا دیا گیا۔

ابھی چند ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ اچانک ارشد‘ ذوالفقار اور جاوید تینوں اٹھے اور باہر نکل گئے۔ میں اور باسط جو پہلے ہی شکوک کا شکار تھے چونکے اور اٹھ کران کے پیچھے پیچھے باہر آگئے۔ ڈبل کیبن غائب تھی۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ ہمارا سامان اور کیمرا بھی گاڑی میں تھا۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘ میں اور باسط سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

مرے مرے قدموں سے ہم دونوں واپس آکر ہوٹل میں بیٹھ گئے۔ ویٹر نے کھانا لاکر رکھا تو میں نے اسے منع کیا کہ پہلے ہمارے ساتھی آجائیں۔ مگر اس نے کہا کہ وہ پتہ نہیں کب آئیں گے آپ آرام سے کھانا کھاؤ۔ عمدہ اور لذیز کھانا ہمارے لئے اپنی لذت اور اشتہاء کھوچکا تھا۔ کچھ لقمے زہر مار کرکے ہم ہاتھ دھو کر بیٹھ گئے۔ ہماری نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں۔ آخر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد اچانک ارشد نمودار ہوا۔ جاوید اور ذوالفقار بھی اس کے پیچھے پیچھے سگریٹوں کے کش لگاتے آ رہے تھے۔ ہماری جان میں جان آئی۔

’’ہاں سر۔ کھانا کھایا‘‘ ارشد نے آتے ہی ہم سے پوچھا۔

’’جی۔ ہم نے تو کھالیا۔ آپ لوگ اتنی دیر کہاں تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’بس ادھر ایک ضروری کام تھا۔ ہم بھی جلدی سے کھانا کھا لیں۔ بس پھر چلتے ہیں۔ ‘‘اس نے جواب دیا۔ وہ تینوں کھانا کھانے لگے اور ہم دونوں باہر نکل آئے۔ میں نے شیشے سے گاڑی کے اندر جھانکا۔ ہمارے بیگ اسی طرح رکھے تھے۔

تھوڑی دیر بعد وہ تینوں بھی نکل آئے اور گاڑی پھر فراٹے بھرنے لگی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے اور ہر طرف گھپ اندھیرے کا راج تھا۔ اب وہ تینوں چرس بھرے سگریٹ پی رہے تھے‘ بات بات پر بے ہنگم قہقہے لگاتے اور ہم سے تقریباً بے نیاز ہوچکے تھے۔ میں اور باسط چپ چاپ اس سفر کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

رات کے کسی اونگھتے جاگتے لمحے میں گاڑی نے اچانک پکی سڑک چھوڑی اور درختوں سے ڈھکے ایک کچے راستے پر اتر گئی۔ ہچکولے کھاتی ہوئی خاصی دیر چلتے رہنے کے بعد وہ ایک مکان کے سامنے رک گئی۔ میں نے اور باسط نے اندھیرے میں آہستگی سے ہاتھ دبا کر ایک دوسرے کو خبردار کیا اور اونگھنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے خاموشی سے پڑے رہے۔ ارشد اور ذوالفقار اتر کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد اس مکان سے چند اور سائے نکل کر آئے۔

کچھ دیر پک اپ کے پچھلے حصے میں کھٹ پٹ ہوتی رہی اور پھر ارشد اور ذوالفقار واپس آکر بیٹھ گئے۔ گاڑی پھر چلنے لگی۔ تھوڑی دیر میں کچا راستہ ختم ہوا اور گاڑی پھر پکی سڑک پر دوڑنے لگی۔ سونے کی اداکاری کرتے کرتے ہمیں واقعی نیند آگئی۔ آنکھ کھلی تو صبح صادق کے آثار تھے اور گاڑی مردان اور نوشہرہ کے درمیان دریائے کابل کے پل پرسے گز رہی تھی۔ یہ وہی دریائے چترال تھا جو اپنی مسافتیں طے کرتا ہوا افغانستان سے ہوکر آیا تھا اور یہاں آتے آتے دریائے کابل بن گیا تھا۔ دس منٹ بعد ہم نوشہرہ میں جی ٹی روڈ پر سے گزر رہے تھے۔

’’ہم نوشہرہ میں اتریں گے ارشد بھائی۔ ‘‘ میری نیند میں بھرائی ہوئی آواز ابھری۔

’’کیوں؟ پنڈی نہیں چلتے۔ ‘‘ وہ بولا۔

’’نہیں۔ شکریہ۔ آپ نے بڑی نوازش کی۔ ‘‘میں نے کہا۔ ’’ ہمیں پشاور جانا ہے۔ ‘‘ میں اور باسط ایک ساتھ بولے۔ ارشد نے گاڑی روک دی۔ ہم دروازہ کھول کر اپنے اپنے تھیلے لیے باہر آگئے۔ نوشہرہ کی خنک اور خوشگوار صبح کی فضانے ہمیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ہم نے الوداعی ہاتھ ہلائے اور ڈبل کیبن جی ٹی روڈ پر تیز رفتاری سے راولپنڈی کی طرف بڑھ گئی۔ میں نے اور باسط نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر شکر گزاری سے آسمان کی طرف چہرے اٹھائے۔ چرس کے اسمگلروں کے ساتھ یہ خدشات بھرا سفر اختتام کو پہنچ چکا تھا۔

Comments

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں ۔ مؤقر قومی اخبارات اور رسائل میں بھی لکھتے رہے ہیں ۔ اردو کی پہلی ڈیجیٹل کتاب "دریا دریا وادی وادی" کے مصنف ہیں۔ اس کےعلاوہ 7 کتابیں مزید لکھ چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.