پرسکون زندگی کا اہم اصول - حنا صدف

انسانی ذہن کا سب سے بڑا مسئلہ چیزوں کو اُن کے صحیح خانوں میں تقسیم نہ کر پانا ہے اسی وجہ سے ہم میں سے بہت سے لوگ یا تو اپنے ماضی میں زندہ ہیں یا مستقبل کے خیالوں میں۔ اس دوران جو چیز نظر انداز ہوتی جارہی ہے وہ خود ہماری ذات ہے، ہمارا آج اور اس آج میں موجود ہمارے اردگرد بسنے والے ہمارے اپنے ہیں۔

ہم بہت سی ایسی باتوں کا بوجھ خود پر ہمہ وقت لاد کر پھر رہے ہوتے ہیں کہ جو یا تو ماضی میں ہوچکی ہوتی ہیں یا مستقبل میں ہوسکتی ہیں اور ہم ابھی ان کے ہونے کے بارے میں پوری طرح سے آگاہ بھی نہیں ہوتے۔ مستقبل میں کیا ہونا ہے اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ بہرحال کوئی انسان نہ جان سکا ہے اور نہ جان سکے گا، اس بارے میں محض قیاس کیا جا سکتا ہے۔ ایک لمحے کو ٹھہر کر سوچیے کہ جو کچھ ماضی میں آپ سے سرزد ہوا یا آپ کے ساتھ کیا گیا، کیا آپ اُسے بدل سکتے ہیں؟ اس کا آسان سا جواب ہے 'نہیں!'

تو پھر آپ خود کو کیوں اپنے ماضی میں گم رکھتے ہیں، اُس غم کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ جو گزر چُکا ہے اور جس قدر بُرا آپ کے ساتھ ہونا تھا، وہ درحقیقت ہو چُکا ہے اور اب آپ اُسے undo نہیں کرسکتے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ اُن حالات و واقعات کے ساتھ ہے کہ جو ابھی رونما نہیں ہوئے اور آپ کو خطرہ ہے کہ وہ ہو سکتے ہیں۔ اب ان معاملات کا سیدھا سا حل ہے کہ ایسے اقدامات سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے کہ جن کے نتائج آپ کی زندگی کو مشکل کی جانب لے جاسکتے ہیں، مگر اس سارے معاملے میں یہ ذہن میں ضرور رکھیں کہ آپ کی زندگی میں کسی ایک خاص مسئلے یا معاملے کے علاوہ سینکڑوں اور معالات ہیں جن کو آپ کی توجہ درکار ہے۔ ان معاملات کی انجام دہی جہاں ضروری ہے وہیں آپ کے لیے کسی خاص صورتحال سے خود کو نکالنے کے لیے اور ذہن کو چند گھڑی سکون دینے کے لیے یہ دیگر معاملات بھی انتہائی اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

فرض کریں کہ ہم تمام تر احتیاطی تدابیر کا دامن تھامے رہنے کے باوجود بھی کسی مشکل صورتحال میں پڑ جاتے ہیں، ہمارے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے یا کوئی بھی پریشانی ہمارے سامنے آکھڑی ہوتی ہے تو ان حالات سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس محض دو راستے ہیں۔ اوّل تو یہ کہ ہم اس مسئلے کہ بارے میں کچھ کر سکتے ہیں یعنی کہ ہمارے پاس اس کا حل موجود ہے تو پریشانی کیا ہے؟

پرسکون ہوجائیے اور مسائل کو حل کر لیجیے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہمارے پاس پریشانی کا کوئی حل نہیں اور ہم کسی خاص صورتحال میں بالکل بے بس ہیں، اب جب ہم بے بس ہیں تو زیادہ سوچنے سے بھی مسئلہ حل نہیں کر پائیں گے۔ لہٰذا اپنے ذہن کو آرام دیجیے اور خود کو پُر سکون رکھیے کیونکہ مسئلہ تو یوں بھی ہم حل کرنے سے قاصر ہیں تو خود کو ذہنی طور پر کیوں کر تھکایا جائے؟

یہ اصول زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں اپنا لیا جائے تو ہم اپنی زندگیوں کو بہت پرسکون بنا سکتے ہیں۔ جو گزر گیا اُس پر صبر کر لیجیے اور جو آگے آنے والا ہے اور آپ کے ہاتھ میں ہے اُس کو احسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کیجیے، باقی تمام معاملات اپنے رب پر چھوڑ کر جو لمحات آپ کو میسر ہیں اُنہیں بھرپور طریقے سے جی لیجیے۔