سفرِ حرمین، اِک سفر جو زندگی کا حاصل ٹھہرا (1) - راشد عباس

مَیں گہری نیند میں تھا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی، دائیں بائیں نظر دوڑائی تو خود کو اک بس میں محوِ سفر پایا۔ موبائل پر ٹائم دیکھا تو ڈھائی بج رہے تھے۔ بس مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی اور اکثریت خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔ پوری بس میں میرے اور ڈرائیور کے علاوه شاید ہی کوئی ایک آدھ فرد جاگ رہا تھا کھڑکی سے باہر دیکھا تو، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے بس شاید بلندی پر رواں دواں تھی ، آٹھ دس کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک شہر نظر آیا۔ شہر بھی وہ جس کا نام لینے سے ہی آنکھوں میں پانی سا آ جاتاہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے آپ کا ہم سب کا جان سے پیارا مدینہ۔ یوں تو سارا شہر ہی روشنیوں سے منور تھا مگر شہر کے مرکز میں بقعہ نور بنی مسجدِنبوی کی شان ہی نرالی تھی۔ بلند میناروں میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہو رہی تھا۔ ایسا روح پرور نظاره کہ الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اپنے ہمسفر دوستوں کو جگانے کی کوشش کی مگر شدید تھکاوٹ کی وجہ سے وہ تھوڑا کسمسا کر پھر گہری نیند میں چلے گئے۔ تھکاوٹ کی وجوہات بیان کرنے کے لیے مجھے آپ کو تھوڑا پیچھے لے جانا پڑے گا۔

یہ اپریل 2013 کی بات ہے میں سعودی عرب کے مشرقی ساحلی شہر الجبیل میں رہائش پذیر تھا مجھے سعودی عرب پہنچے دو ماہ ہو چکے تھے۔ کچھ دن کام کے بعد آج کل فارغ تھا کہ ایک دوست ضیاء نے مشورہ دیا کہ عمرہ ادا کر آؤ بات دِل کو لگی ضیاء، جو خود اقامہ کے مسئلہ کی وجہ سے نہیں جا سکتا تھا، کے کہنے پر تین اور دوست جواد ، شفقت اور قاسم بھی ساتھ تیار ہو گئے۔ چنانچہ ہم بازار گئے اور بس کمپنی سے ٹکٹ لیے، سعودی حکومت عمرہ زائرین کو سبسڈی دیتی ہے۔ قریبی شہر دمام سے جدہ آنے جانے کا کرایہ چار سو ریال ہے مگر زائرین سے صرف ایک سو ریال وصول کیے جاتے ہیں ، احرام لیے اور سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ 17 اپریل بروز بدھ عصر کے بعد آپ کی روانگی ہے۔ مختصر یہ کہ ہم مقررہ وقت پر مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ سفر بہت لمبا تھا ، کم و بیش 1400 کلومیٹر ۔ سعودی عرب میں آبادی کم ہونے کی وجہ سے اکثر سڑکیں بے رونق ہیں۔ شہر تو کیا دور دور تک کوئی گاؤں بھی نہیں آتا۔ اس لیے پٹرول پمپ پر ہی آپ کو مسجد، ہوٹل، ڈپارٹمنٹل سٹور وغیرہ ملیں گے ۔ راستہ میں ایک پٹرول پمپ پر نمازِ مغرب کے لیے رکے۔ دوستوں سے پوچھا کوئی چیز کھانی ہے؟ سب میں بڑا ہونے کی وجہ سے خزانچی میں ہی تھا ، قاسم نے کہا میں نے شوارما کھانا ہے ، مجھے اس وقت یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ کیا بلا ہے ؟ جبکہ باقیوں نے بھی جُوس چِپس وغیرہ لیے اور روانہ ہو گئے۔ عشاء کے وقت بھی ایک پٹرول پمپ پر رُکے اور وہاں ہوٹل پر خبصہ ، گوشت اور چاولوں پر مشتمل ایک عربی ڈش ، سے پیٹ پوجا کی۔ غرض کہ سفر دوباره شروع ہوگیا۔ بس کافی آرام دہ تھی مگر مجھ جیسے لمبے بندے کے لیے نہیں۔ آہستہ آہستہ مسافروں کے خراٹوں کی آوازیں شروع ہو گئی تھیں۔ مَیں نے بھی لَم لیٹ ہونے کی کوشش کی مگر میرے گھٹنے آگے والی سیٹ میں کھُب گئے اس لیے بیٹھے بیٹھے ہی سونے کی کوشش کرنے لگا۔

سوتے جاگتے سفر گزر رہا تھا آدھی رات کے قریب آنکھ کھلی تو خود کو ایک شہر سے گزرتے پایا، یہ الریاض تھا۔ دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود شہر کو کراس کرنے کے لیے رِنگ روڈ یا بائی پاس کا تکلف نہیں کیا گیا اور شہر کے درمیان سے ہی گزرنا پڑتا ہے۔ رات کا وقت روشنیاں اور بلندوبالا عمارتیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، یورپ کے کسی ترقی یافتہ شہر سے گزر رہے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹہ لگا شہر کو پار کرنے میں۔ الریاض کی روشنیوں کے بعد جب گھپ اندھیرے والا منظر پھر شروع ہو گیا تو مجھے بھی نیند آنے لگی۔ اب جاگا تو فجر کا وقت تھا ایک ساتھی مسافر جو پہلے پہلےبھی عمرہ کر چکا تھا، سے پوچھا کہ ابھی کتنا سفر باقی ہے؟ تو اس نے بتایا کہ کم از کم پانچ چھ گھنٹے تو لگیں گے ہی۔ بدن تھوڑا تھوڑا اینٹھنے اینٹھنےلگا تھا، اوپر سے شیطان صاحب نے بھی جال پھینکا (کیہڑے وخت وچ پہیا ایں ) فوراً لاحول پڑھ کر دل ودماغ کو گھرکا کہ پرانے وقتوں میں لوگ مہینوں سفر کر کے لُٹتے لٹاتے صعوبتیں برداشت کر کے حرمین آتے تھے اور تم دس بارہ گھنٹوں کے آرام دہ سفر سے ہی پریشان ہو گئے؟

سورج نکلنے کے کےبعد آس پاس کے مناظر واضح ہو گئے۔ جب سفر شروع کیا تھا اس وقت تا حدِنظر ریگستان ہی ریگستان تھا مگر اب ریت کے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ذرا فاصلے پر چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی شروع ہو گئی تھیں۔ سن رکھا تھا کہ مکہ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھِرا ہوا ہے اس لیے کچھ امید بندھی کہ منزل اب قریب ہی ہے۔ ڈیڑھ دو گھنٹوں کے مزید سفر کے بعد ڈرائیور نے بریک لگائی اور عربی میں سب کو اترنے کو کہا۔ ہم دہل گئے کہ شاید بس میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہے مگر دوسرے مسافروں نے بتایا کہ مقام میقات ، یعنی حرم سے مخصوص فاصلہ پر احرام باندھنے کی جگہ ہے ۔ یہاں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا، غسل کرنے کے بعد جب دو چادروں پر مشتمل احرام باندھا تو اپنے اندر کچھ تبدیلی سی محسوس کی جس کی سمجھ آج تک نہیں آئی کہ یہ کیا تبدیلی تھی مگر کچھ بدلا ضرور تھا۔ بہرحال، وہاں مسجد میں دو رکعت نوافل ادا کر کے باقاعدہ عمرہ کی نیت باندھی اور سفر دوباره شروع مگر یہ سفر تو کوئی اور ہی سفر لگ رہا تھا؟ لبوں پر لبیک اللھم لبیک ٫دل اور دماغ میں کوئی پریشانی کوئی فکر ٹینشن نہیں، ایسے ہلکے پھلکے جیسے بس میں نہیں اُڑ کر بیت اللہ کو جا رہے ہیں۔ تھوڑے مزید سفر کے بعد ایک سڑک بائیں طرف طائف کو مڑ گئی جبکہ ہماری منزل مکہ مکرمہ تھی اس لیے اپنا سفر جاری رکھا۔ آگے قریب ہی ایک بڑا سا بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا اس سے آگے غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ہمیں بھی پتہ چل گیا کہ مقدس شہر کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔

کہاں یہ حال تھا کہ سڑک کے دونوں طرف بلندوبالا مگر بالکل چٹیل اور خشک پہاڑوں کو دیکھ کر سوچ رہے ہیں واہ مولا تیری شان اپنے گھر کے لیے کیسی جگہ پسند فرمائی ہے؟ اور اب دل کر رہا تھا کہ ان پتھروں سے جا کر لپٹ جائیں ان کو چومیں، کیاپتہ کس پتھر نے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک کا بوسہ لیا ہو؟ ادھر سے ابوبکرؓ گزرے ہوں، شاید عمرؓ نوجوانی میں یہاں ہی بکریاں چراتے ہوں، کبھی تو عثمانؓ اور علیؓ بھی ادھر سے گزرے ہوں گے؟ انہی سوچوں میں گم تھا کہ ساتھ بیٹھے دوست نے توجہ دلائی کہ وہ سامنے کلاک ٹاور نظر آ رہا ہے۔ یہ مسجد الحرام کے بالکل ساتھ تعمیر کئی گئی بلندوبالا عمارت ہے جو میلوں دور سے دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے سے ایسا لگا کہ بس پانچ سات کلومیٹر ہی دور رہ گئے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس تھی کیونکہ ابھی بیس، پچیس کلومیٹر کا سفر تھا اور اپنی بلندی کی وجہ سے یہ ٹاور قریب دکھائی دے رہا تھا۔

اب مکہ شہر کی نواحی آبادیاں شروع ہوچکی تھیں تقریباً آدھے گھنٹے بعد ڈرائیور نے ہمیں مسجد الحرام کے قریب ایک کُبری (فلائی اوور) کے نیچے اتارا اور ہدایت کی کہ عشاء کے کےبعد اسی جگہ آ جانا، لو جی! منزل مقصود سامنے تھی۔ پانچ سات منٹ پیدل چلنے کے بعد ہم مسجد کے بیرونی صحن میں داخل ہو گئے ۔ مسجد الحرام وسیع رقبہ پر مشتمل ہے اور ترتیب اس طرح ہے کہ خانہ کعبہ کے اردگرد کافی کھلا صحن ہے، پھر صحن کے چاروں طرف مسجد کی عمارت ہے اور اس سے آگے بیرونی صحن ۔ اب ہم وضو خانہ ڈھونڈ رہے تھے جیساکہ اِدھر ہماری مساجد میں داخلے کی جگہ کے ساتھ ہوتی ہیں۔ مگر ہمیں دکھائی نہیں دے رہا تھا، کچھ ہم ویسے کنفیوزڈ سے ہو گئے تھے ، "کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ" سوچ سوچ کر۔ دوپہر کے وقت بھی رش ہی رش تھا لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے، آخر ایک خدا کے بندے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ پاس ہی جو سیڑھیاں نیچے جا رہی ہیں یہ طہارت خانوں کو ہی جا رہی ہیں۔ نیچے اترے تو ٹونٹیاں ہی ٹونٹیاں، غسل خانے ہی غسل خانے، نہ قطار نہ انتظار، صفائی کا اعلٰی انتظام دل ہی دل میں سعودی حکومت کو خوب داد دی بلکہ اگلے دو دنوں میں بارہا یہ داد دینا پڑی۔ سعودی حکومت سے لاکھ اختلاف سہی مگر حرمین کا انتظام و انصرام اپنی مثال آپ ہے۔

وضو سے فارغ ہو کر مسجد کی مرکزی عمارت میں کوہِ صفا کی جانب چلے گئے، جو ایک پہاڑی تھی مگر اب اس کا ایک حصہ شیشہ میں محفوظ کر کے باقی ہموار کر دی گئی ہے کوہ مروہ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے دونوں پہاڑیوں اور درمیانی راستہ پر چھت ڈال دی گئی ہے بہترین ایئرکنڈیشننگ سسٹم کی وجہ سے سعی اب بہت آسان ہو گئی ہے۔ نماز و تلاوت میں مشغول لوگوں میں سے گزرتے سامنے کھلے حصے کے نزدیک ہوئے تو بس ایک کالی سی عمارت کیا نظر آئی کہ دل ہیبت سے کانپ اٹھا اور دماغ کا فیوز اڑ گیا! سارا راستہ یہی سوچتا رہا کہ بیت اللہ شریف کو دیکھتے ہی کیا دعا مانگنی ہے؟ کبھی ایک کا فیصلہ کرتا تو کبھی دوسری کا ادھر یہ حال کہ سب کچھ بھول گیا، چار سال بعد بھی کیفیت لکھتے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ جواد کا حال مجھ سے آگے تھا، جو کانپ رہا تھا- ذرا رک کر حواس بحال کیے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ مجھے نہیں یاد کہ کوئی مخصوص دعا مانگی ہو، بس اس رحمٰن و رحیم سے اس کا فضل و کرم ہی مانگتا رہا۔ خانہ کعبہ کی عمارت جیسے ٹی وی پر دکھائی دیتی ہے، اس سے کافی بلند ہے کچھ وہاں اپنا آپ اتنا پست اور حقیر لگتا ہے کہ بیت اللہ بہت اونچا نظر آتا ہے۔کالا غلاف اوڑھے بظاہر اس ساده سی عمارت کی شان لفظوں میں بیان ہی نہیں ہوسکتی بس اپنی طرف کھینچتی عجیب سی پرکشش اور اس سے زیادہ بے نیاز!

(جاری ہے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com