ادب میں حقیقت نگاری - ارشد عزیز

ادب میں حقیقت نگاری سے مراد ایک شے کو اُس کے حقیقی خدوخال کے ساتھ بیان کرنے کے ہیں۔ حقیقت نگاری میں چیزوں کو اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی کا ایک جُز معلوم ہوتی ہوں۔ جہاں تک انگریزی ادب میں حقیقت نگاری کا تعلق ہے، تو اِس کا باضابطہ آغاز ۱۸۵۰ء کے آس پاس فرانس میں Honore De Balzac کے ہاتھوں ہوا۔ اس نے پہلی بار ادب کی تاریخ میں اپنی ناول La Comedie Humaine میں فرانس کی سماجی زندگی کا حقیقی عکس پیش کیا۔ اِس کے بعد اِس کی روایت سے متاثر ہو کر بہت سارے مصنفوں اور ناول نگاروں نے اِس روایت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ جس میں Emile Zola، Charles Dickens، Eric Rohimer، Feredrick Angles، Gustava Flaubertوغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ Charles Dickens نے اپنے ناولوں میں غریبوں، محتاجوں اور لاچاروں پر کیے گئے استحصال کو بڑے ہی مؤ ثر اندا ز میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تحریروں میں صنعتی انقلاب سے پیدا ہونے والی بے روزگاری اور لاچاری کو دلدوز انداز میں پیش کیا ہے۔ مثلاً ان کے ناول David Copperfield کا مرکزی کردار پورے دن کام کرتا رہتا ہے لیکن اِس کو معمولی مزدوری ملتی ہے اور نجانے دن میں اس کو کتنی بار مارا پیٹا بھی جاتا ہے۔

انگریزی ادب میں ڈکنس کے علاوہ John Galsworthy اور William Makepeace Thackeray نے بھی حقیقت نگاری کو عروج بخشنے میں کلیدی رول ادا کیا۔ ولیم بلیک کی شاعری میں بھی حقیقت نگاری کے اجزاء پائے جاتے ہیں اور اُس نے اپنی شاعری کو آلہ کے طور پر استعمال کر کے سماجی خرافات اور مذہبی پادریوں کی طرف سے کیے ظلم کے خلاف زور دار آواز اُٹھائی جس میں اُن کی نظمیں Holly Thursday، London، Human Abstract اور Divine Image بطورِ مثال پیش کی جا سکتی ہیں۔ نظم ’’ لندن‘‘ میں وہ لوگوں کے ستم ظریفی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

In every cry of every man,
In every infant's and cry of fear,
In every voice, in every ban
The mind forged manacles I hear

انگریزی میں حقیت نگاری کو آسمان کی بلندیوں کو چھونے میں George Eliot نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے خاص طور پر دیہاتی زندگی کو اُجاگر کیا۔ اُس نے اپنے ناولوں میں واضح طور پر دکھایا کہ محبت کے نام پر ایک عورت کو کتنی مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس میں اُن کی ناول Middle March، The Mill on Floss، Adam Bede گراں قدر سرمایہ تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت نگاری صرف شاعری اور ناول نگاری تک ہی محدود نہ رہی بلکہ متعدد ڈراموں کو بھی حقیت نگاری کے رحجان فروغ دینے میں اہم مقام حاصل ہے۔ڈرامہ نگاری کی اس صنف میں George Bernand Shaw, Henrik Ibsenہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ Bernand Shaw نے ہر ایک ڈرامہ رومانیت کے خلاف لکھا۔ آپ نے سماج کے ہر گوشے کو اسٹیج پر پیش کرنے کی بھر پور کوشش کی جن میں ان کے ڈرامے Arms and Man، Major Barbara، Pygmalion، Saint Joan شاہکار تصور کیے جاتے ہیں۔ Henrik Ibsenجو سب سے آگے نکل کر حقیقت نگاری کو وہ اسٹیج پر پیش کر کے عورتوں کی لاچاری، بے بسی، جبر و ستم اور ستم ظریفی کو دل دوز انداز میں سامعین کے سامنے پیش کیا۔ اُس نے اپنے ڈراموں میں Patriarchy یعنی قبائلی نظام جس میں عورتوں کو حقوق سے محروم کیا جاتا ہے، کے خلاف ایسی تحریک اُٹھائی جس کی آج بھی ایوانوں میں مثال دی جاتی ہے۔ اس زمرے میں ایک ڈرامے A Doll’s House، Peer Gynt، Wild Duck خصوصیت کے حامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   معاصر اردو نظم میں مہمل نگاری کا رجحان – ادریس آزاد

جدید دور میں حقیقت نگاری کی اس روایت کو پروان چڑھانے میں بہت سارے مصنف مشغول ہیں جس میں Sam Shepard اور Eugene Oriel ستائش کے قابل ہیں۔ حقیقت نگاری صرف انگریزی ادب تک ہی محدود نہ رہی بلکہ دنیا کی بہت ساری زبانوں میں اِسے پیش کیا گیا ہے۔ اِن تمام زبانوں میں اُردو زبان کو اہم مقام حاصل ہے۔

جہاں تک اُردو ادب میں حقیقت نگاری کا تعلق ہے، تو یہ بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اُردو ادب کے قد آور اور مایہ ناز ادیب پریم چند کے ہاتھوں نمودار ہوئی۔ پریم چند سے پہلے ادب کا محور رومانیت کے ارد گرد گھومتا تھا۔لیکن پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں کے ذریعے گاؤں کی حقیقی زندگی کو قارئین کے سامنے پیش کیا۔اپنے ناول گوشۂ عافیت میں پریم چند نے دیہاتی زندگی کے بنیادی مسائل کو موضوع بنایا اور جاگیر دارانہ نظام کے ظلم و استحصال کو منظر عام پر لایا۔ ناول نرملا میں پریم چند نے عورت کے دکھ درد اور اُس کے ساتھ روا رکھے جانے والے استحصال کو پیش کیا ۔ یہ ناول حقیقت نگاری کا بے مثال نمونہ ہے۔ ناول کی تکنیک پر ان کی حاکمانہ قدرت کا سب سے مکمل نمونہ گؤدان ہے جس میں آزادی سے پہلے شمالی ہندوستان کی زندگی کا ایسا سچا اورتابناک مرقع سامنے آتا ہے جس کی دوسری مثال ہندی اور اُردو ادب میں نہیں ملتی ہے اور اس ناول کا موضوع بھی ہندوستانی کسانوں کی معاشی بد حالی اور ان کی محنت کا استحصال ہے۔ علاوہ ازیں ’’ چوگانِ ہستی‘‘جس میں دیہی معاشرہ اور شہر میں پھیلے ہوئے صنعتی نظا م کے تضاد کو اُبھارا گیا۔ ’’ میدانِ عمل‘‘ اس عہد کے سیاسی اور معاشی اور سماجی زندگی کے آشوب اور عوامی جدوجہد کو حقیقت پسندانہ ڈھنگ سے پیش کرتا ہے۔ دراصل پریم چند نے اپنے ناولوں میں معاشرے فرد اور زندگی کی عکاسی و ترجمانی کی ہے اور اس راہ میں اس کے عمیق مشاہدے، فکر، تخیل اور جذبات کی متوازن آمیزش نے ناول نگاری کے فن کو بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   باسودے کی مریم - اسد محمد خان

پریم چند نے ناولوں کے علاوہ اپنے افسانوں میں بھی انسان دوستی اور عوام کے مسائل کو بڑے پرتپاک انداز میں پیش کیے ہیں۔ دیہاتی ہونے کے ناطے وہ وہاں کی معاشرتی اور ثقافتی زندگی کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک دانشور ہونے کی حیثیت سے ان کی نگاہ ہندوستانی سماج میں صدیوں سے چلے آرہے رسم و رواج، ظلم و ستم اور خانہ بندی پر بھی تھی جس میں ہندو سماج جکڑا ہوا تھا، بالخصوص دیہی نظام۔ اس سلسلہ میں اِن کے مشہور و معروف افسانوں میں کفن، عید گاہ، پنچایت، پوس کی رات،نمک کا داروغہ، دو بیل، بوڑھی کاکی، نجات غرض سبھی گاؤں کی زندگی، غربت، افلاس اور بوسیدہ رسم و رواج کہ جو دل دہلانے والے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اُس دور تو کیا، آج کے ترقی یافتہ دور کے افسانوں میں بھی مشکل سے نظر آئے گے۔ پریم چند کی فنکاری اور خلاقی اس مقام پر اور بھی نکھر کر سامنے آتی ہے۔ جہاں وہ عورتوں کے کردار پیش کرتے ہیں، خاص طور پر ضعیف عورتوں کے کردار، خواہ وہ بوڑھی کاکی ہو یا دادی آمنہ یا پنچایت کی خالہ۔ ان بوڑھی عورتوں کے ذریعہ وہ گاؤں و دیہاتی کی پوری تہذیب و روایت کو جس دلدوز انداز میں پیش کرتے ہیں، اس سے گاؤں کی سی نہیں، بلکہ ہندوستانی تہذیب کی تاریخ کے در کھلنے لگتے ہیں۔ بوڑھی کاکی جس سے پریم چند نے مرکزیت دے کر صرف اس گھر کو نہیں، بلکہ پورے سماج میں کردار بنا کر اس کے رسم کو رواج کو برہنہ کر کے آدمیت کی ایسی دلدوز تصویر پیش کی ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

الغرض پریم چند نے شہری زندگی پر بھی کہانیاں لکھیں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل ذہن اور جوہر دیہاتی سماج اور معاشرے کی گھتیوں کو سلجھانے کی کوشش میں سامنے آتا ہے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ’’ ادب محض آئینہ حیات نہیں بلکہ تنقیدِ حیات ہے۔‘‘ پریم چند کی روایت کو جن افسانہ نگاروں نے آگے بڑھایا ہے، اُن میں پنڈت سدرشن، علی عباس حسینی اور عظیم کریوی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

المختصر یہ کہ انگریزی ادب ہو یا اُردو ادب یا دنیا کی دیگر زبانوں کا ادب، حقیقت نگاری کے رحجان نے اِس ادب کو تخلیق کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں، ادب کو حقیقت نگاری سے درجنوں فوائد ہوئے اور سب سے اہم فائدہ یہ ہوا کہ حقیقت نگاری سے ادب عام قاری تک بھی پہنچا اور وہ ادب کا باذوق قاری بنا۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!