ذاتی اور عوامی زندگی: اسلامی تصور حیات - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

نفسیات کی دنیا میں ذات ایک پیچیدہ تصور ہے کیونکہ میری ذات (میں کون ہوں ) مکانی، زمانی اور معاشرتی قیود کے ساتھ وابستہ ہے، اس لیے پیچیدہ ہے۔ رشتے کے لحاظ سے میں ایک شوہر، باپ، بھائی، چچا، سسر ہوں، پیشے کے لحاظ سے استاد ہوں۔ جغرافیہ اور ثقافت کے لحاظ سے چترال سے تعلق ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے مسلمان ہوں۔ پھر اس میں سنی، شیعہ اور دوسرے فرقوں کی باتیں ہوں گی۔ انگریزی زبان و ادب کا طالب علم ہوں۔ لکھنا میرا مشغلہ ہے۔

اس مختصر لیکن مشکل تعارف کی روشنی میں مغربی دنیا میں ذاتی یا نجی زندگی اور عوامی زندگی کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ سولہویں صدی تک یورپ میں عیسائی مذہب کا غلبہ تھا بلکہ بادشاہت کو بھی الٰہی حق کا درجہ حاصل تھا۔ کئی نقصان دہ معاشرتی تصورات کے باوجود میرے نزدیک جو مثبت پہلو تھا، وہ یہ تھا کہ انسانوں کی نجی اور عوامی زندگی کے درمیان خلا نہیں تھا یا بہت کم تھا۔ ہنری ہشتم کی بغاوت کے بعد یورپ میں مختلف نوعیت کے انقلابات آنا شروع ہوئے، بالخصوص علمی دنیا میں، جو پہلے عیسائی مذہب کے تابع تھی، آہستہ آہستہ آزاد ھونے لگی اور اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جرمنی، انگلینڈ اور فرانس میں فکری تحریکیں اٹھیں جن کی بنیاد عقل پر تھی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ مذہب کو نجی زندگی کا معاملہ ٹھہرا کر فرد کو آزادی دی گئی اور ریاست کو مذہب سے آزاد کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں نجی اور عوامی زندگی کو الگ کیا گیا۔ ظاہری طور پر انسان آزاد ہو گیا لیکن اپنی خواہشات کا غلام ہو گیا یعنی غلامی کی نوعیت بدل گئی ۔ پہلے چرچ کا غلام تھا، اب اپنی ذات کا غلام ہوگیا۔ وہ کام جو پہلے اچھا سمجھا جا تا تھا، اب بھی اچھا ہے، مثلاً اپنی برادری کی بھلائی کے لیے کام کرنا۔ فرق یہ ہے کہ پہلے والے کام میں روحانی عنصر غالب تھا، اس لیے زیادہ سکون اور اطمینان حاصل کرنے کا امکان تھا۔ اب روحانی عنصر غائب ہے، خود پرستی عنصر غالب ہے ، جس کا مرکز ذات ہے۔

چونکہ مسلمان کئی سو سالوں سے غلامی یا نیم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اس لیے ہر وہ کام اچھا لگتا ہےجو آقا کرتا ہے۔ آقا کا ہر کام یقیناً برا نہیں ہوگا لیکن غلام میں تنقیدی حس کا فقدان ہوتا ہے۔ اس لیے اچھے اور برے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسلامی دنیا میں اقبال ایک ایسے مفکر ہیں، جنہوں نے اس تنزل پر غور و فکر کیا تو انہیں اس کی خامیاں نظر آئیں، جن کا تعلق شعور سے ہے اور شعور کا مرکز خودی ہے۔ خودی کا ہتھیار ارادہ ہے جو ایک شعوری فیصلے کا نام ہے۔ اگر خودی مضبوط ہو تو ارادہ بھی مضبوط ہوتا ہے اور مضبوط ارادے سے مشکلات کا مقابلہ آسان ہو جاتا ہے۔ محنت بھی مضبوط ارادے سے وابستہ ہے ارادہ اور محنت اس وقت تک کھوکھلے ہیں۔ جب تک ان کے پیچھے کوئی مضبوط محرک نہ ہو، یعنی مقصد حیات۔ ایک نوجوان کسی لڑکی سے عشق کرتا ہے۔ لڑکی کہتی ہے سی ایس ایس کرو تو میں تم سے شادی کروں گی۔ اب مقابلے کا امتحان پاس کرنا نو جوان کے لیے ایک چیلنج بن جا تا ہے اور اس کی محنت کو اس محرّک سے توانائی ملتی ہے۔ اس توانائی کی وجہ سے راستے کی مشکلات آسان ہوتی جاتی ہیں۔ یہ ایک ذاتی محرّک کی بات ہے کیونکہ بات ذات سے شروع ہوئی تھی۔ اب تھوڑی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خودی اور خدا کا تصور ہے یعنی خدا کو کہاں ڈھونڈا جائے۔ خدا بھی ایک خودی کا نام ہے لیکن وہ مطلق خودی ہے جو مکانی اور زمانی قیود سے آزاد ہے۔ انسانی خودی مطلق نہیں ہے، اس پر زمان و مکان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن اس کو توانائی مطلق خودی سے ملی ہے۔ اس لیے ہر انسانی خودی منفرد ہے اور یہ انفرادیت کی توانائی اس نور کی جھلک ہے جو ابدی ہے ، لا زوال ہے، قادر ہے اور مطلق ہے۔

لہٰذا جو خودی خدا کے تعلق کو سمجھنے سے قاصر ہے یا تعلق کو توڑتا ہے، یا سرکشی کرتا ہے، وہ اپنے مقام سے گرتا ہے اور قابل مو اخذہ ہے۔ اور جو خودی خدا کے ساتھ تعلق استوار کرنا چاہے، اس کو مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہاں سے خدا شناس اور خدا نا شناس خودی کے راستے جدا ہوتے ہیں۔

خدا شناس خودی کا تصور حیا ت ہی مختلف ہوتا ہے۔ جب تصور حیات مختلف ہو تو اعمال بھی مختلف ہوتے ہیں، ترجیحات بھی مختلف ہوتی ہیں، پسند و ناپسند کے معاملات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی ایک تاریخی مثال ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ملتی ہے کہ جب ایران سے ایک ایسا قالین مال غنیمت میں مدینے بھیجا گیا تھا جو بہت بیش قیمت تھا۔ کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ یہ خلیفہ کے لیے ہی مناسب رہے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کافی دیر تک روتے رہے اور یہ کہہ کر منظر سے ہٹ گئے کہ کل صبح فیصلہ کروں گا۔ پھر فیصلہ یہ دیا کہ اس خوبصورت اور بیش بہا قالین کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مدینے کے غرباء میں تقسیم کردیا جائے۔

Comments

Avatar

ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.