رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنا، خواب کی شرعی حیثیت – عادل سہیل ظفر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں ہمیں خُود اُنہی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کچھ خبر عطاء فرمائی گئی ہے۔
دِین کے کِسی بھی مسئلے، کِسی بھی موضوع کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِرشادات سے بڑھ کر حق والی سبیل اور کوئی نہیں ، اور اِس مسئلے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو خبر کروائی ہے وہ اپنے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان شریف سے ہی کروائی ہے۔

آئیے ان احادیث شریفہ کا مطالعہ کرتے ہیں ، اللہ عزّ و جلّ ہمیں حق سمجھنے، ماننے، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے یہ روایت درج ذیل صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے :
(1) ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ، (2) عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ، (3) أبی سعید الخُدری رضی اللہ عنہ ُ، (4)عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ُ، (5) عبداللہ ابن عَمرو، (6) جابر بن عبداللہ، (7) انس ابن مالک، (8) ابو مسعود، (9) ابو قتادہ، (10) البرا ء، (11) عمران بن حصین، (12) عبداللہ ابن عُمر، (13) حذیفہ ابن الیمان، (14) ابی مالک الأشجعی، (15) طارق بن أشیع الأشجعی، (16) أبی جحیفة، (17)ابی بکرۃ، (18)مالک بن عبداللہ الخثعمی،

(1) ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے یہ درج ذیل روایات مروی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا "جِس نے مجھے خواب میں دیکھا تو عنقریب مجھے جاگتے ہوئے بھی دیکھے گا" (صحیح بخاری /حدیث /6993کتاب التعبیر /باب10 مَنْ رَأَى النَّبِىَّ - صلى الله علیه وسلم - فِى الْمَنَامِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا "جِس نے مجھے خواب میں دیکھا تو عنقریب مجھے جاگتے ہوئے بھی دیکھے گا" یا اِرشاد فرمایا "تو گویا کہ ضرور ہی اُس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا ہے، اور شیطان میری صُورت نہیں اپنا سکتا" (صحیح مُسلم /حدیث /6057کتاب الرویاء /باب2، سُنن ابو داؤد /حدیث /5025کتاب الادب /باب96، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا)

(2) عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا "جِس نے مجھے خواب میں دیکھا تو عنقریب مجھے جاگتے ہوئے بھی دیکھے گا" (سُنن ابن ماجہ /حدیث /4033کتاب الادب /باب2 رُّؤْیا النَّبی فی المنام، سُنن الترمذی /حدیث /2445کتاب الرویاء /باب4، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا)

(3) ابو سعید الخُدری رضی اللہ عنہ ُ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا "جِس نے مجھے ( خواب میں ) دیکھا تو اُس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان میرے جیسا نہیں بن سکتا" (صحیح بخاری /حدیث /6997کتاب التعبیر /باب10)

(4) أنس رضی اللہ عنہ ُ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا "جِس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اُس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صُورت(اختیار کر کے اُس ) کا شبہ نہیں ڈال سکتا، اور اِیمان والے کا خواب نبوت کے چھیالیس (46) درجات میں سے ایک درجہ ہے " (صحیح بخاری /حدیث /6994کتاب التعبیر /باب10)

(5) ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا "جِس نے مجھے (خواب میں )دیکھا تو اُس حق دیکھا" (صحیح بخاری /حدیث /6996کتاب التعبیر /باب10 مَنْ رَأَى النَّبِىَّ - صلى الله علیه وسلم - فِى الْمَنَامِ، صحیح مُسلم /حدیث /6058کتاب الرویاء /باب2)

دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اِلفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہی بات مروی ہے۔ لہذا، اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ کِسی اُمتی کا اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اپنے خواب میں دیکھنا عین ممکن ہے، لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کِسی کے ایسے خواب کی سچائی کی تصدیق کی صِرف ایک ہی صُورت ہے، جو اِن احادیث مُبارکہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ نظر آتی ہے، اور وہ یہ کہ اُس خواب دیکھنے والے نے جاگتے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دیکھا ہو، ورنہ اِس کے عِلاوہ کِسی کے پاس اپنے خواب کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ، اور یہ دلیل صِرف کِسی صحابی رضی اللہ عنہ ُ کو ہی میسر ہو سکتی تھی۔

لہٰذا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے عِلاوہ کِسی بھی اور شخص کے خواب کے بارے میں اُس کی شخصیت کے قران و سُنّت کے تابع فرمان ہونے کے مُطابق حُسنء ظن ہی رکھا جا سکتا ہے، یقین نہیں ۔ خاص طور پر جب کہ خواب میں کوئی ایسی بات دِکھائی دی ہو جو قران کریم اور صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ کی موافقت نہ رکھتی ہو، یا، اُن کی تائید نہ پاتی ہو، تو پھر تو اُس خواب کو ماننا سوائے غلط فہمی کے اور کچھ نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   کب سے بنجر تھی نظر، خواب تو آیا - عبدالباسط ذوالفقار

اب تو ہمارے ہاں گویا ایک رواج سا ہو گیا ہے کہ کوئی بھی یہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے، اور فُلاں فُلاں حکم ہوا ہے، یا، فُلاں فُلاں کے بارے میں خبر دی گئی ہے، کِسی کو مدرسہ بنانے کا حکم، کِسی کو جماعت بنانے کا حکم، کِسی کو مدینہ واپس پہنچانے کا انتظام کرنے کا حکم، کِسی کو کِسی کے جنّت میں پہنچ جانے کی خبر، اور، اور!

گویا کہ معاذ اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اِن لوگوں کو اِس قِسم کے احکام دینے اور خبریں پہنچانے پر مقرر کر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ نشے میں چُور، رقص و سرود میں مخمور، مرد و زن کے اختلاط والی محفلیں اور مجلسیں سجانے والوں کو بھی زیارت ہوتی ہے اور اُن کی اِن اور اِسی قِسم کی دیگر مشغولیات سے منع کیے جانے کے بجائے کوئی اور احکام دیے جاتے ہیں ، ولا حَولَ ولا قُوۃَ اِلَّا باللَّہِ۔

جو لوگ اللہ عزّ و جلّ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں، اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کبھی خواب میں آ کر ہدایات نہیں فرماتے، خاص طور پر حکمران طبقے کے لوگوں کو کہ جِن کے سدھرنے سے بہت بڑی خیر واقع ہو سکتی ہے۔

پس، اِس معاملے میں خُوب چُوکنا رہیے، اور ہر کِسی کے خوابوں کو سچ مان کر اُس کے خوابوں کو حکمء رسول مت مانیے، اور نہ اُن خوابوں کی بِناء پر کوئی عقیدہ اپنائیے، نہ کوئی عمل کیجیے، اور نہ ہی کِسی نیک عمل سے رُکیے، اور نہ اُس شخص کو اللہ کا کوئی مُقرب سمجھنے لگیے۔

یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے کہ، اگر خواب سچے بھی ہوں تو بھی، نبیوں اور رسولوں علیہم السلام کے خوابوں کے عِلاوہ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جِس کِسی کے کِسی خواب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے قبول فرمایا اُس کے عِلاوہ، کِسی بھی اور کا خواب شریعت کے کِسی بھی معاملے، کِسی بھی مسئلے، کِسی بھی عقیدے کی دلیل نہیں ہوتا،
خوابوں کے بارے میں اہلِ سُنّت و الجماعت کا فیصلہ یہ ہی ہے کہ خوابوں میں کِسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔

یہ ایک دِینی مسئلہ ہے اور ایسا مسئلہ ہے جِس کا تعلق عقیدے اور عِبادات دونوں سے ہی ہے، دِین کے کِسی بھی مسئلے کا حکم جاننے کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کِسی ایک چیز کی دلیل کا ہونا ضروری ہے
( 1) قرآن (2) صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ (3) آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم ا جمعین، "اَثرٌ"کا مطلب ہے نشانی، یا نقشِ قدم، اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے اقوال و افعال کو “ مصطلح الحدیث “ یعنی علمِ حدیث کی اصطلاحات میں “ آثار” کہا جاتا ہے، اور کچھ محدثین “ آثار “ کا اطلاق “ حدیث “ پر بھی کرتے ہیں ، اور اِس کا عکس بھی استعمال ہوتا ہے۔ (4) اِجماع (5) اِجتہاد یا قیاس

عِبادت اور عقیدے کے مسائل میں اِجتہاد یا قیاس کی کوئی گنجائش نہیں ، اِس کے لیے قرآن کریم اور صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ، دونوں کی، یا دونوں میں سے کِسی ایک میں سے نصِ صریح یعنی واضح دلیل کا ہونا ضروری ہے۔

اگر قرآن کریم اور صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ میں سے کوئی صریح نص یعنی بالکل واضح جواب نہ مِل سکے تو پھر اِجماع اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔ اور جِس عقیدے، جِس کام، جِس بات، کی کوئی دلیل اور کوئی تائید اِن تمام مصادر میں نہ ملے تو اُسے دِین میں قُبول نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رکھیے، کہ، کِسی بات کو اپنی مرضی کے معنی ٰیا مفہوم میں ڈھالنے کی کوشش سے حقیقت نہیں بدلتی۔

جی، تو بات ہو رہی تھی دِینی احکام کے مصادر کی، اور یہ کہ کچھ لوگوں کی طرف سے “ اِلہام یا خواب “ کو بھی دِینی حکم لینے کی، اللہ کے غیب کی خبریں جاننے کی اور مُسقبل کی پیش گوئیاں کرنے کی دلیل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور دلیل کے طور پر وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس فرمان کو پیش کرتے ہیں جِس کا ابھی ذِکر کیا گیا ہے کہ " اور اِیمان والے کا خواب نبوت کے چھیالیس (46) درجات میں ے ایک درجہ ہے " (صحیح بخاری /حدیث /6994کتاب التعبیر /باب10 مَنْ رَأَى النَّبِىَّ - صلى الله علیه وسلم - فِى الْمَنَامِ)

یہ بھی پڑھیں:   دھرتی ہو گی ماں کے جیسی - راجہ وحید احمد

یہ حدیث یقینا صحیح ہے، لیکن !!! یہاں کچھ سوالات سامنے آتے ہیں کہ اچھا خواب کِس کا ہو گا؟؟؟ کیا ہر شخص کا خواب؟؟؟ اور کیا ہر خواب نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ سمجھا جائے گا؟؟؟

اِن سوالات کے جوابات پانے کے لیے ہمیں کِسی اور طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ۔ کائنات کی سب سے سچی ہستی اللہ عزّ و جلّ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی ز ُبان مُبارک سے، اپنے اِلفاظ شریفہ میں اِن سوالات کے جوابات عنایت فرما رکھے، توجہ، تحمل اور تدبر کے ساتھ مطالعہ فرمائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے کہ "کِسی اِیمان والے کا خواب نبوت کے چھیالس حصوں میں سے ایک حصہ ہے " (صحیح البُخاری /حدیث6983/ کتاب التعبیر/باب رقم 2 کی پہلی حدیث ) اور اِرشاد فرمایا "کِسی اِیمان والے کا خواب نبوت کے چھیالس حصوں میں سے ایک حصہ ہے " (صحیح مُسلم /حدیث 2263)

اِن دونوں احادیث میں ہمارے مذکورہ بالا سوالات کے جوابات ہیں ، اور وہ یہ کہ نہ تو ہر کِسی کا خواب مانے جانے کے قابل ہوتا ہے اور نہ ہی ہر خواب مانے جانے کے قابل ہوتا ہے، بلکہ صرف پرہیز گار، اِیمان والے کا اچھا خواب، کِسی کافر، مُشرک، بدعتی، یا بدکار مُسلمان وغیرہ کا نہیں ، خواہ اُس کے خواب فی الواقع سچے ہی کیوں نہ ہو جاتے ہوں ۔
اِمام ابن حجر رحمہ ُ اللہ نے صحیح البُخاری کی شرح “ فتح الباری “ میں اِس حدیث شریف کی شرح میں اِمام القُرطبی رحمہ ُ اللہ کا یہ قول نقل کیا "سچا، مُتقی، پرہیز گار مُسلمان ہی وہ شخص ہے جِس کا حال نبیوں کے حال سے مُناسبت رکھتا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے جِن چیزوں کے ذریعے نبیوں کو بُزرگی دی اُن میں سے ایک چیز غیب کی باتوں کے بارے میں کوئی خبر دینا ہے پس کِسی سچے، مُتقی، پرہیز گار مُسلمان کو اللہ اِس ذریعے سے بُزرگی دیتا ہے (یعنی اُس کو سچا خواب دِکھاتا ہے )۔ لیکن، کافر یا بدکار مُسلمان یا جِس کا حال دونوں طرف مِلا جُلا ہو(یعنی کچھ اچھائی بھی اور کچھ برائی بھی، کچھ نیکی بھی کرتا ہو اور کچھ بدی بھی تو )، ایسا شخص ہر گِز اِس بُزرگی کو نہیں پا سکتا۔

اگر کِسی وقت کِسی ایسے شخص کو سچا خواب نظر بھی آئے، تو اُس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی انتہائی جھوٹا آدمی بھی کبھی سچ بول ہی دیتا ہے، اور نہ ہی یہ بات دُرُست ہے کہ ہر وہ شخص جو غیب کی کوئی بات بتاتا ہے اُس کی بات نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے، جیسا کہ جادُوگر اور نجومی وغیرہ باتیں کرتے ہیں “

پس یہ بات واضح ہو گئی کہ کِسی کافر، مُشرک، بدعتی، یا بدکار مُسلمان کا سچا خواب اُس کی بُزرگی کی دلیل بھی نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ اُسے دِین میں کِسی عقیدے یا عِبادت کی، یا غیب کی کِسی خبر کی دلیل بنایا جائے، سچے خواب تو یوسف علیہ السلام کے قیدی ساتھیوں اور اُس مُلک کے بادشاہ نے بھی دیکھے تھے اور وہ تینوں ہی کافر تھے، اور اکثر یہ بھی مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ کِسی بدکار کلمہ گو، یا کافر، یا مُشرک کو بھی سچا خواب دِکھائی دے جاتا ہے.

لہذا، محترم قارئین، ایک دفعہ پھر کچھ دیر پہلے کی گئی گزارش دُہراتا ہوں کہ "اِس معاملے میں خُوب چُوکنا رہیے، اور ہر کِسی کے خوابوں کو سچ مان کر اُس کے خوابوں کو حکم رسول مت مانیے، اور نہ اُن خوابوں کی بِناء پر کوئی عقیدہ اپنایے، نہ کوئی عمل کیجیے، اور نہ ہی کِسی نیک عمل سے رُکیے، اور نہ اُس شخص کو اللہ کا کوئی مُقرب سمجھنے لگیے "

ٹیگز

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں