پاکستان کے امراض خبیثہ کا شافی علاج - ریحان اصغر سید

جس طرح انسان کا جسم اور روح بیمار ہو جاتے ہیں، اسی طرح ریاستوں کو بھی کئی قسم کے پوشیدہ اور پیچیدہ امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ ایسے امراض خبیثہ سے چھٹکارے کے لیے کسی حکیم الامت کی ضرورت پڑتی ہے، یا کسی ڈنڈا بردار عامل کامل بابا کی۔ بدقسمتی سے وطن عزیز کے پہلے اور آخری فاضل حکیم کو گزرے 80 سال ہونے کو آئے ہیں، اور ہنوز ان کے جانشین کی تلاش جاری ہے۔ عامل بابا کے نام پر بھی آ جا کے ہمارے پاس علامہ طاہر القادری بچے ہیں یا حافظ سعید مدظلہ العالی، ایک کا مزاج تیزابی ہے اور دوسرے کا جلالی۔ حیرت ہے کہ تعویذ دھاگے کی عادی قوم ان نفوس قدسیہ کی مسیحائی کی صلاحیتوں کے معاملے میں تشکیک کا شکار ہے۔ عدم علاج کی وجہ سے ملک خداداد کا جسم کینسر اور ناسور کے پھوڑوں کا گھر بن گیا ہے۔

بندہ ناچیز کو نہ تو حکمت کا دعوی ہے نہ بنگالی بابا ہونے کا، لیکن شرق و غرب میں پھیلے عقیدت مندوں کا اصرار ہے کہ اے بندہ خدا! ایک نظر ادھر بھی، سو ملکی معاملات کا طائرانہ جائزہ لینے کے بعد ہم نے کچھ تجاویز مرتب کی ہیں۔ یقین کامل ہے کہ اگر ان پر من و عن عملدرآمد کر لیا جائے تو وطن عزیز میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، نیز شیر اور بکری ایک ہی پبلک فلٹر پلانٹ سے پانی پیا کریں گے۔

تبدیلی نام
ہر نام کی ایک تاثیر ہوتی ہے، جو براہ راست شخصیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ پاکستان کا لفظی مطلب پاک استھان ہے، یعنی پاک جگہ. نام رکھنے کو تو ہمارے وڈے اپنی طرف سے ملک کا اچھا سا نام رکھ گئے لیکن کئی بنیادی حقائق فراموش کر گئے۔ مثلا وطن عزیز میں اکثریت بریلوی طبقے کی ہے، جو کہ دیوبندی اور اہلحدیث فرقے کے نزدیک مشرک ہے۔ بریلوی فرقہ دیوبندیوں کو گستاخ اور کافر سمجھتا ہے۔ اہل تشیع دونوں کے نزدیک کافر اور واجب القتل ہیں۔ یہ سب کل ِمل ملا کے کوئی بیس کروڑ کے لگ بھگ ''کافر'' بنتے ہیں۔ یاد رہے ہر کافر نجس ہے اور کسی نجس چیز کا پاک استھان میں کیا کام؟

چونکہ بیس کروڑ ''کافروں'' کو سمندر برد کرنا کوئی آسان کام نہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ ملک کا نام ہی بدل دیا جائے۔ علم نجوم کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کا برج اسد ہے۔ اسد والوں کے لیے موزوں نام ٹ اور م سے شروع ہوتے ہیں، اس مناسبت سے پاکستان کا نام بدل کر ٹکن سٹیٹ رکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

پاکستان کا نام بدلنے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے اوپر تمام واجب الادہ قرضہ یک مشت ختم ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ارکان اپنی وصولی کے لیے پاکستان نامی ملک کو ڈھونڈتے پھریں گے جو انھیں کہیں بھی نہیں ملے گا۔ اس طرح ہمارے لیے نئے قرضوں کے حصول کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ ملک کا نام بدلتے ہی ہم پاسپورٹ کا رنگ بھی بدل کر سرخ یا نیلا کر دیں گے، تا کہ ہمارے شہریوں کو کوئی دنیا کے کسی بھی ائیرپورٹ پر یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں رنگ کے پاسپورٹ حاملین ایک سائیڈ پر ہو جائیں۔

بادشاہی نظام کی واپسی
بیشتر پاکستانی اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے تقریبا سارے مسائل کی جڑ حکومت ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ایک دن بھی چھٹی نہیں کرتی کہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ نیز حکومت کے حصول کے لیے بننی والی نت نئی جماعتوں کے دھرنوں اور احتجاج نے بھی جنتا کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ گہرے غور و حوض کے بعد ہم اس نیتجے پر پہنچے ہیں کہ بادشاہی نظام ہی ان مسائل کا مستقل اور شافی علاج ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ ہر سال یکم جنوری کو بعد از نماز فجر قومی لشکر کے سپہ سالار ساتھ قاضی القضاہ کے، ہمراہ جن کے صالحین و مؤمنین کا ایک جھتہ ہو، سفید براق گھوڑوں پر سوار ہو کر فیصل مسجد اسلام آباد کے باہر منہ طرف راولپنڈی کر کے کھڑے ہو جائیں، اور جو پہلا اجنبی نظر آئے اسے ایک سال کے لیے ملک خداداد کا بادشاہ مقرر کر دیا جائے (لیکن اس بات کی تسلی کر لی جائے کہ بادشاہ کی عمر پانچ سال سے زیادہ اور سو سال سے کم ہو)، نئے بادشاہ کو ایک سال کی حکومت کے بعد اکتیس دسمبر کی رات گیارہ بج کے انسٹھ منٹ پر اڈیالہ جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔

اس طریق کار سے نہ صرف ہر خواہش مند کو حکومت کرنے کا موقع ملے گا بلکہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اسلام آباد پر بار بار یلغار کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔ مارشل لا کا خطرہ کم ہوگا اور موروثی سیاست کا قلع قمع کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان مفاہمتی عمل کے ادوار، آغاز تا اختتام کیا ہوا - قادر خان یوسف زئی

ٹرپل ون بریگیڈ
فقیر کے مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے مسائل ٹرپل ون برگیڈ اور جی ایچ کیو کے دارالحکومت کے اتنا نزدیک ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے آپ بھیڑ اور بھیڑیے یا بلی اور چوہے کو اتنا پاس پاس رکھیں گے تو اس طرح کے مسائل پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ دو نامحرموں کے بیچ میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ حل اس مسئلے کا یہ ہے کہ ٹرپل ون بریگیڈ کو ایل او سی پر تعینات کر دیا جائے، اور کوشش کی جائے کہ جی ایچ کیو کسی ہمسایہ یا دوست ملک میں تعمیر کروا کے ملٹری اسٹیلبشمنٹ کو وہیں رکھا جائے، اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوں تو فوجی ہیڈ کوارٹر افغانستان کے بارڈر کے کہیں آس پاس موو کروا دیا جائے۔ ایسی ہی سفارشات اعلی عدلیہ کے بارے میں بھی پیش کی جاتی ہیں۔

دانشور ایکسپورٹ کریں
فدوی نے جب بھی دیکھا وطن عزیز کو نازک صورتحال میں ہی گرفتار دیکھا ہے۔ چلیں عزت ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن مادر وطن کی کسمپرسی اور غربت مزید نہیں دیکھی جاتی۔ ایسے حالات میں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ چونکہ ہمارے پاس نیو کلیئر ٹیکنالوجی، دہشت گردی، چاول اور بندے ایکسپورٹ کرنے کے بعد زیادہ کچھ بچتا نہیں برآمد کرنے کو، اس لیے اپنا مشورہ یہ ہے کہ اب ضرورت سے زائد تمام فیس بکی دانشور ایکسپورٹ کر دیے جائیں۔ اگر کسی ملک سے ڈھیری کا سودا ہو جائے تو اچھا ہے، ورنہ دو ڈالر فی درجن کے حساب سے بھی ان کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ کسی بھی ملک سے ان کو برآمد کرنے کا معاہدہ کرتے ہوئے اس شق کا اندارج یقینی بنایا جائے کہ یہ پروڈکٹ ڈسپوزیبل اور ناقابل واپسی ہے۔ بعد میں کسی قسم کی شکایت وصول نہیں کی جائے گی۔ معیشت کی بہتری کی دیگر تجاویز میں نوجوانوں کی ٹائیپنگ سے بجلی بنانے کا منصوبہ، مستقبل میں چینی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مینڈکوں، کچھوے، اور ڈوڈو مچھلیوں کی فارمنگ کے جامع منصوبے شامل ہیں۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.