"اِس اشتہار کے تمام کردار فرضی تھے" - اسماعیل احمد

مجھے بچپن میں سردرد کی گولی کا اشتہار نہایت پسند تھا، جِس میں ایک ڈاکٹر صاحب نمودار ہوتے تھے اور فرماتے تھے "سر درد میں میرا انتخاب۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کا؟"۔ ڈاکٹر صاحب کے مشورے کے پیشِ نظر مجھے بچپن سے عادت ہو گئی کہ سر درد کی صورت میں، میں بھی وہ مشہور ِ زمانہ گولی استعمال کرنے لگا۔ تھوڑا بڑا ہوا کچھ لوگوں نے نصیحت کی اور کسی طبی جریدے میں یہ راز بھی افشا ہوا کہ اس طرح کی گولیوں کا استعمال ہماری صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر بار سر درد کی صورت میں گولی کو درد کشا کے طور پر استعمال کرنے سے وقتی طور پر آرام تو ملتا ہے لیکن گولی کا متواتر اور کثیر استعمال جسم کے باقی اعضا کی نشوونما کو نقصان پہنچاتا ہے بقول انور مسعود

سر درد میں گولی یہ بڑی زود اثر ہے

پر تھوڑا سا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس سے

ہو سکتی ہے پید ا کوئی تبخیر کی صورت

گردہ کوئی حیران بھی ہو سکتا ہے اس سے

بعد میں مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ ایسے تمام اشتہارات جن میں ٹوتھ پیسٹ، صابن یا مختلف ادویات بیچنے کے لیے ڈاکٹر صاحبان ٹی وی پر آکر اِن کے استعمال کا مشور ہ دیتے ہیں، وہ اصلی ڈاکٹر نہیں بلکہ فرضی کردار ہوتے ہیں۔ اب عوامی "رہنمائی" کے لیے ان اشتہاروں کے ساتھ نیچے ایک سطر میں یہ انتباہ بھی دیا جاتا ہے کہ "اس اشتہارے کے تمام کردار فرضی ہیں" لیکن بھولی بھالی عوام نیچے دی گئی سطر پر نگاہ کرنے کی بجائےسفید کاسٹیوم میں ملبوس "ڈاکٹر" کی رائے کا زیادہ شکا ر ہوتی ہےاور مرعوب ہو کر دیوانہ وار اشتہاروں والی پراڈکٹس استعمال کرنے کی عادی ہو جاتی ہے۔

این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے فتح کے ساتھ ہی مریم نواز کی لندن روانگی کو دیکھ کر میرا دھیان نہ جانے کیوں گولیوں والے اشتہار کے ڈاکٹر کی طرف چلا گیا۔ انتخابات کی مہم کے دوران وطنِ عزیز کے سب سے بڑے صاحبِ اختیار کی صاحبزادی روزانہ جِس حلقے میں آٹھ، دس گھنٹے گزارتی تھیں اور جہاں کے ووٹرز کو سہانے خواب دکھا کر ان کا قیمتی ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھیں، نجانے کتنے راستے این اے 120 کی عوام کو اس سلسلے میں طے کرائے گئے،کتنی منزلوں کی دھول چٹائی گئی، کتنی ہی بیماریوں، پریشانیوں اور بدحالیوں کا علاج صرف اتنا بتایا گیا کہ بس ایک ووٹ دیا جائے۔ سارے نیویارک، پیرس، بیجنگ، ٹوکیو، لاہور کے اندر بسا دیے گئے ایک ووٹ کی خاطر اور عوام نے اِس آس پر اپنا قیمتی ووٹ مریم نواز کی جھولی میں ڈال دیا کہ شاید ووٹ کی یہ گولی ہی ہمارے ہر دکھ درد کا مداوا ہو۔ووٹ کی صرف ایک گولی سے ہمارے بچوں کی تعلیم و صحت کے سر درد، بھوک، مہنگائی، بے روزگاری کے بوجھل پن، انصاف کے حصول کی گرانی سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ مگر عوام کو شاید معلوم نہ تھا کہ ووٹ کی اس گولی کے استعمال کی اشتہاری مہم کی 'باٹم لائن' میں ایک سطر درج ہے کہ " اِس اشتہار کے تمام کردا ر فرضی ہیں"۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

اشتہار ختم ہوتے اور گولی کے بکتے ہی روشن چہر ہ مریم نواز آسان ترین اردو محاورے کے مطابق یوں غائب ہوئیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور اُس دیس سدھار گئیں جسے خیرسے اُن کے 'پیا کا دیس' بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ایک این اے 120 پر ہی کیا موقوف ؟ میرے پیارے وطن پر جب بھی انتخابات کا موسم آتا ہے چاہے وہ بلدیاتی ہوں یا قومی، نِت نئے کاسٹیومز میں ملبوس "رنگ برنگے ڈاکٹر " جہالتوں، ذلتوں، پستیوں، اندھیروں کی ساری بیماریوں کے علاج کے لیے ووٹ کی گولی کے استعمال کا مشور ہ دینے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور جب اُن انتخابات میں عوام کا حق ِ رائے دہی اپنے حق میں استعمال کروا کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو عوام کے لیے پیچھے صرف ایک سبق چھوڑ جاتے ہیں کہ" اس اشتہار کے تما م کردار فرضی تھے"۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.