جلے بھی کٹے بھی، ظالم بھی ٹھہرے - سعید الرحمٰن

آج کئی سال بعد وہ اپنے گھر جا رہا تھا، دل و دماغ میں طرح طرح کے خواب تھے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کیسے منصوبے تیار کرچکا تھاوہ؟ سب تو یہاں بیان نہیں ہوسکتا مگرایک باپ کی طرح ہزاروں خواہشیں اپنے بچوں کے لیے اس کے دل میں پیداہوگئی تھیں۔ وہ گھر پہنچ بھی گیا جہاں اس نے اپنی 6 سالہ بچی کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ اس نے زندگی کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے تھے۔ آج جب وہ گھر پہنچا تو حالات ایسے نہیں ہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ وہی کچھ پل گزار سکے۔ دن بدن حالات کی خرابی نے اس کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے بچوں سمیت وہاں سے نکلے اور کسی اور ملک میں جابسے۔ اسی مقصد سے ایک دن وہ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر کئی دن پیدل سفر کرنے کے بعد سرحدی حدود کے قریب اسی ملک کی افواج کا نشانہ بن جاتا ہے۔ گھر کے پانچ افراد میں سے سوائے اس کے کوئی اور زندہ نہیں بچتا۔ یہ واقعہ 50 سالہ محمد موسیٰ کے ساتھ پیش آیا۔ یہی وہ شخص ہے جو سات سال بعد گھر گیا تھا۔ کچھ دن گھروالوں ساتھ گزرے ہوں گے کہ وہ اپنے بچوں سے عمر بھر کے لیے بچھڑ گیا۔ وہ اپنے بچوں کو لے کر کئی دنوں پیدل سفر کرتے ہوئے سرحد تک پہنچا ہی تھا کہ موت نے دستک دے دی اور اس کی بیوی سمیت تمام بچے ہمیشہ کے لیے سوگئے۔ محمد موسیٰ دراصل برما یعنی میانمار کے صوبے اراکان کا رہائشی تھا، جنہیں وہاں رہنے نہیں دیا گیا اور آج جب اتنے سال بعد وہ اپنے بچوں سے ملنے اور اپنے ساتھ لانے گیا تھا تو موت منتظر تھی۔ یہ تو ایک واقعہ ہے جو اس کے اپنے ساتھ پیش آیا تھا مگر سینکڑوں ایسے قصے کہانیاں اور انسانیت سوز واقعات ہیں جن کا ذکر اس نے ہم سے کیا۔ سن کر دل ہی دہلنے لگتا ہے۔ پھر یہی نہیں، ذرا تصور کیجیے ایسے ہزاروں موسیٰ ہوں گے جنہوں نے بے بسی سے اپنی ماؤں اور بہنوں کی عصمتیں لٹتی دیکھی ہوں گی، کتنے ہی موسیٰ ایسے ہوں گے جو اپنے چند ماہ کے بچوں کو برمی فوجیوں کے پاؤں تلے کچلتے دیکھ کرکرب میں مبتلا ہوئے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   رخائن کا قبرستان اور جسدِ واحد کے مجاور - کرم الٰہی گوندل

برما کی حالیہ صورتحال پر لکھنے بیٹھیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا لکھا جائے اور کیا نہیں۔ ایک تحریر میں اتنے سارے واقعات کو سمونا اور اتنے بڑے المیے کو بیان کرنا برما کے مظلوموں پر بذات خود ایک اور ظلم ہوگا، جس کاارتکاب اب تک ہمارے کئی بڑے قلم کار کرچکے تھے۔

برما ایک کمزور معیشت رکھنے والا ملک ہے اور پاکستان کی طرح مارشل لاء کے طویل دور سے گزرا ہے۔ 1996ء میں اس کا نام تبدیل کرکے میانمار رکھ دیا گیا۔ اراکان اسی ملک کا ایک صوبہ ہے جس کی اکثریت کبھی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اراکان بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ رنگ و نسل میں بنگلہ دیشی ہی لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسلمانوں کو برمی شمار نہیں کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنے ملک بنگلہ دیش چلے جاؤ۔ حالت تو یہ ہے کہ اراکان میں مسلمانوں کو بغیر حکومتی اجازت کے شادی کرنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ ایسی ایسی قدغنیں ان پر لگائی گئی ہیں کہ جن کا ذکر بھی یہاں ممکن نہیں۔

بلاشبہ اس وقت دنیا کی مظلوم ترین اقلیت یہی برمی مسلمان ہیں جنہیں نہ بنگلہ دیش تسلیم کر رہا ہے اور نہ برما رہنے دیتا ہے۔ اب یہ لوگ جائیں تو جائیں کہاں؟

اراکان اب مسلمانوں سے کافی حد تک خالی کرا لیا گیا ہے۔ ان کی بستیوں کی بستیاں جلا کر راکھ کر دی گئی ہیں۔ بچے، بوڑھے اور خواتین کوئی بھی بدھ بھکشوؤں کے مظالم سے بچنے والا نہیں ہے۔ انتہا پسند بھکشوؤں نے مسلمانوں کے لیے جو سزائیں تجویز کی ہیں ان میں پہلی یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو لٹا کر بھاری وزن والے افراد ان کی پیٹھ، بازو اور ٹانگوں پر پاؤں رکھ دیں۔ نو عمر لڑکوں کو ٹولیوں کی صورت میں برہنہ کرکے زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور پھر ڈنڈوں یا پائپ سے ان کی پیٹھ اور ٹانگوں پر مارا جاتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ بھکشوؤں کے حکم کے مطابق سزا کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بہت سارے مرد اور خواتین کو بالکل برہنہ کرکے بڑے گھڑوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور پٹرول ڈال کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ یہ ان سات سزاؤں میں شامل ہیں جو ان بھکشوؤں نے مسلمانوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر اور کھلی نسل کشی دور جدید میں شاید ہی کسی اور قوم کے خلاف دیکھی گئی لیکن اس کے باوجود اقوام عالم خاموش ہیں بالخصوص مسلم ممالک کا کردار افسوسناک ہے۔ سوائے ترکی کے کسی ملک نے عملاً کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ حالانکہ یہ وقت ہے ہجرت مدینہ کی یادیں تازہ کرنے کا، مہاجرین کے لیے انصار بن جانے کا، ان کے لیے خصوصی فنڈنگ جاری کرنے اور ان کے کھانے پینے اور رہنے کے لیے انتظامات کرنے کا، ساتھ ہی انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر بھی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ برمی مسلمانوں کے خلاف مظالم کی روک تھام کے لیے کام کریں۔ دیکھتے ہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کون اس اہم مسئلے پر آواز اٹھاتا ہے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!