ضمنی الیکشن، بولتے ہوئے احوال اور حقائق پر خاموشی - احسن رضا

سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کی اہم نشست پر 17 ستمبر 2017ء کو ضمنی الیکشن ہوئے۔ الیکشن کمیشن آف پا کستان کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پوزیشنز اور ووٹس کی تعداد کچھ اس طرح رہی:

1.کلثوم نواز (پاکستان مسلم لیگ ن) 61745 ووٹس

2. ڈاکٹر یاسمین راشد (پاکستان تحریک انصاف) 47099 ووٹس

3. شیخ اظہر حسین رضوی (تحریک لبیک(یا رسول اللہ) پاکستان) 7130 ووٹس

یہاں قابل توجہ بات یہ ہے تیسرا نمبر کئی دہائیوں سے سیاست کرنے والی کسی سیاسی جماعت اور امیدوار کا نہیں ہے بلکہ دو ماہ پہلے رجسٹرڈ ہونے والی نئی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کا ہے، جس کے امیر علامہ خادم حسین رضوی ہیں ۔ اس تحریک نے پہلی مرتبہ کسی الیکشن میں حصہ لیا اور پولنگ ڈے سے چند روز پہلے ہی الاٹ کیے گئے انتخابی نشان "کرین" پر اپنے جائز اور محدود ذرائع سے ایک اچھی انتخابی مہم چلائی، "ڈور ٹو ڈور" لوگوں سے رابطہ کیا اور اپنا بے لاگ اور واضح موقف بتایا کہ ہمارا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تخت پر لانا، ناموس رسالت و دو قومی نظریے کا تحفظ کرنا اور اسلام و پاکستان دشمن باطل قوتوں کا سد باب کرنا ہے۔ لیکن اس تحریک کا پہلے دن سے ہی ہر سطح پر بائیکاٹ کیا گیا اور منفی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ میڈیا نے اس تحریک کی ایک نمایاں اور اچھی انتخابی مہم کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا اور کسی جلسہ کی کوریج تو دور، خبر بھی دینے سے گریزاں رہا۔ ایک مرتبہ لائیو کوریج میں ایک ووٹر نے تحریک کا نام ہی لیا تو رپورٹر/اینکر نے کا ل ہی کاٹ دی۔

انتخابی مہم کے دوران الیکشن سے چند دن پہلے ن لیگ نے تحریک کی عوام میں خاطر خواہ پذیرائی کی وجہ سے بوکھلا کر جھوٹی خبر پھیلائی کہ تحریک نےن لیگ کی حمایت کر دی ہے۔ جسے پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا نے فرض عین سمجھتے ہوئے بغیر تحقیق، تخریج اور تفشیش کے خوب پھیلایا۔ لیکن جب تحریک کے مرکزی قائدین نے سختی سے تردید کر دی تو پھر بھی میڈیا رجوع کرنے کی بجائے جھوٹ کو عام کرنے کا فریضہ سر انجام دیتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے – محمد توقیر

آخر کار الیکشن کا دن آ گیا۔ کئی پولنگ سٹیشنز پر تحریک لبیک پاکستان دوسرے یا تیسرے نمبر پر رہی اور مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر رہی لیکن بزبان خود سچی اور تحقیقی صحافت کے علمبردار کسی میڈیا گروپ نے جھوٹے منہ سے بھی امیدوار اور اور تحریک کا نام لینا ہی گوارا نہ کیا۔ آخر ایسا خوف اور بوکھلاہٹ کیا تھی؟ جس کی وجہ سے ایک، ایک دو، دو ووٹس حاصل کرنے والی جماعتوں کا تو میڈیا پر خوب چرچا کیا گیا لیکن تیسرے نمبر پر ووٹس حاصل کرنے والی تحریک کو ارادتأ پاکستانی عوام سے چھپایا گیا؟ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تو تحریک لبیک پاکستان کے ووٹس اور پوزیشن واضح ہو گئی اور میڈیا کا منفی اور حقیقت بیزار کردار بھی آشکار ہو گیا۔

الیکشن سے اگلے دن اردو اور انگلش کے مشہور اخبارات نے تمام نتائج اور حقائق کو جانتے ہوئے بھی تحریک لبیک پاکستان اور نامزد امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی کا نام حذف کر کے اور چھپا کر اپنی تحقیقی اور صحافتی خیانت کا ایک بار پھر سے بھر پور مظاہرہ کیا۔ کچھ نے آزاد امیدوار کے طور پر پیش کر دیا جبکہ تحریک لبیک پاکستان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی رجسٹرڈ پا رٹیز لسٹ میں سیریل نمبر 318 پر رجسٹرڈہے۔

جیتنے والے جیت گئے مقابلہ کرنے والوں نے خوب مقابلہ کیا اور کرتے رہیں گے لیکن ان تمام احوال اور حقائق کے بعد حکومتی متعلقہ اداروں اور میڈیا سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ انہوں نے یہ کردار کن اصول و ضوابط اور اخلاقی و صحافتی اقدار کے تحت ادا کیا ؟ یہ سب کچھ کس کے لیے اور کیوں کیا گیا ؟ ہر شخص، چیز ، ادارہ اور شعبہ کا کوئی معیار ہوتا ہے لیکن کچھ کا معیار ہی بے معیار ہوتا ہے۔