بیمار ہوئے جس کے سبب - افشاں نوید

آپ نے بھی یہ خبر پڑھی ہوگی کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشیف نے ’’20 ارب‘‘ روپے کے، گردوں کے علاج کے ایک انسٹی ٹیوٹ کا پچھلے دنوں افتتاح فرمایا۔ یہ آواز باربار مختلف جگہوں پر اٹھتی رہتی ہے کہ ہمارے یہاں علاج معالجے کی سہولتوں کا فقدان ہے، اسپتالوں میں آلات اور مشینوں کی کمی ہے، ڈاکٹر گائوں دیہات کا رخ نہیں کرتے، مزید اسپتال بننے چاہئیں، موجودہ اسپتالوں کا معیار بڑھنا چاہیے وغیرہ وغیرہ… آپ اسپتالوں میں جائیں تو اتنا رش کہ محسوس ہوتا ہے ساری خلقت نے ہی اسپتالوںکا رخ کرلیا ہے۔ اب کراچی کے بڑے اسپتالوں کا یہ حال ہے کہ ایمرجنسی کی حالت میں بھی آپ رابطہ کرکے جائیں کہ آپ کو ایمرجنسی کی سہولت دستیاب ہوسکے گی کہ نہیں۔ پچھلے دنوں میں ایک ایمرجنسی سے دوچار ہوئی، مقامی اسپتال والوں نے کہا کہ فوری اس بڑے اسپتال سے رجوع کریں۔ اس معروف اور مہنگے اسپتال کی ایمرجنسی میں اتنی لمبی لائن لگی ہوئی تھی کہ گھنٹوں باری آنے کا امکان نہ تھا، لہٰذا مجبوراً دوسرے اسپتال کا رخ کرنا پڑا۔ ہماری ایک عزیزہ کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی، اُن کے رشتے دار شہر بھر کے اسپتالوں سے رجوع کرتے رہے، معلوم ہوا کہ ہر جگہ وینٹی لیٹر مصروف ہیں۔ ایک اسپتال کی ویٹنگ لسٹ میں اُن کا نام رکھا گیا اور بہت انتظار کے بعد اُن کو وینٹی لیٹر میسر آیا۔

ایک ملک جس کی دو تہائی آبادی دیہی ہو، وہاں لوگوں کو معمولی علاج کے لیے بھی شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ کتنے لوگ اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ سفری اور علاج کے اخراجات برداشت کرسکیں؟ اسی لیے زیادہ تر لوگ اتائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور خاموشی سے سفید لباس پہن کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

اسپتال ضرور بننے چاہییں اور موجودہ اسپتالوں کو بھی جدید ترین سہولتوں سے مزین ہونا چاہیے، لیکن اسپتال آخری مرحلہ ہے، اس سے پہلے کے مراحل کے بارے میں کم ہی سوچا جاتا ہے اور کم ہی بات کی جاتی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسپتال بننے سے بیماریاں کم ہوجائیں گی تو وہ غلطی پر ہے۔ جتنے اسپتال بن رہے ہیں، نئی نئی ویکسین دریافت ہو رہی ہیں، تشخیص کے جدید ترین اسلوب اپنائے جارہے ہیں، اتنی ہی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

کل رات اپنی پڑوسن کے ہاں عیادت کے لیے گئی، اُن کے شوہر 5 دن اسپتال میں رہ کر آئے ہیں۔ بولیں ’’پہلے بخار آتا تھا، علاج سے اتر بھی جاتا تھا۔ اب بخار آتا ہے تو تشخیص پر پتا چلتا ہے کہ چکن گونیا ہے، ٹائیفائیڈ ہے، ڈینگی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے بخار کو معمولی بیماری سمجھ کر نظرانداز کرنا، یا گھر میں ڈبے میں موجود بخار کی گولی کھا لینا سمجھیے کہ موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے‘‘۔ بولیں ’’جاننے والوں میں عید کے اگلے دن ایک صاحب کو بخار آیا جو تیز ہوتا گیا۔ ایک اسپتال نے دو دن رکھ کر کہا فلاں اسپتال لے جائو، وہاں تین دن رکھ کر کہا گیا کہ ان پر کانگو وائرس کا حملہ ہوا ہے، اس کا علاج ہمارے پاس نہیں، سرکاری اسپتال لے جائیں۔ سرکاری اسپتال میں جانے کے اگلے دن ان کا انتقال ہوگیا اور میت کو پلاسٹک میں پیک کرکے تابوت میں بند کرکے بھیجا گیا، یہاں تک کہ تابوت کھولنے اور آخری دیدار کرنے کی بھی کسی کو اجازت نہ دی گئی کہ وہ جراثیم اتنا خطرناک ہوتا ہے۔

میری بیٹیاں جو ڈاکٹر ہیں، کہتی ہیں کہ ان کا روز جن مریضوں سے واسطہ پڑتا ہے، ان کی بیماریوں کی بڑی وجہ ان میں بیماریوں سے بچنے کے شعور اور آگہی کا نہ ہونا ہے۔ اسپتال بنانے سے بہت بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچایا جائے، ان کو شعور دیا جائے کہ وہ بیماریوں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ جس ملک میں پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں وہاں بیماریوں سے کیسے اور کتنا لڑا جاسکتا ہے!

پچھلے ہفتے اخبارات میں مسلسل خبریں آئیں کہ پانی کے 80 فیصد نمونے لیبارٹری میں حفظانِ صحت کے خلاف پائے گئے۔ یعنی 100 میں سے 80 لوگ آلودہ پانی کی وجہ سے بیمار پڑتے ہیں۔ پچھلے ماہ کی خبر تھی کہ اسپتالوں کے انڈر گرائونڈ پانی کے ٹینکوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں مُردہ جانور پڑے ہوئے پائے گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب لیبارٹری ٹیسٹوں سے پتا چلا تھا کہ 80 فیصد پانی ناقص ہے تو ملکی سطح پر ایک آواز اٹھنا چاہیے تھی، اخبارات میں اس پر اداریے اور کالم لکھے جاتے… لیکن ہمارے ہاں تو عمران خان کا جلسہ، طاہرالقادری کی آمد، کرکٹ میچوں کا انعقاد اور کسی انتخابی حلقے کا ضمنی الیکشن ہی شہ سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں۔

اسی ہفتے یہ وڈیو سوشل میڈیا پر آپ کی بھی نظر سے گزری ہوگی کہ میکڈونلڈ کی اشیا پر حفظانِ صحت کے اصولوں پر پورا نہ اترنے کی بنا پر دنیا بھر کے ممالک میں ان کی ترسیل بند کردی گئی۔ لیکن پاکستان میں چین کے ایک شہر سے برابر ان کی درآمد جاری رہی۔ ایک طرف لوگوں نے میکڈونلڈ پر پیسے خرچ کیے اور دوسرے مرحلے میں اسپتالوں میں جیبیں خالی کیں۔ حال ہی میں کئی بار خبریں آئیں کہ ناقص اشیا تیار کرنے پر فلاں فیکٹری کو یا فلاں بیکری کو بند کردیا گیا، مگر کسی کو بھی عبرت ناک سزا نہیں ہوئی۔ نام نہاد گرفتاریاں ہوتی ہیں، پھر ضمانتیں ہوجاتی ہیں اور کاروبار پہلے سے زیادہ چمکنے لگتا ہے۔

بہت تیزی سے باہر کے کھانوں کا رواج بڑھ رہا ہے۔ ایک تو ریستورانوں کے باہر سرِِشام بچھ جانے والی میزیں، کرسیاں، تخت، گائو تکیے اور رات ہوتے ہوتے گویا جشن کا سماں… لگتا ہے آج بیبیوں نے گھروں میں چولہے ہی نہیں جلائے۔ پہلے گھروں پر آرڈر دے کر کھانا منگوانے کا چلن پوش علاقوں میں تھا، اب شہر کے نیم متوسط علاقوں کی گلیوں اور محلوں میں یہ ثقافت عام ہے۔ مہنگا کھانا جہاں سے آپ آرڈر دے کر منگواتے ہیں کیا آپ جاکر اُن کا کچن چیک کرسکتے ہیں؟ دورانِ تیاری کوئی آپ کو دیکھنے کی اجازت دے گا؟ صرف ایک شہر کراچی میں ہر رات کروڑوں روپے کا کھانا تقریبات کے لیے تیار ہوتا ہے اور یہ کامیاب ترین کاروبار ہے۔ لاکھوں روپے کا وہ کھانا جو سوزوکیوں میں رکھ کر شادی ہالوں میں پہنچایا جاتا ہے، کیا کبھی کوئی فوڈ اتھارٹی ان جگہوں پر چھاپے مارتی ہے جہاں یہ کھانا تیار ہوتا ہے؟ کون سا گوشت، کون سے روغنیات اور مسالہ جات ان میں استعمال کیے جاتے ہیں؟ اور جہاں یہ کھانے تیار ہوتے ہیں وہاں دورانِ تیاری حفظانِِ صحت کے اصولوں کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے؟ کتنی بار خبریں آتی ہیں کہ شادی کا کھانا کھاکر اتنے لوگ جاں بحق ہوئے، کچی شراب پینے سے اتنے لوگ ہلاک ہوگئے۔ لوگ مرتے رہتے ہیں اور کاروبار چلتے رہتے ہیں۔ اسپتال آباد ہیں، لیبارٹریاں آباد ہیں، میڈیکل اسٹور آباد ہیں… برباد ہے تو انسانوں کی صحت۔

آپ لاکھ اسپتال بنائیں، جدید ترین آلات درآمد کریں، ڈاکٹروں کی فوج تیار کریں لیکن یہ انسان کو صحت دینے سے قاصر رہیں گے، جبکہ آپ کو معلوم ہے کہ فارم کی مرغیوں کو جو فیڈ دی جاتی ہے، اس میں مصنوعی افزائش کے لیے خطرناک اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ کئی بار لیبارٹری ٹیسٹ پر اس کا انکشاف ہوچکا ہے۔ مرغیوں کو ہارمونز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ درختوں میں مصنوعی کھاد استعمال کی جاتی ہے، فصلوں کی جلد افزائش کے لیے جو اسپرے کیے جاتے ہیں، وہ انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ مغرب میں تحقیق کی جاتی ہے اور اربوں ڈالر اس تحقیق پر صرف کیے جاتے ہیں کہ فلاں فلاں بیماریوں کے بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟ اور سارا زور اس آگہی پر دیا جاتا ہے کہ لوگ بیماریوں سے بچنے کی آگہی حاصل کریں۔ ہمارے ہاں کتنی بار جعلی ادویہ بنانے والی کمپنیاں منظرعام پر آئیں، کتنی بڑی مقدار میں جعلی ادویہ بازار میں دستیاب ہیں، کتنے جعلی ڈاکٹر ہیں، کتنے اتائی لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں! میڈیا کی تیز تر ترقی بہت کچھ منظرعام پر لے آئی ہے۔ یہ بات گردش میں آئی کہ فارم کی مرغیوں کو دل کے امراض سے بچانے کے لیے سنکھیے کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔ سنکھیا ایسا خطرناک زہر ہے جو ہڈی اور جوڑوں کے لاتعداد مسائل پیدا کرتا ہے، نیز سافٹ ڈرنک میں بھی خطرناک اجزا شامل ہوتے ہیں جو بڑی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ تیزی سے بدلتی ہوئی اقدار اور طرزِ زندگی بھی ہمیں صحت مند زندگی سے دور کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔