معاملہ " گھر کی صفائی کا " - امجد طفیل بھٹی

پچھلے دنوں کی بات ہے جب ہمارے وزیر خارجہ جناب خواجہ آصف صاحب نے دہشت گردی کے خلاف بات کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے ہمیں اپنے گھر کی صفائی کرنی پڑے گی اور بعد میں کوئی اور بات۔ اس بیان کے بعد مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار صاحب نے فرمایا کہ آرمی چیف دنیا کو "ڈو مور" کرنے کا کہہ رہے ہیں جبکہ ہمارے وزیرخارجہ اپنے ہی ملک میں مزید کارروائیوں کا کہہ رہے ہیں۔ بظاہر تو ان بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ فوج اور حکومت کی سوچ میں فرق ہے جبکہ گزشتہ روز قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے لیفٹینٹ جنرل ( ر ) عبدالقیوم کی سربراہی میں آرمی چیف سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی اور اس موقع پر ڈی جی ملٹری آپریشنز کی جانب سے وفد کو بریفنگ بھی دی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔ آرمی کی طرف سے مسلسل یہ بیانات آ رہے ہیں کہ آرمی سول حکومت اور سول اداروں کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ ہمارے سیاست دان آرمی پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

خواجہ آصف کے بیان کو کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ اپنے وزراعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے پہلے خواجہ آصف کے مؤقف کی تائید کردی۔ جس بات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ن لیگ میں وزیراعظم بھلے کوئی بھی ہو پالیسی چند گنے چنے لوگوں کی چلتی ہے اور ابھی تک شاہد خاقان عباسی صاحب مکمل اور بااختیار وزیراعظم نہیں بن سکے ہیں اور شاید بن بھی نہ سکیں۔ کیونکہ ادھر لاہور کے ضمنی الیکشن میں کلثوم نواز کی جیت سے اقتدار ن لیگ کے گھر میں ہی رہنے کی قوی امید ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جناب وزیراعظم صاحب نے یہ بات دل سے نہ کی ہو بلکہ صرف اپنے " بڑوں " کو خوش کرنے کی کوشش کی ہو؟ نہ جانے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ایسے بیان کس کو خوش کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف تو ہماری افواج اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیمتی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ بھی پاکستان کو ڈومور کے مطالبے کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہا ہے، وہاں ملک کی سینئر قیادت کی جانب سے "اپنے گھر کی صفائی" جیسے بیانات اپنے گناہ تسلیم کرنے کے مترادف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قطرہ قطرہ پگھلتی ’’پی ٹی آئی‘‘ - حسن نثار

ادھر سوئٹزرلینڈ میں دشمن ملک بھارت اور اس کے حواری پاکستان دشمنی کی تمام حدیں عبور کر گئے ہیں جہاں انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملات کو خوب اچھالا ہے اور ہندوستان نے کشمیر کے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بلوچستان کو کشمیر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس پاکستان مخالف اشتہار بازی پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے سوئس حکومت سے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔

اس وقت حالات ایسے نہیں کہ ہم دنیا کو اپنی کمزوریاں ظاہر کریں بلکہ یہ وقت تو اتحاد اور اتفاق کا ہے تاکہ دنیا کو اور خاص طور پر دشمن ممالک پر یہ بات باور کرائی جا سکے کہ ہم سب متحد ہیں اور پاک فوج اپنے عوام کے ساتھ مل کر ہر خطرے سے نمٹنا جانتی ہے۔

دنیا اچھی طرح واقف ہے کہ پاک افواج ہی پاکستان کی حفاظت کی ضمانت ہیں۔ ہمارے دشمن پچھلے 70 سال سے ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ پاک فوج کو کمزور کیا جائے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ فوج کو عوام سے لڑایا جائے لیکن دشمن کبھی بھی اپنی چالوں میں کامیاب نہ تو ہوا ہے اور نہ ہی ہو سکے گا کیونکہ پاک فوج بھی یہ چالیں اچھی طرح جانتی ہے اسی لیے تو پاک فوج کے سربراہ اکثر و بیشتر یہ کہتے رہے کہ پاک فوج جمہوریت کی حمایت کرتی ہے۔

ہمارے ملک کے کچھ نام نہاد صحافیوں، سیاست دانوں اور میڈیا ہاؤسز نے پانامہ کیس کے معاملے میں بھی پاک فوج کو مورالزام ٹھہرایا جس کے نتیجے میں آرمی چیف کو یہ بیان دینا پڑا کہ پانامہ مسئلے کا فوج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ خالص عدالتی معاملہ ہے۔

دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ پاک فوج کے کامیاب ترین آپریشن ضرب عضب کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے خارجی اور داخلی دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہوا اور تمام علاقے کلیئر کرائے گئے، اس کے بعد آپریشن ردالفساد کے ذریعے سارے ملک میں آپریشن کلین اپ جاری ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقع آئی ہے۔ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی اگر پاکستان کے اتحادی ممالک پاکستان کو ہی "ڈو مور" کرنے کا کہتے ہیں تو وہ صرف اور صرف دشمنی نبھا رہے ہیں۔ اس موقع پر ہمارے " بڑوں " کو " اپنے گھر کی صفائی " جیسے بیانات دینا ہر گز زیب نہیں دیتا کیونکہ اس سے دنیا کے سامنے یہی تاثر جا رہا ہے کہ ہم اس قابل نہیں کہ اپنے ملک کے حالات کو کنٹرول کر سکیں جبکہ ہندوستان اور امریکہ پہلے بھی کئی مواقع پر پاکستان کے اندر حملے کرنے کی سازشیں کرتے رہے ہیں، ایسے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ اپنے وزیراعظم اور وزیرخارجہ کے ان بیانات کو پاکستان کے عوام تو رد کر چکے ہیں، ہاں! امریکہ اور بھارت سمیت پاکستان کے دشمنوں نے اس چیز کو ضرور مثبت لیا ہو گا۔ پاکستان کے حکمرانوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے عوام کے جانی اور مالی نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے بیانات دینے چاہئیں تاکہ جن لوگوں نے اس جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانی دی ہے ان کی دل آزاری نہ ہو۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.