روہنگیا مسئلے کا حقیقی حل - تزئین حسن

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق ان سطور کی قلمبندی کے وقت تک چار لاکھ روہنگیا مسلمان اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کی سنت کی تجدید کر چکے ہیں اور ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے. 25 اگست 2017ء کو برمی ملٹری اور انتہاپسند قوم پرستوں کی بہیمانہ کارروائیوں کے آغاز سے ہی سوشل میڈیا پر برما کے بارے پوسٹس کا سیلاب آیا ہوا ہے. تصاویر اور ویڈیوز ایسی ہیں کہ شقی القلب سے شقی القلب انسان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا. ایسے میں مسلمان دعائیں بھی کر رہے ہیں اور نوبل پیس پرائز کمیٹی سے برما کی خاتون رہنما آنگ سانگ سوچی سے نوبل پرائز کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے. کینیڈا کی حکومت سے بھی مطالبہ ہو رہا ہے کہ سوچی کی اعزازی شہریت معطل کر دی جائے. اقوام متحدہ، برطانوی اور امریکی حکومتوں سے بھی مطالبات ہو رہے ہیں. یہ خاتون خود 2012ء سے متعدد انٹرویوز میں ڈھٹائی کے ساتھ ارکان کے مسلمانوں پر کسی قسم کے تشدد پر اپنی لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ہیں. ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برما ابھی ڈکٹیٹر شپ سے جمہوریت کے سفر کی transition میں ہے اور اس کے بہت سے مسائل ہیں، جن میں ارکان کا مسئلہ حکومت کی ترجیح نہیں بن سکتا. عالمی برادری کو ہمارے اندرونی مسئلے کو ہماری صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے. بعض سادہ لوح مسلمانوں کا اب بھی یہ خیال ہے کہ وہ خود تو امن کی بہت بڑی حامی ہے مگر برمی ملٹری کی وجہ سے کچھ نہیں کر پا رہی. ہم مسلمانوں کا حال وہ ہے کہ
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

پچھلی کئی دہائیوں سے مغربی میڈیا، اقوام متحدہ، یورپین یونین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آنگ سانگ سوچی کا امیج انسانی حقوق اور جمہوریت کے چمپیئن کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں. یہ جاننے کے باوجود کے برما میں اس کے اقتدار کے لیے جدو جہد کرنے والے بدھ بھکشو کھلے عام اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کے خلاف تشدد بھڑکاتے رہے ہیں.

اس کے علاوہ انٹرنیشنل میڈیا اپنے قاری کو اس تاریخی حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کر رہا کہ موجودہ برمی ملٹری جو متعدد رپورٹس اور سٹیلائٹ امیجری کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے گاؤں کو ہیلی کاپٹر اور اسپیشل کیمیکلز کی مدد سے آگ لگا رہی ہے، اور جس نے بدھ نیشنلسٹ اور انتہاپسندوں کو زمین پر مسلمانوں کے خلاف مسلح کر رکھا ہے، یہ وہی فوج ہے جس کی بنیاد آنگ سانگ سوچی کے باپ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی سرپرستی میں رکھی، اور یہ وہی نسل پرستی پر مبنی نظریہ ہے جس کا پرچار وہ اپنی زندگی میں کرتا رہا. اب اس عطار کی بیٹی سے ہم کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟

جاپانیوں نے انگریز کے خلاف برمی ملیشیا کو مسلح کیا تو اس نے پہلا کام برما میں ہندوستانی اقلیتوں پر حملوں سے کیا، متاثرین میں ہندو، عیسائی اور مسلمان سب بلاامتیاز شامل تھے. اراکان کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ایک فرنچ اسکالر کاجیکوئس لیڈر کا کہنا ہے کہ اراکان کے علاقے میں حالات شروع میں نارمل تھے، مگر جب سوچی کے باپ کی منظم کردہ ملیشیا کے افراد 1942ء میں اراکان پہنچے اور انھوں نے انگریز کا ساتھ دینے والے مسلمانوں اور ہندوستانیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کیں، تو اس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ اقلیتوں کے خلاف اراکان میں تشدد کی شدید لہر اٹھی. لیڈر کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہندوستانی اقلیتوں پر برمی نشنلسٹ ملیشیا کے حملوں کی وجہ سے پانچ لاکھ ہندوستانی نژاد افراد کو ہندوستان نقل مکانی کرنا پڑی. بظاہر ان کا جرم یہ تھا کے وہ جاپانیوں کے مقابلے میں انگریز کا ساتھ دے رہے تھے.

لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جیسے ہی جاپان نے ایٹمی حملے کے بعد ہتھیار ڈالے، سوچی کے باپ نے اپنی وفاداریاں تبدیل کر لیں اور انگریز کے قدموں میں جا بیٹھا. برمی عوام اسے آزاد برما کا بانی سمجھتے ہیں اور آج بھی اس کا احترام کیا جاتا ہے. یہ بات بھی یاد رہے کہ سوچی کے سیاسی کیرئیر میں ان کا سب سے بڑا credential ان کا انگ سانگ کی بیٹی ہونا ہے جو بھٹو کی طرح آج بھی زندہ ہے.

تھائی لینڈ کے ایک اخبار New Eastern Outlook کے مطابق برما کی سیاست پر سطحی نظر رکھنے والا بھی جان سکتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ وہ نہ صرف predictable یعنی قآبل پیشنگوئی تھا بلکہ آنگ سانگ سوچی کے اقتدار میں آنے کے بعد ناگزیر تھا.

اور ہو بہو یہی ہوا، برما کے ایک بدھسٹ روہنگیا ایکٹوسٹ کا کہنا ہے کہ روہنگیا کے خلاف نسل کشی کی سرکاری پالیسیز 1978ء سے جاری ہیں، یعنی انھیں چالیس سال ہو چکے ہیں، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ملٹری اقتدار کے مقابلے میں 2011ء میں برما میں جمہوریت بحال ہونے کے بعد روہنگیا کے خلاف تشدد میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے. جن بدھ بھکشوؤں کو مغرب جمہوریت اور امن کے پجاریوں کے طور پر پروموٹ کرتا رہا، وہ کھلم کھلا اپنے تعصب، نفرت کا اظہار کرتے رہے تھے اور آج وہی مسلمانوں کے خلاف تشدد میں ہراول دستہ ہیں. یہی نہیں برما کے سرکاری میڈیا کو، جو دنیا بھر میں روہنگیا کاز کی مخالفت کر رہا ہے، ان مظلوم و مجبور انسانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند ثابت کر رہا ہے، اس کی تربیت بھی امریکی اور یوروپی اداروں نے بھاری فنڈنگ سے کی ہے.

برما کی حکومت کو یہ اطمینان ہے کہ جس ہولوکوسٹ کو انھوں نے پورے اطمینان سے عالمی اداروں کی ناک کے نیچے جاری رکھا ہوا ہے، کوئی امریکی و مغربی فوجیں اس ہولوکوسٹ کو روکنے کے لیے برما کی سر زمین پر نہیں اتریں گی. اس کے جرائم کے خلاف کبھی نیورمبرگ ٹرائل نہیں ہوگا. مگر ہم مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہم انھی اداروں سے جو اپنے مستقبل کی بصیرت سے مالامال تھنک ٹینک کے ذریعے، سو سال بعد کی پلاننگ کر کے رکھتے ہیں، سب کچھ جانتے بوجھتے جمہوریت بحال کرتے ہیں، ان سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ انگ سانگ سوچی ہی اس قتل عام کو روک سکتی ہے. ارے کوئی ہے جو اس سے معصوم عورت سے نوبل پیس پرائز واپس لے لے؟ جیسے نوبل پیس پرائز واپس لینے سے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے ختم ہو جائیں گے. ان کا قتل عام بند ہو جائے گا. وہ اپنے گھروں کو پلٹ جائیں گے اور اطمینان سے زندگی گزارنا شروع کر دیں گے.

کسی کو یہ نظر نہیں آ رہا کہ اس کا حل صرف اور صرف ارکان کے لوگوں کے لیے ایک الگ ملک کا قیام ہے کیونکہ برما کی آزادی کے ستر سال میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ارکان کے مسلمان اور بدھ مذھب کے ماننے والے ایک ساتھ نہیں رہ سکتے. اس مسئلے کا حل ایسٹ تیمور، بوسنیا اور کوسووو کی طرح روہنگیا کو ایک علیحدہ ملک دینا ہے. اس کے علاوہ نیورمبرگ ٹرائل کی طرح برمی حکومت اور ملٹری کو عدالت میں لانا بھی ہے، تاکہ ان کو انسانیت کے خلاف ان کے جرائم کی سزا مل سکے. اس وقت اگر کسی بھی ذریعے یہ اسٹیٹ سپانسرڈ قتل عام بند بھی کروا دیا جائے، جس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کے مستقبل قریب یا بعید میں یہ دوبارہ شروع نہیں ہوگا. یاد رہے یہ عام قتل عام نہیں بلکہ Ethnic Cleansing اور متعدد اسٹڈیز کے مطابق Genocide ہے. کیا انسانی حقوق کی چمپیئن بن الاقوامی برادری کو یہ نظر نہیں آتا کہ اس کے سوا چار دہائیوں سے جاری اس ظلم و ستم کا کوئی علاج نہیں.