جماعت اسلامی کیوں نہیں جیتی؟ سجاد سلیم

میری یہ تحریر بظاہر جماعت اسلامی کے مخالف لگے گی، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی واحد جمہوری جماعت ہے، جس میں مرکزی امیر کے لیے باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ پاکستان کا سرمایہ ہے، اور اس سرمائے کی حفاظت ضروری ہے۔ جو مقبولیت اس وقت مسلم لیگ (ن) کی ہے، وہ جماعت اسلامی کی ہونی چاہیے تھی۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکا، اسی کی وجوہات پر روشنی ڈالنے کے لیے یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔

زبانی جمع خرچ اور جذبات اپنی جگہ لیکن جماعت کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کئی دہائیوں سے مسلسل غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے مولانا مودودی کی جماعت ایک طرح کے بحران کا شکار ہے اور عوام کا اس پر اعتماد روز بروز کم ہو رہا ہے۔ جماعت نے اپنے آپ کو بطور پریشر گروپ تو کسی حد تک منوایا، لیکن ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ یہ ایک سیاسی جماعت بھی ہے، جو جیت بھی سکتی ہے۔

جماعت کی قیادت اور کارکنان جہاں دوسروں کے احتساب کی بات کرتے ہیں، وہیں، انھیں اپنے آپ کو بھی خود احتسابی کے لیے پیش کرنا پڑے گا، اور پےدرپے ناکامیوں کے اسباب کا وسیع النظری سے جائزہ لینا ہوگا۔ جماعت میں اندرونی سطح پر ایک نئے مکالمے کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے۔ جماعت کے اندر ایک طرح کے نظریاتی انقلاب کی ضرورت ہے۔ اس سے ملتی جلتی اسلامی جماعتیں ترکی اور مصر میں کئی انتخابات جیت چکی ہیں، جس میں اخوان المسلمون اور طیب اردگان کی جماعتیں شامل ہیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ شاید ان کا خدمت کا نیٹ ورک ہے یا ان کے کارکنان کا تحرک، لیکن میری نظر میں اس کا کردار پانچ فیصد تو ہو سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جماعتیں نظریاتی اور سیاسی میدان میں بہت آگے نکل چکی ہیں۔ اب تو شاید جماعت اسلامی کو ان کی برادر تنظیم کہنا بھی شاید ان سے ذیادتی ہوگی۔ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ کچھ سال پہلے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے مصر کا دورہ کیا، اور اخوان کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان میں موجود جماعت اسلامی کے وابستگان میں اس حوالے سے کافی جوش و خروش دیکھا گیا اور میڈیا کو خبریں بھی جاری کی گئیں۔ ڈان نیوز نے بھی پاکستان میں اس کو اہمیت دی۔ لیکن اخوان المسلمون کی طرف سے مکمل خاموشی تھی، حتٰی کہ ان کی آفیشل انگریزی ویب سائٹ پر بھی اس خبر کو جگہ نہیں ملی۔

اب اس طرف آتے ہیں کہ وہ آگے کیوں ہیں یا انہوں نے ایسے کون سے کام کیے ہیں، جس کی وجہ سے عوام ان پر اعتماد کرتی ہے۔

1۔ جمہوریت کے ساتھ یکسوئی
اخوان اور اردگان کی جماعت دونوں کبھی بھی کسی جمہوری حکومت کو ڈی ریل کرنے میں ملوث نہیں رہیں اور ان دونوں جماعتوں کا تاثر ہمیشہ سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہا۔ آپ کو ان کی قیادت میں موجود کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو کہے کہ جمہوریت یا انتخابات کے علاوہ انقلاب یا تبدیلی کے لیے کوئی تیسرا راستہ بھی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس کی بہتات پائی جاتی ہے۔ ابھی چند دن پہلے جماعت اسلامی کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی، ایک حلقے میں جماعت اسلامی کی شکست کے بعد کہہ رہے تھے کہ الیکشن وغیرہ تو کام ہی فضول ہے، ہمیں کوئی اور راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اور وہ صاحب، جماعت اسلامی پنجاب کی سیاسی کمیٹی کے شاید سربراہ ہیں، یا رہے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شہر جانا ہے اور اس کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ اس کا راستہ کونسا ہے، توہ کیا وہ کبھی بھی وہاں پہنچ سکے گا؟ اسی طرح سید منور حسن صاحب بھی فرما چکے ہیں کہ آپ کے ساتھ عوامی حمایت ہو تو آپ انتخاب کے ذریعے بھی جیت جائیں گے اور انقلاب کے ذریعے بھی۔ اسی طرح انہوں نے 2013ء کے انتخابات سے پہلے ناصر باغ میں جماعت اسلامی لاہور کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس الیکشن میں ہار، جیت بےمعنی ہے۔ وہ انتخابات کے بعد ایک بڑی جدوجہد دیکھ رہے ہیں، جو کہ خونی بھی ہو سکتی ہے، اور وہی تبدیلی کا باعث بنے گی وغیرہ وغیرہ۔ اب وہ دوسرا راستہ یا خونی جدوجہد کی عملی صورت کیا ہے، یا اس کے مقاصد کیا ہیں؟ کم از کم میری سمجھ سے باہر ہیں۔ جماعت اسلامی کا اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہونے کا تاثر ان باتوں سے الگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستِ مدینہ اور قول و فعل - راجہ کاشف علی خان

2۔ معاشی ترقی کا ایجنڈا
طیب اردگان کی معاشی ترقی کے چرچے تو پوری دنیا میں موجود ہیں لیکن اخوان المسلمون کو اس حوالے سے کم لوگ جانتے ہیں۔ حسنی مبارک کے رخصت ہونے پر اخوان نے پارلیمانی اور صدارتی نظام انتخاب میں حصہ لیا تو انہوں نے اس سے پہلے "االنہدہ پراجیکٹ" کے نام سے ایک بہت بڑا معاشی منصوبہ، عوام کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ وہ کیسے مصر کو ایک عظیم معاشی طاقت بنائیں گے؟ کون سی معاشی اصلاحات کریں گے اور ان کے سالانہ اہداف کیا ہوں گے؟ یہ منصوبہ صرف باتوں کی حد تک اس لیے نہیں تھا کیونکہ اس منصوبے کے سربراہ خیرات الشاطر تھے، جو اسی کی دہائی میں مصر میں کمپیوٹر مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگانا چاہتے تھے، جس کے لیے انہوں نے مشینری وغیرہ بھی منگوائی، لیکن حسنی مبارک نے ان کو یہ کام نہیں کرنے دیا اور مصر کی معاشی ترقی میں روڑے اٹکائے۔ اخوان کے مرشد عام ایک سائنسدان اور صدر مرسی مایہ ناز انجینئر ہیں۔ اب ہم جماعت اسلامی کی طرف آتے ہیں تو وہ ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی اہم منصوبہ پیش نہیں کر سکی، اور نہ ہی ثابت کر سکی کہ اس کے پاس ترقی کا کوئی ویژن ہے۔ زیادہ تر قیادت کا ذریعہ آمدن میٹرک یا اس سے نچلے لیول کے سکول ہیں۔ جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے ناآشنا ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط لوگ ہیں، لیکن قابل لوگ جماعت میں کیوں نہیں آتے؟ اگر کبھی اپنے معاشی ویژن کے حوالے سے بات کرنا بھی پڑے تو، سود کے حوالے سے بات کر دیتے ہیں، یا کرپشن کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ نعرے ہیں جن کی اہمیت میں کوئی شک نہیں، لیکن صدیوں پرانے ہیں اور آپ کی تخلیق نہیں ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے بھی جماعت کا ویژن لائن لاسز کنٹرول کرنے کی حد تک رہا۔ سراج الحق صاحب نے 25 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے ایک منصوبے کے حوالے سے الیکشن سے پہلے بات کی، لیکن یا تو وہ منصوبہ باتوں کی حد تک تھا یا پھر ان کے نزدیک اہم نہیں تھا، اور عوام بڑے پیمانے پر اس کے بارے میں جاننے سے محروم رہے۔

3۔ عسکریت پسندی کے خلاف واضح مؤقف
کچھ دیر کے لیے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ کشمیر اور افغانستان میں واقعی جہاد کی ضرورت تھی یا ہے، اور اس کے لیے نوجوانوں کا پاکستان سے پہنچنا بہت ضروری تھا یا ہے۔ اگر ہم ان دونوں مسائل کا مسئلہ فلسطین سے موازنہ کریں تو شاید ہی کوئی مسلمان یہ کہے گا کہ کشمیر اور افغانستان کا جہاد، جہاد فلسطین سے زیادہ افضل ہے۔ کشمیر یا افغانستان پر تو پھر بھی مسلمانوں کا اختلاف ہے لیکن فلسطین کے حوالے سے زیادہ تر مسلمان یکسو ہیں کہ قبلہ اول کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، اور سب سے افضل ہے۔ مصر اسرائیل کا ہمسایہ ہے اور اسرائیل سے منسلک مصر کے صحرائی علاقے میں حکومت کی مکمل رٹ بھی نہیں ہے، اور وہاں سے کچھ عسکریت پسند اسرائیل پر حملے بھی کرتے ہیں۔ لیکن اخوان نے آج تک وہاں نہ تو کسی جنگجو کو بھیجا اور نہ ہی کبھی ان کی حمایت کی، بلکہ صدر مرسی نے اقتدار میں آنے کے بعد، پہلی بار بڑے پیمانے پر ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ اسی طرح نہ ہی انہوں نے اپنے نوجوانوں کو کبھی غزہ بھیجا کہ جا کر صیہونی فوجوں سے لڑ جائیں۔ حماس کی حمایت بھی معقول انداز میں کرتے ہیں۔ اسی طرح طیب اردگان نے بھی ہمیشہ نجی عسکریت کی مخالفت کی، یا کم از اپنے لوگوں کو اس سے باہر رکھا۔ جبکہ جماعت اسلامی نے کشمیر میں بھی لوگ بھیجے اور افغانستان میں بھی۔ ڈاکٹر طاہر القادری، جن کی سیاست سے مجھے بھی بہت اختلاف ہے، انہوں نے دہشتگردی اور خود کش حملوں کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل ایک فتوٰی لکھا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر نے کبھی اس پر ان کی تعریف نہیں کی، لیکن اخوان المسلمون کے مرشد عام نے اس فتوے کے لیے تعریفی کلمات کہے اور اسے مسلم دنیا میں انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے اہم ہتھیار قرار دیا۔ جماعت اسلامی آج تک انتہاپسندی یا عسکریت پسندی کے خلاف واضح لائحہ عمل دینے میں ناکام رہی ہے۔ سراج الحق کبھی کبھار یہ کہتے ہیں کہ جہاد کرنا صرف ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن ساتھ ہی حافظ سعید صاحب کو ہندوستان کی آنکھ کا کانٹا بھی قرار دیتے ہیں۔ ترکی میں روس کے سفیر کے قتل پر بھی جماعت کوئی واضح پوزیشن لینے میں ناکام رہی۔ پشاور کے امیر ضلع نے تو سفیر قتل کرنے والے کو شہید اور ہیرو قرار دے دیا، جبکہ اخوان اور اردگان دونوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور قاتل کو دہشت گرد قرار دیا۔ جماعت اسلامی کو اب بھی نہیں پتہ کہ وہ ہیرو تھا یا دہشت گرد۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستِ مدینہ اور قول و فعل - راجہ کاشف علی خان

4۔ مغرب اور اقلیتوں سے تعلقات
مغرب کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات بہت پیچیدہ ہیں، لیکن اخوان اور اردگان مغرب کے ساتھ تعلقات میںبڑی حد تک توازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب سعودی عرب نے پیسے کے دباؤ کے بل بوتے پر اخوان کو برطانیہ میں دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی تو، برطانیہ نے تحقیقات تو کروائیں، لیکن سعودی عرب کے شدید دبائو کے باوجود، اخوان کو دہشت گرد قرار دینے سے انکار کر دیا۔ مصر میں اخوان اکثر اپنی ریلیوں میں قرآن اور صلیب کو ساتھ اٹھا کر مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے ذمہ داران تو مسیحیوں کو کرسمس کی مبارکباد بھی چھپ چھپا کر دیتے ہیں۔

ان چند عوامل کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر جماعت اسلامی کو اٹھنا ہے اور مقابلہ کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے ویژن اور نظریات میں واضح ہونا پڑے گا۔ آپ دنیا سے الگ تھلگ رہ کر گزارہ نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہر ایشو پر ایک واضح موقف اپنانا ہوگا۔ سب سے پہلے اپنے اندر انقلاب لانا ہوگا۔ اور جو حضرات جماعت کو الیکشن چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اپنانے کامشورہ دے رہے ہیں، وہ یہ جان لیں کہ اگر آپ الیکشن چھوڑ کر اسی طرح کے مبہم نظریات کے ساتھ کام کریں گے تو پاکستان میں کالعدم جماعتوں کی فہرست میں ایک اور نام جلد شامل ہو جائے گا۔

مولانا مودودی نے اپنی کتاب بناؤ اور بگاڑ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھی لوگوں کو اقتدار نصیب کرتا ہے کہ جن میں بناؤ (ترقی) کی سب سے زیادہ صلاحیت ہو۔ اللہ ہمیں اس قوم کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین