اسلام پسندوں کی جدوجہد اور زمینی حالات - محمد طیب سکھیرا

ہمیں اُن جماعتوں، وابستگیوں اور ذاتی مفادات کے اسیروں سے کیا لینا دینا جو امت کے ایک جسم کے کئی حصے کردیں؟ ہمیں اُن جماعتی وفاداریوں اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھنا ہوگا کہ ہم تو وحدت ملت و مذہب کے داعی ہیں۔ "نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر" کی سیادت کے دعویدار ہیں۔

اسلام پسندوں اور استعمار کے کارپردازوں کی ٹکر کوئی نئی بات نہیں، یہ تو صدیوں سے جاری جنگ کا تسلسل ہے اور اس جنگ میں ہمیں ہر وہ ہاتھ عزیز ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا علم لیے میدان کربلا میں اتر آتا ہے۔ ہر وہ سینہ پیارا ہے جو امت کے لیے دردمند دل لیے راتوں کو تڑپتا ہے، ایسی ہر پیشانی چومنے لائق ہے جس پر امت کے حسین مستقبل کی خوشنما تحریر نقش ہے۔ ان سب کا مقصد حیات تو ایک ہی ہے کہ قانون ہے تو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون۔ اگر پوری دنیا مل کر ایک بات کہتی ہے لیکن وہ بات اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے میل نہیں کھاتی تو جوتے کی نوک پر ہے ساری دنیا کی بات!

یہ سرفروش ہار جیت کی دوڑ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ انہیں تشہیر کی کوئی چاہ یا انعام کا کوئی لالچ نہیں ہوتا۔ ان کا انعام اس دنیا میں ممکن بھی کہاں ہے؟ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ان کی اثر انگیز دعوت بالآخر انہیں دار و رسن تک لے جاتی ہے۔ شہید حسن البنا رحمہ اللہ نے اپنی شہادت سے پہلے کہا تھا کہ "اے اخوان! جب قید خانے تمہارے لیے کھول دیے جائیں اور تمہارے لیے پھانسی کی لکڑیاں لٹکا دی جائیں، تو جان لو تمہاری دعوت نے نتیجہ خیز ہونا شروع کر دیا "

یہ انہی کا امتیاز ہے کہ یہ لوگ ہر بطل کے سامنے پورے قد سے کھڑے رہتے ہیں۔ حق کی چاہ میں زندانوں اور کوٹھڑیوں کو آباد کرنا اور سولیوں پر جھول جانا انہی اسلام پسندوں کا کام ہے۔

جائیے ، بنگلہ دیش میں جاکر دیکھیے، اسلام کے سبز ہلالی پرچم کی چاہ میں کون کون پھندوں کو چوم گیا؟ دھن دولت کی بولیاں اور اس پر بکتے حیوان نما انسان اور ان اسلام پسندوں کا کیا مقابلہ؟ جس طرح دوسرے لوگوں کے جسموں کی بولیاں لگتی ہیں، اسی طرح ان اسلام پسندوں کے سر کی بولیاں لگتی ہیں۔

ایسے ہی ایک سرفروش کا ایک قول یاد آگیا کہ " باطل کے سامنے پورے قد سے کھڑے ہونے والوں کے سر بہت ہی مہنگے ہوتے ہیں، کوڑیوں کے عوض تو وہ کھوپڑیاں بکتی ہیں جو ہر طاغوت کی دہلیز پر گداگروں کی مانند سجدہ ریز ہو جاتی ہیں۔"

یاد رہے دار و رسن اسلام پسندوں کے لیے ایک پڑاؤ ضرور ہے لیکن مقصد نہیں ہے کہ مقصد تو " اعلاء کلمة اللہ " ہے۔ تاریخ ایسے نظریاتی سرفروشوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ آج 60 سال کے بعد بھی طیب اردوغان عدنان میندریس کا نام بڑے ادب سے لیتا ہے اور اسے اپنا لیڈر و محسن قرار دیتا ہے۔ سولی پر چڑھ کر بھی عدنان میندریس کا نام آج کی تاریخ کے ماتھے پر جھومر کی طرح چمکتا دمکتا نظر آتا ہے۔

یاد رکھیے نظریاتی لوگ امر ہوجایا کرتے ہیں کہ یہی ریت ہے، حضرت حسین فداہ ابی و امی سے لے کر عمر مختار، حسن البناء، سید قطب شہید سے لے کر ملّا عمر رحمہم اللہ تک۔ ایک لمبی فہرست ہے کہ ان کے نام آج صدیوں بعد بھی آسمان دنیا پر ستاروں کی سی شان رکھتے ہیں۔ ان نظریاتی سرفروشوں اور اسلام پسندوں کی ایک ہی نشانی ہے کہ یہ پھانسی کے پھندے کو چومنا منظور کرلیتے ہیں لیکن اپنے نظریات و مشن کو تبدیل کرنا کفر سمجھتے ہیں۔

اب ہم کلمہ کی نظریاتی اساس کی حامل اس مقدس سرزمین کی موجودہ زمینی صورتحال کی طرف آتے ہیں۔ یہاں اسلام پسندوں کا المیہ یہ ہے کہ اسلام پسند ابھی بھی اپنی طاقت پہچان نہیں پارہے اور لبرلز ہیں کہ انگلیاں دانتوں تلے دبائے اس فکر میں سانس روکے بیٹھے ہیں کہ کہیں انہیں ( اسلام پسندوں کو ) اس بات کا احساس نہ ہوجائے کہ ان کی وحدت ہی ان کی طاقت ہے اور یہ اکٹھے نہ ہوجائیں۔

چہار سو ایک مہیب سناٹا ہے، طوفان سے پہلے کا سا سکوت ہے لیکن اب دبی دبی سی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں۔ یوں لگتا ہے طوفان آنے کو ہے کہ طوفان سے پہلے کی ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے آنے لگے ہیں۔ آج ایک فیچر میں بی بی سی کی نامہ نگار بڑی حیرت سے یہ فرمارہی تھیں

کہ انہیں مسلم لیگ نون کے پہلے اور تحریک انصاف کے دوسرے نمبر پر آنے سے کوئی حیرت نہ ہے کہ یہ تو اندازوں کے عین مطابق تھا۔ حیرت کس بات پر ہے؟ وہ ملاحظہ فرمائیں۔ فرماتی ہیں کہ " لیکن اس انتخاب کے دوران دو مذہبی جماعتوں کی ووٹوں کے اعتبار سے تیسری اور چوتھی پوزیشن نے ' بعض حلقوں ' کو حیران کردیا ہے۔"

وہ جو کہا کرتے تھے ، یہ 2017 ہے، یہ لبرل ازم کی صدی ہے، مذہب کے نام پر ووٹ لینے کا دور گزرچکا ہے، ان کا اعتراف ملاحظہ فرمائیں، فرماتی ہیں کہ " یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک موجود ہے"لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی، ان کی چھٹی حس دیکھیے وہ کس طوفان کو آتا دیکھ رہے ہیں، کس خطرے سے خوفزدہ ہیں، ملاحظہ فرمائیں، محترمہ فرماتی ہیں " سوال یہ ہے کہ کیا این اے 120 میں سامنے آنے والا رجحان صرف اسی حلقے تک محدود رہے گا یا آئندہ عام انتخابات میں اس کا اثر پورے ملک میں پھیل جائے گا ؟"

یہی وحدت اسلامی کا وہ نتیجہ ہے جس سے ان کو خطرہ ہے اور یہی ان کے لیے اصل سردرد ہے۔ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ یہ قوم اگر کبھی اکٹھی ہوئی تو اسلام کے نام پر ہی ہوسکتی ہے اور اگر اکٹھی ہوگئی تو ہمارے مغربی منجن کا کیا ہوگا؟

اسلام پسند قوتوں کو نوشتہ دیوار دیکھنا چاہیے، تحریک لبیک یارسول اللہ والے ہوں یا ملّی مسلم لیگ والے، جمیعت علمائے اسلام ہو یا جماعت اسلامی، سبھی محمد عربی کے نظام کو لانے کے داعی ہیں۔ جب "کاز" ایک ہے تو پھر اکٹھے کیوں نہیں ہوسکتے؟ ذاتی مفاد اجتماعی مفاد پر کیوں قربان نہیں کیے جاسکتے؟

اسلام پسندوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ، جماعتی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر اپنے کلمہ گو بھائی کے لیے اخلاص و ایثار کی داستانیں رقم کرنا ہوں گی۔ یاد رکھیے جماعتوں اور اسلام کے نام پر ذاتی مفادات کا دور لد چکا ہے، ہر جماعت میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوچکی ہے، مفادات کے اسیروں کی کہانیاں طشت از بام ہورہی ہیں، استعمار کے کارپرداز منافقین بے نقاب ہورہے ہیں۔ اب تو صف بندی کا وقت ہے۔ ہر جماعت میں مخلصین و مفاد پرست نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ مخلصین ہی کو بقا ہے کہ یہی وعدہ خداوندی ہے۔

اس لیے تجدید عہد کیجیے، غلطیوں کی تلافی کیجیے، قائدین کو آنکھیں کھولنی چاہئیں اور دیکھنا چاہیے کہ آج کا اسلام پسند نوجوان کارکن ان جماعتی تفریقات و ذاتی مفادات کی سیاست سے بہت اوپر آچکا ہے۔ وہ بریلویت، دیوبندیت اور سلفیت کے آلودہ اور تعصب زدہ نعروں کو سننا نہیں چاہتا۔ وہ "کونوا ربانیین " کی عملی تفسیر چاہتا ہے ۔ جماعتی عہدوں کی رسہ کشی و فرسودہ نظم اسے بغاوت پر اکسارہا ہے۔ اسے مسلح جدوجہد کی طرف جانے سے روکنا ہوگا کہ یہی تو استعمار چاہتا ہے۔ اسلام پسند نوجوان کی خواہش کو دیکھنا ہوگا ۔ فیصلہ کن گھڑی ہے۔ قائدین کو ووٹر اور کارکن کے جذبات کو سمجھتے ہوئے متفقہ پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ اس چیز کا استحضار بھی کرنا ہوگا کہ یہ صدی اسلام کے عروج اور استعماری قوتوں کے زوال کی صدی ہے۔

تاریخ کا دھارا تیزی سے بدل رہا ہے اور تاریخ کا ستم یہ ہے کہ جو تاریخ کے بدلاؤ کے ساتھ نہیں بدلتے، وہ جماعت ہو یا لمیٹڈ کمپنی، تاریخ انہیں فراموش کردیتی ہے۔ بدلتے وقت میں تاریخ صرف انہیں یاد رکھتی ہے جو تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہوں۔ اس لیے تاریخ کی درست سمت میں کھڑے رہیے کہ یہی تاریخ کا سبق ہے۔