پاکستان کی سیاست میں مثبت تبدیلی کیوں نہیں آ رہی؟ - کاشف علی

سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست حلقہ این اے 120 پر بیگم کلثوم نواز نے مجموعی طور پر 61745 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ یوں مسلم لیگ نون نے اس حلقے سے مسلسل چوتھی بار کامیابی حاصل کر کے جیت کی روایت کو برقرار رکھا۔ بیگم کلثوم نواز کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد 47099 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ پانامہ کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں این اے 120 کے ضمنی انتخاب کو "عدلیہ بمقابلہ شریف خاندان" قرار دیا جا رہا تھا۔ پاکستان کی سیاست اور اس پر اثر انداز عوامل پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے لیے بیگم کلثوم نواز کی جیت کسی حیرانی کا باعث نہیں تاہم جو لوگ پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاست میں کسی بڑی اور بنیادی تبدیلی کی توقع کر رہے تھے، ان کو شدید مایوسی ہوئی جس کا اظہار روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔

ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بیڈ گورننس، غربت، بے روزگاری، بے امنی، کرپشن کی ہوشربا داستانوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف عدالتی فیصلوں کے باوجود بھی ووٹر اپنی رائے تبدیل کرنے پر تیار کیوں نہیں؟ اپنے حلقے میں غلاظت اور گندگی کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر ووٹر اپنے سیاسی قائدین کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نظریاتی وابستگی ہے یا اسے غلامانہ ذہنیت اور سیاسی شعور کی کمی قرار دیا جائے؟ دراصل پاکستان میں ریاست کمزور اور مضبوط سوسائٹی ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے مفادات کا تحفظ خاندان، ذات و برادری کی بنیاد پر سیاست سے کرتے ہیں۔ ریاست جب شہریوں کے معاشی مفادات، جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ دینے میں ناکام ہوتی ہے تو لوگ مقامی سطح پر خاندان، ذات و برادری کی سیاست سے نہ صرف اپنے آپ کو معاشرے کے دیگر گروہوں سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ دیگر معاشی و سیاسی مفادات کے حصول کی کوشش بھی کرتے ہیں، ایسی صورت میں سیاسی فیصلے نظریات یا ملک و قوم کے وسیع تر مفادات کے بجائے ذاتی، خاندانی اور برادری کے مفادات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ ہر برادری کے سرپنچ (سربراہ) کو قابو کر کے اس برادری کے ووٹ پر ہاتھ صاف کرتی ہے۔ ایسے میں سیاستدان اپنے سیاسی حلقے میں سکول، کالج، ہسپتال اور دیگر ترقیاتی کام کرنے کے بجائے سیاسی رشوت کے ذریعے لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر آپ چند لوگوں کو نوکریاں، کچھ کو سیاسی رشوت، تھانے کورٹ کچہری میں مدد کر سکتے ہیں تو آپ ایک کامیاب سیاست دان بن سکتے ہیں۔ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو نلکے، نالی اور بریانی سے بھی مطمئن کیا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کے حصول میں پھنسے پاکستانی ووٹر کے پاس ملک و قوم کے مفاد اور اچھے نمائندوں کو چننے کے متعلق سوچنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ ذاتی و گروہی مفادات کی سیاست ملک میں کسی بھی بڑی انقلابی سیاسی تبدیلی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ ذات سے بالا تر ہو کر ملک و قوم کے مفاد کے متعلق نہیں سوچتے۔ نتیجتاً کرپٹ اور نااہل لوگ اپنی تمام تر کمزرویوں کے باوجود دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچنے میں کامیاب ہو جا تے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اقرا خالد کا بہاولپور سے کینیڈین پارلیمنٹ تک کا سفر

پاکستان کے سیاسی نظام میں پیسے کا بے دریغ استعمال اور الیکشن کمیشن کی انتخابی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان کی مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو عملاً انتخابی سیاست سے باہر کر دیا گیا ہے۔ سیاست کو صرف اور صرف سرمایہ دار، وڈیرے اور جاگیر دار کا کھیل بنا دیا گیا ہے جو کروڑوں لگا کر اربوں بنانے کی نیت سے سیاست میں وارد ہوتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی رشوت اور دیگر اخراجات کی مد میں پانی کی طرح پیسا بہایا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ اب پاکستان کے غریب طبقے کی نمائندگی بھی سرمایہ دار، وڈیرے اور جاگیر دار اور صنت کار کرتے ہیں، جو پارلیمان میں جا کر ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے ان کے مفادات کا تحفظ اور ملک کی مڈل کلاس اور غریب طبقے کا استحصال ہوتا ہے۔ پیسے کا سیاست میں بے دریغ استعمال ملکی سیاست میں کسی مثبت تبدیلی اور تعلیم یافتہ و اہل قیادت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا مثبت انتخابی اصلاحات اور ان پر سختی سے عمل درآمد کے بنا کسی بڑی مثبت تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ریاستی مشینری کا سیاسی استعمال ایسا حربہ ہے جس کے ذریعے برسراقتدار سیاسی جماعتیں دوران اقتدار اپنے اثر و رسوخ کو وسیع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں سیاست دان، تھانے دار اور پٹواری جیسے نچلی سطح کے سرکاری اہلکاروں کی مدد سے عوام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ عوام کو ان کے جائز کاموں کے لیے سیاستدانوں کی مدد لینے پر مجبور کر کے ان کی رائے پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ اس طرح ضمنی انتخابات میں بھی سرکاری فنڈز اور ریاستی مشینری کے استعمال سے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونا معمول کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک کام فیض کے نام - عالیہ زاہد بھٹی

پاکستان کی سیاست میں مثبت تبدیلی نہ آنے کی ایک وجہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان ہے، خاندانی سیاست نے عوامی قیادت کے ابھرنے کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔ جس سے نہ صرف عوام کی سیاست میں عدم دلچسپی بڑھی ہے بلکہ سیاسی جماعتوں میں بھی مثبت سیاسی عمل اور مسابقت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعت کی قیادت کے لیے کسی مخصوص سیاسی خاندانوں سے تعلق ہونا لازم ہے اور یہ خاندان ایک بعد ایک نسل کو پاکستان پر حکمرانی کے لیے باقاعد لانچ کرتے ہیں۔ اس طرح سیاسی عمل میں رکاوٹ اور بے جا مداخلت، مخصوص سیاسی عناصر کی سیاسی سرپرستی اور ان کی لانچنگ بھی حقیقی عوامی قیادت کے پنپنے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

پاکستان کے سیاسی نظام میں بنیادی خامیوں کو دور کیے بنا یہ سوچنا کہ کسی عدالتی فیصلے سے کوئی بڑی انقلابی تبدیلی آ جائے گئی، درست روش نہیں۔ اس کے لیے ضروری انتخابی اصلاحات، جمہوری عمل کے تسلسل، سیاسی جماعتوں میں حقیقی جمہوری روایات پر عمل درآمد، ، عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے لیے عملی کوششوں اور ریاستی رِٹ کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ لوگ برادری، گروہ بندیوں کے بجائے ریاست کی آغوش میں تحفظ محسوص کریں اور ذاتی مفاد کے بجائے ملکی و قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔