کیا شیطان جیت رہا ہے؟ مجیب الحق حقی

مغرب کی بے پناہ علمی اور عسکری ترقی نے دنیا کو ایسا مبہوت اور مرعوب کیا کہ ہر کمزور مذہبی عقیدے کا حامل رفتہ رفتہ اپنے عقائد، ثقافت اور رہن سہن بھولتا مغرب کے رنگ میں رنگتا جا رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ ہر طاقتور اپنی اقدار اور نظام نافذ کرنا چاہتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ بھی کرے تو احساس کمتری میں مبتلا محکوم خود ہی اس کی پیروی کرتا ہے تاکہ آقا خوش رہے۔ اپنے اطراف دیکھیے کہ مشرق بعید جہاں بدھ ثقافت تھی، دیکھتے دیکھتے معدوم ہو رہی ہے اور معاشرہ مغربی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ یہی حال دنیا کے دیگر حصّوں میں تہذیبوں اور عقائد کا ہے کہ مغربی افکار و طرز حیات ان کو تہہ و بالا کیے دے رہے ہیں۔ اب ظاہر یہی ہو رہا ہے کہ غالباً نیوورلڈ آرڈر میں اسلام کو مغربیت میں ضم کرنا بھی کسی پلان کا حصّہ ہو کہ جس میں اسلام کو ہر طرف سے نرغے میں لے کر اس کی بنیاد کو ڈھانے کی کوشش کی جائے۔ اس بات کی دلیل نیٹو کے ایک سابق سربراہ جیویئر سولانا کا بیان ہے جس نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو کے برقرار رکھے جانے کا جواز "مستقبل کے چیلنجز" کو قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ تنہا اس سے نبرد آزما نہیں ہو سکتا بلکہ ہم مل کر ان کا سامنا کریں گے۔ عقلمند کو اشارہ کافی! جیسا کہ سنا تھا غالباً انہوں نے آف دی ریکارڈاسلام کا نام بھی لیا تھا۔ انسانوں کو تہہ تیغ کرنے کے لیے سلوگن وہی ہے، جمہوریت، آزادی، امن اوران کی اقدار کا تحفظ!
http://www.nato.int/docu/speech/1999/s990315a.htm

اسلام کے مخالف اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس طرح عیسائیت کی بنیاد عفوودرگزر پر رکھی گئی، اسلام کی بنیاد شرم و حیا پر ہے۔ بے حیائی ایمان کو زائل کرتی ہے، لہٰذا اب طاغوت کا ہدف اسلام اور ہماری بنیادی قدر شرم و حیا ہے، اس لیے اس بنیاد کو کمزور کرنے اور ڈھانے کے لیے طاغوت بے چین ہے اور طرح طرح کے حربوں سے اسلام کی اس بنیاد کو کمزور کرنے کے لیے حملہ آور ہے۔ مگر یہ اسلام کی مقناطیسی قوّت ہے جو بے حیائی کے پُر آشوب دور میں بھی پوری دنیا میں مسلمانوں میں حیا اور اس سے پیوست اقدار سنبھالے ہوئے ہے۔ جدیدیت کی نظریاتی مزاحمت اور اسلام کی مؤثر تبلیغ کی وجہ سے مغرب کو اسلام کے بڑھتے اور پھیلتے اثر انگیز نرم انقلاب کی چبھن محسوس ہونی شروع ہوگئی ہے، اسی لیے اب جمہوریت اور اپنی اقدار کے تحفّظ کے نام پر شخصی ٓازادی اور ریاست کے حدودکار کی نئی تشریحات بھی سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ حجاب پر قدغن کی کاوشیں اس کی نمایاں مثال ہے۔ اب تک مسلمان خواتین ہی اپنی اقدارکے تحفظ میں سب سے زیادہ سخت جان ثابت ہو رہی ہیں لیکن طاغوت کی پیش قدمی ہر طرف جاری ہے۔

پاکستانی قوم شرم و حیا اور خاندانی نظام کے معاملے میں بہت حسّاس ہے، لہٰذا یہاں ایک دوسرے طریقے سے ہماری برین واشنگ ہو رہی ہے، جس میں تفریحی میڈیا کا بہت اہم کردار ہے، کہ جس کے ذریعے ہمارے خاندانی نظام میں درانداز ہو کر اسے مغربی طرز پر ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ اطاعت، ادب و احترام اور شرم و حیا کے پیمانے بدل کر ان کی جگہ شخصی آزادی اور بنیادی حقوق کے نام پر خودسری، والدین سے بغاوت اور بےباکی کا سبق بہت ہوشیاری سے ذہن نشین کرایا جا رہا ہے۔ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جانے والے ڈراموں کے سچویشن کے حوالے سے جارحانہ اور خود سرانہ ڈائیلاگ کے ذریعے چھوٹوں اور بڑوں میں قائم صدیوں کے احترام اور تقلید کے رشتوں کو زک پہنچائی جا رہی ہے۔ ذہنی سلوپوائزننگ کا یہ عمل غیر محسوس طور پر پرنٹ، سوشل اور الیکٹرک میڈیا پر اپنا کام دکھا رہا ہے۔

مغربی اقدار کی قبولیت کے لیے نفسیاتی حربے بھی اختیار کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً: ترکی، جہاں جبر کے ذریعے مغربی ثقافت مسلّط کی گئی، وہاں کے ڈرامے غالباً ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت دکھائے جا رہے ہیں۔ ترکی کے ٹی وی ڈراموں کی ڈبنگ اور نمائش کا مقصد غالباً ہمارے اذہان اور لاشعور میں پیوست مغربی معاشرت سے اجنبیت یا مخالفت کی سخت گرہ کھولنے کی کوشش ہے جو مغربی اقدار کو پھیلانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک طرف بادشاہوں کی کہانیوں والے ڈرا موں میں خواتین کا قدیم اسلامی لباس ایک احساس یگانگت پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف ترکی کے جدید معاشرے کی جھلکیاں لیے ڈرامے، جن میں خواتین مغربی لباس زیب تن کیے ہوتی ہیں، تاریخی بندھنوں کے تئیں مانوسیت کا تاثر دیتے ہیں۔ اس طرح ترکی سے طویل اور گہرے تاریخی و مذہبی روابط کی روشنی میں اوّلاً یہ پیغام دیا گیا کہ ایک مسلمان کے لیے مغربی لباس پہننا برائی نہیں۔ یہ ہم بھی مانتے ہیں کہ اسلام صرف ستر کی حدود بتلاتا ہے کہ جسم کے کن حصّوں کو کھلا رکھنا ہے اور کن کو ڈھانپنا۔ اسلام لباس کی تراش خراش تو نہیں بتاتا، ہاں مگر ایسے لباس کی تلقین کہ عورت کا جسم اور نازک جسمانی خطوط عیاں نہ ہوں۔ یعنی چست لباس جس سے جسمانی پیمائش ظاہر ہو، ممنوع ہے، اور ایسا لباس بے ہودہ ہے۔ یعنی اسلام لباس کے حوالے سے فرد کے اختیار میں محدود شراکت رکھتا ہے۔ اب اگر مغربی لباس بےہودہ نہیں تو ٹھیک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مغربی لباس اپنے ساتھ نئی تہذیب یعنی عریانیت اور بےہودگی کے دُم چھلّے لازماً لےکر آتا ہے۔ ہمارے آج کل کے فیشن شوز میں کتنے ہی لباس مغرب کے لباسوں ہی کا چربہ ہوتے ہیں، ان کی بے باکی اور عریانیت کے ڈھنگ دیکھ لیں، اور فیصلہ کر لیں۔ درحقیقت جدید مغرب اور حیا دو متضاد چیزیں بن گئی ہیں یا یوں سمجھیں کہ اسلام اور جدیدیت کے تصّورِ حیا میں بعُدالمشرقین ہے۔

دوسری طرف اسلامی نظریہ حیات کی مضبوط منطقی بنیادوں سے ناآشنائی نے عمومی طور میڈیا اور صحافت سے متعلّق بہت سے افراد کو مخمصوں اور احساس کمتری میں مبتلا کیا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ مغربی افکار و ترقی سے مرعوب ہوکر یا لاعلمی میں ایک بھیڑ چال میں آزاد معاشرے کی ترویج میں حصہّ دار بن رہے ہیں۔ ان میں بہت سے نظریاتی طور پر ایک طرح کے مقفّل مائنڈ سیٹ locked-mindset کے اسیر ہیں جہاں انتہائی اہم اور بنیادی لاینحل سوالات کو کوڑے دان میں ڈال کر ہوا کے رُخ پر چلا جاتا ہے۔ معذرت چاہتا ہوں لیکن اپنے آپ کو ترقّی پسند، جدّت پسندیا لا مذہب کہنے والے دوست و احباب اس کی مثال ہیں۔ یہ مغرب کی لائن پر چلنے پر مجبور ہیں۔

غور کریں کہ کیا میڈیا پر نشر ہونے والے مخصوص ڈرامے اور اشتہارات رفتہ رفتہ ہماری عفّت کو ڈھکتی چادر کو نہیں کھینچ رہے؟ کیا یہ اثرانگیز ڈرامے اور اشتہارات ہمیں لاشعوری طور پر مغربیت و عریانیت سے ہم آہنگ نہیں کرتے جا رہے؟ کیا یہ ہماری اقدار کو چیلنج نہیں کر رہے، نئے ڈراموں اور اشتہارات میں آپ اکثر خواتین کو جینز، شرٹ، پینٹ ،ٹائٹ یا ماڈرن لباس میں بھی دیکھتے ہیں جو ہمارے اسلامی معیار سے لگا نہیں کھاتے، اور صاف بے ہودہ ہوتے ہیں، مگر جن کو ایک ٹرینڈ بنایا جا رہا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ڈراموں میں نت نئے ایشوز کو بولڈ طریقے سے ہائی لائٹ کیا جارہا ہے۔ برے کرداروں کو گلیمرائز کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو خودسری کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔
مثالیں تو بہت ہیں، بس دیگ کے چند چاول دیکھ لیں: مثلاً:
ڈرامہ "یہ رہا دل مرا دل" اختتام پر پیغام دیتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے باہر جاکر ایک ساتھ تعلیم حاصل کریں اور گھومیں پھریں! کوئی ہرج نہیں! شادی تو ہوتی رہے گی، خوب۔
اولادوں کو دیدہ دلیر بنانے کی مثال دیکھیں کہ ڈرامہ "رنگریزہ" میں بیٹی ایک کمزور کردار کے باپ سے چیخ کر بدتمیزی کرتی ہے اور انگلی سے اشارہ کرکے لعن طعن کرتی ہے!
"تو دل کا کیا ہوا" میں بیوی شوہر سے طلاق مانگتی ہے کہ اپنے عاشق سے شادی کروں گی، پھر اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر تنہا رہنے والی سہیلی کے گھر چلی جاتی ہے۔ اسی ڈرامے میں ایک ایونٹ آرگنائزر کو اتنی چست جینز میں دکھایا گیا کہ خدا کی پناہ۔
پچھلے دنوں ایک ڈرامے میں تو لڑکے لڑکی کو باقاعدہ بغیر شادی کے ساتھ رہتے دکھایا گیا!

معنی خیز بات یہ ہے کہ ان ڈراموں میں اکثر ماں اور عمر رسیدہ کرداروں کو قدیم روایتی لباس اور لڑکیوں کو مغربی لباس میں دکھایا جاتا ہے، جو کبھی کبھی انتہائی بیہودہ ہوتے ہیں۔ دوپٹّہ ندارد ہوچکا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ نئی نسل کا لباس نیا ہے۔

نیم عریاں مغربی رنگ لیے پے در پے دکھائے جانے والے اشتہارات تو ذہنی قبولیت کے لاشعوری پیغامات ثبت کر رہے ہیں۔
گورا کرنے والی کریم کے ہندوستانی اشتہار میں شوخ رنگ کے اسکرٹ میں ملبوس لڑکی ہماری بچّیوں کو اور کیا کیا سکھا رہی ہے ۔
اسمارٹ فون کا غیر ملکی نیم عریاں اشتہار کس پلان کے تحت ورلڈ کپ کے دوران ہر اوور پر دکھایا گیا؟
ملٹی نیشنل تجارتی اداروں کے اشتہارات کس ڈریس کوڈ کی ترویج کر رہے ہیں۔ اس میں حیا کا عنصر کیوں تحلیل ہو رہا ہے؟
کاسمیٹک کے بڑھتے بےباک اشتہارات میں سے ایک میں ایسا لباس بھی ہے کہ عورت پیر آٹھاتی ہے تو صرف لمحے بھر کے لیے عریاں ران کی جھلک دکھا جاتی ہے۔ یہی ہماری ذہن سازی ہے کہ آئندہ سالوں میں عریاں ٹانگ بھی بری نہیں لگے گی۔
اس ٹرینڈ کا اثر دیکھیں کہ اب مقامی کریم کے اشتہار میں بھی عورت کی ننگی پیٹھ دکھائی جا رہی ہے۔
بھارت کے فلم ایوارڈز کی نیم عریاں لباس سے مزیّن تقریبات کی نمائش تو ایک طرف رہی اب تو پوری فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔
ایک صابن کے ایوارڈز کی تقریب کیا مغربی اور بھارتی پروگرامز کا چربہ نہیں ہوتیں؟ اس میں مشرقی رنگ بس ڈھونڈتے رہیں۔
کیا یہ سب کچھ مغربی اقدار کی ترویج نہیں ہے؟

حیرت ہے کہ ایسے قابل اعتراض ڈراموں اور اشتہارات کے پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں اور سب سے بڑھ کے اداروں کے مالکان کی سوچ پر کہ یہ کس ثقافت کی آبیاری کرنا چاہ رہے ہیں اور وہ بھی اپنے بنیادی اخلاقی جوہر کی قیمت پر۔ بات وہیں پر آتی ہے کہ کیا ان کو اس جوہر کا ادراک بھی ہے؟ یا پھر چلو تم اُدھر کو، ہوا ہو جدھر کی

اس ذہنی زہر خورانی کا اثر معاشرے میں نظر آنا شروع ہوچکا ہے۔ ہمارے عمومی رویوں میں تبدیلی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ کبھی کا عریانیت پر شدید ردعمل اب لاتعلقی، بےحسی یا نیم قبولیت کے رنگ میں ڈھل رہا ہے۔ کیا نئی نسل کے لباس کی پسند کے پیرائے ہمارے دیکھتے دیکھتے بدلتے نہیں جا رہے۔ لمبی چاک کی قمیض کے ساتھ ٹائٹ اور پینٹ تو اب عمر رسیدہ بھی پہنے نظر آتی ہیں۔ جو عورت اپنی ٹخنےٕ چھپاتی تھی، اب وہ اپنی ران کی پیمائش عیاں ہونے پر بھی نہ جھجکتی نہ پرواہ کرتی ہے۔ عید کی خریداری میں چھوٹی بچیوں کے لیے پینٹ، جینز اور شرٹ عام ملنے شروع ہوگئے ہیں، اور لوگ بخوشی انھیں خریدتے ہیں۔ اس عمر میں یہ لباس پہننے والی آگے جا کر کیا پہنے گی اور کیا نہیں؟ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں پبلک ڈیلنگ میں مصروف خواتین ملازمین کے ڈریس عموماً مغربی ہوتے ہیں اور اس کی نقل میں ہمارے پاکستانی اداروں کے مالکان بھی قدم ملا کر چل رہے ہیں، خاص طور پر میگا اور سپر شاپنگ اسٹورز میں پبلک ڈیلینگ میں خواتین ملازمین شرٹ اور پینٹ میں نظر آتی ہیں، دوپٹّہ غائب ہو چکا ہے۔ یہ نتیجہ ہے ملٹی نیشنلز کو بغیر کسی قدغن کے کاروبار کی اجازت دینے کا۔ مغرب اپنے تجارتی اداروں کے ذریعے بھی ہمارے طرز ِزندگی پر حملہ آور ہے، مگر کسے ہوش ہے! کیا ہم ان کو قانوناً مجبور نہیں کر سکتے کہ ہماری ثقافت کی حدود میں رہ کر صرف تجارت کریں نہ کہ اپنی تہذیب کی ایکسپورٹ بھی!

دوسری طرف انٹرنیٹ پر فواحشات کا اژدہام ، اسمارٹ فون پر جنّت اور جہنم ایک کلک پر۔
خبردار ہوجائیں کہ ہمارے حیا کے پیمانے تبدیل ہو رہے ہیں ۔ ہماری لاپرواہی اسلام کے بد خواہوں کو زور آور کر رہی ہے۔
کیا ہم اپنی اقدار کی حفاظت کرنے کا شعور رکھتے ہیں؟
کیا اب ہم میں اپنی میراث کے تحفظ کی سکت اور جر أت باقی نہیں رہ گئی؟

افسوس، اس قوم کو ایک فوجی کے علاوہ کوئی حکمران بھی ایسا نہ ملا جو بڑھ کر حیا اور ہماری اقدار کا تحفظ کر کے اس کو اغیار کی ثقافت کے تاریک پہلوؤں سے بچا سکتا۔ ضیاالحق مرحوم کے دور میں سینسر اتنا مؤثر تھا کہ غیر ملکی فلمیں اور سیریل فیملی کے ساتھ بیٹھ کر بلاجھجک دیکھ سکتے تھے۔ لیکن بعد کی حکومت نے نرمی کی۔ برسبیل تذکرہ، ضیاء الحق کے بعد کے دور کے بالکل شروع میں ٹی وی پر ایک نئی جاسوسی سیریز شروع کی گئی تھی۔ لیکن جو بات مجھے آج بھی یاد ہے وہ یہ کہ اس میں ہیروئن حالانکہ گھٹنے سے ذرا نیچا اسکرٹ پہنے تھی، پھر بھی اس کو دیکھتے ہی میری آٹھ سالہ بیٹی بےاختیار بول اُٹھی تھی کہ،،، آ۔۔ ننگی! یہ اثر ہوتا ہے بچوں کی ذہن سازی میں مناسب سینسر کا۔ تفریح تب بھی تھی مگر مادر پدر آزاد نہ تھی۔ ہمارے سینسر کے وہ قوانین اب کہاں ہیں؟ ہم ہیں کہ جمہوریت، ترقّی، روٹی اور مکان کی تلاش میں مگن، مگر ثقافتی یلغار میں اپنی خواتین کے سمٹتے سکڑتے کپڑوں سے غافل۔

9/11 کے بعد فوجی کارروائی کے دفاع میں ٹونی بلیئر نے کہا تھا کہ یہ لوگ ہمارا طرز حیات تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے الفاظ تھے: "They-want-to-change-our-way-of-life." یعنی بن لادن اور اس کے ساتھیوں کا جرم یہ بھی تھا کہ وہ ایک نظام کو تبدیل کرنا چاہ رہے تھے اور مغربی وے آف لائف کو تبدیل کرنے کی غیر اعلان شدہ خواہش بھی "دہشت گردی" ٹھہری تھی، تو اسی تناظر میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی اصطلاح معاشی دہشت گردی کے بموجب ہماری شرم و حیا کی قدر پر کوئی بھی حملہ آور ہماری بودوباش کو تبدیل کرنے کی کوشش کیا "فحاشی دہشت گردی" نہیں؟ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ کرپشن اور کالے دھن کا دہشت گردی کو بڑھانے میں کردار ہے تو اسی پیرائے میں فواحشات کی ترویج بھی کم نقصان دہ نہیں، بلکہ زیادہ خطرناک ہے۔

یہ بات نہ بھولیں کہ فواحشات کے فروغ سے ہم آہنگ ماحول میں ہی بےبس و بے چین راسخ العقیدہ افراد آسانی سے برین واش ہو کر تشدّد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اب فیصلہ ہمارا، آپ کا اور ریاست کا ہونا ہے کہ فواحشات کا راستہ روک کر اپنے ایمان کی عمارت کی بنیاد کی حفاظت کرنی ہے یا پھر ہم جذباتیت سے کُڑھتے نوجوانوں کو انتہاپسندوں کا نرم چارہ بننے کو چھوڑ دیں۔ مناسب تو یہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری نیشنل ایکشن پلان کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ملک کے چوٹی کے ماہرین نفسیات کی رائے لی جائے کہ تفریحی میڈیا اور اشتہاراتی اداروں کی مادر پدر آزاد روش اسلامی جمہوریہ کے وسیع دیندار طبقے اور عام مسلمانوں میں فرسٹریشن پیدا کر کے دہشت گردی کے فروغ میں کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ اور اس پر مناسب چیک سے اس پر قابو پانے میں کتنی مدد مل سکتی ہے؟ حکومت کو اس ضمن میں ایکشن لینا چاہیے کہ تفریح کے نام پر ہماری اقدار پر حملہ آور " نادان دوست" اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ ہمارے ارباب اقتدار یہ جان لیں کہ مختلف طریقوں اور مختلف اطراف سے ہماری اقدار پر حملے کا دفاع ان کی مذہبی کے علاوہ آئینی ذمّہ داری بھی ہے کہ انہیں اللہ کے اقتدار اعلیٰ کی نیابت کے تئیں اس کا تحفّظ کرنا ہے، کیونکہ اختیار کے بموجب سب سے زیادہ پکڑ انہی کی ہونی ہے۔ اپنی اقدار کے تحفظ کے تئیں اختیار کے حوالے سے کسی انقلابی قدم کے لیے ہمیں مثال تو خود مغرب دے رہا ہے۔ اپنی اقدار کے تحفظ کی بنیاد پر پچھلے دنوں فرانس کی تنگ نظری تو عروج پر جا پہنچی تھی، جب وہاں کے ارباب اختیار نے ساحل سمندر کا ڈریس کوڈ جاری کر دیا، اور بتا دیا کہ کیا نہیں پہننا! بلکہ مسلم خواتین کا حجاب پولیس کے ذریعے اتارنے کی کوشش کی گئی! جس کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ کیا ہماری حکومت اسی بنیاد پر نیم عریاں اور بیہودہ لباس کی میڈیا پر نمائش پر پابندی نہیں لگا سکتی؟ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے اقتدار کا حلف اٹھانے والی حکومت اِس حوالے سے اپنی ذمّہ داریوں سے آگاہ بھی ہے کہ اللہ کے اقتدار اعلیٰ کی نیابت ایک بڑا بوجھ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو ان ذمّہ داریوں کی سنگینی کا احساس ہے؟

آخر میں حکمرانوں، سرکاری اہلکاروں اور جدیدیت کے ہر کاروں کے لیے حدیث قدسی کے ایک حصّے کا ماحصل پیش خدمت ہے، جو بذات خود ایک انتباہ بھی ہے: اللہ تعالیٰ کچھ ایسافرماتے ہیں کہ،
"اے میرے بندو، اگر تمہارے تمام اگلے اور تمام پچھلے انسان اور جِن دعا ئیں مانگیں اور میں تمام کی تمام پوری کردوں، پھر بھی میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی کو ڈبو کر نکالنے سے اس کے ناکے میں پانی آئے، اور اگر تمہارے تمام اگلے اور تمام پچھلے انسان اور جن میرے انتہائی نافرمان، فاسق و فاجر ہوجائیں کہ جتنا ہو سکتے ہیں پھر بھی میری شان میں کوئی فرق نہیں آئے گا، مگر یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جن کو میں شمار کرتا ہوں، پھر میں تم کو ان اعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا، پس جو نیکی پائے تو شکر ادا کرے اور جو بدی پائے تو خود کو ہی مطعون کرے۔"

تو اے مسلم اور مسلمہ جاگ، کہ اللہ تو بےنیاز ہے لیکن ہم امتحان میں ہیں۔
مگر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یہی کہ ہمیں اپنی حد تک طاغوت کو جیتنے نہیں دینا ہے۔ بس اللہ کے گروہ کے ناقابل شکست رضاکار بن جائیں۔ اپنی اور آئندہ نسل کی حقیقی و ہمیشگی فلاح کے لیے اپنے اپنے گھروں میں بے حیائی کو کسی بھی عنوان پہ داخل نہ ہونے دیں، کہ ہم سے بھی ہمارے اختیار پر سوال ہوسکتا ہے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.