صحافت پڑھ لو، بہت اسکوپ ہے - نور الہدیٰ شاہین

وطن عزیز میں دیگر مسائل کے ساتھ ایک سلگتا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ملکی سطح پر کوئی مؤثر اور منظم تعلیمی پالیسی نہیں ہے۔ ملک گیر سطح پر گائیڈ لائنز دینے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ناکام نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سربراہی میں ایچ ای سی نے کچھ عرصہ اچھا کام کیا، لیکن ان کے رخصت ہوتے ہی ادارہ لڑکھڑانے لگا۔ اوپر سے اٹھارویں آئینی ترمیم نے اس کا بھرکس نکال دیا۔ صوبوں نے اپنے ہائر ایجوکیشن کمیشن بنانے شروع کر دیے اور ان میں ماہرین تعلیم کے بجائے سیاسی رہنما سربراہ بن بیٹھے۔ یہ سیاسی رہنما ایک طرف اربوں روپے کرپشن کیسز میں جیل بھی جاتے ہیں اور دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کرتا دھرتا بھی بنے بیٹھے ہیں۔

دوسرا ظلم تعلیم کے ساتھ یہ ہوا کہ والدین اور اساتذہ سمیت خود طالب علم بھی اپنی دلچسپی اور رجحانات کے مطابق مضمون کا انتخاب کرنے کے بجائے''اسکوپ'' کے پیچھے اندھا دھند بھاگے جا رہے ہیں۔

ماضی قریب کی بات ہے، جب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ہر طرف چرچا ہوگیا۔ کمپیوٹر سائنس پڑھ لو، بہت اسکوپ ہے۔ اس کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر سائنس کی نشستیں کم پڑ گئیں۔ گلی گلی کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ کھل گئے اور چھوٹے بڑے سب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر بن کر لاکھوں میں کھیلنے کے خواب دیکھنے لگے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دو چار برس کے اندر اتنی افرادی قوت میدان میں آگئی جتنے پاکستان میں کمپیوٹر بھی نہیں تھے۔ اس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بزنس ایڈمنسٹریشن کے ماہرین پیدا کرنے کی ہدایت کی، لیکن یہ بتانا بھول گیا کہ پاکستان میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے کتنے ماہرین کی ضرورت ہے۔ پھر ہر طرف بی بی اے اور ایم بی اے کا ڈنکا بجنے لگا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں جگہ کم پڑ گئی تو بزنس ایڈمنسٹریشن کے ہزاروں پرائیویٹ ادارے کھل گئے، جہاں سے بی بی اے اور ایم بی اے کی ڈگریوں کی بندر بانٹ شروع ہوگئی۔ آج ہر دوسرا تیسرا نوجوان ایم بی اے کی ڈگری لیکر نوکری تو دور انٹرن شپ کے لیے در بدر ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ یوں پوری نوجوان نسل رہنمائی کے بغیر گڑھے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آج ، کل ، پرسوں کی تازہ خبر ! - مہوش کرن

ٹی وی چینلوں کی بہتات کے بعد حالیہ برسوں میں طلبہ و طالبات مس گائیڈڈ میزائل کی طرح ماس کمیونیکیشن کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ سو میں سے صرف پانچ فیصد طلبہ ایسے ملتے ہیں جو اپنے شوق اور رجحانات کے مطابق صحافت پڑھتے ہیں، باقی ننانوے فیصد گلیمر کے چکر میں ہیں۔ جس سے پوچھو، صحافی بننا چاہتا ہے، وجہ پوچھو تو جواب ملتا ہے یار بہت اسکوپ ہے، پیسہ اور دبدبہ ہے، پولیس ڈرتی ہے، پروٹوکول، شہرت اور عزت سب کچھ اسی میں ہیں۔ گویا صحافت نہیں الہ دین کا چراغ ہوگیا، ایک رگڑا دو، سب کچھ پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جائے گا۔ اسی گلیمر کی وجہ سے جب نوجوان انٹر کے بعد ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لیتے ہیں تو خود کو براہ راست اینکر محسوس کرتے ہیں اور شیخ چلی کی طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ اپنے پہلے ٹاک شو میں کس کس کو بلائیں گے۔ لیکن جب 4 سال بعد ڈگری لے کر نکلتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ انٹرن شپ کے لیے کس کے پاس جائیں۔ پاکستان میں گنتی کے چینل اور اخبارات ہیں لیکن ہر سال ہزاروں طلبہ اینکری کا خواب آنکھوں میں سجائے یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں، اور پھر ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں، بھائی کہیں انٹرن شپ ہو تو بتانا۔

غضب یہ ہوتا ہے کہ جو گلیمر کے پیچھے صحافت پڑھتے ہیں، وہ نہ اچھے صحافی بن پاتے ہیں نہ ہی کچھ اور، ماسٹرز کے طالب علم خبر، فیچر اور کالم و دیگر اصناف صحافت تو دور کی بات، بطور اسائنمنٹ اخبار کے مدیر کے نام ایک مراسلہ نہیں لکھ سکتے۔ دو چار صفحات کا اسائنمنٹ بنانے کو مل جائے تو وکی پیڈیا سے کاپی پیسٹ کر کے کام نمٹا دیتے ہیں، پھر جب اداروں میں نوکری کے لیے جاتے ہیں تو ایڈیٹر سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ چار سال میں کیا پڑھ کر آیا ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ آدھا تیتر، آدھا بٹیر کے بجائے اپنی دلچسپی اور رجحانات کے مطابق شعبہ منتخب کرکے اس میں مہارت پیدا کی جائے۔

اگر آپ کو واقعی صحافت میں ہی دلچسپی ہے تو پھر چند باتوں کو ذہن نشین کیجیے۔ صحافت کے دو رخ ہیں، ایک عوام کو نظر آتا ہے جس میں گلیمر ہی گلیمر ہے، اور دوسرا رخ صحافی کو نظر آتا ہے کہ عید کے دن بھی چھٹی نہیں ملتی۔ بارش، طوفان اور جنگ ہی کیوں جاری نہ ہو، دوسرے لوگ اپنے محفوظ پناگاہوں میں آرام کرتے ہیں، صحافی فیلڈ کا رخ کرتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ صحافی کو روز نیا کنواں کھود کر اسی میں سے پانی پینا پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ڈگری لینے کے ساتھ ہی اینکری کا خواب چھوڑ دیں، یہ جو بڑے بڑے اینکر ہمیں چینلوں پر نظر آتے ہیں، ان میں سے چند پیراشوٹرز کو چھوڑ کر باقی سب نے کیرئیر کے آغاز میں کئی کئی سال ''چھوٹا'' بن کر کام کیا ہے۔ برسوں بغیر تنخواہ کے صحافت کی ہے۔ ایک عمر کھپانے کے بعد آج وہ اس مقام پر پہنچے ہیں۔ دوران تعلیم اسکول کے بچوں کی طرح نوٹس اور امپورٹنٹ چھوڑ کر وسیع مطالعہ کریں۔ روزانہ اخبارات و رسائل، ادب، سیاست، تاریخ، بین الاقوامی تعلقات و دیگر متعلقہ موضوعات پر گرفت مضبوط کریں۔ حالات حاضرہ، ملکی و بین الاقوامی ایشوز سے باخبر رہیں۔ خبر، فیچر، رپورٹ، کالم لکھنا سیکھیں۔ کلاس کے اسائنمنٹ میں کاپی پیسٹ اور امتحانات میں نقل چل سکتی ہے لیکن اخبار یا ٹی وی میں بیٹھ کر ایسا کچھ ممکن نہیں ہوتا۔ ایک مہینہ قبل ہمارے امتحان میں دو سوال کتابی اور تین سوال موجودہ عالمی صورتحال اور تنازعات سے متعلق آئے۔ پوری کلاس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ کسی کو نہیں معلوم شام اور یمن میں کیا ہو رہا ہے، سعودی قطر تنازع کیا ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین کیا تنازعات ہیں۔ صحافت کے طالب علم کو اگر یہ نہیں معلوم تو اس کو صحافی نہیں کچھ اور بننا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   آج ، کل ، پرسوں کی تازہ خبر ! - مہوش کرن

کراچی یونیورسٹی کی دیوار پر ایک وال پیپر لگا تھا۔ نوجوان ماسٹرز میں گولڈ میڈل لے کر اخبار کے دفتر میں نوکری کے لیے گیا۔ ایڈیٹر نے پوچھا، خبر بنا سکتے ہو، نوجوان نے جواب دیا نہیں، ایڈیٹر نے پوچھا، رپورٹ، فیچر، کالم لکھ سکتے ہو، نوجوان نے تمام سوالوں کا جواب نفی میں دیا۔ ایڈیٹر نے سی وی اس کو واپس پکڑاتے ہوئے کہا، ہم اخبار میں خبریں، رپورٹ، فیچر اور کالم چھاپتے ہیں، ماسٹر ڈگری اور گولڈ میڈل نہیں۔