الیکشن 2018ء ممکنہ حکمت عملی - احسن سرفراز

لاہور کا ضمنی الیکشن بے شمار غور طلب پہلو رکھتا ہے، یہ ضمنی الیکشن کچھ جماعتوں کے لیے تو کچھ نیا نہیں لایا لیکن کچھ کے لیے بہت کچھ نیا ہے. ہاں ایک بات طے ہے کہ ہر جماعت کے لیے اس الیکشن میں سیکھنے کے لیے زبردست سبق موجود ہے۔ جو اس سبق کو سیکھ کر اپنی حکمت عملی کوبہتر ترتیب دے لے گا، وہ اگلے عام انتخابات کا معرکہ مار سکتا ہے۔

جن جماعتوں کے لیے یہ الیکشن کچھ نیا نہیں لایا، اس میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔ تحریک انصاف کو پچھلے الیکشن سے گو کہ پانچ ہزار ووٹ کم ملے، لیکن ٹرن آؤٹ کم ہونے کی وجہ سے اس کی زیادہ اہمیت نہیں۔ ہاں یہ بات ثابت ہوئی کہ وہی پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اصل حریف ہے اور اس کا ووٹ بنک 2013ء کے مقابلے میں قطعاً کم نہیں ہوا، بلکہ شاید معمولی سا بڑھا ہے۔

جماعت اسلامی کو پچھلے الیکشن میں اس حلقے سے 950 اور اب محض چھ سو کے قریب ووٹ ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ پنجاب بالخصوص لاہور میں اس کی صورتحال قطعاً بہتر نہیں ہوئی، اور عمومی عوامی رجحان اس کے حق میں نہیں بدلا۔ جہاں وہ پچھلے الیکشن میں کھڑی تھی آج بھی تقریباً وہیں ہے، جہاں اس کے امیدوار انفرادی حیثیت سے کچھ رابطہ عوام رکھتے ہیں، وہاں ان کے تحرک کے مطابق اسے کم یا زیادہ ووٹ مل جائے گا لیکن اس کا اکیلے قابل ذکر ووٹ لینا فی الحال ممکن نہیں۔

پیپلز پارٹی کو پچھلے الیکشن کے ڈھائی ہزار ووٹ کے مقابلے میں محض چودہ سو ووٹ ملا، جو اس بات کا غماز ہے کہ پنجاب میں اس کے ووٹ بنک بلکہ اکثر الیکٹیبلز کا بھی تحریک انصاف کے ہاتھوں صفایا ہو چکا ہے اور مستقبل میں اس کے مزید الیکٹیبلز ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔

جن پارٹیوں کے لیے کچھ چیزیں زیادہ بدل چکی ہیں، اس میں مسلم لیگ ن سرفہرست ہے۔ اس کی لیڈ چالیس ہزار ووٹ سے محض ساڑھے چودہ ہزار ووٹ رہ گئی، جبکہ بالترتیب سات ہزار اور چھ ہزار ووٹ دو نئی جماعتیں لبیک تحریک اور ملی مسلم لیگ جو بریلوی و اہلحدیث مکتبہ فکر کی نمائندہ ہیں، لے اڑی ہیں۔ یہ وہ ووٹ تھا جو پہلے ن لیگ کی جھولی میں گرتا تھا۔ یعنی اگر یہ جماعتیں نہ ہوتیں تو ن لیگ کی لیڈ پچیس ہزار سے زائد ہو سکتی تھی جو کہ ضمنی الیکشن کے لحاظ سے پہلے جیسا نتیجہ ہی کہلاتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا PTI کی چیخوں کی باری آن پہنچی- انصار عباسی

مندرجہ بالا رزلٹ میں اصل سرپرائز خادم رضوی صاحب کی تحریک لبیک یا رسول اللہ ہے، جو ممتاز قادری صاحب کی شہادت کو بنیاد بنا کر بریلوی ووٹ بنک کو یکجا کرنے کی نیت سے سیاست کے میدان میں اتری ہے۔ جسے ایک نارمل کمپین اور وسائل خرچ کرنے کے باوجود تیسری پوزیشن ملی۔ جبکہ اس جماعت کو الیکشن سے محض دو تین دن پہلے ن لیگ کی ایک خطرناک چال کا سامنا بھی کرنا پڑا، جب لبیک رسول اللہ فاؤنڈیشن نام کی ایک ڈمی تنظیم کی طرف سے ن لیگ کی حمایت کی خبر خادم رضوی صاحب کی زعیم قادری کے ساتھ پرانی تصویروں کو نمایاں کر کے چلوائی گئی۔ اس خبر نے یقیناً لبیک تحریک کو خاصا متاثر کیا، اور اگر یہ خبر نہ چلتی تو ان کا ووٹ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا۔ گو کہ اس جماعت نے اچھے خاصے بریلوی طبقے کو متوجہ کیا ہے، لیکن بہرحال ان کا یہ ووٹ بنک انھیں اگلے الیکشن میں شاید ہی تن تنہا کوئی سیٹ جتوا پائے۔

ملی مسلم لیگ جو اہلحدیث مسلک کی جہادی و فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کو سیاسی شیلٹر دینے کے لیے بنائی گئی ہے، اس نے بھی اچھا ووٹ لیا۔ لیکن ان کا ووٹ پورے پاکستان کی تنظیم کی مالی و افرادی قوت کے مرہون منت رہا۔ عام الیکشن میں جب ان کے امیدواروں کو بیک وقت زیادہ نشستوں پر کھڑا ہونا پڑے گا تو انھیں اپنے وسائل کو تقسیم کرنا پڑے گا، جس سے شاید وہ اس الیکشن جیسا مومنٹم نہ بنا پائیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے الیکشن میں ممکنہ صف بندی کیسی ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہ صورت ہے کہ دینی جماعتیں مل کر ایک پلیٹ فارم پر الیکشن لڑیں جس سے ان کا مشترکہ ووٹ بنک خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اکثریتی جبکہ پنجاب و سندھ میں کسی حد تک اچھی خاصی نشستیں جیت سکتا ہے۔ لیکن اتنی جماعتوں کا اتحاد مذہبی جماعتوں کے لیے ایک پل صراط ہوگا۔ کوئی ن لیگ کے کٹر خلاف ہے اور کچھ اس کی حمایتی ہیں۔ اس اتحاد کے لیے مستقبل میں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہمیشہ مسلہ بنا رہے گا۔ ان کے درمیان پھوٹ دینی قوتوں کی جگ ہنسائی کا سبب بنے گی۔ اس اتحاد کا وقتی فائدہ دینی جماعتوں کی جیت کی صورت تو یقیناً ہوگا لیکن دیرپا نقصان شاید ان جماعتوں کو برداشت کرنا پڑے۔

جبکہ ایک صورت یہ ہے کہ پرو ن لیگ اور اینٹی ن لیگ جماعتیں ایڈجسٹمنٹ کے تحت الیکشن لڑیں۔ ایک طرف ن لیگ، JUI, قوم پرست جماعتیں، ANP، ساجد میر اور JUP ہو۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ق لیگ، تحریک لبیک، ملی لیگ، عوامی تحریک و مجلس وحدت المسلمین آپس میں ایڈجسٹمنٹ سے اپنے امیدوار میدان میں اتاریں۔ اس صورت میں ایک اتحاد کو پرو اسٹیبلشمنٹ اور دوسرے کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا درجہ مل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بہرحال دوسرا اتحاد بھی میدان مار سکتا ہے۔ لیکن اس کا داغ بھی ان مختلف النوع جماعتوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ نیز اتنی جماعتوں کا آپسی میں اتفاق رائے سے میدان میں اترنا ایک نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کے بس کی بات ہی ہے، جبکہ یہاں تو مسئلہ عمران خان جیسے جذباتی اور قدرے منہ پھٹ لیڈر کا ہے جو ابھی تک انتخابی سیاست میں اپنے اتحادی چننے اور انھیں ساتھ لے کر چلنے میں ناکام رہے ہیں۔ بہرحال پرو ن لیگ جماعتوں کے اندر سیاسی میچورٹی زیادہ ہے اور شاید وہ کوئی انتخابی اتحاد ترتیب بھی دے لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ن لیگ کہاں ہے؟ ن لیگ تھی کہاں؟ آصف محمود

جماعت اسلامی کے لیے اب آخری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے جھنڈے اورنشان پر خیبر پختونخوا میں بھرپور اور سندھ و پنجاب میں چند بہتر نتائج کی امید والی نشستوں پر ہی الیکشن لڑے، جس سے اس کے وسائل و افرادی قوت کو بہتر ترتیب دیا جا سکے۔ اس صورت میں شاید سیٹیں تو اتنی نہ مل سکیں لیکن جماعت کے لیے اپنے فیصلے کھل کر آزادی سے کرنے کی سہولت ہوگی۔

جبکہ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جماعت خیبرپختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام اور کراچی و پنجاب میں تحریک انصاف، لبیک رسول اللہ اور ملی مسلم لیگ سے ایڈجسٹمنٹ کرکے الیکشن لڑے، اس صورت میں جماعت کو اچھی خاصی نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں، لیکن اس کا انحصار ان جماعتوں کی رضامندی اور سیٹوں کی بہتر تقسیم پر منحصر ہے۔

خیر یہ تو مختلف امکانات تھے جس پر مندرجہ بالا جماعتوں اور بالخصوص جماعت اسلامی کی قیادت کو غور کرنا چاہیے، اور آئندہ آنے والے الیکشن کے لیے ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ جماعت کا بیک وقت پورے ملک میں علیحدہ اپنے نشان سے امیدوار اتارنے کا فیصلہ شاید اتنا مفید ثابت نہ ہو سکے، کیونکہ اس کے لیے اسے بے تحاشا وسائل بھی خرچ کرنا پڑیں گے اور ممکنہ نتائج حوصلہ افزا نہ آنے کی صورت میں اس کے کارکن اور سیاسی ساکھ کو خاصہ دھچکا بھی لگ سکتا ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.