توہماتی خیالات اور ہمارے عامل بابے - فارینہ الماس

جو معاشرے جہالت کی دلدل میں دھنس جائیں، وہاں بدتہذیبی اور بد فعلی کا چرچہ بےاختیار و بے حساب ہونے لگتا ہے۔ معاشی و معاشرتی بد حالی، سماجی و سیاسی عدم استحکام جیسی مختلف صورتیں افلاس اور بیماری کی صورت اپنا اندھا ناچ ناچتے ناچتے، جرم و بےراہ روی کے راستوں کو استوار کرتی چلی جاتی ہیں۔ علمی و ادبی سوچ معدوم اور انسان کی تمام تر روایتی و کلاسیکی قدریں نایاب ہونے لگتی ہیں۔ اور سب سے بڑی بلا یہ کہ نظام عقائد، اوہام اور خرافات کا نمونہ پیش کرنے لگتے ہیں۔ توہمات اور تنگ نظری عوام کا ایک بھیانک وصف بن کر سامنے آتی ہے۔

یورپ جو آج علم و ترقی کا چیمپئن ہے، کبھی گمراہی کی تاریکیوں میں ڈوبی ایک بے ہیئت و بے بال و پر تہذیب کا مسخ شدہ چہرہ دکھائی پڑتا تھا۔ مڈل ایجز کے ابتدائی پانچ سو سالہ دور میں جاگیردارانہ اور کلیسائی اختیار نے عام عوام کو خوب رگیدا۔ چرچ نے لوگوں کی سوچ و فکر کو دینی طور پر مقید بنا کر حکومتی مفادات اور اختیار کی باندی بنا دیا۔ مذہبی توہم پرستی عام تھی، جس کی ایک مثال یہ پیش کی جاتی ہے کہ ذہنی امراض کا شکار لوگوں کو بھوت پریت کے سائے کا قیدی سمجھ کر انھیں پنجروں میں قید کر کے رکھا جاتا اور ان پر عام عوام کے دیکھنے کو ٹکٹ لگا دیا جاتا تھا۔ اس دور میں جادو ٹونا ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

قدیم یونانی بھی ایسے ہی اوہام کا شکار تھے، مثلاً ان کا ماننا تھا کہ پرومی تھیس دیوتا نے آسمان سے آگ چرائی اور زمین والوں کو عطا کر دی، اس طرح zeus دیوتا کو یہ بات کچھ اچھی نہ لگی اور اس نے انتقام کے لیے عورت کو بنا کر دنیا میں بھیج دیا۔ قدیم یونانیوں کا ہر عقیدہ دیوی، دیوتاؤں سے ہی جڑا ہوتا جن کے کئی نام اور کئی روپ تھے۔ قدیم چین کے لوگ بھی ایسے اوہام سے کچھ الگ نہ تھے۔ جب چاند گرہن لگتا تو وہ سمجھتے کہ چاند کو ایک بہت بڑا اژدھا نگلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چاند کو اس اژدھے سے بچانے کے لیے وہ بآواز بلند چیخنے چنگھاڑنے لگتے۔ اہل مصر دریائے نیل کی روانی و فراوانی کی خاطر ایک کنواری اور خوبصورت لڑکی کو اس میں دھکیل کر اس کی قربانی پیش کیا کرتے۔ ان کے بقول اس قربانی سے دریا خوش ہو تا ہے اور اس کے پانیوں میں روانی آ جاتی ہے، جس پر ان کی کھیتی باڑی اور رزق کا انحصار تھا۔

توہم پرستی کا انسان سے بہت پرانا اور بہت گہرا تعلق ہے۔گو کہ علم اور سائنس کی ترقی نے انسان کے بہت سے اوہام فرسودہ اور بےدلیل ثابت کر دیے، لیکن آج بھی انسان کسی نہ کسی صورت ان سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا شکار ترقی یافتہ ممالک بھی ہیں اور پسماندہ ممالک بھی مثلاً آج بھی امریکہ میں پڑھے لکھے افراد 13 کے ہندسے اور منگل کے دن کو منحوس سمجھتے ہیں۔ وہاں آج بھی سمجھا جاتا ہے کہ گلاس الٹا رکھ کر کچھ منتر پڑھ لینے سے روحوں کو حاضر کرنا ممکن ہوتا ہے۔

گویا، توہم پرستی سے بچنے کے لیے علم اور شعور دونوں درکار ہیں۔ ان کی یکجائیت ہی ایسے فرسودہ اور لاحاصل عقائد سے دور رکھ سکتی ہے۔ اگر علم بنا شعور کے ہو تو انسان کے عقائد پر توہم پرستی چھا سکتی ہے۔

اس وبال کا بڑا شکار، ترقی پذیر اور غریب ممالک کے وہ عوام ہیں جن کی زندگی مسائل سے گھمسان کرتے کرتے تھک جاتی ہے۔ جہاں دو وقت کی روٹی کا بروقت میسر آ جانا بھی اک خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ایسے افراد کا یقین اور گمان منفی اور غیر حقیقی علامتوں کی مرعوبیت تلے بآسانی آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب عورت کا محافظ ہے - نگہت فرمان

دیوی دیوتاؤں یا مظاہر کائنات کی پرستش کرنے والوں کے عقائد تو توہم پرستانہ نظر آتے ہیں، حیرت انگیز طور پر، باوجود اس کے کہ ہمارے مذہب اسلام کا اوہام پرستی کی خرافات سے کچھ لینا دینا نہیں، مسلمان بھی ایسی توہمات کا شدید شکار ہیں۔ اسلام نے بچیوں کو زندہ گاڑنے، بت پرستی اور آسمانی آفات و غیر معمولی ماحولیاتی تبدیلیوں، چاند گرہن اور سورج گرہن جیسی علامات سے خوف کھانے کی توہمات کو جہالت قرار دیا۔ اور ایسی کئی خرافات کو جھوٹ اور غیر حقیقی ثابت کیا۔

اس کے باوجود خود ہمارا معاشرہ ایسے کئی واہموں کا شکار ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً رات کے وقت جھاڑو دینا اور کالی بلی کا راستہ کاٹ جانا منحوس سمجھنا۔ حاملہ خواتین کو سورج گرہن اور چاند گرہن کے اثرات سے بچانا۔ نئے تعمیر شدہ گھر کو نظربد سے بچانے کو چھت پر الٹی ہانڈی رکھنا یا گھر کے آنگن میں اونٹ کی ہڈی کو دبا دینا۔ نومولود کے سرہانے چُھری یا تالا رکھنا، نئی گاڑی کے پیچھے کالا کپڑا لٹکانا، بچے کو نظربد سے بچانے کو کالا ٹیکہ لگانا وغیرہ یہ سب ہمارے عقیدے اور یقین کی کمزوری کی نشانیاں ہیں۔

عقائد کمزور پڑنے لگیں تو انسان اپنے سماجی و معاشی مسئلوں کا حل بھی کرشماتی اور غیر حقیقی طریقوں میں ڈھونڈنے کو ترجیح دینے لگتا ہے۔ ایسے ان گنت انسانی مسائل مثلاً میاں بیوی کی گھریلو ناچاقی، اولاد کا نہ ہونا، بیروزگاری، بیماری وغیرہ جن کے حل کی کوئی بہتر سبیل نہیں نکل پاتی تو ہم مصیبت کے ان لمحات میں اپنی ذہنی و دماغی توانائی کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماؤف ہونے لگتی ہے، اب ہمیں اپنے وجود میں رہی سہی حیات کو باقی رکھنے کے واسطے ان مسائل کا کسی نہ کسی طور پر فوری اور کرشماتی حل درکار ہوتا ہے۔ یہی مایوسی کا وہ آخری نقطہ ہے جو ہمیں ہمارے یقین اور اعتقاد سے مفلوج بنا کر رکھ دیتا ہے۔ پھر ستاروں کے حساب کتاب نکلوائے جاتے ہیں۔ پیری مریدی کی وہ راہ اختیار کی جاتی ہے جو خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہم پیروں کے اشاروں پر ناچنے لگتے ہیں اور وہ ہماری مجبوریوں کو ہماری کمزوری بنا کر ہماری تمام تر نفسیات کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں ۔جسے سادہ الفاظ میں ہپناٹائز کرنا بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہمیں ان کے کہنے پر خود پر جادو کا اثر بھی محسوس ہونے لگتا ہے اور ان کی بتائی گئی جادو کی سبھی علامات بھی ہم پر منکشف ہونے لگتی ہیں۔ اپنے صحن میں خون کے چھینٹے بھی دکھائی پڑتے ہیں اور مٹی میں دبے لیموں بھی دریافت ہونے لگتے ہیں۔

جعلی پیروں کے بارے میں عموماً سمجھا جاتا ہے کہ ان کے قابو میں کچھ غیبی طاقتیں یا جنات ہوتے ہیں۔ جن سے وہ لوگ کام لیتے اور سائل کے مسائل کا حل نکالتے ہیں۔ عقائد کی کمزوری کا یہ ایک بہت شدید حصہ ہے جو ہمارے اندر کی توہمات کے وجود سے ہی جنم لیتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت محض اتنی ہی ہے کہ محض مذہب کے نام پر معصوم اور سادہ لوح یا دکھوں سے گھبرائے ہوئے لوگوں کو بیوقوف بناکر، ان کا سب کچھ لوٹ لیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ پیر اور مرشد دکھائی دینے والے درحقیقت بہت بڑے شعبدہ باز اور ان کی درگاہیں اور آستانے شعبدہ بازی کے ٹھکانے ہیں۔ یہ وہ ڈیرے اور خانقاہیں ہیں جو اصل تصوف کو بدنام کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے یہ کاروبار بڑھ رہا ہے ہماری جہالت اور گمراہی کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ اس مکروہ دھندے کے بڑھاوے کے اصل قصوروار وہ نام نہاد علماء اور مولانا حضرات ہیں، جنہوں نے مذہب کو ہمارے لیے انتہائی مشکل اور دقت طلب بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے ایسے ایسے امتحان مقرر کر دیے ہیں کہ ہم کبھی بھی خود کو ایسے امتحان کے قابل سمجھ ہی نہیں پاتے۔گویا اتنی دشوار منزلوں سے گزر کر خدا تک پہنچنا تو ہمارے بس کی بات رہی نہیں سو ہم اسے مدد کے لیے پکارنے کے بجائے آستانوں اور درگاہوں میں سکوں اور علاج تلاش کرتے کرتے ضعیف الاعتقادی کے اس درجے تک جا پہنچے ہیں جہاں سراب اور عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے ان جعلی تعویذ گنڈا کرنے اور ہم سے ہمارا سب کچھ لوٹ لے جانے والوں کو ایک مافیا بنا دیا ہے۔ صرف کراچی جیسے شہر میں ہی چار ہزار سے زائد یہ عامل یا پیر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں اندرون سندھ، پنجاب اور دیگر علاقوں میں، خصوصاً چھوٹے گاؤں گوٹھوں میں موجود ہیں۔ کہیں بابا تھپڑ والا کی سرکار تو کہیں بابا سروس سٹیشن والی سرکار، کہیں بابا جانی سرکار تو کہیں بابا کرنٹ والے کی سرکار۔ جو لوگوں کو مختلف طریقوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ان کا نہ تو کسی صوفیانہ سلسلے سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس سے کوئی لینا دینا۔ نہ ان کے پاس کسی مرض کا روحانی علاج ہے نہ ہی کسی مسئلے کا کوئی روحانی حل۔ ان کے پاس کسی بھی مہارت کا کوئی ثبوت یا سرٹیفکیٹ بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت کشمیر میں خواتین سے دست درازیاں - قادر خان یوسف زئی

ان کا بڑا شکار خواتین ہیں جو اپنے گھریلو مسائل میں بری طرح گھر ی ہوئی ہیں۔ شوہر کی دوسری شادی یا دوسری عورتوں میں دلچسپی کا مسئلہ ہو یا اولاد کا نہ ہو پانا، معاشی کسمپرسی ہے یا ساس اور نندوں کا ظلم، خواتین اپنے ان مسئلوں کی راہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ان جعلی بابوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں۔ اور اپنی بچی کھچی پونجی کے علاوہ کبھی کبھی عزت تک داؤ پر لگا بیٹھتی ہیں۔ اور اس طرح چلہ کاٹنے کے کمرے زنا خانے بن جاتے ہیں۔ عوام انڈیا کی ہو یا پاکستان کی ضعیف العقیدی اور ضعیف العقلی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ بھارت کے سیکس گرو نتھیا ناندا سوامی جن کا کاروبار تیس ممالک میں قائم ہے، یا ریپسٹ گروگرمیت رام رحیم جن کے چھ کروڑ چیلے پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں، یا پاکستان کے وہ بابے جو خواتین کو بےلباس کر کے درگاہ کے پچھواڑے اشنان کرواتے، یا ان کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر ان کے ساتھ ناچتے ہیں، بات تو ایک ہی ہے۔ کئی بابے نوجوان لڑکیوں کے جن اتارنے تو کئی بابے بےاولاد بیاہتا کو اولاد ینے کی غرض سے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ لیکن لوگ پھر بھی انہیں اپنا نجات دھندہ سمجھنے سے باز نہیں آتے۔ ہمارے ان بابوں کے پیچھے بھی انڈیا کے طاقتور سوامیوں کی طرح سیاسی طاقت موجود ہے جو ان کا بال بھی بیکا ہونے نہیں دیتی۔ ان کی اس سے بھی بڑی طاقت خود ہماری جہالت اور گمراہی ہے۔ سو وہ کامیاب ہیں اور کامیاب رہیں گے اس وقت تک جب تک ہم ”علم و آگاہی“ کا وہ گوہر نہ پالیں جو گمراہی کے ان کالے سایوں کو نگل سکتا ہے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت اور موقع محل کے مطابق سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اس انفارمیشن کی ضرورت بھی تھی اچھی تحقیق ہے آپ کی ۔
    اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کے علم ایمان اور زندگی میں برکت عطا فرمائے آمین۔