عوامی سوچ - حماد احمد

جن غلاموں کو اپنی زنجیروں سے محبت ہوجائے ان کو آزادی و جمہوریت کی روشنی دکھانا بھینس کے آگے قرۃ العین بلوچ کا "جھولے لال قلندر" گانا ہے۔ کل فیس بک پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں جماعت اسلامی کے دوستوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اگر عوامی ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہو تو ڈاکو چور لٹیرے بن جاؤ، بدمعاش بن جاؤ، عورتوں کے ریپ کرو، سٹیج پر بیہودہ گالیاں دیا کرو، کرپشن کرو، جمہوریت کو پارٹی سے نکال دو اور سب سے بڑی بات عوام کے ساتھ بادشاہانہ سٹائل میں بات کرو!

ہم جانتے ہیں کہ مہذب اور تعلیم یافتہ ممالک میں ان سب چیزوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ جیسے مادر پدر آزاد خیال معاشرے میں بھی جب کوئی سیاسی بندہ کسی خاتون کے ساتھ ناجائز تعلق پر پکڑا جائے یا اس پر الزام لگے تو اس سے نفرت کی جاتی ہے اور ان کو ووٹ دینے والوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یہاں خواتین پریس کانفرنس کر کر کے بولتی ہیں کہ ان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور عوام ہنستی ہے اور کہتی ہے کہ "گھر بیٹھ جاؤ نا!"۔ باقی چوری، ڈاکے، کرپشن وغیرہ تو وہاں سنگین جرائم ہیں لیکن ہمارے یہاں پاکستان میں یہ سب کام کرنے والوں کو سر پر رکھا جاتا ہے، ان کی ریلیوں اور جلسوں میں ان کو عزت دی جاتی ہے۔

میری پوسٹ پر ایک کمنٹ یہ تھا کہ سیاسی ناکامیوں کو عوام کے سر نہیں تھوپنا چاہیے۔ درست ہی کہا ہوگا اس دوست نے لیکن آج صبح میرے سامنے بی بی سی کی ایک رپورٹ آئی جس میں بتایا گیا ہے کہ حلقہ این اے 120 میں ووٹر کو "ان کے مزاج" کے مطابق مختلف طریقوں سے قائل کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق وقاص نامی ایک بندے نے بتایا کہ میں مسلم لیگ کے آفس گیا ، جہاں مجھے سب مسلم لیگی جانتے ہیں ، تو انہوں نے میرے بائیک کی ٹینکی پٹرول سے فل کردی۔ حلقے کے ایک اور بندے نے بتایا کہ تحریک انصاف کے دفتر میں روزانہ صبح کا ناشتہ دیا جاتا ہے۔ یہ تو بی بی سی کی مختصر سی رپورٹ ہے لیکن ایسا کچھ کئی بار میں خود دیکھ چکا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے کہنا ہے - موسیٰ مجاہد

ہمارے شہر میں انتخابات ہو رہے تھے تو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا ووٹ مانگنے کے لیے آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ایک مفتی صاحب کی سربراہی میں مسجد میں فیصلہ ہوا کہ ایسے بندے کو ووٹ دیا جائے گا جو متقی ہو۔ لہٰذا فیصلہ ہوا کہ ووٹ جمعیت علماء اسلام کے بندے کو ڈالا جائے گا۔ ابھی لوگ مسجد سے باہر نکل ہی رہی تھے کہ عوامی نیشنل پارٹی کا نمائندہ گاڑی میں ٹرانسفارمر سمیت تشریف لایا اور کسی سے کوئی بات کیے بغیر ٹرانسفارمر لگوا کر چلا گیا۔ اگلے دن پورے محلّے سے جے یو آئی کا بندہ بھاری اکثریت سے ہار گیا۔

یہ مسئلہ جے یو آئی یا اے این پی، مسلم لیگ یا جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کا نہیں بلکہ عوامی سوچ کا ہے اور اس عوامی سوچ کا حال یہ ہے کہ یہ چند لیٹر پٹرول پر اپنے بچوں کا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھوں میں دیتے ہیں جو ان کا خون چوستے اور پسینہ پیتے ہیں۔ ان کے اپنے بچے علاج کے لیے لندن جاتے ہیں اور غریب ووٹر کے بچے ایمبولینس کے نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر ہی جانیں دیتے ہیں۔ یہ لوگ خواتین کو ہوٹلوں میں بلا کر ان کے ریپ کر کے ان کو قتل کرتے ہیں لیکن ووٹر کہتا ہے کہ خاتون کو ہوٹل میں نہیں آنا چاہیے تھا نا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے گلیوں میں گندا پانی بہہ رہا ہوتا ہے، پھر ووٹر کہتا ہے یہ بارش کا پانی ہے اور بارش کوئی بلاول نے تو نہیں کی نا؟ بات یہ ہے کہ عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ان زنجیروں سے انہیں کوئی الگ نہیں کرسکتا، جس میں ان کو سیاسی لیڈروں نے باندھا ہے ۔ اب جو جماعت چاہتی ہے کہ ان کی حمایت حاصل کرے اس کو ان زنجیروں سے زیادہ بڑی زنجیر لانی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا سراج الحق کو کشمیر کمیٹی کا رکن بننا چاہیے؟ مسعود ابدالی

جنہیں زنجیروں سے محبت ہوجائے، ان کو جمہوریت و آزادی کی روشنی دکھانے کی کوشش کرنا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔