حُرمتِ عدالت - مفتی منیب الرحمٰن

آج کل وطنِ عزیز میں صبح وشام معزول وزیرِ اعظم نواز شریف کے حوالے سے توہینِ عدالت کی دُہائی دی جا رہی ہے۔ ان میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہے، جو آج تک جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو ’’عدالتی قتل‘‘ قرار دے رہی ہے۔ اس کے الزامی معنی ہیں: اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے ظالمانہ فیصلہ کر کے قتل کر دیا، ورنہ وہ باعزت رہائی کے حقدار تھے۔ اس سے قطع نظر کہ عدالتی فیصلہ صحیح تھا یا غلط، یہ ریمارکس کس زُمرے میں آئیں گے۔ نیب عدالت نے جناب زرداری کو باعزت بری کیا تو زندہ باد، ہائی کورٹ میں اپیل کر دی تو مردہ باد۔

اسی طرح جنابِ عمران خان نیب میں شریف فیملی کے پیش نہ ہونے کو توہینِ عدالت قرار دے رہے ہیں، لیکن وہ خود جس عدالت کو مطلوب ہیں، وہاں پیش نہیں ہو رہے، الیکشن کمیشن کے لتّے لے رہے ہیں۔ لاہور کے انتخابی جلسے میں جناب خان نے کہا: آپ لوگ سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہوں اور پی ٹی آئی کو ووٹ دیں، اس کے معنی یہ ہوئے کہ سپریم کورٹ کا بھی کوئی پولیٹیکل ایجنڈا ہے، یہ انداز درست نہیں ہے۔

الغرض ایک ہی فعل ایک کے لیے عیب اور دوسرے کے لیے افتخار ہے، شاعرنے کہا ہے:


تمہاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی

سیاستدانوں کے ان رویوں سے قطع نظرہم اس مسئلے کا شرعی پہلو سے جائزہ لے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’(اے نبی کریم!) تمہارے رب کی قسم !وہ مومن نہیں ہو سکتے تاوقتیکہ آپ کو باہمی تنازعات میں حاکم نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پراپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور (اُسے) خوش دلی سے تسلیم کرلیں، (النساء:65)‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ کے فیصلوں کو صرف قانوناً ماننا ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں خوش دلی سے قبول کرنا ایمان کے لیے شرطِ لازم ہے۔ امام رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ہر فیصلے کو دل وجان سے تسلیم کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ وحیِ ربانی کے تابع ہے اور درحقیقت یہی اللہ کا فیصلہ ہے، اس آیت کے شانِ نزول کی متعدد روایات میں سے ایک یہ ہے :
’’ایک منافق اور یہودی کا جھگڑا ہوگیا، یہودی نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم ﷺ فیصلہ کریں گے اور منافق نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان کعب بن اشرف فیصلہ کریں گے، کیونکہ کعب بن اشرف رشوت خور تھا۔ اس مقدمہ میں یہودی حق پر اور منافق باطل پر تھا۔چونکہ میثاقِ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کو حاکمِ مدینہ تسلیم کیا جاچکا تھا، اس لیے یہودی یہ مقدمہ آپ کی عدالت میں لے جانا چاہتا تھا۔ اس کے اصرار کے سبب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ( شواہد کو دیکھ کر)یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ بظاہر کلمہ گو، لیکن درحقیقت منافق اس فیصلہ سے راضی نہ ہوا اور کہا: میرے اور تمہارے درمیان عمر فیصلہ کریں گے، دونوں حضرت عمر کے پاس گئے، یہودی نے بتایا:محمد ﷺ میرے حق میں اور اس کے خلاف فیصلہ دے چکے ہیں، لیکن یہ نہیں مانتا۔ حضرت عمر نے منافق سے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں! آپ نے فرمایا:ذرا رکو! میں ابھی آتا ہوں، وہ گھر سے تلوار لے کر آئے اور اُس منافق کا سر قلم کردیا۔ پھر اس کے گھر والوں نے نبی ﷺ سے حضرت عمر کی شکایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر سے صورتحال معلوم کی۔ حضرت عمر نے کہا: یارسول اللہ!اس نے آپ کے فیصلہ کو رد کردیا تھا۔ اسی وقت جبرئیلِ امین نازل ہوئے اور کہا :عمر فاروق ہیں، انہوں نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا:عمر! تم فاروق ہو،اس قول کی بناء پر طاغوت سے مراد کعب بن اشرف ہے۔ (روح المعانی،النساء:65)‘‘۔حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ ﷺ کا حق پر مبنی فیصلہ رد کرنے پر اس منافق کو مرتد قرار دیا اور اس کا سر قلم کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے اُن کے اس فیصلے کو برقرار رکھا اور کوئی مواخذہ نہیں فرمایا۔

رسول اللہ ﷺ پرتو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے حقائق کو آشکار فرما دیتا تھا،لیکن قاضی کو شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہوتے ہیں، ان سے دانستہ اور نادانستہ خطا کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے آپ ﷺ نے تعلیمِ امت کے لیے فرمایا: ’’تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے تم میں سے کوئی فریق اپنا موقف پیش کرنے میں زیادہ حجت باز ہو اور میں( دلائل سن کر) اُس کے بھائی کے حق میں سے کوئی چیز اُسے دے دوں، تو (وہ یہ جان لے کہ) میں اُسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، پس وہ اسے (ہرگز) نہ لے. (بخاری: 2680)‘‘۔ پس اگر کوئی شخص کسی چیز کا حقدار نہیں ہے، تو قاضی کا فیصلہ حق میں آنے کے باوجود وہ اس چیز کو نہ لے، وہ اس کے لیے آخرت میں آگ کا ٹکڑا ثابت ہوگی۔

عام منصفین کا فیصلہ قانوناً تو نافذ ہوجاتا ہے، لیکن متاثرہ فریق کا اُسے دل وجان سے تسلیم کرنا لازم نہیں ہے۔ اگر ہر حاکم کا فیصلہ خطا سے مُبَرّاہوتا، تو ہمارے نظامِ عدل میں عدالتی مدارج ایک سے زیادہ نہ ہوتے۔ اس کی حکمت یہی ہے کہ اگر ماتحت عدالت کے کسی جج سے فیصلہ کرنے میں بشری کمزوری کے سبب خطا ہوجائے تو عدالتِ عالیہ یا عدالتِ عُظمیٰ اس کی غلطی کا ازالہ کرے تاکہ حقدار کو حق مل جائے۔ البتہ جو قاضی جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرے، اس کے بارے میں حدیثِ پاک میں شدیدوعید ہے،آپ ﷺ نے فرمایا:’’قاضیوں کی تین قسمیں ہیں، ایک جنت میں اور دو دوزخ میں ہوں گے، جو حق کو سمجھتا ہے اور حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ جنتی ہے۔ جوحق کوسمجھتا ہے،لیکن ظلم پر مبنی فیصلہ کرتا ہے، وہ جہنمی ہے اور جو (حق کوجانے بغیر)جہل پر مبنی فیصلہ کرتا ہے،وہ بھی جہنمی ہے،(سنن ابوداؤد:3573)‘‘۔الغرض منصبِ عدل پر فائز ہونا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ استقامت کے ساتھ صحیح سمت میں چلا تو سامنے جنت ہے اور پائے ثبات میں ذرا بھرلغزش آئی تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’جس کولوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا، گویا اُسے چھری کے بغیر ذبح کردیا گیا، (سنن ترمذی: 1325)‘‘۔

مؤدّبانہ گزارش ہے کہ ہماری اعلیٰ عدالتوں کے معزز جج صاحبان کے رویّوں میں تضادات ہیں، جب بھی کوئی ہائی پروفائل کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہوتا ہے، تو سپریم کورٹ کے باہر اور ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز میں متوازی عدالتیں چل رہی ہوتی ہیں۔ فاضل جج صاحبان نہ ان پر کوئی گرفت فرماتے ہیں، نہ کوئی روک ٹوک عائد کرتے ہیں، اس کے لیے کوئی ضابطہ مقرر ہونا چاہیے۔ بجائے اس کے کہ ہر کوئی جج صاحبان کے ریمارکس اور عدالتی کارروائی کی من پسند تشریح کرے، عدالت کی جانب سے میڈیا کے لیے آئی ایس پی آر کی طرزپر ایک پریس اسٹیٹمنٹ جاری ہونا چاہیے۔ عدالتی ریمارکس یافیصلوں پر ردِّعمل دینے والے بعض افراد کی سرزنش کرنااور بعض کو کھلا چھوڑ دینا، شفاف عدل کے منافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس تو خطا سے معصوم تھی، لیکن ہر قاضی خطا سے مبرّا نہیں ہوتا۔

جدید فلسفۂ قانون بھی یہی ہے کہ عدالت جب ایک مرتبہ فیصلہ صادر کردے، تو وہ پبلک پراپرٹی ہوتا ہے، اس پر تبصرہ ہوسکتا ہے، اُسے آئینی وقانونی معیارات پر پرکھا جاتا ہے، پس عدالتی فیصلوں کے سُقُم کو بیان کرنا توہینِ عدالت نہیں ہے۔ لازم ہے کہ عدالت ایک باقاعدہ تنبیہ جاری کرے کہ جو لوگ ازخود عدالت کی ناموس کے محافظ اور ترجمان بن جاتے ہیں، وہ اپنے لیے کوئی اور مصروفیت تلاش کریں، آئین و قانون میں عدالت کی حرمت کی ضمانت دی گئی ہے اور اس پر اِقدام کرنا خود عدالت کا دائرۂ اختیار ہے۔ ماہرینِ آئین و قانون اصولوں کی بنیاد پر عدالتی فیصلوں پر تبصرے کرتے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر صورت میں یہ اشخاص کسی فریق کے حامی ہیں، ہر ذی شعور شہری کا اس بارے میں فکر مند ہوناقابلِ فہم ہے کہ آیا ہمارا عدالتی نظام مسلّمہ معیارات پر پورا اترتا ہے؟۔

ابوبردہ سے عبداللہ بن عمر نے کہا: تمہیں معلوم ہے میرے باپ نے تمہارے باپ سے کیا کہا تھا؟، میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، عبداللہ بن عمر نے کہا: میرے باپ نے تمہارے باپ سے کہا تھا: ’’اے ابوموسیٰ! ہم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے، آپ کے ساتھ ہجرت کی، آپ کے ہمراہ جہاد کیا اور جتنے بھی نیک اعمال کیے، کیا تمہیں پسند ہے کہ یہ ہمارے لیے وسیلۂ نجات بن جائیں اور جو نیک اعمال ہم نے آپ ﷺ کے بعد کیے، اُن کے بارے میں ہم آخرت میں برابر سرابر چھوٹ جائیں‘‘، تو تمہارے باپ نے میرے باپ سے کہا: واللہ! نہیں، ہم نے آپ ﷺ کے بعد جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، بہت سارے نیک کام کیے، ہمارے ہاتھ پر بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے، ہم ان اعمال پر بھی اجر کے امیدوار ہیں، میرے باپ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں عمر کی جان ہے، میری آرزو تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ہم نے جو نیک کام کیے، وہ ہمارے لیے وسیلۂ نجات بن جائیں اور وہ تمام اعمالِ خیر جو ہم نے آپ کے بعد کیے، ان کے حساب کتاب میں برابر چھوٹ جائیں، اس پر میں نے کہا: بےشک تمہارے باپ، میرے باپ سے مرتبے میں بڑے تھے. (بخاری: 3915)‘‘۔
حضرت عمر ایسی بے مثال شخصیت اس امت کو پھر نصیب نہیں ہوئی، ان کا لقب فاروق تھا، لیکن ان کواُخروی حساب کی بہت فکر تھی۔ ایک عاشق رسول پر قتلِ عمد سے بھی بڑھ کر دہشت گردی کی دفعہ لگا کر سادہ لوح مسلمانوں سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ ایسے فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم کریں، خدارا! اتنا غضب تو نہ ڈھائیں، اگر یہاں نہیں، آخرت میں تو ضرور رسول اللہ ﷺ کا سامنا ہوگا، ہر شخص جانتا ہے کہ اس فعل کا مُحَرِّک کوئی ذاتی انتقام، نفسانی جذبہ یا فساد فی الارض نہیں تھا۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.