مسلمان کیوں پس رہے ہیں؟ - حمزہ علی ریحان

ایسا ہر گز نہیں ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام صرف اور صرف سائنسی ترقی کی بنیاد پر کامیاب ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے انہوں نے ان اخلاقیات کو اپنا لیا ہے جو کبھی مسلمان کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ جب مسلمان کی پہچان اس کے اعلیٰ اخلاق ہوتے تھے، وہ اسلام کی روح کے ساتھ زندہ تھا یعنی حقیقی معنوں میں زندہ تھا، تب اس کا ڈنکا عالم میں چہار سو بجا کرتا تھا۔ وہ جہاں جاتا اپنے اخلاق سے چھا جاتا تھا۔ یقیناً وہ اس کے اعلی اخلاق ہی تھے جنہوں نے اہل دنیا کو اس کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔

لیکن جب سے اسلام کی روح کو نکال کر صرف اس کے نام کی مالا جپی جا رہی ہے تب سے مسلمان تکلیف میں ہے، تب سے پس رہا ہے اور کوئی اس کا پرسانِ حال نہیں۔ بھلا بغیر روح کے بھی کوئی زندہ رہا ہے؟ افسوس کہ ہم نے پیمانۂ مسلمانیت کو محدود کر رکھا ہے۔ ہم اسلام کی مہریں ہاتھوں میں لیے بیٹھے ہیں کہ ادھر کسی سے معمولی سی لغزش ہوئی، ادھر ہم نے ٹھپے لگانے شروع کر دیے. ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، کیا ہم مسلمان ہیں؟ ہم ذاتوں، علاقوں بٹے سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان تو ہیں، کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟ ہم فرقے کے تعصّب میں مبتلاء دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہلحدیث تو ہیں، کیا ہم مسلمان بھی ہیں؟ کیا مسلمان ایسا ہوتا ہے؟ جیسا آج ہے؟ کیا مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے؟ کیا مسلمان دھوکہ دہی کر سکتا ہے؟ کیا مسلمان دغا دے سکتا ہے؟ اگر نہیں تو جو اپنے کو مسلمان بھی کہتا ہے اور جھوٹ، دھوکہ دہی، دغا بازی، بھی کرتا ہے، وہ کیا ہے؟

ہماری موجودہ پستی سائنس کے میدان میں پیچھے رہنے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ بنیادی وجہ وہ اخلاقی بیماریاں ہیں جو آج ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکی ہیں۔ ہم اخلاقی طور پر مر چکے ہیں، ہم نے اسلام کی روح کو نکال باہر کردیا ہوا ہے۔ ہم احساس نامی شے سے ناواقف ہو چکے ہیں، امت کا درد محسوس کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اے سی کی ٹھنڈ میں بیٹھے باہر دھوپ میں جلتے سڑتے لوگ دیکھ تو سکتے ہیں لیکن ان کا درد نہیں محسوس کر سکتے۔ نرم و گداز بستر پر لیٹے، چٹائی پر نہیں بلکہ سڑک کنارے زمین پر سوئے ہوئے بے آسرا کا تصور تو کر سکتے ہیں لیکن اس کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتے۔۔ ہم نرم و ملائم تکیوں پر سر رکھے اس اینٹ کی سختی محسوس نہیں کر سکتے جو کسی معصوم پھول نے بطورِ تکیہ رکھی ہوئی ہے۔

ہم صرف جذباتی پوسٹس اور دھواں دار کمنٹس کی حد تک جا کر خود کو بری الذمہ سمجھنے لگ گئے ہیں، گویا کہ ہم اپنی ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کر چکے ہیں اور ہم سے بڑا درد مند کوئی نہیں ہے۔

خدارا! دین کی روح کو زندہ کیجیے، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے اخلاق کو اپنائیے، اسلام ہم سے ہے، ہم اسلام سے ہیں، ہم زندہ ہوں گے تو اسلام زندہ ہو گا، اسلام زندہ ہو گا تو ہم زندہ رہیں گے اور یقین مانیے پھر ہم ہی ہوں گے کیونکہ ہماری چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب، جب اسلام کی روح زندہ ہوئی تب تب مسلمان اس دنیا میں چمکے۔

وہ اسلام اپنے اندر آباد کیجیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلّم لے کر آئے ہیں، جو تعصّب کا نہیں رواداری کا مذہب ہے، جو جذبات کا نہیں برداشت کا درس دیتا ہے، جو جھگڑے کی نہیں بلکہ تصفیہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس میں وسعت ہی وسعت ہے، جو سب کو گھیر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو لوگوں کو رکنے نہیں دیتا بلکہ بہا لے جاتا ہے، جو آتا ہے اور چھا جاتا ہے۔