میں ڈاکٹر بنوں گی - جمال عبداللہ عثمان

ہر درد کا اپنا نام اور اپنی ایک تاثیر ہوتی ہے اور ہر ایک کا اپنا دُکھ اور اپنا جدا درد ہوتا ہے۔ زمیں پر زندگی کو جدا جدا محرومیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ زندگی سے لڑ کے بہت سی محرومیوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ لیکن بعض محرومیاں بڑی سفاک ہوتی ہیں۔ انھیں آپ پیسے کے ذریعے ختم کرسکتے ہیں نہ ہی کوئی سفارش اس کے جبڑوں سے نجات دلاسکتی ہے۔ یہ کچھ ایسی ہی تلخ حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے۔

مجبوریوں میں بندھی علیزہ ایک ایسی ہی معصوم صورت بچی ہے۔ مجبور ہی سہی لیکن وہ اس وقت جہاں موجود ہے، پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بالآخر وہ اپنی بہت سی محرومیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ وہ ایک اعلیٰ اسکول سے تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ تعلیم کے ساتھ اس کی تربیت پر بھی مکمل توجہ دی جاتی ہے۔ معصوم صورت علیزہ سے اس کے مستقبل کے متعلق سوال کریں تو بڑی معصومیت اور یقین سے بتاتی ہے: ’’میں ڈاکٹر بنوں گی۔‘‘ اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس کی یہ آرزو بھی ضرور پوری ہوجائے گی۔ ضرور وہ کسی دن خوشحال زندگی کے سفر پر روانہ ہوجائے گی۔ مگر اس معصوم کلی کی ایک محرومی ایسی ہے، جسے پورا کرنا اب کسی انسان کے بس میں نہیں رہا۔
تصویر میں نظر آنے والی یہ پھول سی بچی اپنے مہربان باپ کی شفقت سے محروم ہوچکی ہے، اتنا ہی نہیں یہ اپنی ماں کی پُرسکون آغوش بھی کھو بیٹھی ہے۔ اس کی ماں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر کسی دور دیس جا بسی ہے ۔ وہ دیس کہ جہاں جاتے تو بہت دیکھے پر آج تک کبھی کوئی لوٹ کے آتا نہیں دیکھا۔ علیزہ کے والدین کا تعلق بہاولپور سے تھا۔ غربت کے ہاتھوں تنگ آگئے تو انھیں غریب پرور شہر کراچی کا خیال آیا۔ چند پھٹے پرانے کپڑوں اور دو معصوم بچوں کے ساتھ انھوں نے کراچی کا رُخ کیا۔ غریبوں کا ٹھکانا، بے حالوں اور لاچاروں کی جائے اماں، یہ شہر کراچی ہے، عجب شہر ہے، کسمپرسی کی حالت میں آنے والے لاکھوں خاندانوں کی طرح اس شہرِ محبت نے اس خاندان کو بھی فوراً اپنی بانہوں میں لے لیا۔

علیزہ کے والد معمولی اجرت پر کام میں لگ گئے تو وفا کی تصویر، معمولی پڑھی لکھی بیوی سے بھی نہ رہا گیا۔ اس نے سوچا میری علیزہ اور میرا ادریس میرا اثاثہ ہیں۔ میں انہیں وہ سب کچھ دوں گی، جو خود انھیں نہ مل سکا تھا۔ میں تب تک بہاولپور لوٹ کے نہیں جاؤں گی، جب تک حسرتوں کے جسم سے چن چن محرومیوں کے کانٹے نہ نکال لوں۔ بالآخر علیزہ کی ماں کو ایک گھر میں ملازمہ رکھ لیا گیا۔ گھر کی مالکہ شفیق خاتون اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں۔ علیزہ کی ماں کو وہ خاتوں اچھی لگیں۔ اس کے دل میں یہ خواہش مچلنے لگی کہ کاش! اس کی علیزہ بھی ایسی ہی ایک ڈاکٹر بن جائے۔

لیکن افسوس انسان جیسا سوچتا ہے، اکثر ویسا ہی نہیں ہوتا۔ علیزہ ابھی سال کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کی ماں پر یہ خبر بجلی بن کر ٹوٹی کہ اس کا شوہر اب بس چند ہی مہینوں کا مہمان ہے۔ دراصل اسے کینسر تشخیص ہوا تھا ۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ غربت کے مارے اس مسافر اور مہاجر خاندان کے اذیت بھرے یہ ماہ کیسے گزرے ہوں گے، ایک طرف غربت اور دوسری بدترین بیماری، بہرحال تقدیر سے کون لڑسکا ہے، تکلیف اور اذیت کے انھی دنوں میں سے کسی دن علیزہ کے بابا نے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
پھول سی بے خبر معصوم علیزہ کو موت، جدائی اور اس جانکاہ وچھوڑے کا کیا پتا ہوسکتا تھا، مگر اس کی ماں اندر سے ٹوٹ کے رہ گئی۔ وہ ایک اجنبی شہر میں تھی، اس کا یہاں کوئی اپنا نہ تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وقت کے گرداب میں ڈوبنے کے بعد وہ زندگی میں کبھی نہ ابھر سکے گی۔ اس کے خواب چکناچور ہوگئے تھے۔ مگر شاید اللہ نے غریبوں کے دل بھی کچھ عجیب دیا ہوتا ہے۔ اس نے قسمت کے جبر کا صبر کے ساتھ سامنا کرنے کی ٹھان لی۔ عدت سے فارغ ہوئی تو ایک وہ اک نئے عزم اور تازہ ولولے کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’میں کسی کو اپنی کمزوری کا احساس نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ وہ پکار اٹھی۔

اور واقعی اس نے ایسا کر دکھایا۔ چند ماہ میں وہ سنبھل گئی۔ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اس نےغضب کا شعور پایا تھا۔ وہ چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے اپنی علیزہ اور اپنے ادریس کےمستقبل کا ذکر کیا کرتی۔ اس نے اپنی والدہ کو بہاولپور سے کراچی بلوا لیا۔ ادریس اور علیزہ کی نانی ان کی والدہ بن گئی جبکہ وہ خود اپنے بچوں کے لیے ’’باپ‘‘ کا کردار نبھانے لگی۔ علیزہ کی ماں سارا دن ڈاکٹر صاحبہ کے گھر میں ڈیوٹی دیتی۔ گھر کی مالکہ کے سامنے کبھی اپنے بچوں کے لیے دیکھنے والے خواب بیان کرتی تو وہ اسے اپنی ملازمہ کی دیوانگی سمجھتی، لیکن جب ایک ماں کی سنجیدگی دیکھتی تو خاموش ہوجاتی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جتنا بڑا بنگلہ اور جتنی بڑی کوٹھی ہوتی ہے، اتنا ہی کوٹھی اور بنگلے والوں کا ظرف چھوٹا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ مگر بہت مختلف تھیں۔ وہ علیزہ کی ماں کے لیے فرشتہ ثابت ہو رہی تھیں۔ مگر کسے معلوم تھا کہ رحمت کے فرشتے سے زیادہ موت کا فرشتہ عجلت میں تھا۔ یقینا ’’انسان تدبیر کرتا ہے، تقدیر اس پر قہقہے لگا رہی ہوتی ہے۔‘‘

ایک دن علیزہ کی ماں دن بھر کی تھکی ہاری بنگلے سے باہر نکلی۔ بچوں کے مستقبل کا خواب بنتے ماں سڑک پار کر رہی تھی کہ ایک تیز رفتار گاڑی آئی اور جھٹ میں اس کی زندگی کی ڈور کاٹ کر چلی گئی اور یوں علیزہ اور ادریس کو بڑا ’’آدمی‘‘ دیکھنے اور محرومیوں سے چن چن کر بدلہ لینے کی خواہش ماں کے ساتھ ہی قبر میں جاسوئی۔ علیزہ کی ماں غموں سے آزاد ہوگئی مگر علیزہ کو اب بھی ’’فوتگی‘‘ اور ’’میت‘‘ کی کوئی سمجھ نہ تھی۔ اسے کچھ اندازہ نہ تھا کہ موت کتنی ظالم چیز ہوتی ہے! موت، جس نے پہلے اس سے شفیق باپ کا سایہ چھینا اور اب اس کی کل کائنات لوٹ کر چلی گئی تھی۔

ایک راستہ بند ہوتا ہے تو بیسیوں راستے کھل جاتے ہیں۔ علیزہ اور ادریس کی نانی معصوم بچوں کو لے کر کہاں جاتی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ان کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ اسلام آباد شفٹ ہو رہی ہیں۔ علیزہ کی مختصر فیملی کے لیے یہ کسی بڑی آزمائش سے کم نہ تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ اسلام آباد آگئیں۔ ان کے دل سے مگر علیزہ اور اس کے بھائی کا درد نہ نکل سکا۔ ایک دن وہ اپنے بچوں کے داخلے کے لیے اسلام آباد کے ایک اسکول ’’دارِ ارقم‘‘ آئیں۔ چند دن بعد انہیں پتا چلا کہ یہاں کچھ ایسے بچے بھی زیرتعلیم ہیں، جن کا دنیا میں کوئی وارث نہیں۔ یہاں انہیں تربیت کے ساتھ بہترین تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اسکول کے ڈائریکٹر شاہ ولی اللہ صاحب سے بات کی اور چند دن بعد علیزہ اور ادریس ’’شہرِ مظلومیت‘‘ سے اس ’’شہرِ تمنا‘‘ میں آبسے۔

علیزہ آج کلاس کی سب سے ذہین بچی ہے۔ اس میں اعتماد ہے۔ آگے بڑھنے کا جذبہ اور لگن ہے۔ وہ جب معصومیت سے کہتی ہے: میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں گی، تو آپ کے پاس یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ’’الاصلاح سینٹر‘‘ اس کی تمام ضروریات کا خیال رکھ رہا ہے۔ علاقے کے سب سے بہترین اسکول میں اسے تعلیم دی جارہی ہے۔ ماں باپ کی حقیقی شفقت اور محبت تو وہی دے سکتے تھے، جو قبر میں جا سوئے، جتنی شفقت مگر دی جاسکتی ہے، اس کی کوشش جاری رہتی ہے کہ کبھی علیزہ کو محرومی کا احساس نہ ہو۔ "الاصلاح سینٹر" اور دار ارقم اسکول کے ڈائریکٹر شاہ ولی اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ ’’میں علیزہ کی اس خواہش کو مکمل کرکے رہوں گا۔‘‘

آئیے! دُعا کریں کہ خدا ایسے ادارے بسانے والوں کو ہمت اور حوصلہ دیتا رہے تاکہ علیزہ اور اس جیسے ماں باپ کے سائے سے محروم بچے اور بچیاں اپنی آرزوؤں کی تکمیل کرتے رہیں۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.