دینی مدارس اسلام کے تحفظ کیلئے ناگزیر- عارف عزیز

آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے ملک کی ہندو اکثریت کو اپنا ہمنوا بنانے میں ناکام ہوکر اب پٹے پٹائے موضوعات کو دہرانا شروع کردیا ہے، آر ایس ایس کے سربراہ نے اردو دشمنی میں اپنے بیانات کے بعد ان کا رخ دینی مدارس کی طرف موڑ دیا ہے، غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارسِ دینیہ ہندوستان کے مسلم معاشرہ میں ایک کلیدی حیثیت کے حامل ہیں بلکہ انہیں اسلام قلعوں سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا، جو ملت کے نونہالوں کو ذہنی، فکری، علمی اور عملی ہر طرح کی غذا فراہم کرتے ہیں،

ان کو اپنی حقیقت سے آگاہ کرکے ان کے اندر اسلام کے ولولہ انگیز ماضی سے سبق لینے اور دنیا کو امن واخوت سے ہمکنار کرنے کا نہ صرف جذبہ پیدا کرتے ہیں بلکہ اسلام کی حقیقت اور روح سے واقف کراکر فکری وروحانی قیادت وسیادت کیلئے بھی انہیں تیار کرتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ ان دینی مدارس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہر قسم کی ملی، سیاسی اور سماجی کاموں میں آگے بڑھ کر حصہ لیا ہے، اور آج بھی ان کی کوششوں کے اثرات کو یہاں دیکھا و پرکھا جاسکتا ہے، خاص طور پرمسلم طبقہ میں خواندگی جو شرح ہے وہ اتنی بھی نہیں ہوتی اگر یہ مدارس ان کو علم سے فیض یاب نہیں کرتے۔
ہندوستان کے یہ دینی مدارس اس لحاظ سے بھی دنیا کی دوسری درسگاہوں سے مختلف وممتاز ہیں کہ ان میں حب الوطنی کا سبق دیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں مدارسِ اسلامیہ کا وجود ہی دستوری سیکولرازم کا ثبوت ہے جس کا پورے عالم اسلام میں اعتراف کیاجاتا ہے، ان مدارس سے فارغ ہونے والے وہ علماء ہی تھے جنہوں نے ۱۸۵۷ء کے انقلاب سے قبل انگریزوں سے مقابلہ میں مسلمانوں کی پیشوائی کی اور اس کے بعد بھی ہر بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور اپنے تلامذہ کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس کے رگ وریشہ میں حب الوطنی کا جذبہ موجزن تھا، علماء کی اس جماعت نے دو قومی نظریہ کا دندان شکن جواب دیا اور آخر تک تقسیم ملک کی مخالفت کرتے رہے۔
ہندوستان کے یہ دینی مدارس ومکاتیب زبوں حالی کا شکار ہونے کے باوجود سرکاری خزانہ پر کبھی بوجھ نہیں بنے خود کنواں کھودنا اور خود پانی پینا مدارس کا شعار رہاہے ان کا نہ سیاست سے براہ راست کچھ لینا دینا نہیں ہے پھر بھی یہ ہندوستانی مسلمانوں کو عملی، فکری اور تہذیبی انحطاط سے بچانے کیلئے آج تک کارآمد ثابت ہوتے رہے ہیں اور ان پر کسی طرف سے حملہ گویا پورے ملک کے مسلمانوں کے وقار، تشخص، تہذیب اور شناخت پر وار ہے اور شک کی نظر پورے مسلمانوں پر شبہ کے مترادف ہے۔
ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے یہ مدارس عرصہ سے فرقہ پرست تنظیموں کی آنکھ کا کانٹا بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس حقیقت کو سمجھتی ہیں کہ اسلام کی توسیع، مسلمانوں کا وجود، اسلامی شعائر، تحفظِ دین اور اردو زبان کی بقاء وترقی نیز ملک میں مسلم تہذیب کے آثار علائم ان مدارس کی وجہ سے ہی قائم ہیں لہذا وقتاً فوقتاً ان پر انگلی اٹھانے یا ان کی شکل وصورت مسخ کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں، جو اب تک ناکام ونامراد ثابت ہوئی ہیں، پھر بھی سنگھ پریوار دینی مدارس کے خلاف اپنی بھڑاس کو جاری رکھے ہوئے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com