حلقہ این اے 120، کب، کون، کیسے جیتا؟ فیاض راجہ

لاہور اگر پاکستان کا دل ہے تو گوالمنڈی اور اس کے اردگرد اندرون کا علاقہ لاہور کا دل کہلاتا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی انتخابی سیاست کی شروعات اسی علاقے سے جڑی ہے۔

گوالمنڈی اور اس کے قریبی علاقوں پر مشتمل حلقہ این اے 120 کچھ کمی بیشی کے ساتھ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں این اے 86 تھا۔ میاں نواز شریف نے اس حلقے سے 35 ہزار 719 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل احمد حسن گیلانی نے 17 ہزار 896 ووٹ حاصل کیے۔

1988ء کے عام انتخابات میں کچھ ضمنی تبدیلیوں کے ساتھ یہ حلقہ این اے 95 کہلایا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے نوازشریف کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار عارف اقبال بھٹی نے کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 36 ہزار 65 ووٹ لیے تاہم نواز شریف نے 49 ہزار 318 ووٹ لے کر انہیں شکست دی۔

1990ء کے عام انتخابات تک میاں نواز شریف اس حلقے پر اپنی گرفت مظبوط کرچکے تھے۔ اس مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہی میں بننے والے سیاسی اتحاد نے اس حلقے سے ائیر مارشل اصغر خان کو میدان میں اتارا، تاہم اسلامی جمہوری اتحاد کے میاں نواز شریف نے 59 ہزار 944 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ ائیر مارشل اصغر خان 39 ہزار 585 ووٹ حاصل کرسکے۔

1993ء کے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں بننے والی سیاسی جماعت نے پاکستان مسلم لیگ نواز نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا۔ این اے 95 پر ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف امیدوار تھے، جنہوں نے 57 ہزار 959 ووٹ لے کر ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے ضیا بخت بٹ نے 33 ہزار 142 ووٹ حاصل کیے۔

1997ء کے عام انتخابات میں میاں نوازشریف نے مسلسل پانچویں مرتبہ اس حلقے سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا اور 50 ہزار 592 ووٹ حاصل کرتے ہوئے مسلسل پانچویں کامییابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے حافظ غلام محی الدین صرف 5 ہزار 365 ووٹ حاصل کرسکے۔

2002ء کے عام انتخابات میں نواز شریف جلاوطنی کے باعث سعودی عرب میں مقیم تھے۔ جنرل مشرف کے دور میں ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے اگرچہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا مگر حلقہ این اے 95 جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 120 کہلایا، ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ نواز کا گڑھ ثابت ہوا۔ نواز لیگ کے پرویز ملک نے 33 ہزار 741 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے الطاف قریشی 19 ہزار 483 ووٹ حاصل کرسکے۔

2008ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر میاں نواز شریف میدان میں نہ اتر سکے، تاہم نواز لیگ کے امیدوار بلال یسین نے ریکارڈ 65 ہزار 946 ووٹ حاصل کرتے ہوئے این اے 120 سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے ہیوی ویٹ امیدوار مرحوم جہانگیر بدر نے 24 ہزار 380 ووٹ حاصل کیے۔

2013ء کے انتخابات میں گوالمنڈی بوائے نوازشریف نے 16 برس بعد اپنے حلقے این اے 120 سے قومی اسمبلی کے انتخابات مین حصہ لیا۔ ان کے مدمقابل اس حلقے سے تحریک انصاف کی یاسمین راشد امیدوار تھیں۔ نواز شریف نے فتح کا ریکارڈ برقرار رکھتے ہوئے 91 ہزار 683 ووٹ حاصل کر کے کامیابی پائی۔ یاسمین راشد نے قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 52 ہزار 354 ووٹ حاصل کیے۔

این اے 120 میں حق رائے دہی استعمال کرنے والوں کی کُل تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 7 سو 86 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 79 ہزار 6 سو 42 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 42 ہزار ایک سو 44 ہے۔ ضمنی انتخاب کے لیے 220 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 103 پولنگ اسٹیشنز مردوں جبکہ خواتین کے لیے 98 پولنگ اسٹیشنز مقرر کیے گئے۔ 19 پولنگ اسٹیشنز مردوں اور عورتوں کے لیے مشترکہ ہوں گے۔ 220 پولنگ اسٹیشنز میں کُل 573 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے جن میں سے مردوں کے لیے 312 اور خواتین کے 261 پولنگ بوتھ ہوں گے۔

نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز مسلم لیگ ن کی جانب سے اس انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں کُل 43 امیدوار بھی موجود ہیں۔ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد سخت حریف ثابت ہوسکتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے فیصل میر کو میدان میں اتارا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونےو الی نشست این اے 120 کے 3 لاکھ 21 ہزار 786 ووٹرز ، اتوار 17 ستمبر کو فیصلہ کریں گے کہ اب کی بار اس حلقے میں تبدیلی آتی ہے یا تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہراتی ہے۔