پہلے انسان یا مسلمان؟ عقیدے کا ایک بنیادی سبق - محمد زاہد صدیق مغل

"ہم پہلے انسان (ہیومن) ہیں اور پھر مسلمان، ہندو یا عیسائی وغیرہ"۔
یہ سیکولروں کی عوام الناس کو پھانسنے کی ایک دیرینہ خوشنما و اہم دلیل ہے۔ اس دلیل کی اہمیت یہ ہے کہ سیکولرزم اس بات پر نہایت شدومد سے زور دیتی ہے کہ ایک عادلانہ معاشرتی تشکیل کے لیے ہمیں انسانیت کی سطح پر سوچنے کی ضرورت ہے نہ کہ کسی خاص مذہب، رنگ یا نسل وغیرہ کی بنیاد پر، یعنی معاشروں کی بنیاد ایسی قدر پر استوار ہونی چاہیے جو ہم سب میں مشترک ہے اور وہ اعلی ترین اور بنیادی قدر مشترک شے اس کے نزدیک ’انسانیت‘ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔ اپنے اس دعوے ہی کی معقولیت ثابت کرنے کے لیے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ
’آیا پہلے اور اصلاً ہم انسان ہیں یا مسلمان؟‘
اس کے جواب میں ایک مرتبہ جب یہ مان لیا کہ سب کی بنیادی و اصلی شناخت مسلمان وغیرہ ہونا نہیں، بلکہ یہ تو ثانوی شناختیں ہیں، تو یہی وہ تصور ہے جس کے ذریعے سیکولرزم مذہب کو فرد کا نجی مسئلہ بنا ڈالتی ہے، کیونکہ انسانیت کو اصل قرار دینے کے بعد زیادہ معقول بات یہی دکھائی دیتی ہے کہ اجتماعی نظام کی بنیاد ایسی شے پر قائم کی جائے جو سب کی اصل اور سب میں مشترک ہو تاکہ زیادہ وسیع النظر معاشرہ وجود میں آسکےوغیرہ۔ اسی فکر کے تحت ہم اس قسم کے جملے سنتے ہیں کہ
’ہمیں انسانیت کے پیمانے پر سوچنے کی ضرورت ہے‘،
’سب کے نظریات و خیالات کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کیونکہ سب لوگ انسان ہیں‘ وغیرہ ۔
حیرت انگیز اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے دینی مفکرین جب سیکولرحضرات سے گفتگو فرماتے ہیں تو انسانیت کی بنیاد پر اپنے دلائل قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے یا تو انھیں دوران گفتگو پےدرپے شکست ہوتی چلی جاتی ہے اور یا وہ کمزور دلائل اور تاویلات کا سہارا لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ در حقیقت انسانیت پرستی (ہیومن ازم) کو رد کیے بغیر مذہب کو اجتماعی زندگی میں شامل کرنے کی کوئی معقول علمی دلیل فراہم کرنا ممکن ہے ہی نہیں۔

• اصلا مسلمان ہونے کا مطلب
آئیے ایک مرتبہ پھر اس سوال پر غور کریں کہ
’آیا پہلے اور اصلاً میں انسان ہوں یا مسلمان؟‘۔
اس سوال کا واضح اور قطعی جواب یہ ہے کہ
’میری حقیقت اور اصل مسلمان (بمعنی عبد ) ہونا ہے جبکہ انسان ہونا محض ایک حادثہ اور میری مسلمانیت (عبدیت) کے اظہار کا ذریعہ ہے‘۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ میری اصل عبد یعنی اللہ تعالی کی مخلوق ہونا ہے جبکہ میری انسانیت ایک حادثہ اور اتفاقی امر ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ سوال اٹھائیں کہ اگر میں انسان نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ ایک صورت یہ ہے کہ میں جن یا فرشتہ ہوتا، دوسری صورت یہ ہے کہ میں حیوانات، جمادات یا نباتات کی اجناس سے تعلق رکھتا۔ مگر میں کچھ بھی ہوتا، ہر حال میں مخلوق ہوتا، یعنی اپنے وجود کی ہر ممکنہ صورت میں میری اصل مخلوق (عبد) ہونا ہی ہوتی، یہ اور بات ہے کہ میری عبدیت کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا۔ مثلاً اگر میں پودا ہوتا تو میری عبدیت کا اظہار پودا ہونے میں ہوتی، اگر میں فرشتہ ہوتا تو یہ ملکوتیت میری عبدیت کے اظہار کا ذریعہ بنتی اور جب میں انسان ہوں تو میری انسانیت میری عبدیت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ اس کائنات میں میرے وجود کا ایسا کوئی امکان نہیں جہاں میں اصلا خدا کے بندے کے ماسوا بھی کچھ اور ہوتا، میرا حال تو تبدیل ہو سکتا ہے لیکن میرا مقام بہر حال مخلوق (عبد) ہونا ہی رہے گا اور یہ بہرصورت ناقابل تبدیل ہے۔ پھر میرے وجود کی ہر حالت میرے لیے ان معنوں میں اتفاقی (contingent) ہے کہ میں اپنی کسی حالت کا خود خالق نہیں بلکہ اللہ تعالی نے جس حالت میں چاہا مجھے میری مرضی کے بغیر تخلیق کر دیا، نیز وہ اس بات پر مجبور نہ تھا کہ مجھے انسان ہی بناتا، یہ محض اس کا فضل ہے۔

پس یہ سوال کہ "اصلا مسلمان ہو یا انسان"، تو اس کا بالکل واضح جواب یہ ہے کہ میری اصل مسلمانیت (بمعنی عبدیت) ہے اور انسان اتفاقی طور پر ہوں نیز انسانیت میری مسلمانیت کے اظہار کا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ میری انسانیت اور کچھ بھی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں میں لازما being with God ہوں، نہ کہ اس سے ماوراء کوئی ہستی۔ اپنے انسان ہونے کو ڈیفائن کرنے کا میرے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا حوالہ موجود نہیں، سوائے اس کے کہ میں خود مختاریت کا دعوی کروں۔ "میں کون ہوں"، اس سوال کا جواب میں جونہی خدا کے حوالے کے بغیر دینے کی کوشش کرتا ہوں میں لازما خود کو خدا سے ماوراء و ماقبل وجود (being without God) فرض کرلیتا ہوں، اور یہی الحاد کی بنیاد ہے۔ خدا کا وجود میرے شعور انسانیت سے ماقبل ہے، لا الہ الا اللہ اسی بات کا اقرار ہے۔

جب یہ واضح ہوچکا کہ "میری اصل انسان ہونا نہیں بلکہ خدا کا بندہ (مسلمان) ہونا ہے" تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب ایمان اور کفر کی حقیقت بھی واضح کردی جائے نیز یہ بھی کہ خدا کا بندہ ہونا کیوں کر مسلمان ہونے کے ہم معنی ہے۔ عبدیت کو مسلمانیت سے اس لیے تعبیر کیا گیا کیونکہ اصلاً و حقیقتا ہر انسان خدا کا بندہ ہی ہے، چاہے وہ اس کا اقرار کرے یا انکار، کسی انسان کا اس حقیقت سے انکار کرنا کائنات میں اس کے حقیقی مقام کو بدل نہیں سکتا۔ اگر وہ زبان و دل سے اس حقیقت کا اقرار کرلے تو مؤمن و مسلم (اپنی حقیقت اور اصل کا اقرار کرنے والا اور تابعدار) کہلاتا ہے اور اگر انکار کرے تو کافر۔ یعنی کافر کفر کرکے کسی نئی حقیقت کو دریافت نہیں کرتا بلکہ اپنی حقیقت کا انکار کرتا ہے، اسی لیے تو "کافر" (حقیقت کو چھپانے و جھٹلانے والا) کہلاتا ہے۔

جب یہ واضح ہوا کہ اصلا میں خدا کا بندہ ہوں تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بطور انسان میں بندہ کیسے بنوں؟ تو اس کا جواب ہے "ان الدین عند االلہ الاسلام" (یعنی اظہاربندگی کا واحد اور معتبر طریقہ تمہارے رب کے نزدیک صرف اسلام ہے)، نیز "من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ" (یعنی جس کسی نے اپنی انسانیت کے اظہار کے لیے اسلام کے علاوہ کوئی طریقہ اختیار کیا تو ایسے طریقے سے ظاہر کی گئی انسانیت رب کے یہاں مقبول نہ ہوگی)۔ چنانچہ میری انسانیت معتبر (authentic) تب ہوگی جب میں اسے بندگی کے اظہار کا ذریعہ بناؤں، اور بندگی کے اظہار کا طریقہ جاننے کا معتبر طریقہ صرف وہ پیغام ہے جسے خدا نے اپنے آخری رسولﷺ پر نازل کیا۔ اس ایک طریقے کے سواء اظہار بندگی کے سب طریقے مردود ہیں۔

پھر جب یہ واضح ہوا کہ میں خدا کا بندہ ہوں، تو خدا کا یہ بندہ میں تنہائی (پرائیویٹ لائف) میں بھی ہوں اور لوگوں سے تعلقات قائم کرنے کے بعد (پبلک لائف میں) بھی۔ یہ عقلی مخمصہ کسی طور قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ تنہائی میں بطور انسان تو میں اور میری بیوی خدا کے بندے ہیں لیکن جونہی ہم تعلق قائم کر لیتے ہیں تو ہم خدا کے بندے اور اس کے حکم کی اطاعت کے پابند نہیں رہتے۔ ایسی بات صرف ایسا ہی انسان قبول کر سکتا ہے جو عقلی طور پر قلاش ہوچکا ہو۔ میں اگر واقعی خدا کا بندہ ہوں تو اپنی زندگی کی ہر حیثیت میں ہوں۔ اپنے سے باہر کسی غیر کو مخاطب کرنے کی میرے پاس اس کے سواء کوئی بنیاد و حوالہ ہی نہیں نیز نہ ہی خدا کے نازل کردہ پیغام سے باہر میرے پاس حقوق کے تعین کا کوئی ایسا دائرہ ہے کہ جس میں خود کو رکھ کر میں کسی سے ہم کلام ہوسکوں۔ میں جب بھی کسی کو خطاب کرتا ہوں تو اس بنیاد پر کرتا ہوں کہ اس بابت خدا کا حکم مجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے، میں جب بھی کسی غیر مسلم کو خطاب کرتا ہوں تو اسی حق کی طرف دعوت دیتا ہوں نہ کہ اس سے ماوراء حقوق کی کسی تفصیلات کے فریم ورک میں ان سے مکالمہ کرتا ہوں۔ چنانچہ میں کسی غیر مسلم کا حق زندگی اس لیے نہیں مانتا کہ "ہر انسان کو بطور مجرد انسان" کچھ ایسے فطری حقوق حاصل ہیں جن کی پابندی مجھ پر لازم ہے۔ ہرگز بھی نہیں، بلکہ ایسا اس لئے مانتا ہوں کیونکہ یہ خدا کا حکم ہے اور جس کی پاسداری مجھ پر لازم ہے۔ حق کے تعین کا حق نہ تو میں اپنی ذاتی زندگی میں رکھتا ہوں اور نہ اجتماعی زندگی میں۔ "محمد رسول اللہ" کے اقرار کا یہی مطلب ہے۔

•اصلا انسان ہونے کا مطلب
اب یہ جو "مسلمانیت" کے بجائے "انسانیت" کا حوالہ دیتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کی اصل بات، جس کا خود ان میں سے بہت سوں کو بھی ادراک نہیں، آپ کے سامنے رکھ دی جائے۔ آپ ان سے پوچھیے کہ
"اچھا بتاؤ! مسلمان ہونے سے قبل انسان ہونے کا کیا مطلب ہے؟"
دیکھیے مسلمان ہونے کا مطلب یہی ہے نا کہ
"میں اصلا و حقیقتا خدا کا بندہ ہوں۔"
بتائیے کیا میری اس حقیقت سے ماوراء اور ماقبل بھی میری کوئی ایسی حقیقت ہے جس کا آپ مجھ سے اقرار کروانا چاہتے ہیں؟ دراصل یہ بات کہنے والوں کی عظیم ترین اکثریت کو اس بات کا مطلب ہی معلوم نہیں ہوتا۔
"میں کون ہوں"،
فی زمانہ اس کے دو غالب جواب ہیں۔
ایک یہ کہ میں خدا کا بندہ (مسلمان) ہوں، دوسرا یہ کہ میں آزاد و قائم بالذات ہوں۔
مسلمان ہونے سے قبل انسان ہونے کی دعوت کا اصل مطلب اسی بات کا اقرار کروانا ہے کہ "میں اصلا آزاد ہوں"۔ پھر یہ جو خود کو مسلمان وغیرہ سمجھا جاتا ہے تو یہ اس آزاد ہستی کے اپنے ارادے کے تحت اختیار کردہ اپنی ذات کے بارے میں کچھ تصورات ہیں جو اصل حقیقت نہیں، اصل حقیقت میرا وہ ارادہ ہے جو حقیقت تخلیق کرتا ہے۔ میں اپنے انسان ہونے کے بارے میں مختلف بنیادی حوالے رکھ سکتا ہوں، مثلا ایک یہ کہ میں اصلا و سب سے پہلے مغل ہوں، یا یہ کہ میں اصلا پنجابی ہوں، یا یہ کہ میں اصلا پاکستانی ہوں، یا یہ کہ میں اصلا مزدور یا سرمایہ دار طبقے کا نمائندہ ہوں، یا یہ کہ میں اصلا خدا کا بندہ ہوں۔ اپنی ذات کے ادراک کے لئے میں جو بھی حوالہ اختیار کرتا ہوں، اسی کی بقا و غلبے کے لئے جدوجہد کرنے کا سب سے مقدم اخلاقی جواز رکھتا ہوں۔

اس کے جواب میں یہ آپ سے کہیں گے کہ تم اصلا یہ سب نہیں ہو، بلکہ یہ سب تو تمھاری اصل کا اظہار ہیں۔ اب آپ ان سے پوچھیے کہ بتاؤ پھر اصل میں، میں کیا ہوں؟ تو یہ آپ سے کہیں گے کہ اصل میں تم ایک آزاد و خود مختار (قائم بالذات) ہستی ہو جسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے ارادے سے خیر کو متعین کرے۔ پس مسلمان ہونا یہ اصل نہیں بلکہ صرف اپنے ارادے کے تحت ایک خیر کو ڈیفائن کرلینا ہے۔ یہ واحد خیر نہیں بلکہ خیر کے لاتعداد تصورات میں سے بس ایک ہے۔ یعنی خدا کا حوالہ چھوڑ دو، زمین پر اپنے ارادے سے بنائے ہوئے خیر کے حوالوں کو اپناؤ، اسی کے لیے جدوجہد کرو۔ یہ ہے ان کے نزدیک انسان ہونے کا اصلی معنی، جس کا یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اقرار کروانا چاہتے ہیں۔

پس عقیدے کے جن چند اسباق کا یہاں ذکر کیا گیا، انہیں خوب اچھی طرح سمجھ رکھنا چاہیے کیونکہ جدید الحاد نے عقیدوں میں جو اجاڑ پیدا کیا ہے، اس کا سبب اسی نوع کے خوشنما دعوے و اصطلاحات ہیں، جنھیں دہرا کر لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.